مسلمانوں میں فکر و شعور کی بیداری

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۴ اکتوبر ۲۰۰۴ء

حرمین شریفین کی حاضری کے بعد لندن روانگی سے قبل ایک دو روز جدہ میں قیام رہا اور ایک بزرگ محدث کی خدمت میں حاضری کا شرف حاصل ہوا۔ الشیخ عبد اللہ بن احمد الناجی مدظلہ معمر علماء کرام میں سے ہیں اور حدیث نبویؐ کے ممتاز فضلاء میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ ایک سو پندرہ برس ان کی عمر ہے اور اب سے پون صدی قبل کے اکابر محدثین سے تلمذ کا شرف رکھتے ہیں۔ سماعت کمزور ہو چکی ہے مگر گفتگو بے تکلفی سے کرتے ہیں۔ شافعی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں اور زندگی بھر حدیث نبویؐ کی خدمت میں مصروف رہے ہیں۔ دنیا کے کسی بھی حصے سے حرمین شریفین میں حاضر ہونے والے علم حدیث کے اساتذہ و طلبہ کو ان کا پتہ چلتا ہے تو وہ ان کی خدمت میں حاضری اور ان کی زبان سے حدیث نبویؐ کی سماعت کے ساتھ ان کے شاگردوں کے حلقے میں شامل ہونے کا شرف حاصل کرتے ہیں۔ یہی شوق مجھے بھی ان کی مجلس میں لے گیا۔ میرے ہم زلف قاری محمد اسلم شہزاد جو جدہ میں قیام پذیر ہیں اور میرے میزبان تھے، جبکہ جدہ میں ہی ایک عرصہ سے قرآن کریم کی تدریسی خدمات سرانجام دینے والے قاری محمد رفیق بھی اپنے فرزند سمیت ہمارے ساتھ تھے۔ شیخ محترم نے چند نصائح سے نوازا، ایک حدیث نبویؐ سنائی اور ہماری درخواست پر ہمیں اپنی اسناد کے ساتھ روایت حدیث کی اجازت مرحمت فرمائی۔

جدہ میں ایک معروف پاکستانی عالم دین مولانا صاحبزادہ قاری عبد الباسط مدت سے قیام پذیر ہیں، درس قرآنِ کریم کا خصوصی ذوق رکھتے ہیں، ان کا درسِ قرآنِ کریم کا مستقل حلقہ ہے، پڑھے لکھے لوگ ان کے درس میں آتے ہیں اور استفادہ کرتے ہیں، جدہ سے شائع ہونے والے اردو اخبار روزنامہ ’’اردو نیوز‘‘ میں دینی عنوانات کے تحت سوال و جواب پر مشتمل ان کا ہفتہ وار کالم شائع ہوتا ہے جو اردو خواں حلقے میں خاصا مقبول ہے جبکہ ان سوالات و جوابات کا ایک مجموعہ چار جلدوں میں دیوبند سے شائع ہو چکا ہے جس پر اکابر علماء کرام نے تحسین کی ہے۔ جدہ میں کبھی حاضری ہوتی ہے تو ان کی فرمائش پر ان کے حلقۂ درس میں شرکت ہو جاتی ہے۔ اس بار بھی ایسا ہی ہوا اور ان کے ہفتہ وار درس میں فہم قرآن کریم کی ضرورت و اہمیت اور اس کے ناگزیر تقاضوں پر کم و بیش ایک گھنٹہ گفتگو کا موقع ملا۔ خواتین کی ایک بڑی تعداد میں درس میں شریک ہوتی ہے۔ حاضرین کی تعداد اور ذوق و شوق دیکھ کر قاری عبد الباسط کی محنت کا اندازہ ہوتا ہے۔

قاری محمد رفیق کا تعلق کرنال سے ہے، قیام پاکسستان کے وقت وہاں سے ملتان آئے اور اب سے ربع صدی قبل جدہ آگئے۔ پرانے مدرس ہیں اور قرآن کریم کی تدریس کا خصوصی ذوق رکھتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ ان کا خاص ذوق یہ ہے کہ پاکستان، بھارت یا بنگلہ دیش سے آنے والے دیوبندی مسلک کے کوئی عالم دین ان کے قابو آجائیں تو کوشش کر کے انہیں اپنے مدرسے میں لاتے اور جدہ کے علماء کرام اور احباب کے ساتھ ان کی ملاقات و گفتگو کا اہتمام کرتے ہیں۔ ان کے تقاضے پر میں بھی حاضر ہوا۔ انہوں نے مختلف دوستوں کی ایک خصوصی نشست کا اہتمام کر رکھا تھا اور ان کی خواہش تھی کہ میں اس محفل میں عالم اسلام کے معروضی حالات اور مسلم دانشوروں کی ذمہ داریوں کے حوالے سے گفتگو کروں۔

