حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۹ اپریل ۲۰۰۷ء

میں حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ کی زیارت نہیں کر سکا لیکن کبھی کبھی ان کے فرزند و جانشین حضرت مولانا محمد عبید اللہ المفتی دامت فیوضہم کی ڈرتے ڈرتے اور تعارف کرائے بغیر زیارت کر کے محرومی کو کم کرنے کی کوشش ضرور کرتا ہوں۔ البتہ ان کے بعد جامعہ اشرفیہ میں شیخین کا درجہ حاصل کرنے والے دونوں بڑے بزرگوں امام المعقولات حضرت مولانا رسول خان صاحبؒ اور امام المنقولات حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ کی زیارت اور ان کی باتوں سے خوشبو حاصل کرنے کا کئی بار موقع ملا ہے۔ حضرت مولانا رسول خاںؒ کے ایک پوتے مولانا قاری عبد الرشید رحمانی میرے قریبی دوستوں میں سے ہیں جو برطانیہ میں کراولی کی جامع مسجد میں کئی سالوں سے خطابت و تدریس کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں، میں جب بھی برطانیہ جاتا ہوں ان کی میزبانی سے فیض یاب ہوتا ہوں۔

حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ کی زیارت پہلی بار جامع مسجد نیلا گنبد لاہور میں ہوئی جہاں مجھے میرے ایک دوست جمعہ پڑھنے کے لیے لے گئے، یہ گزشتہ صدی کے ساتویں عشرے کی بات ہے۔ حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ خطاب فرما رہے تھے اور معجزات پر ان کا بیان ہو رہا تھا۔ ان کا انداز بیان ایسا دل نشیں تھا کہ ایک ایک لفظ دل میں اتر رہا تھا چنانچہ وہ منظر بھی اب تک یاد ہے۔ حضرت مولانا کاندھلویؒ ایک بار ہمارے ہاں گکھڑ بھی تشریف لائے اور مرکزی جامع مسجد میں بیان فرمایا۔ اس موقع پر والد محترم حضرت مولانا محمد سرفرا زخان صفدرؒ نے بتایا کہ مولانا کاندھلویؒ ان کے استاذ ہیں اور انہوں نے غالباً مؤطا امام مالک مولانا کاندھلویؒ سے پڑھی تھی۔ اپنی سادگی، قناعت اور زہد وتقویٰ کے حوالے سے فی الواقع وہ اس دور کے بزرگ نہیں لگتے تھے۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ پچھلی صدی کے کوئی بزرگ ہمیں اس دور کا نمونہ دکھانے کے لیے ہمارے پاس بھیج دیے گئے ہیں۔

مولانا کاندھلویؒ کی خدمت میں ایک حاضری اپنی تمام تفصیلات کے ساتھ یاد ہے۔ میں اپنے ایک دوست اور جامعہ اشرفیہ کے فاضل مولانا قاری یوسف عثمانی کے ہمراہ ان کے در دولت پر حاضر ہوا۔ میرا معمول ہے کہ بزرگوں کی خدمت میں حاضری ہوتی ہے تو اپنا تعارف کرا کے خواہ مخواہ تکلف کا ماحول پیدا کرنے سے گریز کرتا ہوں اور خاموشی کے ساتھ استفادے کو ترجیح دیتا ہوں۔ انہوں نے میرے بارے میں پوچھا تو میں نے عثمانی صاحب کو تعارف کرانے سے روک دیا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ میں ان دنوں جمعیۃ علماء اسلام کے ذمہ دار حضرات میں سے تھا اور یہ تعارف حضرت مولانا کاندھلویؒ کے ہاں کوئی مثبت تعارف شمار نہیں ہوتا تھا۔ میں نے خود ہی گول مول سا تعارف کرایا کہ ایک مدرسے میں پڑھاتا ہوں۔ پوچھا کہ کون سی کتابیں پڑھاتے ہو؟ میں نے بتایا تو بے حد خوشی کا اظہار کیا۔ اس بات پر ان کی خوشی قابل دید تھی ایک نوجوان مولوی مدرسے میں پڑھاتا ہے اور اس کے زیر درس یہ کتابیں ہیں، اس خوشی میں انہوں نے زمزم پلایا کھجوریں کھلائیں اور اپنی تصنیف سیرۃ المصطفیٰ کی ایک جلد ہدیہ کے طور پر عطا فرمائی۔ پھر فرمایا کہ مولوی صاحب! مجھے خوشی ہوئی کہ تم پڑھاتے ہو، اس لیے کہ آج پڑھانے کا ذوق کم ہو گیا ہے اور نوجوان علماء پڑھانے کی بجائے خطابت اور دیگر مشاغل پر زیادہ توجہ دینے لگے ہیں۔ پھر انہوں نے چند نصیحتیں بھی فرمائیں اور دعا کے ساتھ رخصت کیا۔