مولوی نصر اللہ منصور شہیدؒ

   
مجلہ: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۵ مارچ ۲۰۰۲ء
اصل عنوان: 
مولوی نصر اللہ منصورؒ کا بیٹا

گردیز میں طالبان اور القاعدہ کے ساتھ امریکی اتحاد کی تازہ جھڑپوں کے بعد جو نام سب سے نمایاں طور پر سامنے آیا ہے وہ کمانڈر سیف الرحمان منصور کا ہے جس نے امریکی فوجوں کی بالادستی قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے اور فتح یا شہادت کے عزم کے ساتھ امریکی فوجوں کے سامنے ڈٹ گیا ہے۔ اس جنگ کا نتیجہ کیا نکلتا ہے یہ وقت بتائے گا لیکن سیف الرحمان منصور کی قیادت میں افغان اور عرب مجاہدین کی اس معرکہ آرائی نے ایک بار پھر سلطان ٹیپو شہیدؒ کی یاد تازہ کر دی ہے جس نے چاروں طرف سے انگریزی فوجوں میں گھر جانےکے بعد اپنے ہی ایک ساتھی کی طرف سے ہتھیار ڈالنے اور جان بچانے کی تجویز کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ ’’شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے‘‘۔

سیف الرحمان منصور روس کے خلاف دس سال تک جنگ لڑنے والے افغان مجاہدین کے ایک بڑے کمانڈر مولوی نصر اللہ منصورؒ کا بیٹا ہے جو میرے دوستوں میں سے تھے اور ایک مدبر، ذی ہوش اور معاملہ فہم رہنما تھے۔ مولوی نصر اللہ منصورؒ کو میں نے پہلی بار شیرانوالہ لاہور میں دیکھا تھا، یہ وہ دور تھا جب افغان علماء نے روسی افواج کے خلاف مسلح جدوجہد کا اعلان کر دیا تھا اور پاکستان کے علماء کرام اور دینی حلقوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے متعدد افغان رہنما پاکستان کے مختلف حصوں کے دورے کر رہے تھے۔ شیرانوالہ لاہور میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس ہو رہا تھا، حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ اجلاس کے صدر تھے اور قائد جمعیۃ حضرت مولانا مفتی محمودؒ بھی اجلاس میں شریک تھے۔ مولوی نصر اللہ منصورؒ وہاں پہنچے، میں نے ان سے تشریف آوری کی غرض پوچھی تو بتایا کہ دو مقصد لے کر آیا ہوں، پہلے نمبر پر حضرت درخواستیؒ کی زیارت کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان قبائلی پٹی کا تفصیلی دورہ کر کے جہاد افغانستان کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور قبائلی مسلمانوں کو افغان مجاہدین کی حمایت و تعاون کے لیے تیار کیا ہے۔ اور دوسرے نمبر پر حضرت مولانا مفتی محمودؒ اور جمعیۃ کے دیگر اکابر سے جہاد افغانستان کی تازہ ترین صورتحال پر مشاورت کی خواہش رکھتا ہوں۔ اس کے بعد مولوی نصر اللہ منصورؒ کئی بار پاکستان آئے اور مختلف شہروں کے دورے کیے، بعض دوروں میں مجھے بھی ان کے ساتھ شرکت و رفاقت ملی اور بہت سے علماء کرام اور مراکز کے ساتھ ان کے تعارف میں تھوڑا بہت میرا حصہ بھی شامل ہے۔

