مولانا سید اسعدؒ مدنی

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
نامعلوم
تاریخ اشاعت: 
فروری ۲۰۰۶ء

شیخ الاسلا م حضرت مولانا حسین احمدؒ مدنی کے جانشین اور جمعیۃ علماء ہند کے سربراہ حضر ت مولا نا سید اسعدؒ مدنی گزشتہ رو ز انتقال کر گئے ہیں، اناللہ وانا الیہ راجعون۔ وہ گزشتہ تین ماہ سے کومہ میں تھے اور کافی عرصہ بستر علالت پر رہنے کے بعد کم وبیش ۸۰ برس کی عمر میں اس دنیا سے رحلت فرماگئے ہیں۔ حضرت مولا نا سید حسین احمدؒ مدنی برصغیر پاک وہند بنگلہ دیش کی ممتاز شخصیات میں سے تھے جنہیں برطانوی استعمار کے خلاف اس خطہ کے عوا م کی تحریک حریت میں علامت کی حیثیت حاصل ہے اور جن کے تذکرہ کے بغیر جدوجہد آزادی کا کوئی باب مکمل نہیں ہوسکتا۔ وہ بیک وقت بلند پایہ محدث اور بلند نسبت روحانی پیشوا ہونے کے ساتھ مسلمانوں کی متحرک سیاسی راہ نما اور تحریک آزادی کے عظیم مجاہد تھے۔ اور انہیں یہ منفرد اعزاز حاصل تھا کہ انہوں نے کم وبیش سترہ برس حرم نبویؐ میں بلکہ مسجد نبوی میں قال اللہ تعالی وقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم درس دیا اور جب انہوں نے محسوس کیا کہ ان کے استاذ محترم شیخ الہند حضرت مولا ما محمو د حسن دیوبندی قدس اللہ سرہ العزیز بڑھاپے میں اپنے وطن کی آزادی اور مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی بحالی کے لیے سرگر م عمل ہیں تو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ان کے قافلہ عزیمت میں شامل ہوگئے اور ان کے ساتھ ہی مالٹا جزیرہ میں محبوس ہوگئے۔

حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی نے جب متحدہ ہندوستان کے علماء کرام کی اس وقت کی سب سے بڑی جماعت جمعیۃ علماء ہند کی قیادت سنبھالی تو استخلاص وطن اور حریت قومی کے لیے پرامن سیاسی جدوجہد کا آغاز ہوچکا تھا اور مسلمانوں کی سیاسی قیادت تحریک آزادی کی طرف بڑھ رہی تھی۔ حضرت مدنی نے اس جرأت وحوصلہ اور عزیمت واستقامت کے ساتھ تحریک آزادی میں علماء حق کی قیادت کی کہ جمعیۃ علماء ہند نے حریت پسند جماعتوں کی صف اول میں نمایا ں مقام حاصل کر لیا بلکہ ہر اول دستہ کا کردار اداکیا۔ یہ تاریخی حقیقت ہے کہ جمعیۃ علماء ہند نے سب سے پہلے ایک سیاسی فورم سے ۱۹۲۶ء سے ملک کی مکمل آزادی کا مطالبہ کرکے اپنی جدوجہدکا آغاز کیا جبکہ انڈین نیشنل کانگریس نے ۱۹۳۰ء میں آزادی کامل کو اپنا ہدف بنایا اور آل انڈیا مسلم لیگ کو اس مطالبہ اور مشن تک پہنچتے ہوئے مزید د س سال لگ گئے۔ جمعیۃ علماء ہند کا یہ اعزاز بلاشبہ حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلویؒ،حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی اور ان کے رفقاء کی فراست وبصیرت اور عزیمت واستقا مت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

برصغیر کی تقسیم اور قیام پاکستان کے بعد حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی کی قیا دت میں جمعیۃ علماء ہند نے عملی سیاست سے کنارہ کشی کر لی اور تعلیمی، سماجی اور رفاہی کاموں میں مسلمانوں کی راہنمائی کو اپنا مشن بنالیا۔ تقسیم کے نتیجے میں بھارت میں رہ جانے والے کروڑوں مسلمانوں کو جن شدید مشکلات اور سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑا ان کے حل اور مسلمانوں کے تحفظ کے لیے حضرت مدنی اور حضرت مولا نا حفظ الرحمان سیوہاریؒ کی سر براہی میں جمعیۃ علماء ہند نے تاریخی کردار اداکیا جو مسلمانان ہند کی تاریخ میں ایک روشن باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی اور حضرت مولا نا حفظ الرحمان سیوہاریؒ کی وفات کے بعد بظاہریوں محسوس ہوتا تھا کہ بھارت میں مسلمانوں کے معاشرتی وقار، دینی اقدار کے تحفظ اور ترقی کے لیے شب و روز مصروف عمل یہ محاذ شاید ٹھنڈا پڑجائے گا اور اب اس سطح کی کوئی شخصیت سامنے نہیں آسکے گی جو ملک گیر سطح پر مسلمانوں کے حقو ق ومفادات کے تحفظ اور ان کی تعلیمی وسماجی ترقی کے لیے اس جرأت و استقامت کے ساتھ سر گرم عمل ہو۔ مگر حضرت مولانا سید اسعد مدنیؒ کچھ اس شان سے اس میدان میں آگے بڑھے کہ امیدوں کی ٹمٹماتی شمعیں پھر سے روشن ہونے لگیں اور دم توڑتے حوصلوں میں ایک بار پھر زندگی کے آثار دکھائی دینے لگے۔ وہ ایک متحر ک سیاسی راہنما تھے اور ہر کام وقت پر کرنے کے عادی تھے۔ سیاسی مذہبی اور مسلکی معاملات پر ا ن کی نظر یکساں رہتی تھی اور کسی اہم مسئلہ میں صرف نظر سے کا م لینا ان کے مزاج کے خلاف تھا۔

