مسئلہ ختم نبوت: ترامیم کا خفیہ ہاتھ بے نقاب کیا جائے

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲۶ نومبر ۲۰۱۷ء

اسلام آباد میں ’’تحریک لبیک یا رسول اللہؐ‘‘ کا دھرنا تا دمِ تحریر جاری ہے، گزشتہ روز ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اسلام آباد نے رات بارہ بجے تک فیض آباد چوک کو خالی کرنے کا حتمی نوٹس دے دیا تھا اور بعض اطلاعات کے مطابق دھرنے والوں کے انکار کی صورت میں فورسز کی کارروائی کسی بھی وقت متوقع ہے۔ اللہ تعالیٰ ملک و قوم کو کسی نئی آزمائش سے محفوظ رکھیں، آمین یا رب العالمین۔ گزشتہ روز ’’درسِ قرآن ڈاٹ کام چینل‘‘ پر ایک نشری گفتگو میں اس سلسلہ میں راقم الحروف نے کچھ گزارشات پیش کی ہیں جن کا کچھ حصہ قارئین کی نذر کیا جا رہا ہے۔

وزارت داخلہ کی طرف سے ایک اخباری اشتہار میں انتخابی ترامیم کے تین بلوں کی منظوری کے مختلف مراحل کی تفصیلات بتائی گئی ہیں جن کا مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ قوم کو یہ بتایا جائے کہ یہ جو کچھ بھی ہوا ہے پارلیمنٹ کے اندر ہوا ہے اور سینٹ کی دو کمیٹیوں کے تفصیلی غوروخوض کے بعد ہوا ہے اس لیے اس کی ذمہ داری کسی فرد یا افراد پر ڈالنا درست نہیں ہے۔ اس سے قبل راجہ محمد ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ کا بھی ایک حصہ قومی پریس کی زینت بنا ہے کہ یہ سب کچھ سینٹ کی کمیٹی میں تفصیلی بحث و مباحثہ کے بعد ہوا ہے اس لیے وہ کمیٹی مجموعی طور پر ختم نبوت کی قانونی دفعات میں اس ردوبدل کی ذمہ دار ہے جس کی اصلاح کے لیے پارلیمنٹ کو بعد میں دو مختلف بل منظور کرنا پڑے۔

یہ دونوں باتیں درست ہیں اور پارلیمنٹ کے ریکارڈ کا حصہ ہیں مگر اس سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں ہے کہ سب کچھ کی ذمہ داری صرف پارلیمنٹ یا سینٹ کی کمیٹی پر ہے او ران کے علاوہ کسی اور کا اس میں کوئی کردار نہیں ہے۔ کیونکہ اس سے سینٹ کی دو کمیٹیوں اور پارلیمنٹ کی ایک ذمہ داری تو بنتی ہے کہ انہوں نے متنازعہ مسودہ کی پوری طرح چھان بین نہیں کی حتیٰ کہ سینیٹر حافظ حمد اللہ کے توجہ دلانے کا بھی نوٹس نہیں لیا، لیکن اس سارے عمل کی پلاننگ کن لوگوں نے کی تھی وہ منظر عام سے غائب ہیں اور چپکے سے اپنا وار کر کے کمین گاہوں میں چھپ گئے ہیں۔ پارلیمنٹ کی کوتاہی غفلت اور بے پروائی کی حد تک ضرور ہے مگر اس پوری پلاننگ کو پارلیمنٹ یا اس کمیٹی کے کھاتے میں ڈال دینا انصاف کا تقاضا نہیں ہے بالخصوص اس پس منظر میں کہ یہی کارروائی جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کے دور میں الیکشن کمیشن کے قادیانی سیکرٹری کے ذریعے ہوئی تھی جس پر بروقت قابو پا لیا گیا تھا اور پھر جنرل پرویز مشرف کے دور میں انتخابی قوانین میں ترامیم کے مرحلہ میں دوبارہ اس کی پلاننگ او رلابنگ کی گئی تھی جو کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔

قادیانیوں کو انتخابی قوانین میں ترامیم کے ذریعے مسلمانوں کی فہرست میں شمار کرانے اور پارلیمنٹ کے ۱۹۷۴ء کے دستوری فیصلے کو ناکام بنانے کے لیے یہ تیسرا وار ہے جو کیا گیا ہے اور بحمد اللہ تعالیٰ یہ بھی ناکام ہوگیا ہے اس لیے اسے محض اتفاق قرار نہیں دیا جا سکتا۔ چنانچہ اس ہاتھ کو تلاش کرنا اور بے نقاب کر کے قرار واقعی سزا دینا بہرصورت ضروری ہے جس نے اس موقع پر پوری پارلیمنٹ کو اندھیرے میں رکھ کر انتہائی چابکدستی کے ساتھ اپنا کام نکلوا لیا تھا۔ اس خفیہ ہاتھ کو اگر اسی طرح چھوڑ دیا گیا تو اسے کسی چوتھے وار سے باز رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ اس لیے اسلام آباد میں دھرنا دینے والوں کا یہ مطالبہ نہ صرف درست بلکہ ضروری ہے کہ پارلیمنٹ کے ذریعے قادیانیوں کے بارے میں انتخابی قواعد میں ردوبدل کرانے کی اس منصوبہ بندی اور پلاننگ کو بے نقاب کیا جائے اور اس کے ذمہ دار حضرات کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

البتہ دھرنا دینے والوں سے بھی دو گزارشات کرنا چاہوں گا۔ ایک یہ کہ تحریک ختم نبوت، تحریک نظام مصطفٰیؐ اور تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ کی جدوجہد ہمیشہ تمام دینی مسالک کے مشترکہ فورم سے ہوئی ہے اور اسی وجہ سے ہر بار اس میں کامیابی ملتی رہی ہے۔ اس جدوجہد کو الگ الگ مسالک کے فورموں پر تقسیم کر دینا تحریک کو کمزور کرنے کے مترادف ہے جس کا نقصان مجموعی طور پر تمام امت کو ہوگا۔ ہم نے ۱۹۵۳ء، ۱۹۷۴ء اور ۱۹۸۴ء کی تحریکاتِ ختم نبوت میں مشترکہ فورم کے باعث پیش رفت کی تھی اور یہ بات سب حضرات کو نوٹ کر لینی چاہیے کہ استعماری قوتوں کے ایجنڈے کی راہ میں یہ وحدت اور یکجہتی ہی سب سے بڑی رکاوٹ چلی آرہی ہے جو اسلام دشمن قوتوں کو مسلسل کھٹک رہی ہے۔ یہ حصار اگر ٹوٹ گیا تو ان دینی او رملی مسائل پر کھلے بندوں بات کرنا بھی خدانخواستہ مشکل ہو جائے گا۔ اس لیے تحریک لبیک یا رسول اللہؐ کے قائدین ’’سولو فلائٹ‘‘ پر اصرار کرنے کی بجائے اجتماعی دینی دھارے میں واپس آجائیں اور سب دینی حلقوں کو اعتماد میں لے کر اپنے اس جائز مطالبہ کو آگے بڑھانے کی حکمت عملی اختیار کریں۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی پیش نظر رکھنی ضروری ہے کہ اب صورتحال ماضی کے مقابلے میں اس حوالے سے مختلف ہے کہ اب ہمارے ہر اجتماعی عمل کے کمزور پہلوؤں کو بین الاقوامی رائے عامہ کے سامنے منفی روپ میں پیش کیا جاتا ہے اور یہ بات دینی مقاصد کی راہ میں بہرحال رکاوٹ کا باعث بنتی ہے۔

دوسری بات یہ کہ احتجاج اور دباؤ کا ہر پرامن اور قانونی ذریعہ اختیار کرنا جدوجہد کرنے والوں کا حق ہوتا ہے لیکن اس میں عوام کو مشکلات سے دوچار کرنا اور پھر مسلسل دوچار رکھنا خود تحریک کے تقاضوں کے منافی سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم کو قومی و ملی تحریکات میں امام کی حیثیت حاصل رہی ہے، وہ کہا کرتے تھے کہ کسی بھی تحریک کی کامیابی کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ پرامن ہو اور کسی قسم کا تشدد اس کی صفوں میں داخل نہ ہونے پائے اور دوسری شرط یہ ہے کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ساتھ ملانے اور ان کے لیے مشکلات پیدا نہ کرنے کی روش اختیار کی جائے کیونکہ جس تحریک سے عوام تنگ پڑ جائیں یا جس میں تشدد شامل ہو جائے وہ بالآخر ناکامی سے دوچار ہوتی ہے۔ اس لیے تحریک لبیک یا رسول اللہؐ کے قائدین سے میری درخواست ہے کہ وہ ان دونوں باتوں پر سنجیدگی کے ساتھ غور کر کے ازسرِنو ٹھوس اور مؤثر طریقِ کار طے کریں۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی جدوجہد میں کامیابی سے ہمکنار فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