مولوی نصر اللہ منصورؒ کا تعلق مولوی محمد نبی محمدی کی جماعت ’’حرکت انقلاب اسلامی‘‘ سے تھا اور وہ مولوی محمد نبی محمدی کے بعد اس جماعت کے بڑے لیڈر شمار کیے جاتے تھے۔ حتیٰ کہ جہادی سرگرمیوں میں یکسانیت پیدا کرنے کےلیے چھ جماعتوں نے ’’اتحاد اسلامی افغانستان‘‘ کے نام سے متحدہ محاذ قائم کیا تو مولوی نصر اللہ منصور کو اس کا سیکرٹری جنرل منتخب کیا گیا لیکن وہ زیادہ دیر دوسرے لیڈروں کے ساتھ نہ چل سکے اور پالیسی اختلاف نے نہ صرف ان کا راستہ دوسرے افغان لیڈروں سے الگ کر دیا بلکہ وہ کچھ عرصہ کے لیے پس پردہ چلے جانے پر بھی مجبور ہوگئے۔ ان کا اختلاف دیگر افغان لیڈروں کے ساتھ امریکی امداد کو قبول کرنے کے حوالہ سے تھا اور وہ اس سلسلہ میں اپنے بعض تحفظات سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں تھے۔

ان کالموں میں کئی بار عرض کیا جا چکا ہے کہ جہاد افغانستان کے ابتدائی دو تین سال افغان مجاہدین نے صرف اپنے عزم و استقلال کے سہارے جنگ لڑی ہے، امریکہ یا کسی دوسرے ملک کی عملی امداد اس دوران انہیں حاصل نہیں تھی۔ پاکستان ان کی پناہ گاہ تھا اور محدود حد تک کچھ تعاون بھی انہیں میسر تھا لیکن بنیادی لڑائی انہیں دو تین سال تک تنہا لڑنا پڑی۔ اور جب انہوں نے پرانی بندوقوں اور بوتل بموں کے ساتھ روسی فوجوں کا مقابلہ کر کے افغانستان کا ایک معقول علاقہ روسی فوجوں کی دسترس سے نکال لیا تو پھر امریکہ اور دوسری قوتیں اس طرف متوجہ ہوئیں اور افغان مجاہدین کو ایک زندہ حقیقت تسلیم کرتے ہوئے ان کی حمایت و امداد کے لیے پیش رفت کی۔

یہ اسی دور کی بات ہے جب امریکی نمائندے افغان مجاہدین کے مختلف گروپوں کے ساتھ گفت و شنید کر رہے تھے اور باہمی تعاون کی تفصیلات طے ہو رہی تھیں، مولوی نصر اللہ منصورؒ اس کو جہاد افغانستان کے مستقبل کے حوالہ سے خطرناک بات سمجھتے تھے اور ان کا تقاضا تھا کہ امریکہ اور دیگر مغربی ملکوں کی حمایت کو ایک حد تک محدود رکھا جائے اور پالیسی سازی کے معاملات میں انہیں کسی درجہ میں شریک نہ کیا جائے۔ لیکن ان کی بات نہ چل سکی اور وہ بد دل ہو کر نہ صرف عملی سرگرمیوں سے وقتی طور پر کنارہ کش ہوگئے بلکہ ایران چلے گئے جہاں انقلاب آچکا تھا اور انقلابی حکومت کی زیر قیادت پورا ایران امریکہ کے خلاف ایک مضبوط مورچہ کی حیثیت اختیار کر چکا تھا۔ مولوی نصر اللہ منصور کے ایران چلے جانے پر ہمارے کئی دوست جزبز ہوئے، بعض بزرگوں نے مجھ سے بھی بات کی کہ تمہارے دوست کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا اور تم اس سے بات کرو کہ وہ ایران سے واپس آکر دیگر افغان لیڈروں کے ساتھ مل کر کام کرے۔ لیکن میں مولوی نصر اللہ کے موقف، مزاج اور پوزیشن کو سمجھتا تھا اور اصولی طور پر بھی ان سے کسی حد تک متفق تھا اس لیے میں نے خاموشی مناسب سمجھی اور حالات میں تبدیلی کا انتظار کرتا رہا۔