تقسیم ہند کے بعد بھارت کے رہنے والے مسلمانوں کو سب سے زیادہ جس مسئلہ کا سامنا تھا وہ فرقہ وارانہ فسادات کا تھا۔ کہیں بھی فرقہ وارانہ عصبیت کی چنگاری بھڑکتی تو اس علاقے میں مسلمانوں کے جان و مال خطرے میں پڑجاتے۔ ایسے میں اس علاقے میں جانا، مسلمانوں کو حوصلہ دینا، ان کی امداد و بحالی کے کاموں کی نگرانی کر نا، فرقہ پرستوں کو لگام دینے کی جدوجہد کرنا اور حکام کو انصاف کے تقاضے پورے کرنے پر مجبو رکرنا، سب سے مشکل کا م ہوتا ہے۔ ایک زمانے میں حضرت مولانا حفظ الرحمان سیوہاریؒ کا یہ کام ہوتا تھا کہ جہاں اس قسم کے فسادات ہوتے وہ تما م تر خطرات کو نظر انداز کرتے ہوئے خود وہاں پہنچ جاتے اور تمام متعلقہ امور اپنی نگرانی میں طے کراتے۔ پھر یہ جگہ حضرت مولانا سید اسعدؒ مدنی نے سنبھال لی اور خود کو ان کاموں کے لیے وقف کردیا۔ بھارت کے کسی بھی حصے میں مسلمانوں پر کوئی گرفت آتی اور کوئی مسئلہ کھڑاہو تا، وہاں کے لوگوں کو یہ یقین ہوتا تھا کہ اور کوئی آئے یا نہ آئے، ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لیے حضرت مولانا سید اسعدؒ مدنی ضرور آئیں گے اور اکثر ایسا ہی ہوتا تھا۔

میں نے مختلف مواقع پر انہیں دیکھا ہے، دارالعلوم دیوبند کے صد سالہ اجلاس کے موقع پر میں نے حضرت مولانا سید اسعدؒ مدنی کو خود ان کے دیوبند کے گھر میں دیکھا، پاکستان میں متعدد بار تشریف آوری پر ان کی زیارت و ملاقات شر ف حاصل کیا، اور برطانیہ کے بہت سے اجتماعات میں ان کے ساتھ شرکت کی۔ سچی بات ہے کہ اپنے معمولات و اوقات کا ان سے زیادہ پابند میں نے اور کوئی شخص نہیں دیکھا۔ میرے والد محترم شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سر فراز خان صفدر دامت برکاتہم کا بھی یہی معمول رہا ہے کہ وہ جب تک مصروفیا ت کے دائرے میں رہے اپنے معمولات و اوقات کی سختی سے باپندی کرتے تھے۔ حتیٰ کہ ہم ان کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ وہ گھڑی کی سوئیوں کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ مگر حضرت والد صاحب کی مصروفیا ت کی جولانگاہ گکھڑ اور گوجرانوالہ تک محدود رہی ہے اور سفرکا موقع کبھی کبھی آتا تھا۔ جبکہ حضرت مولانا سید اسعدؒ مدنی کی جولانگاہ میں بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، امریکہ، جنوبی افریقہ اور پاکستان سمیت بہت سے دوسرے ممالک شامل تھے۔ اور شاید ہی کوئی سال ایسا ہوتا جب وہ ا ن ممالک کا دورہ نہ کرتے، ان طویل اسفار میں اپنے نظام الاوقات کی پابندی کرنا اور معمولات کو بلاناغہ نبھاہنا مولا نا اسعدؒ مدنی کا ہی کام تھا۔