گزشتہ روز جمعۃ المبارک کی نماز میں نے مسجد حرام میں ادا کی تھی اور امام حرم الشیخ عبد الرحمان السدیس کے فکر انگیز خطبے سے شادکام ہوا تھا۔ انہوں نے اس خطبے میں موجودہ عالمی تہذیبی کشمکش اور فکر و فلسفہ کی جنگ کا ذکر کرتے ہوئے علماء کرام، اساتذہ، صحافیوں اور دانشوروں کو توجہ دلائی کہ وہ عقیدہ و ثقافت کی اس کشمکش کا ادراک حاصل کریں اور قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں اس ’’غزۂ فکری‘‘ میں کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ جنگ جذباتی ردعمل، تشدد اور ہتھیاروں کے ساتھ نہیں لڑی جا سکتی بلکہ اس کے لیے عقل، دلیل، حکمت اور علم کے ہتھیاروں سے کام لینا ہوگا۔

میں نے اپنی گفتگو کا آغاز اسی حوالے سے کیا اور کہا کہ مجھے امام حرم الشیخ السدیس حفظہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد گرامی سے سو فیصد اتفاق ہے کہ عقیدہ و فلسفہ کی جنگ اور فکر و ثقافت کی کشمکش میں دلیل اور منطق کے ہتھیار ہی کام دیتے ہیں اور مسلم اہل دانش کو اس طرف ضروری توجہ دینی چاہیے۔ میں نے گزارش کی کہ مغرب کم و بیش دو سو برس سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف فکر و فلسفہ کی جنگ لڑ رہا ہے، اس سے قبل اس کی جنگ ہمارے خلاف مذہب کے نام پر تھی جو صلیبی جنگ کہلاتی تھی، مگر اب دو سو برس سے اس نے پینترا بدل کر سیاست و معیشت، ٹیکنالوجی، عسکریت، وسائل اور فکر و ثقافت میں غلبے کی جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ اور اس حقیقت کے اعتراف میں ہمیں کوئی باک نہیں ہونا چاہیے کہ سیاست، معیشت، ٹیکنالوجی، عسکریت اور وسائل پر قبضے کی جنگ میں ہم مغرب کے ہاتھوں پسپا ہو چکے ہیں۔ اسباب و عوامل کچھ بھی ہوں مگر یہ امر واقع ہے کہ ان سب شعبوں میں ہم مغلوب اور بے بس ہیں۔ البتہ فکر و فلسفہ اور عقیدہ و ثقافت کی جنگ میں مغرب کو کامیابی حاصل نہیں ہو رہی اور مغرب اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں عام مسلمان کا خدا اور رسول اکرمؐ کے ساتھ عقیدہ و محبت کا تعلق توڑنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ ہم بھی یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ہماری آخری دفاعی لائن ہے جس پر ہم لڑ رہے ہیں، اس کے بعد اور کوئی مورچہ نہیں ہے جہاں ہم کھڑے ہو سکیں۔ البتہ یہ اطمینان کی بات ہے کہ اس دفاعی لائن پر ہم پوری استقامت کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس مورچے کو سر کرنے کی کوئی صورت مغرب کو دکھائی نہیں دے رہی جس کی وجہ سے مغرب کی پریشانی اب جھنجھلاہٹ کی حدوں کو چھونے لگی ہے۔

مغرب کو اس بات کی پریشانی ہے کہ عام مسلمان خواہ دنیا کے کسی حصے سے تعلق رکھتا ہو، اللہ تعالیٰ اور سنت رسولؐ کو آج بھی ہر معاملے میں آخری اتھارٹی سمجھتا ہے۔ خود ان پر عمل کرے یا نہ کرے مگر ان کے خلاف کوئی بات سننے یا ان کے کسی حکم سے دست بردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہے۔ یہ بات ہمارے نزدیک عقیدہ کہلاتی ہے جبکہ مغرب اسے کمٹمنٹ سے تعبیر کرتا ہے اور انتہاپسندی قرار دیتا ہے۔ ہماری آخری دفاعی لائن یہی ہے جسے مضبوط و مستحکم بنانا ہم سب کی ذمہ داری ہے اور یہ فریضہ سب سے زیادہ علماء کرام، اساتذہ اور دانشوروں پر عائد ہوتا ہے کہ وہ اس محاذ پر سنجیدگی کے ساتھ محنت کریں۔ میں سمجھتا ہوں کہ فکر و عقیدہ اور ثقافت کی اس جنگ میں ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو تین درجوں میں تقسیم کرنا ہوگا۔