اس کے بعد مولوی نصر اللہ منصورؒ سے میری ملاقات اس وقت ہوئی جب روسی افواج افغانستان سے واپس جا چکی تھیں اور پروفیسر صبغۃ اللہ مجددی نے افغانستان کے عبوری صدر کی حیثیت سے اقتدار سنبھال لیا تھا۔ اس موقع پر پاکستان سے علماء کرام کا ایک وفد کابل گیا جس میں پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمان درخواستی اور راقم الحروف بھی شامل تھے، کابل میں پروفیسر مجددی کی معاونت میں مولوی محمد نبی محمدی کی حرکت انقلاب اسلامی پیش پیش تھی اور مولوی نصر اللہ منصور اپنا اختلاف ختم کر کے حرکت انقلاب اسلامی میں واپس آگئے تھے۔ ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکمران پارٹی کا ہیڈکوارٹر ان دنوں حرکت انقلاب اسلامی کی تحویل میں تھا جہاں مولوی محمد نبی محمدی کے ساتھ پاکستانی علماء کے وفد کی تفصیلی ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات کا اہتمام و انتظام مولانا نصر اللہ منصورؒ کے ذمہ تھا اور اسی حوالہ سے ان سے ملاقات ہوئی۔ مولوی نصر اللہ منصور پارٹی کی طرف سے ہمارے میزبان تھے اور انہوں نے ہمارے قیام کا اہتمام انٹر کانٹی نینٹل ہوٹل میں کر رکھا تھا۔ علماء کا وفد اپنا دورہ مکمل کر کے پاکستان کے لیے روانہ ہو رہا تھا کہ میں نے اور مولانا فداء الرحمان درخواستی نے کچھ روز مزید کابل میں قیام کا ارادہ کر لیا۔

مولانا فداء الرحمان درخواستی کے رکنے کی وجہ کمانڈر احمد شاہ مسعود تھے جو اس وقت مجددی حکومت میں افغانستان کے وزیردفاع تھے اور حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ کے شاگرد ہونے کے ناطے ان کے ساتھ عقیدت و محبت کا اظہار کر رہے تھے۔ جبکہ میری دلچسپی کی وجہ مولوی نصر اللہ منصور تھے جن سے کئی برسوں کے بعد ملاقات ہوئی تھی اور میں ان سے ماضی اور مستقبل دونوں حوالوں سے بہت سی باتیں کرنا چاہتا تھا۔ مگر ہم ابھی ایک دن ہی رک پائے تھے کہ کابل شہر میں حزب وحدت اور استاذ سیاف کے گروپوں میں شدید لڑائی چھڑ گئی۔ ہمارا ہوٹل بھی اس خانہ جنگی کی زد میں تھا اور کئی گولے ہوٹل کی عمارت کی حدود میں ہمارے سامنے آکر گر چکے تھے۔ اس دوران مولوی نصر اللہ منصور ہوٹل آئے اور کہا کہ آپ ہمارے معزز مہمان ہیں اور ہم نے سخت لڑائی چھڑ جانے کی وجہ سے فیصلہ کیا ہے کہ آپ دونوں حضرات کو جلد از جلد پاکستان واپس پہنچا دیا جائے۔ اس لیے مزید قیام کا ارادہ ترک کر کے واپسی کی تیاری کریں۔ چنانچہ ہمیں اسی روز رات پشاور پہنچا دیا گیا۔اس کے بعد میرا ارادہ تھا کہ مناسب موقع پر افغانستان جاؤں تاکہ مولوی نصر اللہ منصور سے ضروری معاملات پر گفتگو کر سکوں لیکن چند دنوں کے بعد یہ خبر آگئی کہ وہ بم کے ایک حادثہ میں جام شہادت نوش کر گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔

اس پس منظر میں جب یہ پتہ چلا کہ گردیز میں امریکی فوجوں کے خلاف اس نئی مزاحمت کی قیادت کمانڈر سیف الرحمان منصور کر رہا ہے تو مجھے اس پر کوئی تعجب نہیں ہوا بلکہ خوشی ہوئی اس لیے کہ کمانڈر سیف الرحمان منصور مولوی نصر اللہ منصور شہیدؒ کا بیٹا ہے، اس کی رگوں میں ایک غیرت مند باپ کا خون گردش کر رہا ہے اور مولوی نصر اللہ منصور کے دوستوں اور دشمنوں دونوں کو اس سے یہی توقع ہو سکتی تھی۔