سپاہ صحابہ کا موقف اور انصاف کے معروف تقاضے

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲۸ مئی ۱۹۹۸ء

ماہِ رواں کے آغاز میں سپاہ صحابہؓ کے کارکنوں نے اسلام آباد میں جو مظاہرہ کیا اس کے حوالہ سے خبر آئی تھی کہ وزیراعلیٰ پنجاب وفاقی وزیرداخلہ کی موجودگی میں سپاہ صحابہؓ کے رہنماؤں سے مذاکرات کریں گے اور اس کے لیے تاریخ کا اعلان بھی ہوگیا تھا۔ وہ تاریخ گزرے ایک ہفتہ سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے مگر ابھی تک مذاکرات کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے جبکہ اس کے بعد سپاہ صحابہؓ پاکستان کے سربراہ مولانا علی شیر حیدری کو تین سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے اور سپاہ صحابہؓ کی قیادت نئے سرے سے مظاہروں کے پروگرام بنا رہی ہے۔

سپاہ صحابہؓ پاکستان کے قائدین کے مقدمات کی پیروی کرنے والی ٹیم ان دنوں مختلف رہنماؤں سے ملاقاتیں کر رہی ہے، یہ حضرات گوجرانوالہ بھی آئے اور راقم الحروف سے ملے، انہوں نے اس سلسلہ میں جو موقف بیان کیا اس سے قارئین کو آگاہ کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ سپاہ صحابہؓ کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے اور ملک بھر میں ان کے رہنماؤں اور کارکنوں کو بلاوجہ مقدمات میں الجھایا جا رہا ہے جو ان کے بقول اکثر انتقامی طور پر درج کیے گئے ہیں اور ان مقدمات کی آڑ میں انہیں یکطرفہ طور پر انتقامی کاروائی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ وہ اس سلسلہ میں پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کا بطور خاص ذکر کرتے ہیں کہ یہ سب کچھ ان کی ذاتی دلچسپی کے نتیجے میں انہی کی راہنمائی میں ہو رہا ہے۔ اس دعوے کے لیے ان کی دلیل یہ ہے کہ جس طرح کے مقدمات سپاہ صحابہؓ کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف درج ہیں اسی طرح کے مقدمات ان کی روایتی حریف جماعت تحریک جعفریہ کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف بھی موجود ہیں لیکن ان مقدمات پر کاروائی صرف سپاہ صحابہؓ کے ارکان کے خلاف ہو رہی ہے۔ وہ اس کی مثال یہ دیتے ہیں کہ جس نوعیت کے مقدمات میں سپاہ صحابہؓ کے مرکزی رہنما اور صوبائی اسمبلی کے رکن مولانا اعظم طارق مسلسل زیر حراست ہیں اور حکومت انہیں ایک ممتاز مذہبی رہنما اور عوام کے منتخب نمائندے کے طور پر کوئی ریلیف دینے کے لیے تیار نہیں ہے اسی نوعیت کے مقدمات تحریک جعفریہ کے سربراہ علامہ ساجد نقوی کے خلاف بھی مختلف تھانوں میں ریکارڈ پر موجود ہیں لیکن وہ نہ صرف آزاد ہیں بلکہ وزیراعظم کے پہلو میں بیٹھتے ہیں۔ سپاہ صحابہؓ کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ سراسر جانبداری ہے اور یکطرفہ ریاستی جبر ہے جس کا مقصد سپاہ صحابہؓ کو ہر حالت میں کچل دینے کے سوا کچھ نہیں ہے اور اس طرح ان کے انسانی حقوق اور شہری آزادیاں مسلسل پامال ہو رہی ہیں جس پر تمام انصاف پسند لوگوں کو آواز بلند کرنی چاہیے۔

یہ ضروری نہیں کہ اس موقف سے میں بھی مکمل اتفاق کرتا ہوں لیکن اس موقف کو سننا اور اسے انصاف کے معروف اصولوں پر پرکھنا نہ صرف حکومت بلکہ ملک کے ہر شہری کی ذمہ داری ہے اور اس حوالہ سے ہماری تجویز ایک عرصہ سے قومی پریس کے ریکارڈ پر ہے کہ ان معاملات کا عدالتی سطح پر جائزہ لینا ضروری ہے اور اس کے لیے سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں ایک عدالتی کمیشن کا تقرر عمل میں لایا جانا چاہیے۔ اس سلسلہ میں عید الاضحیٰ سے ایک ہفتہ قبل راقم الحروف نے وزیراعظم کو مندرجہ ذیل عریضہ ارسال کیا تھا۔

’’آنجناب کو ملک کے ایک اہم مسئلہ کی طرف توجہ دلا رہا ہوں جس کا تعلق بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور فرقہ واریت سے ہے اور جس نے عبادت گاہوں تک کا امن تہہ و بالا کر دیا ہے۔ اس سلسلہ میں عرض ہے کہ اس مسئلہ سے نمٹنے کے لیے ابھی تک روایتی طریق کار پر عمل کیا جا رہا ہے کہ اگر شیعہ افراد دہشت گردی کا شکار ہوں تو سنی علماء اور کارکنوں کو گرفتار کر لیا جاتا ہے لیکن اگر قتل ہونے والے سنی ہوں تو علاقے کے شیعہ کارکنوں کی شامت آجاتی ہے، یہ طرزعمل انتہائی فرسودہ اور غیر منصفانہ ہے جس پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ اور اس کے لیے میں یہ تجویز پیش کر رہا ہوں کہ:

  • سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں عدالتی انکوائری کمیشن قائم کیا جائے جو فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ اور دہشت گردی کے اسباب و محرکات کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں اس حوالہ سے درج مقدمات پر نظرثانی کرے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔
  • اس کے متبادل دوسری تجویز یہ ہے کہ حکومت فوری طور پر سہ فریقی کانفرنس طلب کرے جس میں متحارب فریقوں کے ذمہ دار رہنماؤں کے ساتھ حکومت کے ذمہ دار افراد بیٹھیں اور اس مسئلہ کا معقول حل نکالا جائے۔

اس کے ساتھ ہی یہ بھی گزارش ہے کہ مولانا علی شیر حیدری اور مولانا محمد اعظم طارق سمیت ان سب علماء کرام اور کارکنوں کو بلاتاخیر رہا کر دیا جائے جو کسی عدالتی کاروائی کے بغیر محض انتقامی پالیسیوں کا شکار ہیں اور ملک بھر کی مختلف جیلوں میں بند ہیں۔ عید الاضحیٰ سے پہلے اس کے لیے آنجناب ذاتی اور فوری توجہ فرماتے ہوئے ان حضرات کی رہائی کے احکامات صادر فرمائیں تاکہ یہ لوگ عید اپنے گھروں میں کر سکیں۔‘‘

اس عریضہ کا جواب مئی کے پہلے ہفتہ میں وزیراعظم کے آفس کی طرف سے یہ موصول ہوا:

’’عزت مآب جناب وزیراعظم صاحب کے نام آپ کا خط موصول ہوا۔ نیک تمناؤں اور گراں قدر خیالات و احساسات کے لیے وہ آپ کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لیے عوام کے خیالات و آراء پر مبنی تجاویز سے کماحقہ استفادہ کریں تاکہ ملکی پالیسیوں کو ان کی خواہشات کے مطابق ڈھالا جا سکے۔ دعا کریں اللہ تعالیٰ ہمیں عوام کی توقعات پر پورا اترنے کی توفیق عطا فرمائے۔‘‘

وزیراعظم آفس کی جانب سے موصول ہونے والے اس جواب میں راقم الحروف کے عریضہ میں پیش کی گئی تجاویز کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا کہ وزیراعظم کا نقطۂ نظر ان کے بارے میں کیا ہے اور وہ ان کے حوالہ سے کیا پیش رفت کر رہے ہیں؟ حالانکہ اصولاً اور اخلاقاً اس بارے میں جوابی خط میں کچھ نہ کچھ ضرور ذکر ہونا چاہیے تھا۔ خیر اس سے قطع نظر اس گزارش کا اعادہ ضروری محسوس ہوتاہے کہ سنی شیعہ کشیدگی میں اضافہ اور اسباب و عوامل اور ملک بھر میں سنی اور شیعہ راہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف درج مقدمات کا اعلیٰ سطح پر جائزہ لینا اب ناگزیر ہوگیا ہے اور یہ ’’اعلیٰ سطحی عدالتی کمیشن‘‘ کے قیام کی صورت میں ہی ممکن ہے۔

ان دو مسائل کے ساتھ ایک اور مسئلہ کا اضافہ بھی ضروری ہے کہ محرم الحرام میں امن قائم رکھنے کا سوال ہر سال انتظامیہ کے لیے دردسر بن جاتا ہے، عید الاضحیٰ گزرتے ہی متعلقہ اضلاع میں انتظامیہ اس سلسلہ میں سرگرمیوں کا آغاز کر دیتی ہے جو کم و بیش ایک ماہ تک مسلسل جاری رہتی ہیں۔ اور اس دوران ہفتہ عشرہ کا وقفہ ایسا بھی آتا ہے کہ بہت سے اضلاع کے حکام اور سرکاری شعبے معمول کا کوئی کام وقت پر نہیں کر پاتے اور یوں انتظامی مشینری معطل ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس پر بھی نظرثانی کی ضرورت ہے اور اس کے اسباب کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینا اور انہیں دور کر کے ملک کی انتظامی مشینری کو اس مستقل دردسر سے نجات دلانا ضروری ہے۔ اس لیے ہم وزیراعظم پاکستان سے ایک بار پھر استدعا کریں گے کہ وہ اس سلسلہ میں انصاف پسندی کے معروف تقاضے پورے کرنے اور حقیقت پسندی کا راستہ اختیار کرنے کا حوصلہ کر ہی ڈالیں کیونکہ حقیقی اور پائیدار امن کا راستہ اس کے سوا کوئی نہیں ہے۔