حضرت مولانا شفیق الرحمان درخواستیؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۰ ستمبر ۲۰۰۷ء

حضرت مولانا شفیق الرحمان درخواستیؒ کا شمار حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے نامور اساتذہ میں ہوتا ہے، انہوں نے حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی نور اللہ مرقدہ کے زیرسایہ تعلیم و تربیت حاصل کی اور پھر ان کی سرپرستی میں ان کی مسند پر بیٹھ کر سالہا سال تک قرآن و حدیث کا درس دیا۔ وہ حضرت درخواستیؒ کے نواسے تھے، ان کے شاگرد و تربیت یافتہ تھے اور ان کی علمی روایات کے امین تھے۔ مولانا شفیق الرحمان درخواستیؒ کی تدریس و خطابت اور عادات و اخلاق میں حضرت درخواستیؒ کی جھلک دکھائی دیتی تھی اور وہ حق گوئی اور راست بازی میں اپنے عظیم خاندان کی روایات کے وارث تھے۔

حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ کا اپنا ایک مخصوص طرز تھا اور تدریس کا منفرد انداز تھا جسے اپنانے کی کوشش میں حضرت مولانا شفیق الرحمان درخواستیؒ سب سے نمایاں تھے۔ حضرت مولانا عبد اللہ درخواستیؒ کے وصال کے بعد ان کے علمی ورثہ، دینی جدوجہد، جماعتی محنت، مسلکی تگ و دو اور تعلیمی روایات کے تسلسل کو قائم رکھنے میں ان کے جانشین حضرت مولانا فداء الرحمان درخواستیؒ، حضرت مولانا شفیق الرحمان درخواستیؒ، حضرت مولانا حاجی مطیع الرحمان درخواستی اور حضرت مولانا حافظ فضل الرحمان درخواستی نے اپنے اپنے انداز سے جس محنت کو جاری رکھا ہوا ہے، حضرت مولانا شفیق الرحمان درخواستیؒ کی اچانک وفات نے اس میں بہت بڑا خلاء پیدا کر دیا ہے اور یہ بلاشبہ درخواستی خاندان کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مولانا شفیق الرحمان درخواستیؒ کو جوارِ رحمت میں جگہ دیں اور ان کے بیٹوں، بھائیوں اور دیگر اہل خاندان کو صبر و حوصلہ کے ساتھ ان کی دینی و تعلیمی جدوجہد کو جاری رکھنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

________________________
حضرت مولانا شفیق الرحمن درخواستی ؒ ہمارے مخدوم و محبوب امیر حافظ الحدیث حضرت مولانا عبداللہ درخواستی قدس اللہ سرہ العزیز کے نواسے اور ان کی علمی و تدریسی روایات کے امین تھے۔ انہوں نے حضرت درخواستی ؒ کے زیر سایہ تعلیم و تربیت حاصل کی اور پھر جامعہ مخز ن العلوم و الفیوض خانپور میں ان کی مسند تدریس پر بیٹھ کر تعلیمی و تدریسی سلسلہ کو جاری رکھا، بعد میں خانپور میں ہی جامعہ عبداللہ بن مسعودؓ قائم کرکے تدریسی خدمات سرا نجام دیتے رہے، مسلکی حمیت سے مالامال تھے اور دینی تحریکات کی ہمیشہ سرپرستی فرماتے تھے۔

ان کی اچانک وفات صرف درخواستی خاندان نہیں بلکہ ملک بھر کے دینی و علمی حلقوں کے لیے صدمہ کا باعث ہے، حضرت درخواستی ؒ کے ساتھ تعلق و عقیدت کے حوالہ سے بھی اور اس حوالہ سے بھی کہ ہم قحط الرجال کے اس دور میں ایک باعمل عالم دین، باصلاحیت استاذ حدیث اور جذبہ حق گوئی سے بہرہ ور دینی راہنما سے محروم ہوگئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ درجات سے نوازیں، ان کے اہل خاندان تلامذہ اور عقیدت مندوں کو صبر جمیل کی توفیق دیں اور ان کے برادران و فرزندگان کو ان کا علمی صدقہ جاریہ تادیر جاری رکھنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

(ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ ۔ اکتوبر ۲۰۰۷ء)