دینی مدارس کی اسناد اور ملکی یونیورسٹیوں کا طرز عمل

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۵ اپریل ۲۰۰۴ء
اصل عنوان: 
سندھ یونیورسٹی میں ایک نشست

یہ سطور حیدر آباد سندھ میں بیٹھا قلم بند کر رہا ہوں، گزشتہ روز پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمان درخواستی کے ہمراہ حیدرآباد پہنچا تھا، شریعت کونسل کے رہنما مولانا ڈاکٹر عبد السلام قریشی کی تصنیف ’’احکام فقہیہ قرآن کریم کی روشنی میں‘‘ کی تقریب رونمائی کا پروگرام تھا۔ قریشی صاحب حیدرآباد کی مرکزی دینی درسگاہ جامعہ مفتاح العلوم کے مدرس اور نائب مہتمم ہیں، انہوں نے یہ مقالہ ڈاکٹریٹ کے لیے لکھا ہے جس پر سندھ یونیو رسٹی نے انہیں پی ایچ ڈی کی ڈگری جاری کردی ہے۔ انہیں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی شہادۃ العالمیہ کی سند کی بنیاد پر یہ موقع ملا اور اسی سند کی بنیاد پر ہمارے ایک محترم ساتھی مولانا ڈاکٹر سیف الرحمان ارائیں سمیت بہت سے دوست سندھ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کر چکے ہیں۔

اس سلسلہ میں سندھ یونیورسٹی، پشاور یونیورسٹی، کراچی یونیورسٹی اور گومل یونیورسٹی کا طرز عمل مثبت اور حوصلہ افزاء ہے جبکہ پنجاب یونیورسٹی کا رویہ اس حوالہ سے ہمیشہ منفی رہا ہے۔ کچھ عرصہ قبل ہم نے گوجرانوالہ میں شاہ ولی اﷲ یو نیورسٹی کے زیر اہتمام یہ پروگرام شروع کیا کہ وفاق المدارس کی سند کو یونیورسٹی نے تعلیمی مقاصد کے لیے ایم اے عربی و اسلامیات کے برابر قرار دے دیا ہے اور مختلف یونیورسٹیز میں اس سند کے حاملین ایم فل اور پی ایچ ڈی کر رہے ہیں تو پنجاب میں بھی کوئی اس قسم کا سلسلہ قائم ہونا چاہیے۔ چنانچہ میں نے ذاتی طور پر وفاق المدارس کی سند کے حوالے سے پنجاب یونیورسٹی کو درخواست دی تو مجھے ایم اے اسلامیات و عربی کے برابر ہونے کا سرٹیفکیٹ جاری کر دیا گیا جس میں یہ درج ہے کہ وفاق المدارس کی شہادۃ العالمیہ کی سند کو صرف تعلیمی مقاصد کے لیے ایم اے عربی و اسلامیا ت کے برابر تسلیم کیا گیا ہے۔ دوسرے شعبوں میں یہ حیثیت حا صل کرنے کے لیے بی اے کی سطح کا پانچ سو نمبر کا امتحان دینا ہو گا جس میں دو دو سو نمبر کے کوئی دو مضمون، مطالعہ پاکستان اور اسلامیا ت لازمی کے پچاس پچاس نمبر کے دو مضمون شامل ہوں گے۔ اس امتحان کے بعد مذکورہ سند کو باقاعدہ ایم اے کے برابر تسلیم کر لیا جائے گا۔

ہم نے اس پر شاہ ولی اﷲ یونیورسٹی گوجرانوالہ میں وفاق کے فضلاء کے لیے کورس کا اہتمام کیا جس میں اردو اور تاریخ کے دو دو سو نمبر کے مضامین اور اسلامیات لازمی اور مطالعہ پاکستان کے مضامین کے ساتھ دو کلاسوں کو پانچ سو نمبر کا مذکورہ امتحان دلایا جو انہوں نے پاس کر لیا۔ اس کے بعد ہمارا خیا ل انہیں ایم فل یا پی ایچ ڈی کے حوالے سے آگے لے جانے کا تھا مگر پنجاب یونیورسٹی نے مذکورہ بالا امتحان کا رزلٹ جاری کرنے کے باوجود ڈگری دینے یا ایم فل میں داخلہ دینے سے انکار کردیا جس پر ہمارا وہ پروگرام فیل ہو گیا۔ جبکہ ملک کی دوسری یونیورسٹیوں میں یہ سلسلہ جاری ہے اور بیسوں فضلاء نے وفاق کی مذکورہ سند پر ایم فل اور ڈاکٹریٹ کی طرف پیش رفت کی ہے۔ ابھی حال ہی میں پنجاب یونیورسٹی نے یہ سرٹیفکیٹ جاری کرنے سے بھی انکار کر دیا ہے، مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے ایک فاضل وقار احمد طور نے وفاق المدارس کا امتحان دیا اور اس کی مذکورہ سند کی بنیاد پر پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ علوم اسلامیہ کو ایم اے کی برابری کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی درخواست دی تو باقاعدہ تحریری طور پر یہ کہہ کر انکار کر دیا گیا کہ چونکہ مدرسہ نصرۃ العلوم کا نام منظور شدہ مدارس کی فہر ست میں شامل نہیں ہے اس لیے اس کے فاضل کو سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا جاسکتا۔ حالانکہ وقار احمد طور نے مدرسہ نصرۃ العلوم کی سند نہیں بلکہ وفاق المدارس کی سند پیش کی ہے جس کا نام منظور شدہ مدارس کی فہرست میں موجود ہے البتہ وفاق کی سند میں یہ ضرور لکھا ہے کہ اس طالب علم نے مدرسہ نصرۃ العلو م کی طرف سے امتحان دیا ہے اور سند حاصل کی ہے۔

پنجاب یونیورسٹی اس سے قبل مجھ سمیت بیسیوں طلبہ کو مدرسہ نصرۃ العلو م ہی کے حوالے سے وفاق المدارس کی سند پر یہ سرٹیفکیٹ جاری کر چکی ہے کیونکہ مدرسہ نصرۃالعلوم وفاق المدارس العربیہ کے ساتھ ملحق ہے جبکہ وفاق المدارس خود کوئی مدرسہ نہیں ہے بلکہ ایک منظور شدہ بورڈ ہے جس کے ساتھ ملحق ادارے اس کے نظام کے تحت امتحان دے کر اسناد حاصل کرتے ہیں۔ لیکن پنجاب یونیورسٹی نے وفاق المدارس کے ساتھ الحاق کو تسلیم نہیں کیا اور یہ شرط لگا دی کہ کسی مدرسے کا وفاق کے ساتھ ملحق ہونا کافی نہیں ہے بلکہ خود اس کا منظور شدہ ہونا ضروری ہے ورنہ اس کے فضلاء کو مذکورہ سرٹیفکیٹ نہیں دیا جائے گا۔ اس طرح پنجاب یونیورسٹی نے یہ غیر معقول شرط لگا کر دینی مدارس کے فضلاء کو صرف سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی حد تک جو سہولت دے رکھی تھی وہ بھی واپس لے لی ہے۔

دوسری طرف سندھ یونیورسٹی سمیت بہت سی یونیورسٹیوں میں درس نظامی کے فضلاء اب بھی وفاق المدارس کی سند کی بنیاد پر ایم فل اور پی ایچ ڈی کر رہے ہیں جن میں ہمارے دوست مولانا عبد السلام قریشی بھی شامل ہیں جنہوں نے قرآن کریم کے احکام و قوانین والی آیات کو ضروری تشریح کے ساتھ ابواب کی ترتیب میں قلم بند کیا اور سندھ یونیورسٹی نے انہیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری جاری کر دی ہے۔ اس خوشی میں کتاب کی رونمائی کی تقریب کا اہتما م کیا گیا تھا۔ مولانا فداء الرحمان درخواستی اور راقم الحروف اسی سلسلے میں حیدرآباد آئے، تقریب میں شہر کے سرکردہ علماء کرام، ایم پی اے، ناظم شہر اور دیگر سرکردہ زعماء نے بھی شرکت کی۔

راقم الحروف نے اس موقع پر سندھ یونیورسٹی کے شعبہ علوم اسلامیہ میں حاضری کا پروگرام بھی شیڈول میں شامل کر لیا تھا جس کے سربراہ ملک کے معروف ماہر تعلیم ڈاکٹر عبد الستار انصاری ہیں، انہیں پتہ چلا تو انہوں نے باقاعدہ ایک تقریب کا اہتمام کیا اور فرمائش کی کہ میں اس شعبہ کے اساتذہ کی ایک نشست میں ’’اسلام اور انسانی حقوق‘‘ کے عنوان پر اظہار خیال کروں۔ ڈاکٹر صاحب سے ملاقات ہوئی تو معلوم ہو اکہ ان کا ارادت وتلمذ کا تعلق شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ سے ہے، وہ ایک دور میں لاہور میں بھی رہے ہیں اور شیرانوالہ میں ان کا آناجا نا رہتا تھا اور اسی دور سے مجھ سے بھی متعارف ہیں اس لیے کہ میرا پیر خانہ بھی وہی ہے اور اچھے زمانوں میں میری سرگرمیوں اور آمدورفت کا ہیڈکوارٹر شیرانوالہ لاہور ہوا کرتا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے بہت اعزاز و اکرام کا معاملہ کیا، نشست کے اہتمام کے علاوہ سندھی روایت کے مطابق مجھے اجرک اور سندھی ٹوپی پہنائی اور عزت افزائی کے کلمات بھی ارزانی کیے۔

راقم الحروف نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سندھ یونیورسٹی کے اساتذہ اور ارباب دانش سے اس نشست میں دو گزارشات کیں:

  1. ایک یہ کہ ’’انسانی حقوق‘‘ کے حوالے سے دنیا بھر میں بالعموم اور مغرب میں بطور خاص اسلام کے بارے میں جو غلط فہمیاں اور شکوک وشبہات پائے جاتے ہیں ان کے ازالے کے لیے ارباب علم و دانش کو اپنی ذمہ داری محسوس کرنی چاہیے اور آگے بڑھ کر اس فکری، علمی اور تہذیبی کشمکش میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ میں نے اس سلسلہ میں برطانیہ میں پاکستان کی ہائی کمشنر محترمہ ملیحہ لودھی کے ایک حالیہ بیان کا حوالہ بھی دیا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ عالمی ذرائع ابلاغ اور لابیوں نے ’’انسانی حقوق‘‘ کے حوالے سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف شکوک وشبہات کا وسیع جال پھیلا رکھا ہے اور غلط فہمیوں کا یہ دائرہ پھیلتا جارہا ہے، اس لیے ارباب علم و دانش کو ان غلط فہمیوں اور شکوک و شبہات کے ازالے کے لیے آگے آنا چاہیے اور عالمی میڈیا، لابیوں اور اداروں تک رسائی حاصل کر کے انسانی حقوق کے بارے میں اسلامی تعلیمات و روایات کو سامنے لانا چاہیے۔
  2. دوسری گزارش میں نے یہ کی کہ اس وقت پاکستان میں مروجہ دونوں تعلیمی نظام عالمی دباؤ کی زد میں ہیں۔دینی مدارس کا نظام و نصاب مغرب کے مطالبات کا ایک طویل عرصے سے ہدف چلا آرہا ہے، اب ریا ستی تعلیمی نصاب و نظام بھی دباؤ کاشکار ہے۔ ریاستی تعلیمی نصاب میں اسلام اور پاکستان کے حوالے سے الگ تشخص اور نظریاتی امتیاز کو اجاگر کرنے والا تمام مواد قابل اعتراض قرار دیا گیا ہے اور اسے نصاب سے خارج کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی آغا خان یونیورسٹی کے تعلیمی بورڈ کو منظور کرنے کے بعد ملک کے باقی تمام تعلیمی بورڈز کو رہنمائی اور نگرانی کے لیے اس کے ساتھ منسلک کرنے کی کاروائیاں جاری ہیں جو اپنے نتائج کے لحاظ سے خطرناک بات ہو گی۔ یونیورسٹیوں کے اساتذہ کو اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور ملک کے نظریاتی تشخص اور تعلیمی نصاب کے اسلامی مواد کو بچانے کے لیے قانون اور ملازمت کی حدود میں رہتے ہوئے وہ جو کچھ بھی کر سکتے ہوں اس سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔ پروفیسر ڈاکٹر عبد الستار انصاری، پروفیسر ڈاکٹر ثناء اﷲ بھٹو اور دیگر اساتذہ نے میری ان گزارشات پر مثبت ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ اس پر پوری نظر رکھیں گے اور اپنے اختیار کے دائرے میں رہتے ہوئے اس سلسلے میں اپنا کردار ضرور اداکریں گے۔

ڈاکٹر انصاری نے دینی مدارس کے نصاب کے حوالے سے توجہ دلائی اور اپنے خطاب میں کہا کہ انہیں یہ بات بری طرح کھٹکتی ہے کہ دینی مدارس کے نصاب میں تاریخ شامل نہیں ہے حالانکہ علماء کرام کو اپنی تاریخ سے ضرور واقف ہونا چاہیے، لہٰذا تاریخ کو بھی دینی مدارس میں اسی اہتمام سے پڑھایا جانا چاہیے جس اہتمام کے ساتھ حدیث پڑھائی جاتی ہے۔

اس نشست میں سندھ یونیورسٹی کے اساتذہ کے علاوہ چند سرکردہ علماء کرام بھی شریک تھے۔ ڈاکٹر انصاری نے اس پر خوشی کا اظہار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ یونیورسٹیوں، کالجوں اور دینی مدارس کے اساتذہ کو اس طرح کی مشترکہ نشستوں کا تسلسل کے ساتھ اہتمام کرنا چاہیے، اس سے ایک دوسرے کو سمجھنے میں مدد ملے گی اور باہمی اشتراک و تعاون کی راہ بھی ہموار ہو گی۔