پرائیویٹ شریعت بل کی بجائے سرکاری مسودہ!

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۰ اکتوبر ۱۹۸۶ء
اصل عنوان: 
پرائیویٹ شریعت بل کی بجائے سرکاری مسودے کی منظوری سے قانونی نظام معطل ہو جائے گا

شریعت بل کے سرکاری مسودہ میں قرار دیا گیا ہے کہ عدالتیں حسب سابق مروجہ قوانین کے مطابق ہی فیصلے کرتی رہیں گی البتہ اگر کسی قانون کے خلافِ شریعت ہونے کی شکایت ہوگی تو معاملہ وفاقی شرعی عدالت کے حوالے کر دیا جائے گا۔ جبکہ غیر سرکاری مسودے میں یہ بات اس طرح ہے کہ عدالتوں کو شریعت کے مطابق فیصلہ کرنے کا پابند بنایا جائے جس کا مطلب یہ ہے کہ عدالتیں موجودہ قوانین کی بجائے شرعی قوانین کی بنیاد پر مقدمات کی سماعت کریں گی۔

سرکاری مسودے میں قانونی نظام کو شریعت کے مطابق ڈھالنے کا جو طریق کار وضع کیا گیا ہے وہ پیچیدہ اور ناقابل اعتبار ہے جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہر مقدمے میں کوئی نہ کوئی فریق شرعی عدالت میں جانے کا راستہ اختیار کرے گا جس سے بیشتر مقدمات کی سماعت تعطل کا شکار ہو جائے گی۔ وفاقی شرعی عدالت کے پاس اپیل کیے گئے مقدمات کی تعداد بہت زیادہ بڑھ جائے گی جن کا جلد فیصلہ کرنا ممکن نہ ہوگا اور اس طرح پورے ملک کا قانونی نظام معطل ہو جائے گا۔ بہتر اور آسان طریقہ یہ ہے کہ ملک کی تمام عدالتوں کو شریعت کے مطابق فیصلہ کرنے کا پابند بنایا جائے۔

جو سیاستدان اسمبلیوں کو غیر نمائندہ قرار دے کر شریعت بل کی مخالفت کر رہے ہیں انہیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ وہ ملک میں انتخابات کا مطالبہ اسی حکومت سے کر رہے ہیں۔ اور انتخابی شیڈول کے اعلان کی صورت میں مذاکرات کی پیشکش بھی اسی حکومت کو کی گئی ہے۔ جب حکومت ان سیاستدانوں کے مفاد کی بات کرے تو وہ غیر نمائندہ نہیں سمجھی جاتی لیکن اگر اسی حکومت سے شریعت بل کی منظوری کا مطالبہ کیا جائے تو ان سیاستدانوں کو موجودہ اسمبلیان غیر نمائندہ نظر آنے لگتی ہیں۔ تحریک ختم نبوت کے جس وفد نے وزیراعظم سے بات چیت کی تھی اس کی سربراہی ایم آر ڈی کے لیڈر کر رہے تھے۔ ختم نبوت کے تقاضوں کے لیے موجودہ حکومت سے مذاکرات جائز ہیں اور اس کے غیر نمائندہ ہونے کا سوال پیدا نہیں ہوتا لیکن مکمل شریعت کے نفاذ کے لیے وہی حکومت اور اس کی اسمبلیاں غیر نمائندہ بن جاتی ہیں، آخر یہ تضاد کیوں ہے؟

یہ تاثر غلط ہے کہ شریعت بل حکومت کے اشارے پر پیش کیا گیا تھا، اسی طرح اس بل کو مودودی ازم کا نام دینا بھی غلط اور بے بنیاد ہے۔ یہ بل سینٹ میں جمعیۃ علماء اسلام کے دو ارکان نے سینٹ کے سامنے پیش کیا تھا جبکہ جماعت اسلامی متحدہ شریعت محاذ کی تشکیل کے موقع پر دوسری جماعتوں کے ساتھ شریعت بل کی منظوری کے حق میں شروع کی جانے والی مہم میں شامل ہوئی۔