محترمہ بے نظیر بھٹو مرحومہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۹ دسمبر ۲۰۰۷ء

پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن محترمہ بے نظیر بھٹو گزشتہ روز راولپنڈی میں ایک خودکش حملہ کے نتیجہ میں جاں بحق ہوگئیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ملک بھر میں ان کا سوگ منایا جا رہا ہے اور ہر طبقہ کے افراد ان کے اس المناک قتل کی مذمت کرتے ہوئے اس سوگ میں شریک ہیں۔ حکومت نے قومی سطح پر تین دن او رپاکستان پیپلز پارٹی نے چالیس روز تک سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔ اور اس دوران احتجاجی مظاہروں، تعزیتی اجتماعات اور قرآن خوانی کی محافل کے ساتھ ساتھ کاروباری زندگی تین روز سے تا دمِ تحریر معطل ہے، توڑ پھوڑ کا سلسلہ جاری ہے، ریلوے کے انجن، گاڑیاں، بسیں، کاریں اور کوچیں سینکڑوں کی تعداد میں جلائی جا چکی ہیں اور بینک، دفاتر اور پٹرول پمپ بھی اس توڑ پھوڑ کی زد میں ہیں۔

اب تک سامنے آنے والی میڈیا رپورٹوں کے مطابق محترمہ بے نظیر بھٹو نے زندگی کے آخری روز اسلام آباد میں افغانستان کے صدر حامد کرزئی سے ملاقات کی اور لیاقت باغ میں ایک انتخابی جلسہ سے خطاب کیا لیکن جب وہ جلسہ سے خطاب کے بعد اپنی رہائش گاہ پر جانے کے لیے لیاقت باغ سے باہر نکل رہی تھیں تو حملہ کا نشانہ بن گئیں۔ کارکن ان کو دیکھ کر جوش و خروش سے نعرے لگانے لگے جس پر انہوں نے کارکنوں کے نعروں کا جواب دینے کے لیے گاڑی کی چھت کھلوائی اور سر باہر نکال کر ہاتھ ہلاتے ہوئے کارکنوں کے لیے خوشی کا اظہار کرنے لگیں۔ اس دوران ان پر فائرنگ ہوئی اور ساتھ ہی ایک خوفناک دھماکہ ہوا اور وہ گاڑی کے اندر گر گئیں، انہیں فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکیں اور ڈاکٹروں نے کم و بیش نصف گھنٹہ تک ان کی جان بچانے کی کوشش کے بعد ان کی موت کا اعلان کر دیا۔

وزارت داخلہ کے ترجمان اور ان کے ساتھ آخری وقت بے نظیر بھٹو کا علاج کرنے والے ڈاکٹر صاحبان کا کہنا ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کو کوئی گولی نہیں لگی بلکہ وہ گاڑی کی کھلنے والی چھت کا لیور سر پر لگنے سے زخمی ہوئیں اور ان کے سر کا یہ شدید زخم ان کی موت کا باعث بن گیا۔ ڈاکٹر صاحبان کے بقول گاڑی کے لیور سے لگنے والے اس زخم کے علاوہ ان کے جسم پر اور کسی قسم کے زخم کا کوئی نشان نہیں تھا۔ مگر پاکستان پیپلز پارٹی کی سیکرٹری اطلاعات شیری رحمان نے وزارت داخلہ کے اس موقف کو جھٹلاتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کی عینی شاہد ہیں کہ بے نظیر بھٹو کی گردن پر گولی لگی تھی اور وہ ان کے غسل میں بھی شریک تھیں اور اس موقع پر بھی انہوں نے گولی لگنے سے ہونے والے زخم سے خون رستے دیکھا ہے۔ ان دو متضاد بیانات سے محترمہ بے نظیر بھٹو کی موت کا سبب متعین کرنا بظاہر مشکل نظر آرہا ہے جبکہ بہت سے حلقوں کی طرف سے، جن میں امریکہ کی صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن بھی شامل ہیں، اس سانحہ کی عالمی سطح پر تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جس کے جواب میں وزارت داخلہ کے ترجمان بریگیڈیر (ر) جاوید اقبال چیمہ نے کہا ہے کہ ایسا کرنا ممکن نہیں ہے البتہ اگر بے نظیر بھٹو کے ورثاء چاہیں تو ان کا شک دور کرنے کے لیے قبر کشائی کر کے محترمہ بے نظیر بھٹو کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرایا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک اخبار میں شائع ہونے والی یہ خبر بھی قابل توجہ ہے کہ ہسپتال سے محترمہ بے نظیر بھٹو کے علاج سے متعلقہ تمام ریکارڈ غائب کر دیا گیا ہے۔

دوسری طرف اس المناک سانحہ کی ذمہ داری کے حوالہ سے پہلے یہ خبر منظر عام پر آئی کہ ’’القاعدہ‘‘ نے اس کی ذمہ داری قبول کر لی ہے اور اس کے ترجمان نے کہا ہے کہ ہم نے ایسا کر کے امریکہ کا ایک قیمتی اثاثہ ختم کر دیا ہے لیکن اس کے بعد القاعدہ کی طرف سے اس کی تردید بھی آگئی ہے کہ اس کے کسی ترجمان نے یہ بیان نہیں دیا۔ اس کے ساتھ ہی وزارت داخلہ کے ترجمان کی طرف سے وزیرستان کے ایک کمانڈر بیت اللہ محسود کی ایک اور صاحب کے ساتھ ہونے والی ٹیلی فون گفتگو کی تفصیل جاری کی ہے جس میں انہوں نے ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہوئے اس کو بڑا کارنامہ قرار دیا ہے اور یہ کام کرنے والے کارکنوں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

