دنیائے اسلام میں امریکہ کا تشخص

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جنوری ۲۰۰۶ء

روزنامہ نوائے وقت لاہور نے ۱۴ دسمبر ۲۰۰۵ء کی اشاعت میں یہ خبر شائع کی ہے کہ امریکہ کے صدر جارج ڈبلیو بش نے تسلیم کیا ہے کہ امریکہ کو اس وقت مسلم دنیا میں اپنے تشخص کا مسئلہ درپیش ہے جسے بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بات فلاڈیلفیا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی، انہوں نے کہا کہ عرب ٹی وی مستقل طور پر یہ کہہ رہے ہیں کہ امریکہ اسلام کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، امریکہ مسلمانوں کا ساتھ نہیں دے سکتا اور وہ ہماری دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اسلام کے خلاف جنگ قرار دے رہے ہیں، تاہم میں مسلمانوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ امریکی قوم اسلام مخالف نہیں ہے، امریکی قوم تمام لوگوں کے عقائد کا احترام کرتی ہے، انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ایسے اقدامات کیے ہیں جن سے مسلمانوں میں اس کا تشخص بہتر ہوا ہے، اس سلسلہ میں سونامی اور پاکستان میں زلزلے کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔

مغرب کے حکمرانوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے جذبات و احساسات کو اپنی مخصوص عینک کے ساتھ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کے مسائل و مشکلات کا حل اپنے ہی انداز سے تجویز کر دیتے ہیں۔ صدر جارج ڈبلیو بش کا یہ کہنا درست ہے کہ مسلم دنیا میں امریکہ کا تشخص و تعارف مثبت نہیں ہے اور دنیائے اسلام میں امریکہ کے خلاف وسیع پیمانے پر نفرت اور غیظ و غضب کے جذبات پائے جاتے ہیں لیکن اس کی وجہ عرب ٹی وی نہیں ہیں بلکہ اس کے اسباب ان عرب ٹی وی چینلوں کے وجود میں آنے سے بہت پہلے موجود تھے جن کی طرف امریکی صدر نے اشارہ کیا ہے۔ اور ان میں سب سے بڑا سبب اسرائیل کی مسلسل ناروا پشت پناہی اور عرب ممالک کے تیل کے چشموں پر فوجی تسلط ہے جس کے باعث نہ صرف یہ کہ تیل کے وسائل عرب دنیا کے اپنے کنٹرول میں نہیں رہے بلکہ عرب عوام کے شہری حقوق اور متعدد عرب ممالک کی خودمختاری سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے، جبکہ امریکہ نے افغانستان اور عراق کے خلاف فوج کشی کرکے اور مسلح افواج کے وہاں ڈیرے لگوا کر اپنے خلاف نفرت کے اسباب میں خود اضافہ کر لیا ہے، اس لیے جب تک ان اسباب کا ازالہ نہیں ہوگا نفرت میں کمی کی کبھی کوئی صورت ممکن نہیں ہے۔

صدر بش کو غلط فہمی ہے کہ سونامی اور زلزلہ کے متاثرین کی امداد کرکے وہ عالم اسلام کو ان اسباب و عوامل سے غافل کر سکتے ہیں جو امریکہ کے خلاف دنیائے اسلام میں نفرت کا باعث بنے ہوئے ہیں، یہ اسباب و عوامل زندہ اور معروضی حقیقت کی صورت میں دنیا کے سامنے موجود ہیں اور ان کی سنگینی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اس لیے اگر امریکہ دنیائے اسلام میں اپنا تشخص بہتر بنانا چاہتا ہے تو اسے مشرق وسطیٰ اور افغانستان کے حوالہ سے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا ہوگی اور مسلم دنیا پر مسلط کیے گئے اپنی مرضی کے حکمرانوں کی بجائے عالم اسلام کی حقیقی رائے عامہ اور مسلم امہ کی اکثریت کے جذبات کا احترام کرنا ہوگا، اس کے بغیر دنیائے اسلام میں امریکہ کے خلاف نفرت کے کم ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

درجہ بندی: