ایٹمی سائنسدانوں کی ڈی بریفنگ ۔ چند گزارشات

   
مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲ فروری ۲۰۰۴ء
اصل عنوان: 
ڈی بریفنگ ۔ چند گزارشات

ایٹمی سائنس دانوں کی ’’ڈی بریفنگ’’ جوں جوں آگے بڑھ رہی ہے، عوام کے اضطراب میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور تناؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

  • ڈاکٹر عبد القدیر خان اور ان کے رفقاء کے بارے میں یہ کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے ایٹمی راز فروخت کیے اور دوسرے ممالک کو ایٹمی طاقت حاصل کرنے میں مدد دی۔
  • سائنس دانوں کے خفیہ بینک اکاؤنٹس کا تذکرہ ہو رہا ہے، بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا حوالہ دیا جا رہا ہے، عدالت عالیہ کا دروازہ کھٹکھٹایا جا رہا ہے، جبکہ بعض معزز جج صاحبان کو شکوہ ہے کہ انہیں ضروری معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں اور اعتماد میں نہیں لیا جا رہا۔
  • دینی اور سیاسی راہنما سائنس دانوں کو زیر حراست لینے اور ڈی بریفنگ کے عنوان سے ان سے تفتیش پر احتجاج کر رہے ہیں، عوامی مظاہرے ہو رہے ہیں، احتجاجی بیانات میں شدت آ رہی ہے اور تحریک چلانے کا عزم کیا جا رہا ہے۔
  • دوسری طرف ارباب قلم اور اصحاب دانش کی طرف سے ملے جلے ردعمل پر مشتمل افکار و خیالات سامنے آرہے ہیں۔ ایسے ارباب دانش بھی ہیں جو ڈی بریفنگ کے نتائج سامنے آنے سے پہلے ہی سارے الزامات کو درست تسلیم کیے بیٹھے ہیں اور ’’مجرم سائنس دانوں’’ کو کیفر کردار تک پہنچانے کو قومی مفاد کا سب سے بڑا تقاضا قرار دے رہے ہیں۔
  • اور ان اصحاب فکر و دانش کی بھی کمی نہیں جو اس ساری مہم کو پاکستان کو ایٹمی صلاحیت سے محروم کرنے کے لیے مغرب کی منظم اور مربوط منصوبہ بندی کا ایک حصہ تصور کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ مغرب اگر کسی مقصد کے لیے پلاننگ کرتا ہے تو پلاننگ کے نقشے میں وہ تمام ضروری رنگ بڑی مہارت سے بھرتا ہے جو اس نقشے کو عالمی برادری سے منٖظور کرانے کے لیے ناگزیر ہوتے ہیں۔ خواہ بعد میں وہ رنگ پھیکے ہی پڑ جائیں، لیکن ان کی ابتدائی چمک دمک خاصی چکاچوند کر دینے والی ہوتی ہے، اس لیے اس سارے قضیہ کو اس پس منظر میں دیکھنا چاہیے۔

ممکن ہے ان سطور کی اشاعت تک بات بہت آگے بڑھ چکی ہو، لیکن تادم تحریر جو صورتحال ہے، اس کو سامنے رکھتے ہوئے اس مسئلے کے ایک اہم پہلو پر کچھ عرض کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ وہ یہ کہ اس ساری مہم کی بنیاد اس مبینہ اصول پر ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کا کام جن طاقتوں نے اس سے پہلے کر لیا ہے اور وہ اپنے پاس ایٹمی ہتھیاروں کا ذخیرہ کر چکی ہیں، ایٹمی صلاحیت کو صرف ان تک محدود رہنا چاہیے۔ ان کے علاوہ کسی ملک کو ایٹمی ہتھیار بنانے کا حق نہیں ہے اور جو اس کی طرف پیشرفت کرے گا، وہ ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے جرم کا مرتکب ہوگا۔ اس مقصد کے لیے بین الاقوامی قوانین بنائے گئے ہیں اور عالمی ادارے اس کی نگرانی اور تفتیش کے لیے مصروف عمل ہیں۔

