مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
فروری ۲۰۰۳ء

حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کا نام پہلی بار طالب علمی کے دور میں سنا جب ان کی خطابت کا ہر طرف شہرہ تھا اور توحید و سنت کے پرچار کے ساتھ ساتھ شرک و بدعات کے تعاقب میں وہ پورے جوش و خروش کے ساتھ خطابت کے محاذ پر سرگرم تھے۔ ہم طالب علم تھے گوجرانوالہ شہر اور گرد و نواح میں جہاں بھی ان کی تقریر ہوتی ہم جتھہ بن کر جاتے اور ان کے پرجوش خطابت کا حظ اٹھاتے۔ یہ ان کی خطابت کے عروج کا دور تھا، وہ پورے جوش و جذبہ کے ساتھ دو دو تین تین گھنٹے بولتے اور پرجوش خطابت کے ساتھ ترنم کا جوڑ ملا کر عجیب سماں باندھ دیتے۔

شرک و بدعات کے رد و تعاقب میں والد محترم شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے علمی و تحقیقی کام سے کم و بیش برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش کے ہر عالم دین نے استفادہ کیا ہے۔ مولانا ضیاء القاسمیؒ بھی ان میں سے تھے، اس لیے جب کبھی ادھر سے گزر ہوتا تو اسی عقیدت کے ساتھ حضرت والد صاحب مدظلہ سے ملنے کے لیے رکتے اور حضرت شیخ الحدیث مدظلہ بھی ان کے ساتھ اسی نسبت سے انس و شفقت کا معاملہ فرماتے۔

میں طالب علمی کے دور میں ہی جمعیۃ علماء اسلام سے وابستہ ہوگیا تھا اور ۱۹۶۲ء میں جنرل ایوب خان مرحوم کے مارشل لاء کے خاتمہ کے بعد سیاسی جماعتوں کی بحالی ہوئی تو میں نے جمعیۃ علماء اسلام کی باقاعدہ رکنیت اختیار کی جو بحمد اللہ تعالیٰ اب تک قائم ہے۔ جبکہ مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کاجماعتی تعلق اس دور میں تنظیم اہل سنت پاکستان کے ساتھ تھا اور وہ ایک موقع پر تنظیم اہل سنت پاکستان کے سیکرٹری جنرل بھی رہے۔

شرک و بدعات کی تردید کے بعد مولانا مرحوم کا دوسرا خطابتی محاذ رفض و تشیع کا تعاقب رہا ہے اور وہ زندگی کے ہر دور میں کسی نہ کسی طرح اس مشن کے ساتھ عملی طور پر وابستہ رہے ہیں۔ اہل تشیع کی طرف سے اپنے جداگانہ تشخص کے اظہار اور اس کے لیے اوقاف، نصاب تعلیم اور دیگر کئی امور میں ان کے لیے الگ انتظامات کا مطالبہ صدر محمد ایوب خان کے دور میں ہی شروع ہوگیا تھا اور معروف شیعہ راہنما سید محمد دہلوی کی قیادت میں اہل تشیع نے قومی دھارے میں اپنے جداگانہ امتیاز کے لیے جدوجہد شروع کر دی تھی۔ اس محاذ پر تنظیم اہل سنت پاکستان نے اہل سنت کے جذبات کی ترجمانی کے لیے سرگرم جدوجہد کی اور اس جدوجہد کو منظم کرنے میں مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کا کردار نمایاں رہا۔ پھر ایک مرحلہ میں انہوں نے جمعیۃ علماء اسلام پاکستان میں شمولیت اختیار کی، ۱۹۷۰ء کے الیکشن میں فیصل آباد سے جمعیۃ کے ٹکٹ پر حصہ لیا اور ملک بھر میں جمعیۃ کی انتخابی مہم میں مختلف مقامات پر خطابت کے جوہر دکھائے۔ مجھے گوجرانوالہ کا وہ انتخابی جلسہ یاد ہے جو ۱۹۷۰ء کی انتخابی مہم کے دوران گوجرانوالہ میں بھٹو مرحوم کے جلسہ کے بعد دوسرا بڑا جلسہ شمار کیا جاتا ہے، اس میں حضرت مولانا مفتی محمودؒ اور مولانا غلام غوث ہزارویؒ کے بارے میں مخالفین کی طرف سے پراپیگنڈا کیا جاتا تھا کہ وہ سوشلسٹوں کے ہاتھوں بک گئے۔ اس پراپیگنڈے کو رد کرتے ہوئے مولانا محمد ضیاء القاسمی نے دورانِ تقریر حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے پاؤں سے ان کا جوتا اتروایا اور اسے ہوا میں لہراتے ہوئے کہا کہ تم مفتی محمودؒ کے بکنے کی بات کرتے ہو، میں تمہیں چیلنج دیتا ہوں کہ مفتی محمودؒ کے اس جوتے کو بھی دنیا کی کوئی طاقت نہیں خرید سکتی۔