میں نے برطانیہ کے اسفار میں دیکھا کہ ان کے سفر کے آغا ز سے قبل ہی ان کے سفر کاسار ا شیڈول طے ہوجا تا تھا اور طبع ہوکر متعلقہ حضرات تک پہنچ جاتا تھا۔ پروگراموں کی گھنٹوں کے حساب سے تقسیم ہوتی، ایک دن میں درجنوں پروگرام ہوتے اور سارے پروگرام اپنے ا پنے وقت پر نمٹ جاتے اور اس معاملہ میں وہ کسی رعایت کے قائل نہیں تھے۔ اور ایسا ممکن نہیں ہوتا تھا کہ پروگرام کا وقت حرج ہو رہا ہو اور وہ کسی اور پروگرام میں میزبانوں کے ساتھ مروت کی وجہ سے وقت حرج کر رہے ہوں۔گھڑی دیکھتے رہتے، وقت پر اٹھ کھڑے ہوتے اور پھر انہیں کسی کام کے لیے روکنا ممکن نہیں ہوتا تھا۔ ان کے اس عمل کا میں نے بارہا مشاہدہ کیا اور ہر بار اس حوالہ سے ان کے ساتھ عقیدت اور رشک کے جذبات میں اضافہ ہوا۔ ورلڈ اسلامک فورم کے چیئر مین مولانا محمد عیسٰی منصوری بسا اوقات حضرت مولانا سید اسعدؒ مدنی کی بعض خصوصیات کا تذکرہ کرتے رہتے ہیں، ایک بار کہنے لگے کہ میں نے مولانا اسعدؒ مدنی میں دو خوبیاں ایسی دیکھی ہیں جو کسی دوسرے دینی یا سیاسی راہ نما میں مجھے نظر نہیں آئیں۔

ایک یہ کہ ان کی خوراک انتہائی سادہ رہی ہے اور وہ اس معاملہ میں اکثر قناعت پسند رہتے ہیں، میں نے کئی بار دیکھا ہے کہ دستر خوان پر مختلف قسم کے کھانے ہیں اور پر تکلف ماکولات موجود ہیں مگر مولانا اسعدؒ مدنی اپنے سامنے پڑی ہوئی کوئی ڈش اٹھائیں گے اور اسی سے کھانے لگیں گے، اس کے علاوہ کسی دوسری چیز کی طر ف دیکھیں گے بھی نہیں۔

مولانا منصوری کہتے ہیں کہ دوسری بات جو میں نے مولانا اسعدؒ مدنی میں بطور خاص محسوس کی وہ ان کی مستعدی اور چابک دستی ہے۔ وہ بروقت فیصلہ کرتے ہیں اور اس پر بروقت عمل بھی کر گزرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ بسا اوقات اکیلے کئی جماعتوں پر بھاری ثابت ہوتے ہیں۔ میں نے کئی بار دیکھا ہے کہ کسی علاقے میں کوئی مسئلہ کھڑا ہوگیا ہے، دوسری جماعتیں اس کے بارے میں مشورہ کر رہی ہیں، پروگرام بنا رہی ہیں اور اپنے موقف کے منظم اظہار کی تیاریاں کر رہی ہیں کہ اچانک مولانا اسعدؒ مدنی کسی جانب سے وہاں پہنچ جاتے ہیں، اپنے حلقہ کا اجتماع یا پریس کانفرنس کر کے اپنا موقف اور پروگرام پیش کر کے آگے چل دیتے ہیں اور دوسری جماعتیں دیکھتی کی دیکھتی رہ جاتی ہیں۔

مولانا سید اسعدؒ مدنی نے جمعیۃ علماء ہند کی تعلیمی، سماجی، معاشرتی اور رفاہی جدوجہد میں جو نئے رنگ بھرے وہ بلاشبہ ان کے صدقات جاریہ ہیں۔ انہوں نے غریب مسلمانوں کو چھوٹے موٹے کاروبار اور شادی بیاہ جیسے معاملات میں ناگزیر ضروریات کے بلاسود قرضے فراہم کرنے کی غرض سے جمعیۃ علماء ہند کے زیراہتما م ایک فنڈ قائم کیا جس کے بعد اسی طرز کے بہت سے دیگر فنڈز بھی قائم ہوئے اور ایک وسیع کار خیر کا آغازہو گیا۔ انہوں نے دینی مدارس کے تحفظ و ترقی کے ساتھ ساتھ مسلمان بچوں کو عصری تعلیم اور فنون سے آراستہ کرنے کے لیے مسلمانوں کو توجہ دلائی اور بہت سے مقامات پر اس کا عملی اہتما م بھی کیا۔ انہوں نے مسلمانو ں کی سماجی بہبود اور فلاح کے لیے متعدد کام شروع کیے اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔

حضرت مولانا سید اسعدؒ مدنی سیاست میں ہمیشہ کانگریس کے ساتھ رہے اور ان کی طرف سے ایوان بالا کے ممبر بھی رہے۔ وہ دیانت داری کے ساتھ یہ سمجھتے تھے کہ بھارت کے معروضی حالات میں کانگریس مسلمانوں کے لیے بہتر پلیٹ فارم ہے اور وہ سیاسی معاملات میں کانگریس ہی کے فورم سے ہمیشہ متحرک رہے۔ مولانا اسعدؒ مدنی بھارت کے مسلمانوں کے لیے اپنے عظیم والد شیخ الاسلا م حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی قدس اللہ سرہ العزیز کے جانشین تو تھے ہی مگر میرے جیسے تاریخ کے طالب علم کے لیے وہ مجاہد ملت حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہاریؒ کے جانشین بھی تھے۔ اب یہ دونوں نسبتیں ہم سے رخصتیں ہوگئی ہیں۔ اللہ تعالی ان کے ورثاء و متعلقین کو ان کی حسنات کا سلسلہ جاری رکھنے کی توفیق دیں اور ا نہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