ہم اس سے قبل اس بات کو بطور اصول تسلیم کرنے سے انکار کرتے رہے ہیں اور اس سلسلہ میں عملی طور پر ہمارا موقف یہ رہا ہے کہ اقوام متحدہ میں ویٹو پاور رکھنے والے پانچ ممالک کے علاوہ دوسرے ممالک بھی ایٹمی صلاحیت کے حصول کا حق رکھتے ہیں اور خاص طور پر عالم اسلام کا یہ جائز حق ہے۔ نیز جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بھارت کے درمیان طاقت کے عدم توازن کے باعث پاکستان کی یہ دفاعی ضرورت اور اس کی قومی سلامتی کا تقاضا ہے کہ وہ ایٹمی صلاحیت حاصل کرے۔ اسی موقف کی بنیاد پر ہم نے ایٹمی پروگرام تشکیل دیا اور اسے تکمیل تک پہنچا کر ایٹمی دھماکہ کر دکھایا، ورنہ ایٹمی دھماکے کی منزل تک پہنچنے سے قبل عالمی برادری کے سامنے ہماری پوزیشن یہی تھی جو اس وقت ایران اور لیبیا کی ہے۔ انہی سائنس دانوں پر جنہیں آج دوسرے ملکوں کو ایٹمی راز منتقل کرنے کے جرم کا مرتکب قرار دیا جا رہا ہے، اس وقت یہ الزام تھا کہ انہوں نے اپنے ملک کے لیے ایٹمی راز حاصل کیے ہیں اور ایٹمی ٹیکنالوجی اور آلات چوری کیے ہیں۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان پر اس حوالے سے باقاعدہ مقدمہ چلا جس میں پاکستان کے ممتاز قانون دان بالخصوص جناب ایس ایم ظفر ان کے دفاع میں پیش ہوئے۔ مغرب کے الزامات ایک ایک کر کے سامنے آتے رہے لیکن ہم نے کان لپیٹ کر انہیں سر کے اوپر سے گزر جانے دیا۔ یہی مغرب تھا، یہی الزامات تھے اور یہی دباؤ تھا، لیکن ہم نے سنی ان سنی کر دی اور مغرب کے واویلے کی طرف توجہ دیے بغیر ایٹمی دھماکے کی منزل تک جا پہنچے۔ لیکن آج صورتحال وہ نہیں ہے، آج ہم ان الزامات کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں، ہم نے اپنے سائنس دانوں کو ان الزامات کی بنیاد پر حراست میں لے رکھا ہے اور ڈی بریفنگ کے نام سے ان کی تذلیل کر رہے ہیں۔

اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ہم نے ایٹمی صلاحیت پر پانچ ملکوں کی اجارہ داری کے بارے میں ان کا موقف تسلیم کر لیا ہے اور اپنے اس موقف سے دستبردار ہو گئے ہیں جس کی بنیاد پر پاکستان عالم اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت بنا تھا۔ اور اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ جب ہم چند تسلیم شدہ ایٹمی طاقتوں کے دائرے سے باہر ایٹمی صلاحیت اور ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کا وہ بین الاقوامی قانون تسلیم کر رہے ہیں جسے ہم نے ایٹم بم بنا کر عملاً مسترد کر دیا تھا، مگر اَب اس قانون کی رو سے ایٹمی ٹیکنالوجی کی منتقلی کو جرم تسلیم کر کے اسی کی بنیاد پر اپنے سائنس دانوں کے خلاف کارروائی کے لیے پر تول رہے ہیں، تو یہ صرف موقف سے دستبرداری نہیں ہے بلکہ ایٹمی صلاحیت سے دستبرداری کا فیصلہ بھی ہے۔ کیونکہ اگر ٹیکنالوجی اور آلات مبینہ طور پر ایران اور لیبیا کو دینا ’’جرم‘‘ ہے تو پاکستان کے لیے انہیں حاصل کرنا بھی اسی طرح کا جرم تھا۔ اور اگر حکومتوں سے ہٹ کر ’’افراد‘‘ کا ایران اور لیبیا کے لیے ایٹمی ٹیکنالوجی اور آلات کی فراہمی کے لیے سرگرم عمل ہونا بلیک مارکیٹنگ ہے تو افراد کی سطح پر پاکستان کے لیے کیا جانے والا یہ عمل بھی ”بلیک مارکیٹنگ“ ہی کہلائے گا۔ اور جب ہم موقف کے حوالے سے ’’یوٹرن‘‘ کے اس مرحلے تک آجائیں گے تو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی، ایٹمی ٹیکنالوجی اور آلات کی مجرمانہ منتقلی، اور ایٹمی صلاحیت کی بلیک مارکیٹنگ کی بنیاد پر حاصل ہونے والی ایٹمی صلاحیت کا ہمارے پاس کوئی جواز باقی نہیں رہے گا، اور اگر لیبیا کے ایٹمی پلانٹ کے آلات اور مشینوں کی طرح ہمارے ایٹمی اثاثے اور آلات واشنگٹن پہنچانے کے لیے ہوائی جہاز آ پہنچے تو اپنی ایٹمی صلاحیت کے تحفظ کے ہمارے دعوے ان کی پرواز کو روکنے کے لیے کسی سطح پر رکاوٹ نہیں بن سکیں گے۔

