مولانا اکرم اعوان کا پرویز مشرف کے نام خط

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲۲ دسمبر ۲۰۰۰ء

امریکہ کے صدارتی انتخابات میں جارج ڈبلیو بش اور الگور کی تاریخی کشمکش اور پاکستان کے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی خاندان سمیت جلاوطنی نے بہت سے موضوعات کو نگاہوں سے وقتی طور پر اوجھل کر دیا تھا، اب کچھ دھند چھٹی ہے تو بعض باتیں یاد آنے لگی ہیں۔ امریکی انتخابات میں تو سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد مسٹر الگور نے اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے جارج ڈبلیو بش کو مبارکباد دے کر بات صاف کر دی ہے مگر میاں نواز شریف کی جلاوطنی کے حوالہ سے الجھنوں میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور حکومت، شریف خاندان اور مسلم لیگ تینوں میں سے کوئی بھی ایسی واضح بات نہیں کہہ پا رہا جو معاملہ کی اصل حیثیت کو عوام کے سامنے واضح کر دے۔ بہت سے دوست اس بات کے منتظر ہوں گے کہ ’’نوائے قلم‘‘ میں اس صورتحال پر کیا تبصرہ ہوا ہے مگر راقم الحروف کی کچھ مجبوریاں ہیں۔ ایک یہ کہ رمضان المبارک کے معمولات اور مصروفیات ایسی ہیں کہ ان سے ہٹ کر کسی اور بات پر سنجیدگی سے توجہ دینے کا موقع نہیں مل رہا۔ اور دوسری یہ کہ ابھی تک صورتحال میرے سامنے واضح نہیں ہے اور سردست معلومات کا دائرہ اس سطح کا نہیں کہ اس پر تفصیل سے کچھ عرض کیا جا سکے۔

البتہ اتنی بات سمجھ میں آرہی ہے کہ ’’طاقت‘‘ اور ’’دولت‘‘ کے دنگل میں ’’ریفری‘‘ نے برابر کا چھڑوا دیا ہے۔ طاقت یہ سمجھ رہی ہے کہ اس نے دولت کو چاروں شانے چت کر دیا ہے جبکہ دولت مطمئن ہے کہ اس نے بہت کچھ گنوا کر بھی کچھ نہیں گنوایا اور بات کسی اور موقع پر جا پڑی ہے۔ طاقت اور دولت کی اس کشمکش کا پس منظر بھی بہت دلچسپ ہے اور مستقبل کے امکانات و توقعات کا دامن بھی بڑا وسیع ہے مگر اس پر بعد میں بات ہوگی، ابھی مولانا محمد اکرم اعوان کی اس تحریک کے بارے میں مختصرًا کچھ عرض کرنا مناسب نظر آرہا ہے جس کے لیے انہوں نے چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف کو باقاعدہ خط بھجوا کر اپنے موقف سے آگاہ کیا ہے، اس کی تفصیلات پر گفتگو کی دعوت دی ہے اور اسے منوانے کے لیے اپنے کارکنوں اور رفقا کو چکوال کے قریب ’’خیمہ زن‘‘ کر لیا ہے جہاں ے وہ ’’اللہ ہو‘‘ کا ورد کرتے ہوئے اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے والے ہیں۔ مولانا اکرم عوان کی یہ تحریک کامیاب ہوتی ہے یا نہیں یہ وقت بتائے گا۔ اپنے مطالبات کے لیے انہوں نے جو طریق کار اختیار کیا ہے وہ مناسب ہے یا نہیں اس پر ایک سے زیادہ رائے اور بحث و تمحیص کی گنجائش موجود ہے اور خود ہمارے ذہن میں بھی اس سلسلہ میں تحفظات ہیں۔ لیکن جہاں تک ان کے موقف کا تعلق ہے اس سے اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور ان کا یہ ارشاد بھی شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ اب ملک کے حالات اس آخری انتہا تک پہنچ چکے ہیں کہ ان کے اس موقف کو جو دراصل پوری قوم کا موقف اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کا مقصد قیام ہے قبول اور عملاً نافذ کیے بغیر ملک کو مزید تباہی سے بچانے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ اس گزارش کے ساتھ مولانا محمد اکرم اعوان کے موقف کی تائید کرتے ہوئے جنرل پرویز مشرف کے نام ان کے خط کا اہم حصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے:

’’جنرل صاحب! میں آپ پر واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ چونکہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والے اس ملک کی زمام کار آپ نے سنبھال کر اسلامیان پاکستان کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھا رکھی ہے تو ان کے حقوق کی بازیابی آپ کا فرض بنتا ہے اور ان کا سب سے حق یہ ہے کہ انہیں فرنگی کے غلامانہ نظام کے جہنم سے نکال کر اسلامی نظام کی برکات سے نوازا جائے۔

جنرل صاحب! اسلام صرف نماز، روزے، عبادات کا نام نہیں، یہ مسلمان فرد کا اللہ کے ساتھ ذاتی معاملہ ہے، ہم تو اسلام کے حوالہ سے قوم کے اجتماعی معاملات اور حقوق العباد کی بات کرتے ہیں۔ ہم اسلام کی بات کرتے ہیں تو ہر شہری کے حقوق کی بات کرتے ہیں، آزادیٔ رائے کی بات کرتے ہیں، انسانی ضمیر کی بات کرتے ہیں، بھوکے انسان کے خالی پیٹ کی بات کرتے ہیں، غربت اور مہنگائی کے پسے ہوئے لوگوں کو معاشی آسودگی دینے کی بات کرتے ہیں، ان کے بچوں کی تعلیم و تربیت کی بات کرتے ہیں، بے روزگاروں کے روزگار کی بات کرتے ہیں، بیماروں کے لیے دوا کی بات کرتے ہیں اور آپ کے لیے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق دے کہ آپ اسلام کا وہ عادلانہ نظام نافذ کر دیں کہ ایوان صدر اور چیف ایگزیکٹو ہاؤس میں بھی وہی معیار زندگی ہو جو اس ملک کے عام شہری کا ہے، اراکین سلطنت عیش و عشرت اور عیاشی کی بجائے سادہ طرز زندگی اپنائیں۔

