دورۂ بھارت: مولانا قاضی حمید اللہ خان کے تاثرات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۶ اگست ۲۰۰۳ء

۱۲ اگست ۲۰۰۳ء کو مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں عصر کی نماز کے بعد پاکستان شریعت کونسل کی طرف سے علماء کرام اور دینی کارکنوں کی ایک نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں مولانا قاضی حمید اللہ خان ایم این اے نے اپنے حالیہ دورۂ بھارت کے تاثرات بیان کیے۔ نشست کی صدارت جمعیۃ علماء اسلام کے رہنما مولانا سید عبد المالک شاہ نے کی اور اس میں علماء کرام، طلبہ اور دینی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

راقم الحروف نے تقریب کے آغاز میں گزارش کی کہ مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں حافظ حسین احمد، مولانا حمید اللہ خان اور مولانا گل نصیب خان پر مشتمل جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے پارلیمانی وفد نے بھارت کا دس روزہ دورہ کیا تو ان کی واپسی پر ہم پاکستان میں اس بات کے منتظر تھے کہ ان رہنماؤں کی زبانی وہاں کے مسلمانوں کے حالات سنیں گے، دینی اداروں اور مدارس کی صورتحال سے آگاہی حاصل کریں گے اور بھارت میں مسلمانوں کے معاملات اور حالات کے حوالہ سے ان بزرگوں کے تاثرات و خیالات معلوم کریں گے۔ لیکن مولانا فضل الرحمان کے ایک دو مبینہ طور پر متنازعہ بیانات کے شوروغل اور وضاحت کرنے یا نہ کرنے کے چکر میں سارا معاملہ گول ہوگیا اور ہم ان حضرات سے جو کچھ سننا چاہ رہے تھے اس کا ابھی تک کوئی اہتمام دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے مقامی سطح پر پاکستان شریعت کونسل نے اس نشست کا اہتمام کیا اور حضرت مولانا قاضی حمید اللہ خان سے ہم نے گزارش کی ہے کہ وہ اپنے دورہ کی کچھ تفصیلات اور تاثرات سے ہمیں آگاہ کریں۔

مولانا قاضی حمید اللہ خان نے نشست سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارا یہ دورہ سرکاری سطح پر نہیں تھا بلکہ جمعیۃ علماء ہند کی دعوت پر جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے وفد کا دورہ تھا اور جمعیۃ علماء ہند ہی اس سفر میں ہماری میزبان تھی۔ ہم جب واہگہ بارڈر کراس کر کے بھارت کی حدود میں داخل ہوئے تو جمعیۃ علماء ہند کے رہنما اور کارکن ہمارے استقبال کے لیے موجود تھے جنہوں نے ہمیں پھولوں سے لاد دیا اور بے حد محبت و شفقت کا اظہار کیا۔ وہاں سے ہم امرتسر پہنچے جہاں جمعیۃ علماء ہند نے ہمارے دوپہر کے کھانے کا اہتمام کر رکھا تھا لیکن جب سکھ رہنماؤں سے ملاقات کے لیے دربار صاحب پہنچے تو انہوں نے تقاضہ کیا کہ دوپہر کا کھانا آپ حضرات بہرصورت ہمارے ساتھ کھائیں گے۔ چنانچہ ان کے اصرار پر ہم نے اس شرط پر ان کی دعوت قبول کی کہ سادہ دال اور روٹی کی صورت میں ہم ان کے ہاں دوپہر کا کھانا کھالیں گے اور پھر یہی ہوا۔ اس موقع پر وفد کے ارکان کو دربار کا ماڈل تحفہ کے طور پر دیا گیا اور اعزاز کے طور پر ان کی دستار بندی بھی کی گئی۔

امرتسر سے یہ وفد جمعیۃ علماء ہند کے قائدین کے ہمراہ جالندھر پہنچا تو وہاں بڑی تعداد میں لوگ شہر سے باہر استقبال کے لیے موجود تھے جن میں غیر مسلم بھی شامل تھے۔ تھوڑی دیر وہاں گزار کر وفد لدھیانہ روانہ ہوگیا وہاں بھی شہر سے باہر ان کا استقبال کیا گیا۔ جبکہ اس کے بعد رات وفد نے سرہند شریف حاضری دی جہاں ملت اسلامیہ کے عظیم رہنما حضرت مجدد الف ثانی رحمہ اللہ کی قبر ہے۔ قبر پر حاضری دی اور دعا و سلام کی سنت ادا کی، قاضی صاحب نے بتایا کہ حضرت مجدد صاحبؒ کی قبر کا ماحول دیکھ کر ہم بہت متاثر ہوئے۔

سرہند شریف سے یہ وفد رات ہی رات سہارنپور پہنچا اور دیکھا کہ مظاہر العلوم کے علماء و اساتذہ رات کے پچھلے پہر وفد کے استقبال کے لیے شہر سے باہر موجود ہیں۔ معلوم ہوا کہ ساری رات وہ گھروں میں نہیں گئے، انہوں نے سحری کے وقت وفد کی مہمان نوازی کی اور پھر وفد دیوبند روانہ ہوگیا وہاں بھی علماء و طلبہ کی ایک بڑی تعداد دیدہ و دل فرشِ راہ کیے ہوئے تھی۔ دیوبند میں دو دن قیام ہوا، دارالعلوم دیوبند کا دورہ کیا، اساتذہ و طلبہ سے مختلف معاملات پر تبادلۂ خیالات ہوا، دارالعلوم کے شعبے دیکھے اور یہ معلوم کر کے مسرت ہوئی کہ اس وقت دارالعلوم دیوبند میں چار ہزار کے لگ بھگ طلبہ مختلف شعبوں میں دینی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ دارالعلوم کے مہتمم حضرت مولانا مرغوب الرحمان اور دیگر اکابر سے ملاقات ہوئی۔ وفد دارالعلوم (وقف) میں بھی گیا جو دیوبند میں ہی حضرت مولانا محمد سالم قاسمی کے زیراہتمام کام کر رہا ہے اور وہاں اڑھائی ہزار کے لگ بھگ طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ دیوبند میں مسجد چھتہ دیکھی جہاں ۱۸۶۵ء میں مدرسہ عربیہ کے نام سے دارالعلوم کا آغاز ہوا تھا اور دوسرے مراکز اور اہم مقامات میں بھی وفد کے ارکان گئے۔

دیوبند میں دو روز قیام کے بعد جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے قائدین دہلی روانہ ہوئے جہاں ان کا قیام جمعیۃ علماء ہند کے دفتر میں تھا۔ جمعیۃ کا وسیع و عریض دفتر جو کسی حکومت کا سیکرٹریٹ معلوم ہوتا ہے ایک تاریخی مسجد کے ساتھ ہے جو اکبر بادشاہ کے استاذ مولوی عبد النبیؐ کے نام سے موسوم ہے اور کم و بیش پانچ سو برس قبل تعمیر ہوئی تھی۔ جمعیۃ کا دفتر دیکھ کر ہمیں خوشگوار حیرت ہوئی کہ اتنا وسیع اور مربوط نظام ہے کہ مختلف شعبے بیک وقت کام کر رہے ہیں، دنیا بھر سے رابطے ہو رہے ہیں، مہمانوں کو سنبھالا جا رہا ہے، ہسپتال کام کر رہا ہے اور ہندوستان بھر کے مظلوم اور بے سہارا مسلمانوں کی امداد و تعاون کا وسیع نیٹ ورک موجود ہے۔ جمعیۃ کے صدر دفتر کے بارے میں ہمیں بتایا گیا کہ اس میں بیک وقت دس ہزار افراد سما سکتے ہیں۔ جمعیۃ علماء ہند کے تحت ملک کے مختلف حصوں میں ڈیڑھ سو کے قریب اسکول چل رہے ہیں، ڈیڑھ درجن سے زائد ہسپتال مصروف عمل ہیں اور صوبہ گجرات کے حالیہ فسادات کا شکار ہونے والے مسلمانوں کے لیے جمعیۃ علماء ہند نے پانچ ہزار کے قریب مکانات تعمیر کر کے انہیں دیے ہیں۔