ہمارے نزدیک اس معاملے کا سب سے اہم اور نازک پہلو یہی ہے کہ ایٹمی صلاحیت پر چند ملکوں کی اجارہ داری کے نام نہاد اصول اور اس کے لیے بنائے گئے یکطرفہ بین الاقوامی قوانین کو تسلیم کر کے ہم اب تک کے اپنے قومی اور عملی موقف سے دستبردار ہو رہے ہیں۔ اس کے بعد ہمارے لیے اس بات کی وضاحت ممکن نہیں رہے گی کہ اگر ایران یا لیبیا یا کسی اور ملک کو ایٹمی صلاحیت اور آلات فراہم کرنے کے لیے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی جرم، چوری اور بلیک مارکیٹنگ ہے تو پاکستان کے لیے بین الاقوامی قوانین اور نیٹ ورک سے ہٹ کر ایٹمی صلاحیت اور آلات کا حصول کیوں چوری اور بلیک مارکیٹنگ نہیں تھا؟ اس لیے ایٹمی سائنس دانوں کے خلاف کارروائی کے اس پس منظر اور جواز کو قبول کرنے کے لیے ہم تیار نہیں ہیں۔ البتہ اس حوالے سے سامنے آنے والی باتوں میں دو امور ضرور قابل توجہ ہیں:

  1. ایک یہ کہ بین الاقوامی قوانین متنازعہ سہی مگر سائنس دانوں کے اس مبینہ عمل سے ملک کے اپنے رازداری کے قوانین کی خلاف ورزی بھی تو ہوئی ہے،
  2. اور دوسری یہ کہ بعض ایٹمی سائنس دانوں کے حال میں ظاہر ہونے والے مبینہ خفیہ اکاؤنٹس کو کس زمرے میں شمار کیا جائے گا؟

اس بات کو ہم تسلیم کرتے ہیں، اگر واقعتاً پاکستان کے اپنے رازداری کے قوانین کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور مبینہ خفیہ اکاؤنٹس کا فی الواقع وجود ہے تو اس پر ضرور کارروائی ہونی چاہیے، لیکن وہ کارروائی نارمل اور معمول کے مطابق ہونی ضروری ہے۔ اس کے بارے میں غیر معمولی اور خصوصی کارروائی کا تاثر نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ رازداری کے قوانین کی خلاف ورزی اور خفیہ اکاؤنٹس صرف ان ایٹمی سائنس دانوں کے حوالے ہی سے سامنے نہیں آئے بلکہ اس حمام میں اور بھی بہت سے ’’عزت مآب‘‘ اور ’’ہز ایکسیلنسی‘‘ ننگے کھڑے ہیں۔ ان میں سیاست دان بھی ہیں، بیوروکریٹ بھی ہیں اور جرنیلوں کی بھی کمی نہیں، بلکہ یہ ایک لحاظ سے ہمارے مقتدر طبقات کا کلچر بن چکا ہے اور شاید ہی کوئی عزت مآب اس سے محفوظ رہ گیا ہو۔ اس لیے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ایٹمی سائنس دانوں کی ڈی بریفنگ اور ان کے خلاف مبینہ کارروائی کے بارے میں اگر حکومت فی الواقع سنجیدہ ہے اور اسے قومی مفاد میں سمجھتی ہے تو اسے دو باتوں کا واضح طور پر اہتمام کرنا ہوگا:

  1. ایک یہ کہ ایٹمی صلاحیت پر چند ملکوں کی اجارہ داری کے مغربی تصور کی ایک بار کھل کر نفی کی جائے اور اعلان کیا جائے کہ اس حوالے سے موجودہ بین الاقوامی قوانین کو ہم یکطرفہ اور متنازعہ سمجھتے ہیں اور اس کے بارے میں تحفظات رکھتے ہیں۔ یہ اعلان سائنس دانوں کے خلاف موجودہ کارروائی کے قومی مفاد میں ہونے کا تاثر قائم کرنے کے لیے بھی ضروری ہے اور پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کے تحفظ کا بھی ناگزیر تقاضا ہے۔
  2. دوسری بات یہ ہے کہ پاکستان کے رازداری کے قوانین کی خلاف ورزی اور خفیہ بینک اکاؤنٹس کی تفتیش کو نارمل سطح پر لایا جائے اور اس تاثر کو عملی طور پر ختم کیا جائے کہ یہ کارروائی صرف ایٹمی سائنس دانوں کے خلاف ضروری سمجھی گئی ہے اور اسی جرم کا ارتکاب کرنے والے دوسرے افراد اور طبقات کے بارے میں چشم پوشی سے کام لیا جا رہا ہے۔

اگر حکومت ان دو باتوں کا اہتمام کرے تو کسی حد تک یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ سب کچھ قومی مفاد میں ہو رہا ہے اور قانون کی بالادستی قائم رکھنے کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے۔ ورنہ یہ ساری کارروائی جنوبی ایشیا کے لیے امریکی ایجنڈے کا ایک حصہ سمجھی جائے گی جس کے ساتھ قومی مفاد اور قانون کی بالادستی کا اتنا ہی تعلق ہوگا جتنا تعلق عراق کے قومی مفاد اور عراقیوں کو بدعنوان حکمران سے نجات دلانے کے نعرے کا عراق پر امریکی اتحاد کی مسلح یلغار سے تھا۔ فہم و دانش کی دنیا میں اسے اس سے زیادہ کوئی مقام حاصل نہیں ہو سکے گا۔