جنرل صاحب! آپ نے اپنے ایجنڈے میں معیشت کی بحالی پر بڑا زور دیا تھا۔ معیشت معیشت کرتے آپ کا پہلا سال حکمرانی اس حال میں گزرا کہ معاشی بدحالی کے سائے مزید گہرے ہوگئے ہیں۔ جنرل صاحب! آپ کی یہ خوش فہمی دور ہو جانی چاہیے کہ امریکی ہرکارے مملکت اسلامیہ پاکستان کو خوشحال کر سکتے ہیں۔ وہ تو ہمیں گروی رکھنے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ یہودی مالیاتی اداروں کا بھکاری بنے رہنا ہی معاشی کمال ہے تو پھر زوال کیا ہے؟ اب بھیک مانگنے کا یہ سلسلہ بند ہوجانا چاہیے۔ جنرل صاحب! یہودی معیشت کے جال سے جان چھڑائیے، ملک کی رگوں سے بہت خون نچوڑا جا چکا ہے اب مزید گنجائش نہیں ہے۔ اب اسے حیات بخش توانائی کی ضرورت ہے جو اسلامی معاشی فلاحی نظام سے ہی ممکن ہے۔ ہمارے ماہرین نے ۲۰۰۰ء و ۲۰۰۰۱ء کے سرکاری بجٹ کا تجزیہ کر کے اسلامی محاصل کا اعداد و شمار کے ساتھ اجمالی خاکہ تیار کیا ہے جو اس خط کے ساتھ منسلک ہے۔ اسلامی محاصل کے اس پروگرام کو عملی طور پر بروئے کار لا کر بیرونی قرضوں کی بھیک مانگنے سے بھی نجات مل سکتی ہے اور عوام کو بھی بھاری ٹیکسوں کے بوجھ سے نجات دلا کر ٹیکس فری سوسائٹی قائم کی جا سکتی ہے۔ اسلامی نظام معیشت کا صرف ایک جزو اسلامی محاصل نافذ کرنے سے ہی عام معاشی گراف غربت سے نکل کر خود کفالت میں آجائے گا اور ملک کا اسٹیٹس ویلفیئر اسٹیٹ میں بدل جائے گا۔ پاکستان اسلامی فلاحی مملکت بن جائے گا، ہر شخص کو آسودگی اور طمانینت حاصل ہوگی، اسلامی محاصل نافذ کرنے سے ملک کے مالیاتی وسائل میں اس قدر اضافہ ہو جائے گا کہ بیماروں کے لیے علاج معالجہ فری ہو سکتا ہے، بچوں کی تعلیم فری ہو سکتی ہے، بیوہ عورتوں اور یتیموں کے وظیفے مقرر ہو سکتے ہیں، بے روزگاروں کو الاؤنس دیا جا سکتا ہے، ہر گاؤں اور دیہات میں تمام شہری سہولتیں فراہم کی جا سکتی ہیں۔

جنرل صاحب! میں پورے یقین کے ساتھ آپ کو گارنٹی دیتا ہوں کہ ہمارے پیش کردہ اسلامی محاصل کے پروگرام پر عمل کر کے متذکرہ نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں، میں آپ کو دعوت دیتا ہوں کہ اس بارے میں آپ ہمارے ماہرین سے بالمشافہ ڈسکس کریں، پوائنٹ ٹو پوائنٹ ہر پہلو پر کھل کر بات کریں، تجزیہ کریں اور اپنے ماہرین کے نسخوں سے موازنہ کریں۔ یقیناً ہمارا پیش کردہ اسلامی فلاحی نظام ہی ملک کو درپیش معاشی مسائل عملاً حل کر سکتا ہے۔

جنرل صاحب! آپ یہ بات فراموش نہ کریں کہ اقتدار چند روزہ ہے اور زندگی بھی چند روزہ، ان میں سے کسی کو دوام نہیں، صرف کردار کے حوالہ سے نام زندہ رہتا ہے۔ آپ کو موقع ملا ہے کہ اسلامی نظام نافذ کر کے تاریخ میں ہمیشہ کے لیے زندہ رہ سکتے ہیں۔ ورنہ یاد رکھیں ایک دن نہ صرف بے اختیار بلکہ بے حس و حرکت چند گز ان سلے کپڑے میں لپٹے پڑے ہوں گے، وہاں کوئی سرکاری گارڈ، اسپیشل اسکواڈ نہیں ہوگا، دائیں بائیں منکر نکیر جواب طلب کر رہے ہوں گے۔ جنرل صاحب! ہم چاہتے ہیں کہ آپ اللہ کی دی ہوئی حیات اور حکومت و اختیار سے فائدہ اٹھائیں اور دین و دنیا کی سرخروئی کرنے کے لیے اسلامی نظام نافذ کر دیں۔ امریکہ اور مغرب کو خوش کرنے کی بجائے اللہ کو خوش کریں کہ جو مشرق و مغرب کا مالک ہے۔‘‘