مولانا قاضی حمید اللہ خان کا کہنا ہے کہ ہم تو یہ ماحول دیکھ کر بالکل ایک نئی دنیا میں پہنچ گئے تھے۔ خیر اسی ماحول میں چھ دن گزارے اور روزانہ کئی شخصیتوں سے ملاقاتیں ہوتی رہیں جن میں بھارتی وزیراعظم مسٹر اٹل بہاری واجپائی اور اپوزیشن لیڈر سونیا گاندھی کے علاوہ مختلف سیاسی رہنما اور مذہبی قائدین شامل ہیں۔ ہم نے سکھوں اور ہندوؤں کے مذہبی رہنماؤں سے بھی ملاقات کی۔ جب ہم ہندو پنڈتوں سے ملے تو وہ ہمارے بارے میں مختلف شکوک و شبہات کا شکار تھے، ہم نے انہیں بتایا کہ ہم امن پسند لوگ ہیں، جنگ اور تشدد پر یقین نہیں رکھتے اور باہمی اختلافات کو مذاکرات اور گفتگو کے ذریعے حل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ہم نے جب ان کے شکوک و شبہات رفع کیے تو وہ بے ساختہ بول اٹھے کہ پاکستان اور بھارت کے عوام کے درمیان معمول کے تعلقات اور دوستی کا ماحول اگر بحال ہو سکتا ہے تو وہ دونوں طرف کے پنڈتوں (مذہبی رہنماؤں) کی کوششوں سے ہی ہو سکتا ہے کیونکہ سیاستدان تو مفادات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہم نے ہندوستان کے رہنماؤں پر واضح کیا کہ ہمارے درمیان تنازع اور جھگڑے کی سب سے بڑی وجہ مسئلہ کشمیر ہے اور ہم کشمیر میں مسلمانوں کی تحریک کو دہشت گردی نہیں سمجھتے بلکہ آزادی کی جدوجہد تصور کرتے ہیں جو ان کا حق ہے۔ جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا ہمارے تعلقات معمول پر نہیں آسکیں گے اور دونوں ملکوں کے عوام اس کشمکش کی فضا میں مسائل و مشکلات کی دلدل میں پھنسے ہیں گے۔ اس لیے مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنا ہوگا۔

قاضی حمید اللہ خان نے کہا کہ ہم نے یہ محسوس کیا کہ ہمارے دورے کو بطور خاص اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ ہم امن اور صلح کی بات کر رہے تھے اور تنازعات کو باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دے رہے تھے، ہم نے ان پر یہ بھی واضح کیا کہ ہم جنگ کو کشمیر کے مسئلہ کا حل نہیں سمجھتے اور چاہتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے حکمران باہم بیٹھ کر اس مسئلہ کو حل کریں۔ اس کے ساتھ ہی ہم مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے امریکہ کی مداخلت اور ثالثی کے حق میں بھی نہیں ہیں کیونکہ اگر امریکہ اس بہانے یہاں آگیا تو پھر اس خطہ میں وہی ہوگا، پاکستان اور بھارت دونوں غائب ہو جائیں گے۔ اس حوالہ سے مولانا فضل الرحمان نے مسٹر واجپائی سے کہا کہ جنوبی ایشیا کی مثال اس خیمے کی طرح ہے جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ بدو اس کے اندر تھا اور باہر اونٹ بندھا ہوا تھا، جب سردی بڑھی تو اونٹ نے بدو سے خیمے کے اندر آنے کی اجازت مانگی، بدو نے سوچا اگر یہ اندر آگیا تو میں کہاں جاؤں گا؟ اس لیے اس نے انکار کر دیا۔ اونٹ نے کہا کہ صرف گردن اندر کرنے کی اجازت دے دو، بدو نے اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے ہوئے اس کی اجازت دے دی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تھوڑی دیر بعد اونٹ اندر تھا اور بدو خیمے سے باہر اپنے لیے جائے پناہ تلاش کر رہا تھا۔ اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ امریکہ کا اونٹ جنوبی ایشیا کے خیمے سے باہر ہی رہے اور عراق اور افغانستان کا تجربہ نہ دہرایا جائے کیونکہ اگر ایک دفعہ اونٹ کو گردن خیمے کے اندر کرنے کی اجازت دے دی تو پھر سارا اونٹ اندر ہوگا ہم خیمے سے باہر ہوں گے۔

قاضی صاحب نے بتایا کہ ہم نے کشمیر کی تحریک حریت کے راہ نماؤں میر واعظ مولوی عمر فاروق سے بھی کئی ملاقاتیں کیں اور ان سے مختلف معاملات پر گفتگو کی۔ وہ بہت سمجھدار اور متحرک نوجوان ہیں جو کشمیری مسلمانوں کی رہنمائی کے لیے مسلسل سرگرم عمل ہیں۔ ہم نے انہیں یقین دلایا کہ ہم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہیں اور ان کی جدوجہد آزادی کی حمایت کرتے ہیں۔ قاضی صاحب کا کہنا ہے کہ ہم نے یہ بھی محسوس کیا کہ دونوں طرف سے باہمی تعلقات کو معمول پر لانے میں مذہبی رہنما زیادہ بہتر طور پر کام کر سکتے ہیں کیونکہ وہی لوگ انسانیت کی عمومی بھلائی کی بات کرتے ہیں۔ جبکہ دوسرے لوگ صرف اپنے اپنے طبقہ کے حوالہ سے گفتگو کرتے ہیں، سیاستدانوں کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں اور تاجروں کی صورتحال یہ ہے کہ گزشتہ دنوں چیمبر کا ایک وفد بھارت گیا تو وہ وہاں یہ تلاش کرتا رہا کہ یہاں کون سی چیز سستی ہے جو پاکستان لے جا کر فائدہ دے گی اور کونسی چیز مہنگی بک سکتی ہے تاکہ پاکستان سے یہاں لا کر بیچی جائے۔ مگر علماء نے بھارت جا کر عوام کے عمومی مفاد کی بات کی اور ان کے درمیان بعد اور کشیدگی کم کرنے پر زور دیا جس کی بطور خاص پذیرائی ہوئی اور سب لوگوں نے اس فرق کو محسوس کیا۔

انہوں نے کہا کہ دہلی میں چھ دن گزار کر ہم واپسی کی تیاری کر رہے تھے کہ مراد آباد سے مدرسہ شاہی کے حضرات کا پیغام آگیا جو اس بات پر سخت ناراض تھے کہ اس دورے میں مراد آباد کو کیوں شامل نہیں کیا گیا؟ ان کا یہ شکوہ دو وجہ سے درست تھا، ایک اس وجہ سے کہ دارالعلوم دیوبند اور مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور کے ساتھ مدرسہ شاہی مراد آباد بھی ان قدیم ترین مدارس میں سے ہے جو ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد جنوبی ایشیا میں دینی تعلیمات کے تحفظ اور فروغ کی جدوجہد کا نقطۂ آغاز بنے تھے۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ حضرت مولانا مفتی محمودؒ اس مدرسہ میں سات برس تک تعلیم حاصل کرتے رہے ہیں اس لیے مدرسہ شاہی کے استاذہ اور طلبہ کو بجا طور پر توقع تھی کہ مولانا مفتی محمودؒ کے فرزند و جانشین مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں پاکستان سے آنے والا علماء کا وفد مراد آباد ضرور آئے گا۔ چنانچہ ان حضرات کے شدید اصرار بلکہ ایک طرح کی ڈانٹ ڈپٹ کے بعد ہمیں وہاں جانا پڑا۔ اور ان بزرگوں نے بھی خوب پذیرائی کی، مراد آباد میں ہم دو دن رہے، بہت سے پرانے اساتذہ کو مولانا مفتی محمودؒ کا دورِ طالب علمی یاد تھا اور اس کا وہاں عام طور پر تذکرہ ہوتا رہتا ہے۔ ہمیں بتایا گیا کہ مفتی محمود صاحبؒ طالب علمی کے دور میں ملی، سیاسی اور تحریکی ذوق رکھتے تھے اور ملی معاملات میں طلبہ کی قیادت کرتے تھے۔ ایک بار شہر میں ایک مسلمان کسی ہندو کے ہاتھوں قتل ہوگیا تو مولانا مفتی محمودؒ نے احتجاج کے طور پر نہ صرف مدرسہ میں ہڑتال کرا دی بلکہ طلبہ کا ہجوم لے کر شہر کی طرف نکل گئے اور شہر میں بھی ہڑتال ہوگئی۔ مفتی صاحبؒ کے دورِ طالب علمی کے بہت سے واقعات وہاں کے اساتذہ اور طلبہ کو یاد تھے اور وہ بڑی محبت کے ساتھ ان کا تذکرہ کرتے رہے۔

مولانا قاضی حمید اللہ خان نے اپنے دورہ کے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ جس چیز سے وہاں سب سے زیادہ متاثر ہوئے وہ سادگی اور بے تکلفانہ زندگی ہے۔ ہمارے ہاں کے تکلفات اور تصنع وہاں نہیں ہے بالخصوص مسلمانوں کی زندگی، خوراک، رہائش اور رہن سہن سادہ ہے جس سے خلوص اور نیکی ٹپکتی ہے۔ مسلمان عام طور پر غریب ہیں لیکن دین میں اسی قدر مضبوط ہیں، دینی اقدار و روایات کی پابندی، اسلامی شعائر کے احترام اور دینی معمولات میں وہ ہم سے کہیں آگے ہیں اور دینی حمیت و غیرت کے اظہار میں بھی وہ ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں۔ دوسری بات جس نے وہاں ہمیں بہت متاثر کیا وہ وہاں کے علماء اور عام مسلمانوں کی پاکستان کے علماء اور مسلمانوں سے محبت و عقیدت ہے۔ ہم تو وہاں اس جذبہ اور احساس کے ساتھ گئے تھے کہ ہمارا علمی اور فکری مرکز وہاں ہے اور ہمارے اساتذہ کی مادر علمی ہے لیکن انہوں نے اس طرح ہمیں پذیرائی بخشی جیسے ہم ان کے لیے عقیدت کے مرکز کی حیثیت رکھتے ہیں، ہمیں اس پر شرمندگی بھی ہوئی لیکن ان کی اس محبت و احترام نے ہمارے حوصلوں کو دوچند کر دیا۔

مولانا قاضی حمید اللہ خان کے تاثرات و ارشادات کا خلاصہ پیش کرنے کے بعد راقم الحروف کی گزارش یہ ہے کہ سیاسی مسائل سے ہٹ کر بھارت کے عمومی حالات، مسلمانوں کی صورتحال، علماء کرام اور دینی مدارس و مراکز کی سرگرمیوں اور عالم اسلام کے اجتماعی مسائل کے اجتماعی مسائل کے حوالہ سے وہاں کے علماء کرام، دانشوروں اور رہنماؤں کے خیالات و افکار، معاشرتی زندگی میں مسلمانوں کو درپیش مشکلات و مسائل اور مسلمانوں کے دینی ماحول کے حوالہ سے مولانا فضل الرحمان اور ان کے رفقاء کے دورۂ بھارت کے تاثرات و احساسات کو مزید وضاحت کے ساتھ منظر عام پر لانے کی ضرورت ہے۔ دارالعلوم دیوبند کے ساتھ عقیدت اور بھارتی مسلمانوں سے محبت رکھنے والے پاکستانیوں کو ان باتوں کا انتظار ہے، اگر مولانا فضل الرحمان یا حافظ حسین احمد اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر خود اپنے دورہ کی تفصیلات اور تاثرات قلمبند کر سکیں تو یہ تشنگی کم ہو سکتی ہے ورنہ تاثرات کے حوالہ سے یہ دورہ ادھورا ہی رہے گا۔