مولانا محمد شریف جالندھریؒ اور مولانا سید امین الحقؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۵ ستمبر ۱۹۸۱ء

گزشتہ دنوں ہمیں فرشتہ اجل نے ملک کی دو قیمتی علمی و دینی شخصیتوں سے محروم کر دیا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ملتان کے معروف دینی ادارہ خیر المدارس کے مہتمم اور برصغیر کے نامور عالم دین حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ کے فرزند حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ حج بیت اللہ شریف کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ پہنچے تو وہاں سے اچانک خبر آئی کہ مولانا موصوف کا مکہ میں انتقال ہوگیا ہے اور انہیں جنت المعلاۃ میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔ مکہ مکرمہ میں وفات اور جنت المعلاۃ میں قبر کی جگہ یقینا مولانا مرحوم کی نیکی، سعادت اور ان کی دینی خدمات کی قبولیت کی علامت ہے اور ان کے لیے بلاشبہ خوش بختی کی بات ہے۔ لیکن ان کی مرنجانِ مرنج شخصیت اور دینی و علمی مساعی کے تسلسل سے محرومی خیر المدارس کے اساتذہ، طلبہ، منتظمین، مرحوم کے اعزہ و اقرباء اور ملک بھر کے ہم مسلک احباب کے لیے گہرے صدمے کا باعث ہے۔ مرحوم ایک نیک دل، سادہ مزاج اور باعمل عالم دین تھے۔ خیر المدارس کی انتظامی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ ملک کے مختلف حصوں میں تبلیغی اجتماعات سے ان کا خطاب علم دوست حضرات کے لیے دلچسپی کا ذریعہ تھا۔ لیکن اب وہ یہ سب یادیں اپنے پیچھے چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے حضور چلے گئے ہیں۔

مولانا سید امین الحقؒ اپنے گاؤں طورو ضلع مردان میں طویل علالت کے بعد گزشتہ دنوں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ امام المحدثین حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کے مایہ ناز شاگردوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ مولانا مرحوم حضرت اقدس مولانا احمد علی لاہوریؒ کے خلفاء میں سے تھے اور حضرت لاہوریؒ اور ان کے خانوادہ کے ساتھ مرحوم کا والہانہ تعلق آخر دم تک قائم رہا۔ عمر کا بیشتر حصہ شیخوپورہ کی مرکزی جامع مسجد میں خطابت کے فرائض سرانجام دیتے ہوئے بسر کر دیا۔ ذہین اور جید عالم دین تھے۔ مختلف عنوانات پر قابل قدر تصانیف ان کی یادگار ہیں۔ مسلک اہل سنت اور حنفیت کے دفاع سے خصوصی دلچسپی تھی اور عصری مسائل و تقاضوں پر بھی نظر تھی۔ سرکاری ملازمت کے تسلسل کے باوجود اظہارِ حق سے کبھی نہیں چوکے، جس بات کو شریعت کے خلاف سمجھا سر منبر کہہ دیا۔ محکمہ اوقاف میں مختلف مناصب سے ہوتے ہوئے بالآخر صوبائی خطیب بنے اور اسی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ اس دور میں جبکہ علمی و دینی محاذ پر رجال کار کا خلاء انتہائی گھمبیر شکل اختیار کرتا جا رہا ہے مولانا سید امین الحقؒ جیسی پختہ کار علمی شخصیت کا انتقال علمی و دینی حلقوں کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے۔

مولانا محمد شریف جالندھری اور مولانا سید امین الحقؒ دونوں بزرگ ہم سے جدا ہو کر مرحومین کی صف میں چلے گئے ہیں اور ملک کے دینی و علمی حلقے ان کی جدائی پر سوگوار ہیں، اللہ تعالیٰ مرحومین کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائیں اور پسماندگان، تلامذہ و متعلقین کو صبر و حوصلہ کے ساتھ ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق ارزانی فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