  1. سب سے پہلی سطح اور درجہ یہ ہے کہ عام مسلمان کا تعلق قرآن و سنتؐ کے ساتھ قائم رہے، دین کے ساتھ اس کا رشتہ برقرار رہے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے آخری رسولؐ کے ساتھ اس کی عقیدت و محبت کا ذوق بڑھتا رہے۔ مساجد و مدارس اور دین کے داعی و مبلغ یہی کام کر رہے ہیں۔ یہ سب سے بنیادی کام ہے اور عام مسلمان کو خدا و رسولؐ، قرآن و سنت اور دین کے ساتھ جوڑنے کا یہ کام جہاں بھی ہو رہا ہے ہمیں اسے سپورٹ کرنا چاہیے، اسے تقویت دینی چاہیے اور اس کی مدد کرنی چاہیے۔
  2. دوسری سطح اور درجہ پڑھے لکھے لوگوں میں فکری بیداری اور دینی شعور کو اجاگر کرنے کا ہے۔ پڑھے لکھے لوگ خواہ دینی ماحول سے تعلق رکھتے ہوں یا عصری تعلیم سے ان کا تعلق ہو دونوں کی اہمیت یکساں ہے، ان میں دینی اور فکری بیداری کا ماحول قائم کرنا چاہیے۔ پڑھے لکھے لوگ کسی بھی قوم میں اعصاب کی حیثیت رکھتے ہیں، اعصاب میں حس قائم رہے تو پورے جسم میں حرکت موجود رہتی ہے اور تکلیف و اذیت کا احساس باقی رہتا ہے لیکن خدانخواستہ اعصاب بے حس ہو جائیں تو تکلیف، اذیت، درد اور زخم ہر چیز پر احساس ختم ہو کر رہ جاتا ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ پڑھے لکھے لوگوں میں فکری بیداری کو بڑھایا جائے، ان کے دینی ذوق میں اضافہ کیا جائے اور اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جاتی رہے کہ وہ موجودہ عالمی صورتحال سے باخبر رہیں، اسلام اور کفر کی کشمکش کی تازہ ترین صورتحال پر ان کی نظر ہو اور انہیں اس بات سے آگاہ رکھا جائے کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف دنیا میں کیا ہو رہا ہے اور کون کر رہا ہے۔ یہ بیداری اگر موجود رہے گی اور بڑھتی رہے گی تو ہم اپنے عقیدے و ثقافت اور ملی وجود و تشخص کی حفاظت کر سکیں گے لیکن اگر خدانخواستہ یہ احساس اور بیداری ہی ختم ہوگئی تو پھر ہم اپنے تحفظ و دفاع کے لیے کچھ بھی نہیں کر پائیں گے۔
  3. تیسری سطح اور درجہ علم و دانش کی اعلیٰ سطح سے تعلق رکھتا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ اسلامی عقائد اور فلسفہ و ثقافت پر مغرب کی جانب سے جو اعتراضات ہو رہے ہیں اور شکوک و شبہات پھیلائے جا رہے ہیں ان کی اہمیت کو محسوس کیا جائے اور مسلم دنیا کے اکابر علماء کرام اور اہل دانش عقل و تدبر اور علم و حکمت کی بنیاد پر ان اعتراضات و شکوک کا جواب دیں۔ ہمیں یہ بات ہرگز نہیں بھولنی چاہیے کہ عالمی ذرائع ابلاغ اور بین الاقوامی اداروں کی یکطرفہ یلغار نے خود ہمارے پڑھے لکھے نوجوانوں کے ذہنوں میں شکوک و شبہات کی ایک وسیع دنیا آباد کر رکھی ہے جس کا اظہار وہ زبان سے کریں یا نہ کریں لیکن یہ شکوک و شبہات ان کے ذہنوں میں موجود ہیں اور ان کے فکر و عقیدے کو گھن کی طرح چاٹ رہے ہیں۔ اہل علم و دانش نے اگر اس کی سنگینی کا احساس نہ کیا تو خدا کی عدالت میں تو وہ مجرم ہوں گے ہی، دنیا میں تاریخ کی عدالت بھی انہیں معاف نہیں کرے گی۔

میں سمجھتا ہوں کہ اگر ان تین درجوں میں اپنی مہم کو منظم کر سکے اور کام کو آگے بڑھا سکے تو اسلام اور مغرب کی اس فکری اور تہذیبی کشمکش میں ہم اپنا کردار صحیح طور پر ادا کر سکیں گے اور دنیا و آخرت میں سرخروئی سے ہمکنار ہوں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

حرمین شریفین کی حاضری اور جدہ میں مختلف اجتماعات میں شرکت کے بعد ۱۹ ستمبر کی شام لندن پہنچا، برطانیہ میں اندازًا ایک ماہ قیام رہے گا، اس کے بعد ہفتہ عشرہ کے لیے امریکہ جانا ہوگا اور ۲۵ اکتوبر کو وطن واپسی کا پروگرام ہے جبکہ اس دوران قارئین سے حسب معمول رابطہ قائم رہے گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