قومی اسمبلی میں سودی نظام کے خلاف بل

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اگست ۲۰۱۹ء

کچھ عرصہ قبل قومی اسمبلی کے رکن مولانا عبد الاکبر چترالی نے ایوان میں سودی نظام کے خاتمہ کے لیے ایک بل پیش کیا جو مجلس قائمہ کے سپرد کر دیا گیا ہے اور اس کی رپورٹ کے بعد کسی وقت بھی وہ اسمبلی میں زیر بحث آسکتا ہے، سودی نظام کے خاتمہ کے لیے طویل عرصہ سے ملک میں مختلف سطحوں پر جدوجہد جاری ہے:

  • دستور پاکستان میں حکومت پاکستان کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ سودی نظام ختم کر کے ملک کے معاشی نظام کو اسلامی اصولوں پر استوار کرے،
  • عدالت عظمیٰ ملک میں رائج سودی قوانین کو خلافِ دستور قرار دیتے ہوئے حکومت کو انہیں ختم کرنے کی ہدایت کر چکی ہے، مگر اس کا یہ تاریخی فیصلہ وفاقی شرعی عدالت کے پاس نظر ثانی کے مرحلہ میں ہے،
  • جبکہ وفاقی دارالحکومت کی حدود میں سود کے غیر سرکاری کاروبار کی ممانعت کا بل منظور ہو چکا ہے اور پنجاب میں بھی اسی نوعیت کا کوئی قانون پہلے سے موجود بتایا جاتا ہے۔

مگر اس سب کچھ کے باوجود سودی نظام اور قوانین سے گلو خلاصی کی کوئی عملی صورت دکھائی نہیں دے رہی۔ ادھر عالمی ماحول میں غیر سودی بینکاری کا دائرہ مسلسل وسیع ہو رہا ہے، بڑے بڑے بینکوں میں بلاسود بینکاری کے شعبے قائم ہو چکے ہیں۔ آئی ایم ایف (انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ) نے ایک رپورٹ میں غیر سودی بینکاری کے بارے میں کہہ دیا ہے کہ اس میں رسک کم اور منافع کے مواقع زیادہ ہیں، چنانچہ اس وجہ سے بھی اس میں معاشی اداروں کی دلچسپی بڑھنے لگی ہے۔ دینی جماعتیں مسلسل سودی نظام کے خاتمہ پر زور دے رہی ہیں جبکہ تمام مکاتبِ فکر کے مشترکہ فورم ’’تحریک انسداد سود پاکستان‘‘ نے بھی قومی اسمبلی میں زیر بحث بل کے بارے میں رائے عامہ کو بیدار اور منظم کرنے کے لیے رابطہ مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس تناظر میں اس بات کی شدت کے ساتھ ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کہ پاکستانی عوام کو بالعموم اور متعلقہ اداروں اور طبقات کو خاص طور پر اس بل کی اہمیت کی طرف توجہ دلائی جائے اور اس سلسلہ میں ہر سطح پر آگاہی کی مہم کا اہتمام کیا جائے۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ سود کی نحوست کے شرعی پہلوؤں کو قرآن و سنت کی روشنی میں جمعۃ المبارک کے خطبات، عمومی بیانات، اخباری مضامین اور میڈیا پروگراموں میں اجاگر کرنے کے علاوہ معاشی زندگی میں سودی نظام کے منفی اثرات کو بھی سامنے لایا جائے اور اس منحوس سسٹم کی اخروی تباہ کاریوں کے ساتھ ساتھ دنیاوی نقصانات سے بھی عوام کو آگاہ کیا جائے۔ مثال کے طور پر آکسفورڈ برطانیہ میں ہمارے ایک فاضل دوست ڈاکٹر فرحان احمد نظامی کے بیان کردہ ایک واقعہ اور مشاہدہ کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے جو برصغیر کے نامور مؤرخ پروفیسر خلیق احمد نظامیؒ کے فرزند اور مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کے خوشہ چین ہیں اور آکسفورڈ سنٹر فار اسلامک اسٹڈیز کے ڈائریکٹر جنرل ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یورپ کے کسی ملک کی ایک یونیورسٹی نے انہیں دعوت دی کہ وہ اس کے ایک پروگرام میں سود کے بارے میں اسلامی نقطۂ نظر بیان کریں، انہوں نے وعدہ کیا اور تیاری شروع کر دی، وہ فرماتے ہیں کہ میرے ذہن میں ترتیب وہی تھی جو ہمارے ہاں عام طور پر ہوتی ہے کہ قرآن کریم کی آیات، احادیث مبارکہ اور فقہاء کرام کے ارشادات کے ذریعے اپنے موقف کو واضح کرنے کی کوشش کروں گا مگر تیاری کے دوران ان کے ذہن میں یہ بات آئی کہ اس سے میں تو شاید اپنی ذمہ داری پوری کر لوں گا لیکن شاید ان لوگوں کو بات زیادہ بہتر طور پر نہ سمجھا سکوں، اس لیے میں نے ترتیب بدل دی اور تیاری کا رُخ اس طرف موڑ دیا کہ سودی نظام نے دنیا کی مجموعی معیشت کو کیا فائدہ دیا ہے اور کتنا نقصان پہنچایا ہے۔ اس پر ممتاز ماہرین معیشت کی تحقیقات اور اس سلسلہ میں جدید ترین ریسرچ کا مطالعہ کیا جس کا مجموعی طور پر خلاصہ یہ ہے کہ سودی نظام نے انسانی معیشت کو عدم توازن سے دوچار کیا ہے اور فائدہ سے کہیں زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ چنانچہ آج عالمی سطح پر سودی نظام کا دائرہ محدود کرنے کے راستے تلاش کیے جا رہے ہیں اور غیر سودی معیشت کی ضرورت و اہمیت اور نفع و افادیت کا احساس نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔ نظامی صاحب کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس ساری ریسرچ کا خلاصہ ایک ترتیب کے ساتھ بیان کر کے آخر میں قرآن کریم کی آیت مبارکہ کا حوالہ دیا کہ ’’یمحق اللّٰہ الربوا ویربی الصدقات‘‘ (اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے) کہ جس نتیجے پر دنیا آج پہنچی ہے وہ قرآن کریم نے چودہ سو برس قبل بیان کر دیا تھا۔ ڈاکٹر فرحان احمد نظامی نے بتایا کہ وہ اس اسلوب کے ساتھ اپنا موقف زیادہ بہتر طور پر سمجھانے میں کامیاب ہوئے اور اس کے بعد متعدد یورپی یونیورسٹیوں کی طرف سے انہیں یہ موقف ان کے ہاں بیان کرنے کی دعوت مل چکی ہے۔

گزارش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ سودی نظام سے ملک اور قوم کو نجات دلانے کے لیے سیاسی جدوجہد کے ساتھ ساتھ علمی و فکری محنت کی بھی ضرورت ہے اور اس کے لیے آج کے اسلوب کو اختیار کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