مولانا ضیاء القاسمیؒ جمعیۃ علماء اسلام پنجاب کے سیکرٹری جنرل رہے اور انہی کے دور میں بلکہ انہی کی تحریک پر میں جمعیۃ کا صوبائی سیکرٹری اطلاعات بنا جبکہ اس سے قبل میں جمعیۃ کا لاہور ڈویژن کا ناظم تھا اور میری جماعتی سرگرمیوں کا دائرہ اسی ڈویژن تک محدود تھا۔ انہوں نے پنجاب میں جمعیۃ کے کام کو منظم کرنے کے لیے ایک سرگرم ٹیم کا انتخاب کیا جس میں حضرت مولانا محمد رمضانؒ آف میانوالی، مولانا قاری نور الحق قریشی ایڈووکیٹ، مولانا محمد لقمان علی پوریؒ اور جانباز مرزاؒ جیسے سرکردہ حضرات بھی شامل تھے۔ لیکن صوبہ سرحد میں حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے وزیر اعلیٰ بن جانے کے بعد مرکز میں بھٹو حکومت سے تعاون یا عدم تعاون کے سوال پر جمعیۃ علماء اسلام میں اختلافات رونما ہوئے اور حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ نے جمعیۃ کی متوازی تنظیم قائم کر لی تو مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ بھی ان کے ساتھ چلے گئے۔

مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کی سرگرمیوں کا چوتھا محاذ عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کا میدان تھا، وہ اس کے لیے ایک دور میں باقاعدہ طور پر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان میں شامل ہوئے لیکن مجلس کے مخصوص تنظیمی مزاج کے ساتھ نباہ نہ ہونے پر انہوں نے اپنا راستہ الگ کر لیا۔ البتہ کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے ساتھ ان کی وابستگی مسلسل قائم رہی۔ ۱۹۸۴ء کی تحریک ختم نبوت میں وہ امیر تحریک ختم نبوت حضرت مولانا خواجہ خان محمد دامت برکاتہم کے معتمد رفقاء میں سے تھے اور انہوں نے اس تحریک میں سرگرم کردار ادا کیا اور ہفتہ بھر قید رہے جس کے نتیجے میں صدر جنرل ضیاء الحق مرحوم کا وہ مشہور ’’امتناع قادیانیت آرڈیننس‘‘ نافذ ہوا جس کے بعد قادیانی امت کے سربراہ مرزا طاہر احمد نے ملک سے فرار ہو کر لندن کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنا لیا۔

۱۹۸۴ء میں مرزا طاہر احمد نے لندن کا رخ کیا اور قادیانیوں کا سالانہ جلسہ بھی وہیں منعقد کرنے کا اعلان کیا تو مولانا محمد ضیاء القاسمی نے مولانا عبد الحفیظ مکی، مولانا منظور احمد چنیوٹی اور علامہ خالد محمود صاحب کے ساتھ مل کر لندن مین سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس کے لیے ’’انٹرنیشنل ختم نبوت مشن‘‘ کے نام سے فورم قائم کرنے کا فیصلہ ہوا، میں بھی اس کی ٹیم میں شامل تھا۔ چنانچہ اگست ۱۹۸۵ء میں لندن کے معروف ویمبلے کانفرنس سنٹر میں پہلی سالانہ بین الاقوامی ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس کے لیے ہم پانچوں حضرات نے ایک مہینہ پہلے جا کر برطانیہ کے مختلف شہروں کے دورے کیے اور کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لیے جدوجہد کی۔ اس کے بعد انٹرنیشنل ختم نبوت مشن اور مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان نے مل جل کر مشترکہ کام کرنے کے لیے باہمی معاہدہ کیا جو آگے نہ بڑھ سکا اور مولانا ضیاء القاسمیؒ کی ٹیم نے ’’انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ‘‘ کے نام سے الگ جماعت بنا لی۔ مگر میں نے اس مرحلہ میں ان کے ساتھ شریک ہونے سے معذرت کر دی کہ کسی بھی دینی کام میں باہمی محاذ آرائی کی فضا میں کوئی کردار ادا کرنے کے لیے اب طبیعت کسی طور پر بھی آمادہ نہیں ہوتی۔

مولانا ضیاء القاسمیؒ کی زندگی کا آخری دور ’’سپاہِ صحابہؓ‘‘ کے سرپرست کی حیثیت سے گزرا۔ انہوں نے پرجوش نوجوانوں کی اس ایثار پیشہ جماعت کو رہنمائی، سرپرستی اور پشت پناہی مہیا کی اور تحفظ ناموس صحابہؓ کے لیے سپاہ صحابہؓ کی جدوجہد کو آگے بڑھانے کے لیے اپنا اثر و رسوخ اور ذرائع بھرپور طریقہ سے استعمال کیے۔

ان مختلف محاذوں پر اپنے اپنے وقت میں سرگرم کردار ادا کرتے ہوئے مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کی جدوجہد اور تگ و دو میں جو بات ہر دو رمیں نمایاں رہی ہے وہ علماء دیوبند کی تحریک اور مسلک کے ساتھ ان کی والہانہ وابستگی، اکابر علماء دیوبند کے ساتھ پرجوش عقیدت اور مسلک کا تحفظ و دفاع ہے۔ اس معاملہ میں ان میں کوئی لچک نہیں تھی اور اس کے لیے وہ ہر دم مستعد رہتے تھے۔ دینی غیرت، مسلکی حمیت، جرأت و حوصلہ اور میدان میں ڈٹ جانے کا جذبہ ان کی نمایاں خصوصیات تھیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی حسنات قبول فرمائیں، سیئات سے درگزر کریں اور جنت الفردوس میں اپنے محبوب اکابر علماء دیوبند کے ساتھ جگہ نصیب فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