مولوی محمد یونس خالصؒ

   
مجلہ: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۸ جولائی ۲۰۰۶ء
اصل عنوان: 
دو بزرگوں کی یاد میں

مولوی محمد یونس خالصؒ کی وفات کی خبر قومی اخبارات میں نظر سے گزری، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ یہ حالات کے اتار چڑھاؤ کا کرشمہ ہے کہ ان کی وفات کی یہ خبر پاکستان کے بہت سے قومی اخبارات کے ایک کونے میں جگہ پا سکی۔ ورنہ اگر زمانہ ناقدری کا خوگر نہ ہوتا اور لوگوں میں محسن کشی اور احسان ناشناسی اس قدر غلبہ نہ پا چکی ہوتی تو نہ صرف یہ کہ پاکستان کے قومی اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ میں مولوی محمد یونس خالص کا تذکرہ پاکستان کے ایک محسن کے طور پر کیا جاتا بلکہ امریکہ اور مغرب کا میڈیا بھی ان کا تذکرہ اس طور پر کرتا کہ افغانستان کا وہ عظیم رہنما دنیا سے رخصت ہوگیا ہے جس نے سوویت یونین کو شکست دینے اور سرد جنگ میں مغرب کی کامیابی کی راہ ہموار کرنے میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا تھا، لیکن احسان ناشناسی بلکہ محسن کشی کے اس دور میں اس انصاف کی توقع کس سے کی جا سکتی ہے!

مولوی محمد یونس خالص شیخ الحدیث مولانا عبد الحقؒ کے ممتاز شاگردوں میں سے تھے بلکہ اکوڑہ خٹک میں جب شیخ الحدیث نے دارالعلوم حقانیہ کا آغاز کیا تو ان کے ابتدائی رفقاء میں مولوی محمد یونس خالص بھی شامل تھے۔ وہ انتہائی حوصلہ مند اور جری علماء میں سے تھے، جب افغانستان میں سوویت یونین نے اپنا قبضہ مستحکم کرنے کے لیے فوجیں اتاریں اور افغانستان کو کمیونسٹ ممالک کے کیمپ میں شامل کرنے کی غرض سے طاقت اور جبر کا راستہ اختیار کیا تو جن حریت پسندوں نے روسی استعمار کی اس عسکری جارحیت کے خلاف مزاحمت کا راستہ اختیار کیا ان میں مولوی محمد یونس خالص بھی تھے۔ انہوں نے دیگر علماء کرام کے ساتھ مل کر روس کی فوجی جارحیت اور نظریاتی یلغار کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا اور عملی طور پر جہاد کا آغاز کیا۔

جہاد افغانستان کے ابتدائی سالوں میں جب کسی کو اس جہاد کی کامیابی بلکہ پیش رفت کا یقین نہیں تھا اسے مولویوں کا جنون کہہ کر مذاق اڑایا جاتا تھا۔ جہادی رہنما اپنی حمایت و معاونت کا سب سے بڑا سرچشمہ عالم اسباب میں پاکستان کے دینی حلقوں اور غیور عوام کو تصور کیا کرتے تھے۔ حتیٰ کہ افغانستان کے ایک بڑے حصے پر مجاہدین کے کنٹرول تک امریکہ سمیت مغربی ممالک یہ سوچنے کے لیے بھی تیار نہیں تھے کہ یہ جنگ لڑی جا سکتی ہے اور اسے جیتا بھی جا سکتا ہے۔ اس دور کی بات ہے کہ مولوی محمد یونس خالص پاکستان کے مختلف شہروں میں آئے اور ہم نے شیرانوالہ لاہور، گوجرانوالہ، شیخوپورہ، ٰفیصل آباد اور دیگر شہروں میں ان کے لیے علماء کرام کے اجتماعات کا اہتمام کیا تاکہ وہ انہیں جہاد افغانستان کی اہمیت سے آگاہ کر سکیں اور اپنا موقف سمجھا سکیں۔ اس کے بعد ان سے بہت ملاقاتیں ہوئیں اور کئی محافل میں شرکت ہوئی۔ میں نے مولوی محمد یونس خالص مرحوم کو آخری بار قندھار میں اس دور میں دیکھا جب طالبان کی حکومت قائم ہو چکی تھی لیکن ابھی کابل ان کے کنٹرول میں نہیں آیا تھا۔ وہ ایک مصالحتی مشن کے سلسلہ میں قندھار آئے ہوئے تھے اور ’’حرکت انقلاب اسلامی افغانستان‘‘ کے سربراہ مولوی محمد نبی محمدیؒ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ اس کے بعد میں ان دونوں بزرگوں کو نہیں دیکھ سکا البتہ اخبارات میں مختلف حوالوں سے ان کی خبریں وقتاً فوقتاً نظر سے گزرتی رہیں۔

گزشتہ دنوں اخبارات میں مولوی محمد یونس خالصؒ کی وفات کی خبر پڑھی تو بہت سی یادیں ذہن میں تازہ ہونے لگیں اور افغانستان کے علماء کرام اور مجاہدین کے ایک حوصلہ مند قائد کی تگ و تاز کے مناظر نگاہوں کے سامنے گھومنے لگے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جوارِ رحمت میں جگہ دیں، ان کی لغزشوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرمائیں، ان کی حسنات کو قبولیت سے نوازیں اور ان کی ان تمناؤں اور آرزوؤں کی تکمیل کے اسباب مہیا کریں جن کو سامنے رکھ کر مولوی محمد یونس خالص اور دیگر جہادی رہنماؤں نے جہادِ افغانستان کی طرف عملی قدم بڑھایا تھا، آمین یا رب العالمین۔