مولانا اعظم طارق شہیدؒ

   
مجلہ: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۱ اکتوبر ۲۰۰۳ء

مولانا اعظم طارقؒ بھی اپنے پیشرو رہنماؤں مولانا حق نواز جھنگویؒ، مولانا ضیاء الرحمانؒ فاروقی، اور مولانا ایثار الحق القاسمیؒ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سفاک قاتلوں کی گولیوں کا نشانہ بن گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ میں نے یہ افسوسناک خبر امریکہ کے شہر بفیلو میں سنی جہاں ۶ اکتوبر کو مولانا عبد الحمید اصغر کے ہمراہ دارالعلوم مدنیہ کی ختم بخاری شریف کی تقریب میں شرکت کے لیے عصر کے وقت پہنچا۔ اس تقریب سے حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی نے خطاب کرنا تھا اور مجھے بھی کچھ معروضات پیش کرنے کے لیے حضرت مولانا ڈاکٹر محمد اسماعیل میمن نے حکم دیا تھا جو دارالعلوم مدنیہ بفیلو کے سربراہ ہیں اور شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجرؒ مدنی کے خلیفۂ مجاز ہیں۔ ہم جب تقریباً سات گھنٹے کا بائی روڈ سفر کر کے بفیلو پہنچے تو وہاں عصر کا وقت تھا جبکہ پاکستان میں رات پچھلے پہر کا عمل ہوگا، پہنچتے ہی دارالعلوم مدنیہ کے ایک استاد نے خبر دی کہ مولانا اعظم طارق اسلام آباد میں گولڑہ موڑ کے قریب بے رحم قاتلوں کی فائرنگ کا نشانہ بنتے ہوئے اپنے چار محافظوں سمیت جام شہادت نوش کر گئے ہیں۔ زبان پر بے ساختہ انا للہ وانا الیہ راجعون جاری ہوا اور دل غم و اندوہ کی گہرائیوں میں ڈبکیاں کھانے لگا۔

ابھی گزشتہ ماہ سات ستمبر کو چناب نگر میں ان سے ملاقات ہوئی تھی، انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کی سالانہ ختم نبوت کانفرنس تھی، عشاء کے بعد کی نشست سے خطاب کر کے میں واپسی کی تیاری کر رہا تھا پتہ چلا کہ مولانا محمد اعظم طارق آگئے ہیں اور انہوں نے تھوڑی دیر کے بعد کانفرنس سے خطاب کرنا ہے۔ ایک عرصہ سے ملاقات نہیں ہوئی تھی اس لیے ان کی قیام گاہ کی طرف چلا گیا، وہ اپنے عقیدت مندوں او رمحافظوں کے ہجوم میں گھرے ہوئے تھے، مجھے دیکھتے ہی اٹھ کھڑے ہوئے اور تپاک سے ملے۔ ہم نے ایک دوسرے سے حال احوال معلوم کیا، کھانا اکٹھے کھایا، پھر انہوں نے اپنے رفقاء کو اشارہ کیا اور وہ سب کمرے سے باہر چلے گئے۔ تنہائی ہوتے ہی انہوں نے دو باتوں کے بارے میں مشورہ کے طور پر استفسار کیا۔

  • پہلی بات یہ تھی کہ انہوں نے سیاسی طور پر جو راستہ اختیار کیا ہے اس کے بارے میں میری رائے پوچھی۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے حوالہ سے ہمارے لیے الگ سیاسی راستہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ میں نے کہا کہ وہ اگر مجلس عمل اور جمعیۃ علمائے اسلام سے ہٹ کر پنجاب کے حالات کے پیش نظر ایک الگ سیاسی راستے کو ضروری سمجھتے ہیں تو اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور ان کا حق ہے کہ وہ اپنے احوال و ظروف اور مشن و جماعت کی ضروریات کے پیش نظر جو سیاسی لائحہ عمل مناسب سمجھیں اختیار کریں لیکن اس کے لیے متحدہ مجلس عمل اور جمعیۃ علمائے اسلام کے ساتھ محاذ آرائی ضروری نہیں ہے۔ اس لیے کہ جب اس ضمن میں باہمی محاذ آرائی کی صورت نظر آتی ہے تو میرے جیسے کارکنوں کو تکلیف ہوتی ہے اور اس کا نقصان ہوتا ہے۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بسا اوقات مجبوری ہو جاتی ہے تاہم ہماری کوشش ہے کہ ایسی صورتحال پیدا نہ ہو۔
  • دوسری بات انہوں نے یہ کہی کہ وہ نوجوانوں کی ذہنی اور فکری تربیت کے لیے ایک پروگرام ترتیب دینا چاہتے ہیں جس کے لیے وہ چاہتے ہیں کہ میں تعاون کروں اور اس پروگرام میں عملی شرکت بھی کروں۔ میں نے گزارش کی کہ یہ میرے لیے انتہائی خوشی کی بات ہے اور میں فکری اور علمی محاذ پر ہر قسم کے تعاون کے لیے تیار ہوں، اس لیے کہ میں دیانت داری کے ساتھ سمجھتا ہوں کہ ہم جس جس شعبہ میں بھی کام کر رہے ہیں اس کے لیے ہمارے کارکنوں بلکہ قیادت تک کی ذہنی اور فکری تیاری مکمل نہیں ہے۔ اور ہم ضروری تیاری کے بغیر مختلف محاذوں پر جو کچھ کر رہے ہیں اس کا فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہو رہا ہے۔ مثلاً سنی شیعہ مسئلہ کو ہی لے لیں، مجھے اس محاذ کی اہمیت سے انکار نہیں اور میں دینی و قومی دونوں حوالوں سے اس مسئلہ کی اہمیت اور سنگینی سے پوری طرح آگاہ ہوں۔ لیکن میرے نزدیک اس کا حل کارکنوں کو جذباتی طور پر مناظرانہ انداز میں تیار کر دینا نہیں ہے بلکہ سنی شیعہ کشمکش کی ایک پوری تاریخ ہے اور طویل تاریخی پس منظر ہے جس سے اس محاذ کی قیادت اور کارکنوں کا پوری طرح آگاہ ہونا ضروری ہے۔ اور ان کے ذہنوں میں صرف عقائد کے فرق کا واضح ہوجانا کافی نہیں ہے بلکہ اسی طرح یہ بھی لازمی ضرورت ہے کہ ہماری ملی تاریخ میں اہم مواقع پر اہل تشیع نے جو کردار ادا کیا ہے اس سے واقفیت ہو۔ اس وقت دنیائے اسلام میں اہل تشیع کی جو تحریکات کام کر رہی ہیں ان سے پوری طرح آگاہی ہو اور عالم اسلام کے بارے میں اہل تشیع کی عالمی قیادت کا اس وقت جو ایجنڈا ہے اس کا علم ہو۔ ان امور سے کماحقہ آگاہی کے بغیر اس محاذ پر کوئی بھی کام مؤثر اور نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوگا بلکہ فائدہ کی بجائے نقصان کا احتمال زیادہ ہے۔ مولانا محمد اعظم طارقؒ نے میری باتوں کو توجہ سے سنا، بعض سے اتفاق بھی کیا اور یہ فرمائش کی کہ نوجوانوں کی ذہنی و فکری تربیت کے نصاب اور پروگرام کی تیاری میں ان سے تعاون کروں۔ میں نے اس سلسلہ میں ان سے اتفاق کیا اور پھر آئندہ جلد ملاقات کے وعدہ پر ہم ایک دوسرے سے رخصت ہوگئے۔

مگر کسے خبر تھی کہ یہ آخری ملاقات ہوگی اور پھر اس کے بعد اس دنیا میں ان سے ملاقات و گفتگو کا موقع نہیں ملے گا۔ یہ قضا و قدر کے فیصلے ہیں جو اٹل ہوتے ہیں اور وہی صحیح بھی ہوتے ہیں۔ مولانا اعظم طارق شہیدؒ نے جس انداز سے زندگی بسر کی اور ایک مشن کو زندگی کا مقصد بنا کر اس کے لیے جو قربانیاں دیں وہ بلاشبہ عزیمت و استقامت کی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہیں۔ مولانا حق نواز جھنگویؒ، مولانا ایثار الحق القاسمیؒ، مولانا ضیاء الرحمانؒ فاروقی اور ان کے بعد اب مولانا محمد اعظم طارقؒ نے آج کے دور میں حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ناموس کے تحفظ کے لیے جدوجہد کے ایک راستے کا انتخاب کیا جو مشکلات کا راستہ تھا، تکالیف کا راستہ تھا، جان ہتھیلی پر رکھ کر آگے بڑھنے کا راستہ تھا، اذیتوں اور مصیبتوں کا راستہ تھا اور بے رحم قوتوں سے ٹکرانے کا راستہ تھا۔ ان کے طریق کار سے اختلاف کیا جا سکتا ہے اور طرزِ عمل کی تغلیط کی جا سکتی ہے، خود مجھے بھی اختلاف رہا ہے جو اب بھی قائم ہے اور میں نے اس کے اظہار میں کبھی ابہام سے کام نہیں لیا۔ لیکن اس سب کچھ کے باوجود اپنے مشن کے ساتھ ان کے خلوص اور اس کے لیے ان کی قربانیوں سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اس سے زیادہ قربانی کیا ہوگی کہ وہ اپنی جانوں پر کھیل گئے اور اپنی بھرپور جوانیاں سالہا سال تک قید و بند کی نذر کرنے کے بعد اس قربان گاہ پر اپنی جانوں کی بھینٹ بھی چڑھا دی۔

