عمر شیخ کے بارے میں برطانوی اخبار کا تبصرہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۴ اکتوبر ۲۰۰۰ء

بہت سے دوستوں نے مجھے مشورہ دیا کہ ابھی لندن کا سفر نہ کروں اور کچھ دن مزید انتظار کر لوں مگر اپنے شیڈول میں اس کی گنجائش نہ پا کر اللہ توکل چل پڑا اور ۲۲ ستمبر کو صبح ۹ بجے پی آئی اے کی لاہور سے لندن کی پرواز کے ذریعے ۳ بجے تک لندن پہنچ گیا۔ مفتی محمد جمیل خان کے تجربہ کے پیش نظر ذہن میں کسی حد تک خدشہ تھا کہ کہیں سوال و جواب کے لمبے چکر میں نہ ڈال دیا جاؤں لیکن ایسا نہیں ہوا اور ایئرپورٹ کے امیگریشن کاؤنٹر پر خاتون آفیسر نے صرف یہ سوال کیا کہ کتنا عرصہ رہوں گا اور اس جواب کے بعد انٹری کی مہر لگا دی کہ سات آٹھ ہفتے رہنے کا ارادہ ہے۔ سامان وصول کرنے کے بعد جب باہر جانے لگا تو ایک اور خاتون ہاتھ میں کاغذات کا پلندہ لیے کھڑی تھی جو پاکستانی پاسپورٹ پر آنے والوں سے یہ پوچھ رہی تھی کہ کتنا عرصہ وہ برطانیہ میں رہیں گے اور اس کے بعد ایک فہرست پر نشان لگاتی جا رہی تھی۔ اس کے علاوہ کوئی اور خلاف معمول بات سامنے نہیں آئی۔ البتہ ایئرپورٹ سے باہر نکلا تو صورتحال میں خاموش سی تبدیلی محسوس ہونے لگی، چہروں پر فکر کے آثار نمایاں تھے اور ہر ملنے والے دوست کا چہرہ زبان سے کچھ کہے بغیر کیفیات کی زبان میں سوال پوچھتا نظر آرہا تھا کہ اب کیا ہوگا اور کیا ہونے والا ہے؟

اس بار تین چار سال کے مسلسل انکار کے بعد مئی میں اسلام آباد کے امریکی سفارت خانہ نے بھی مجھے پانچ سال کا ملٹی پل ویزا دے دیا تھا اور میں اس تیاری میں تھا کہ ستمبر کے تیسرے ہفتے کے دوران لندن آتے ہی پہلے دو تین ہفتوں کے لیے امریکہ جاؤں گا اور واپسی پر ڈیڑھ ماہ کے لگ بھگ برطانیہ میں قیام کر کے رمضان المبارک سے قبل گوجرانوالہ واپس پہنچ جاؤں گا۔ مگر نیویارک اور واشنگٹن کے گیارہ ستمبر کے المناک سانحات کے بعد پیدا شدہ صورتحال میں ایسا ممکن نہ رہا اس لیے لندن پہنچنے کے بعد ارادہ کیا کہ اگر نومبر کے دوسرے ہفتے پاکستان واپسی سے قبل کسی مرحلہ میں حالات سازگار ہوئے، جس کا موجودہ حالات میں امکان کم نظر آتا ہے، تو ہفتہ دس دن کے لیے امریکہ جاؤں گا ورنہ پھر کبھی سہی۔

ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پینٹاگان کے سانحات کے اثرات برطانیہ میں مقیم مسلمانوں اور خاص طور پر عربوں اور پاکستانیوں پر بھی پڑے ہیں۔ بعض مقامات پر ردعمل کے واقعات بھی ہوئے ہیں مگر برطانوی حکومت صورتحال کو کنٹرول کرنے میں سنجیدہ نظر آرہی ہے۔ وزیراعظم ٹونی بلیئر نے ایک خصوصی مضمون میں عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پینٹاگان پر حملوں کی ذمہ داری اسلام اور مسلمانوں پر نہیں ڈالی جا سکتی بلکہ ان کے بقول یہ کارروائی دہشت گردوں کی ہے جس کے ردعمل کا سب مسلمانوں کے خلاف اظہار کرنا انصاف کی بات نہیں ہے۔ حکومت کی طرف سے مساجد اور اسلامی مراکز کے تحفظ کے اعلانات ہو رہے ہیں اور اس کے لیے اقدامات بھی نظر آرہے ہیں۔