محترمہ بے نظیر بھٹو کو ان کے والد محترم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے پہلو میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے اور ان سطور کی اشاعت تک پیپلز پارٹی کی ہائی کمان ان کے جانشین کا انتخاب کر چکی ہوگی جس کے بارے میں اخباری قیاس آرائیاں یہ ہیں کہ آصف زرداری کی طرف سے پارٹی کی قیادت سنبھالنے سے معذرت کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو کی بہن صنم بھٹو یا ان کے فرزند بلاول زرداری میں سے کسی کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ بے نظیر بھٹو کے اس المناک قتل کے بعد ۸ جنوری کو عام انتخابات کا انعقاد بھی سوالیہ نشان بن کر رہ گیا ہے، ملک بھر میں تمام انتخابی سرگرمیاں معطل ہیں، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں محمد نواز شریف نے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے، ان سطور کی اشاعت تک پیپلز پارٹی کی ہائی کمان بھی الیکشن کے بارے میں کوئی فیصلہ کر چکی ہوگی اور غالب گمان یہ ہے کہ اگر پی پی پی نے بھی انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا تو ۸ جنوری کو عام انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں رہے گا۔ مگر اس صورت میں آئینی الجھنوں سے نمٹنے کے لیے دوبارہ ایمرجنسی کا نفاذ بھی امکان سے باہر نہیں ہے۔

اس کے ساتھ ہی بین الاقوامی حلقوں میں صدر مشرف کی حکومت کے مستقبل کا سوال بھی زیر بحث ہے اور کہا جا رہا ہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف پر اقتدار سے الگ ہونے کے لیے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے اور ہو سکتا ہے کہ وہ اب اس دباؤ کا مزید مقابلہ نہ کر سکیں۔ شاید یہی صورتحال سامنے رکھ کر میاں نواز شریف نے الیکشن کے التواء اور ایک ایسی قومی حکومت کے قیام کا مطالبہ کیا ہے جس میں پرویز مشرف کا کوئی کردار نہ ہو۔ بہرحال اس پس منظر میں آج اور کل کا دن بہت زیادہ اہم ہیں اور ملک کی قومی سیاست کے ساتھ ساتھ قومی وحدت اور ملکی سالمیت کے مستقبل کا سوال بھی آج اور کل کے فیصلوں سے منسلک ہے، اس لیے کہ پنجاب میں سندھ سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم کے قتل کی بات بعض حلقوں کی طرف سے بار بار کہی جا رہی ہے اور یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش ہو رہی ہے کہ اس قتل کی ذمہ داری پنجاب پر عائد ہوتی ہے۔ یہ بات اس تناظر میں اور بھی زیادہ خطرناک ہو جاتی ہے کہ بلوچستان میں پہلے ہی پنجاب کے خلاف سیاسی جذبات کو ابھارنے کا عمل جاری ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ جنوبی ایشیا کے سیاسی نقشے میں بعض عالمی طاقتوں کی مزعومہ تبدیلی اور پاکستان کو اس کے موجودہ مقام و حیثیت سے (خاکم بدہن) محروم کرنے کے پلان کو دھیرے دھیرے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ اور نواب اکبر بگٹی مرحوم کے قتل کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل سے پیدا شدہ صورت حال کو بھی اس کے لیے بڑی مہارت کے ساتھ استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔

یہ صورتحال ملک کے دینی اور سیاسی حلقوں کے لیے حقیقی معنوں میں لمحۂ فکریہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ملک جس اندرونی خلفشار کا شکا رہے اور وطن عزیز کے خلاف عالمی سطح پر سازشوں کے جو تانے بانے بنے جا رہے ہیں اس سے ملک و قوم کو بحفاظت باہر نکالنے اور اس کے مستقبل کے بارے میں پیدا کیے جانے والے شکوک و سوالات کو عملاً رد کر کے ایک بہتر مستقبل کی طرف قوم کی راہ نمائی کرنے کی ذمہ داری بہرحال سیاسی اور دینی زعماء پر عائد ہوتی ہے۔ اس کے لیے انہیں گروہی، علاقائی، طبقاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر سرجوڑنا ہوگا اور ایک ایسی قومی مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا جو ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ کے مقصد قیام اور اس کے دستور و آئین کی بالادستی کی طرف پیش رفت کے ساتھ ساتھ ملکی سالمیت اور قومی وحدت کے لیے بھی ضمانت بن سکے۔ یہ اس وقت ہماری قومی سطح کی دینی و سیاسی قیادت کا کڑا امتحان ہے اور اگر ہمارے راہنما اس وقت بھی اپنے اپنے محدود دائروں کے خول سے نہ نکل سکے اور قومی مفاہمت کے ساتھ ملک و قوم کی قیادت کی ذمہ داری (خوانخواستہ) نہ نبھا سکے تو تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

ان گزارشات کے ساتھ ہم محترمہ بے نظیر بھٹو کے المناک قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کے خاندان اور پارٹی کے ساتھ ان کے غم میں شرکت کا اظہار کرتے ہیں۔ اور دعاگو ہیں کہ اللہ رب العزت مرحومہ کو جوارِ رحمت میں جگہ دیں اور وطنِ عزیز کی سالمیت اور مظلوم پاکستانی قوم کی وحدت کی حفاظت فرمائیں، آمین یا الہٰ العالمین۔