مولانا حق نواز جھنگویؒ، مولانا ضیاء الرحمانؒ فاروقی، مولانا ایثار القاسمیؒ اور ان کے دیگر شہداؤں کی طرح مولانا محمد اعظم طارقؒ اور ان کے چار محافظوں کی شہادت کو بھی فرقہ وارانہ کشیدگی کے پس منظر میں دیکھا جائے گا۔ ظاہری منظر یہی نظر آتا ہے اور ماضی کا پس منظر بھی اسی رخ کی نشاندہی کرتا ہے۔ لیکن حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی اور دیگر بہت سے اہل دانش کی اس رائے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی تیسرا ہاتھ ملک میں سنی شیعہ کشیدگی کو محاذ آرائی کے ایک نئے راؤنڈ کی طرف دھکیلنا چاہتا ہے اور یہ المناک سانحہ اس کی شرمناک سازش کا کرشمہ بھی ہو سکتا ہے۔ اخباری رپورٹوں کے مطابق حسب معمول حکومت کی طرف سے مکمل تحقیقات کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس کے لیے تحقیقاتی کمیٹیاں قائم ہوگئی ہیں اور وفاقی و صوبائی حکمرانوں کے بیانات میں قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی تسلیاں بھی دی جا رہی ہیں۔ مگر یہ سب معمول کی باتیں ہیں اور روٹین ورک کا حصہ ہیں۔ چند روز تک یہ بیانات آتے رہیں گے، ممکن ہے تحقیقاتی کمیٹیاں کوئی رپورٹ بھی دے دیں اور کسی رسمی کارروائی کی طرف تھوڑی بہت پیش رفت بھی ہو جائے لیکن یہ سب کچھ ہوجانے کے بعد بھی نہ مولانا محمد اعظم طارق شہیدؒ کے قاتل کیفرِ کردار تک پہنچیں گے اور نہ ہی مسئلہ کے حل کا کوئی راستہ دکھائی دے گا۔

جہاں تک سنی شیعہ کشیدگی اور تصادم کا تعلق ہے ان کے مابین قتل و قتال کا یہ افسوسناک سلسلہ براہ راست ہے یا کوئی تیسرا ہاتھ اس صورتحال سے فائدہ اٹھا رہا ہے جس میں فریقین کے لوگ بھی ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہو سکتے ہیں۔ اس کے بارے میں ہم ایک سے زائد بار عرض کر چکے ہیں کہ بنیادی اسباب و عوامل کی نشاندہی اور ان کا ازالہ کیے بغیر اس کشیدگی کو کم کرنے کی کوئی صورت ممکن نہیں ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے حال ہی میں نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی سطح پر مغرب اور مسلمانوں کے درمیان نفرت اور اشتعال و کشیدگی کی جو فضا مزید خراب ہوتی جا رہی ہے اس کے اسباب و عوامل کو سمجھنا ضروری ہے اور ان کی نشاندہی کر کے ان کو ختم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ ورنہ جس دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے مغرب اس وقت سرگرم عمل ہے وہ ختم نہیں ہو سکے گی۔ میں جنرل صاحب کے اس ارشاد سے اتفاق کرتا ہوں، ہم نے اس کا خیر مقدم کیا ہے اور خود ہمارا موقف بھی یہی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی جنرل صاحب محترم اور حکومت سے ہماری گزارش ہے کہ ملک کے اندر سنی شیعہ کشیدگی اور باہمی تصادم کی جو فضا پائی جاتی ہے اس کی صورتحال بھی اس سے مختلف نہیں ہے، یہاں بھی اسباب و عوامل کی کارفرمائی ہے اور اس کے پس منظر میں بھی باہمی شکایات، غلط فہمیوں اور زیادتیوں کا ایک طویل پس منظر موجود ہے۔ اس لیے اس طرف سنجیدگی کے ساتھ توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ امن کی طرف یہی ایک راستہ جاتا ہے اور اسے نظر انداز کر کے مسئلہ کے حل کے لیے وقتی طور پر کیے جانے والے اقدامات کا نتیجہ خود فریبی کے سوا کچھ نہیں نکلے گا۔ ان گزارشات کے ساتھ ہم مولانا اعظم طارق شہیدؒ اور ان کے رفقاء کے وحشیانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہیں اور حکومت سے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے دعاگو ہیں کہ اللہ رب العزت مولانا شہیدؒ کی قربانیوں کو قبول فرمائیں، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں اور جملہ پسماندگان اور عقیدتمندوں کو صبر جمیل کی توفیق دیں، آمین یا رب العالمین۔