آج ہی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت یورپ کے امیر مولانا منظور احمد الحسینی تشریف لائے تو بتایا کہ وہ بذریعہ ٹیوب ٹرین آرہے تھے کہ راستہ میں ایک دو حضرات نے ان سے دریافت کیا کہ کیا آپ اسامہ بن لادن کے ساتھی ہیں؟ اور ایک شخص نے تو براہ راست کہا کہ کیا آپ اسامہ بن لادن ہیں؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ ورلڈ میڈیا نے اسامہ بن لادن کے بارے میں ہر شخص کے دل میں خوف بٹھانے اور ہر داڑھی والے کو اسامہ بن لادن کا ساتھی ثابت کرنے کی جو روش اختیار کر رکھی ہے وہ اپنا اثر دکھا رہی ہے اور اس کے متوقع اور ممکنہ اثرات و نتائج سے باشعور مسلمان اور پاکستانی بجا طور پر پریشان نظر آتے ہیں۔ برطانوی میڈیا مختلف مسلم شخصیات کو اپنے خیالات کے اظہار کے لیے سامنے لا رہا ہے جس میں المہاجرون کے الشیخ عمر بکری محمد، سعودی عرب کے جلاوطن رہنما ڈاکٹر محمد المسعری اور الشیخ ابو حمزہ بھی شامل ہیں۔ ان حضرات کا بات کہنے کا اپنا انداز ہے جسے یہاں کے عمومی حلقوں میں جذباتی سمجھا جاتا ہے اور ان کی بعض باتوں سے لاتعلقی کے اظہار میں بھی مصلحت سمجھی جاتی ہے۔ مگر نوجوان حلقوں میں یہ انداز پسند کیا جاتا ہے اور اسے درست بلکہ وقت کی ضرورت قرار دینے والے بھی کم نہیں ہیں۔ ورلڈ اسلامک فورم کے ڈپٹی چیئرمین مولانا مفتی برکت اللہ فاضل دیوبند ہیں اور ان کا تعلق انڈیا سے ہے۔ ان سے جب ایک ٹی وی رپورٹر نے نیویارک اور واشنگٹن کے سانحات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ اسلام کسی بے گناہ کا خون بہانے کی اجازت نہیں دیتا اور اسے ظلم قرار دیتا ہے، مگر کسی بے گناہ کو مجرم قرار دینا اور ثبوت کے بغیر کسی کو انتقام کا ہدف بنانا بھی اسلام کی نظر میں اتنا ہی بڑا ظلم ہے۔ الغرض مسلم شخصیات کی طرف سے ملا جلا ردعمل سامنے آرہا ہے اور اب مختلف حلقے آنے والے حالات اور خطرات و خدشات کے پیش نظر باہمی مشاورت کا بھی اہتمام کر رہے ہیں تاکہ برطانیہ اور یورپ میں رہنے والے مسلمانوں اور پاکستانیوں کی بروقت اور صحیح راہنمائی کا اہتمام ہو سکے۔

مشہور برطانوی اخبار ’’سنڈے ٹائمز‘‘ نے ۲۳ ستمبر کی اشاعت میں عمر شیخ کے بارے میں ایک رپورٹ چھاپی ہے۔ عمر شیخ برطانوی شہری ہیں اور بھارت کی قید سے مولانا مسعود اظہر کے ساتھ رہا ہونے والے دو ساتھیوں میں سے ایک ہیں۔ سنڈے ٹائمز کے مطابق عمر شیخ برطانوی نژاد پاکستانی نوجوان ہے جس نے لندن کے اسکول اور کالج میں تعلیم حاصل کی ہے اور اپنے ریکارڈ کے مطابق ایک ذہین، محنتی اور شریف طالب علم شمار ہوتا رہا ہے، اس نے ہمیشہ تعلیم پر توجہ دی ہے اور رپورٹ کے مطابق اس سے اس کے خاندان کی توقع بھی یہی تھی جسے اس نے پورا کیا ہے۔ لیکن یونیورسٹی کی تعلیم کے دوران بوسنیا میں مسلمانوں کے قتل عام پر اسے بے چینی ہوئی اور وہ ایک امدادی قافلہ کے ساتھ بوسنیا گیا مگر وہاں کے مناظر دیکھ کر اس کا ذہن تبدیل ہوگیا اور اس نے مجاہدین کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر لیا۔ اس کے بعد رپورٹ کے مطابق وہ ’’حرکۃ الانصار‘‘ سے وابستہ ہوا اور کشمیر جا پہنچا جہاں سے وہ گرفتار ہوا اور ایئر انڈیاکے طیارے کے اغوا کے بعد ہائی جیکروں کے مطالبہ پر جن لوگوں کو بھارت کی قید سے رہا کیا گیا ان میں وہ بھی شامل تھا۔ سنڈے ٹائمز نے عمر شیخ کا تعلق ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پینٹاگان کے دھماکوں سے بھی جوڑ دیا ہے اور رپورٹ لکھنے والے کے نزدیک ان دھماکوں میں اس کا بنیادی کردار بتایا جاتا ہے۔

ان دھماکوں میں عمر شیخ کا کوئی کردار ہے یا نہیں مگر سنڈے ٹائمز کی رپورٹ نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ عمر شیخ نے سنڈے ٹائمز کے بقول دہشت گردی کی ٹریننگ نہ گھر سے حاصل کی ہے اور نہ ہی اسکول اور کالج میں اسے یہ ذہن اور تربیت ملی ہے۔ بلکہ اسے اس طرف لانے والا بنیادی کردار بوسنیا کے مظلوم مسلمانوں کا قتل عام ہے جن کی مدد کے لیے وہ وہاں گیا اور وہاں کے دل خراش مناظر نے اسے لندن کے اسکول میں پڑھنے والے ذہین اور شریف طالب علم سے کشمیر میں جہاد کرنے والا اور بھارت کی قید میں کئی سال کاٹنے والا مجاہد یا سنڈے ٹائمز کی زبان میں دہشت گرد بنا دیا۔ اس لیے اس حوالہ سے میں عالمی دانشوروں اور ورلڈ میڈیا کے ذمہ داروں سے پوچھنا چاہوں گا کہ اگر بوسنیا، مقدونیہ، کسووو، کشمیر، فلسطین اور دیگر مقامات پر مسلمانوں کے قتل عام کو روکنے میں وہ سنجیدہ نہیں ہیں تو عمر شیخ جیسے مجاہدوں یا ان کے بقول دہشت گردوں کو پیدا ہونے سے وہ آخر کس طرح روک سکتے ہیں؟

درجہ بندی: