مرکزی مجلس عمل کے صدر کا انتخاب کیوں نہ ہو سکا؟

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۰ فروری ۱۹۸۴ء

۱۱ دسمبر ۱۹۸۳ء کو مدرسہ قاسم العلوم شیرانوالہ گیٹ لاہور میں منعقدہ اجلاس میں کل جماعتی مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کے سربراہ کا باقاعدہ انتخاب نہیں ہو سکا تھا اور مولانا محمد شریف جالندھری کو سیکرٹری اور راقم الحروف کو رابطہ سیکرٹری منتخب کر کے باقی کام آئندہ پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ یہ ایک معمول کی کاروائی تھی جسے روزنامہ جنگ کے لاہور کے ڈائری نویس نے ۲۴ دسمبر ۱۹۸۳ء کے جنگ میں شائع ہونے والی لاہور کی ڈائری میں تجسس اور سنسنی خیزی کا رنگ دے کر شکوک و شبہات اور بے اعتمادی کی فضا قائم کرنے کی کوشش کی اور بالخصوص راقم الحروف کو ذاتی طور پر نشانہ بناتے ہوئے جو کچھ لکھا وہ قارئین کی نظر سے گزر چکا ہوگا۔

ملک کے مختلف حصوں سے جماعتی دوستوں اور بہی خواہوں اور بیرون ملک مقیم احباب کے استفسار پر یہ اندازہ ہو رہا ہے کہ یہ سب کچھ ایک طے شدہ اسکیم کے تحت ہوا ہے کہ پہلے ایک مفروضہ گھڑنے کے بعد اسے نمایاں طور پر شایع کرایا گیا اور پھر اسے اہتمام کے ساتھ ملک میں اور بیرون ملک پھیلایا گیا۔ حتیٰ کہ جن مقامات میں روزنامہ جنگ نہیں جاتا وہاں اس رپورٹ کی کٹنگ ڈاک کے ذریعے ارسال کی گئی اور عمدًا نفرت کی ایک فضا پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس لیے اس کے سوا کوئی چارہ کار باقی نہیں رہا کہ میں اصل صورتحال بلاکم و کاست بیان کر دوں تاکہ احباب غلط فہمی کا شکار نہ ہوں اور تاریخ کا ریکارڈ بھی درست رہے۔

اس قصہ کا ایک اصولی پہلو ہے اور ایک واقعاتی اور وضاحت کے ضمن میں دونوں کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ جہاں تک اس معاملے کی اصولی حیثیت کا تعلق ہے، واقعہ کی ترتیب یوں ہے کہ مولانا محمد اسلم قریشی کے اغوا کے کچھ عرصہ بعد ڈویژنل مجلس عمل تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ کے قیام کے موقع پر مولانا محمد شریف جالندھری، جناب مولانا تاج محمود صاحبؒ، مولانا محمد ضیاء القاسمی اور مولانا محمد اشرف ہمدانی گوجرانوالہ تشریف لائے۔ جمعیۃ علماء اسلام ضلع گوجرانوالہ کے امیر علامہ محمد احمد لدھیانوی کی رہائش گاہ پر ایک غیر رسمی مشاورت ہوئی جس میں ان بزرگوں کے علاوہ راقم الحروف اور علامہ صاحب موصوف نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر مرکزی مجلس عمل کی تشکیل کے سلسلہ میں صلاح و مشورہ ہوا اور مشاورت کے شرکاء میں دو امور پر اتفاق ہوا:

  1. ایک یہ کہ مرکزی مجلس عمل کی جلد از جلد تشکیل ہونی چاہیے،
  2. اور دوسرا یہ کہ تحریک کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ مجلس عمل کی صدارت کے لیے بریلوی مکتب فکر کے کسی سرکردہ عالم کا چناؤ کیا جائے۔

اس سلسلہ میں بریلوی مکتب فکر کی مختلف شخصیات زیربحث آئیں اور بالآخر دو شخصیات کے بارے میں طے ہوا کہ ان سے معلوم کر لیا جائے، اگر وہ حضرات مرکزی عمل کی صدارت کے لیے تیار ہوں تو بات آگے بڑھائی جائے۔ ایک مولانا عبد الستار خان نیازی اور دوسرے مولانا صاحبزادہ فضلِ رسول رضوی آف فیصل آباد۔ صاحبزادہ فضلِ رسول صاحب رضوی سے بات کرنے کی ذمہ داری مولانا تاج محمودؒ نے قبول فرمائی جبکہ مولانا عبد الستار خان نیازی سے گفتگو میرے ذمے لگائی گئی۔ چنانچہ میں نے اس مشاورت کی روشنی میں مولانا نیازی سے بات چیت کی اور براہ راست صدارت کی بات کرنے کی بجائے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ مولانا نیازی مرکزی مجلس عمل کی تشکیل اور اس میں سرگرم کردار ادا کرنے پر آمادہ ہیں یا نہیں۔ میں نے چند ملاقاتوں اور گفت و شنید میں مولانا نیازی کو اس کے لیے پوری طرح تیار پایا اور مولانا محمد شریف جالندھری ناظم اعلی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کو اس کی رپورٹ دے دی۔

باقی رہا مجلس عمل کے اجلاس میں نام پیش کرنے کا مسئلہ تو اس کی صورتحال کچھ اس طرح ہے کہ مرکزی مجلس عمل کی کنوینگ کمیٹی کے اجلاس میں مولانا سید امیر حسین گیلانی نے مجلس عمل کی صدارت کے لیے حضرت مولانا خان محمد مدظلہ العالی کا نام پیش کیا جبکہ جمعیۃ العلماء پاکستان کے جناب قاری عبد الحمید قادری نے مولانا عبد الستار خان نیازی کا نام پیش کیا۔ مولانا نیازی نے اس موقع پر کہا کہ ہم ابھی تک مولانا نورانی سے اس سلسلہ میں حتمی بات نہیں کر سکے اس لیے سردست آپ صدر کا انتخاب نہ کریں۔ اس پر حضرت مولانا خان محمد صاحب مدظلہ العالی نے فرمایا کہ میں اپنا نام واپس لیتا ہوں اور مولانا عبد الستار خان نیازی کے نام کی تائید کرتا ہوں۔ اس کے بعد پھر مولانا نیازی نے اپنی بات دہرائی اور کہا کہ ابھی جلدی نہ کریں۔ چنانچہ اس بحث و تمحیص کے بعد صدر کے انتخاب کو آئندہ پر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔

جہاں تک میرا تعلق ہے میں نے نہ کسی کا نام پیش کیا، نہ کسی کی تائید کی اور نہ ہی کسی کی مخالفت کی۔ ۲۴ دسمبر کو جب روزنامہ جنگ میں لاہور کے ڈائری نویس کی یہ من گھڑت اور اشتعال انگیز رپورٹ شائع ہوئی کہ مولانا عبد الستار خان نیازی کا نام صدارت زاہد الراشدی نے پیش کیا اور پھر اس کے ساتھ جو کچھ خرافات جوڑی، اس روز میں بہاولپور میں تھا چنانچہ میں نے وہاں سے جنگ کے چیف ایڈیٹر جناب میر خلیل الرحمان اور لاہور جنگ کے ایڈیٹر جناب میر شکیل الرحمان کو مندرجہ ذیل چٹھی لکھی جو بہاولپور پوسٹ آفس سے رسید نمبر ۰۰۴ اور ۰۰۵ کے ذریعے رجسٹرڈ کی گئی۔ چٹھی کا مضمون درج ذیل ہے:

’’گزارش ہے کہ میں آج انتہائی مجبور ہو کر روزنامہ جنگ لاہور کے ڈائری نویس کے ناروا اور جانبدارانہ رویہ پر احتجاج کرتے ہوئے آنجناب کو اس طرف توجہ دلا رہا ہوں کہ ان صاحب نے جب سے لاہور کی ڈائری لکھنا شروع کی ہے جمعیۃ علماء اسلام کے بارے میں ان کا رویہ اور طرز نگارش معاندانہ رہا ہے اور موقع بے موقع کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر جمعیۃ علماء اسلام کے قائدین کے خلاف الزام تراشی اور کردارکشی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ صاحب روزنامہ جنگ کی خبروں، انٹرویوز اور مذاکروں میں جمعیۃ علماء اسلام کو مسلسل نظر انداز کیے جانے کا باعث ہیں اور اپنی ڈائریوں میں خلاف واقعہ مفروضے بنا کر جمعیۃ علماء اسلام کے خلاف لکھتے رہنے کے عادی ہیں۔

آنجناب ان صاحب کی اب تک کی ڈائریاں خود مطالعہ فرمائیں، آپ پر یہ واضح ہو جائے گا کہ جمعیۃ علماء اسلام کے خلاف ان کے قلم میں نفرت اور عداوت کے سوا کچھ نہیں ہے اور یوں لگتا ہے کہ یہ صاحب جمعیۃ علماء اسلام کے اس متوازی گروپ کی وکالت کر رہے ہیں جو ایم آر ڈی میں شامل ہے اور اس گروپ کی وکالت و ترجمانی میں اخلاق و شرافت کی تمام حدود پامال کر رہے ہیں جس کی تازہ ترین مثال روزنامہ جنگ لاہور کی ۲۴ دسمبر کی ڈائری ہے۔ اس کے جواب میں اپنے بیان کی کاپی اس عریضہ کے ساتھ منسلک کر رہا ہوں، میں اپنی تلخ نوائی پر معذرت کرتے ہوئے صرف یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اگر جمعیۃ علماء اسلام کے خلاف موقع بے موقع سچ جھوٹ لکھتے چلے جانا اور اس کے راہنماؤں کی مسلسل کردارکشی اور جنگ کی خبروں، انٹرویوز اور مذاکروں میں جمعیۃ کو نظر انداز کرنا ’’جنگ‘‘ کی پالیسی کا حصہ نہیں ہے تو ازراہِ کرم اپنے لاہور کے ڈائری نویس کے رویہ کا نوٹس لیں ورنہ ہم یہ سمجھنے پر مجبور ہوں گے کہ یہ سب کچھ ’’جنگ‘‘ کی پالیسی کے تحت ہو رہا ہے اور پھر ’’جنگ‘‘ کے ساتھ اپنے آئندہ رویہ کے بارے میں جماعتی سطح پر کوئی فیصلہ کرنا ہمارے لیے ناگزیر ہو جائے گا۔

امید ہے کہ آپ میری تلخ اور ترش گزارشات پر معذرت قبول کرتے ہوئے سنجیدگی کے ساتھ ان پر غور فرمائیں گے اور جواب سے جلد از جلد نوازیں گے۔ والسلام‘‘

اس چٹھی کے ساتھ مندرجہ ذیل وضاحتی بیان بھی منسلک کیا گیا جو جمعیۃ علماء اسلام ضلع بہاولپور کے امیر خان غلام سرور خان کے دستخط سے جاری ہوا۔

’’جمعیۃ علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا زاہد الراشدی نے روزنامہ جنگ کی لاہور کی سیاسی ڈائری میں لگائے گئے اس الزام کی تردید کی ہے کہ مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی قیادت کے انتخاب میں انہوں نے مولانا عبد الستار خان نیازی کا نام پیش کیا اور اس وجہ سے قیادت کا انتخاب نہیں ہو سکا۔

آج یہاں بہاولپور پہنچنے پر ایک بیان میں انہوں نے اس ڈائری کو جھوٹ اور صحافتی بددیانتی کا بدترین مظاہرہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اصل صورت یہ تھی کہ مجلس عمل کے صدر کے لیے مولانا سید امیر حسین گیلانی نے حضرت مولانا خان محمد صاحب کا نام پیش کیا اور قاری عبد الحمید قادری نے مولانا عبد الستار خان نیازی کا نام پیش کیا۔ دونوں ناموں پر مختصر بحث کے بعد حضرت مولانا خان محمد صاحب نے اپنا نام واپس لینے کا اعلان کیا لیکن مولانا عبد الستار خان نیازی نے کہا کہ وہ ابھی تک مولانا نورانی سے اس سلسلہ میں حتمی بات نہیں کر سکے اس لیے ابھی کچھ وقت دیا جائے۔ چنانچہ مولانا نیازی کی طرف سے وقفہ کے مطالبہ پر مجلس عمل کے باقاعدہ انتخاب کا سلسلہ روک کر مولانا محمد شریف جالندھری کو سیکرٹری اور مجھے رابطہ سیکرٹری چننے کا فیصلہ کیا گیا۔ اور جہاں تک میرا تعلق ہے میں نے سرے سے کسی کا نام تجویز ہی نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اس خلاف واقعہ ڈائری کی اشاعت مرکزی مجلس عمل کے شرکاء میں غلط فہمیاں پیدا کرنے اور مجلس عمل کی جدوجہد کو سبوتاژ کرنے کسی باقاعدہ کوشش کا حصہ ہے اور روزنامہ جنگ کی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ اگر یہ بات خود اس کی اپنی پالیسی کا حصہ نہیں ہے تو وہ ڈائری نویس کی اس حرکت کا نوٹس لیں۔‘‘

مگر انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ روزنامہ جنگ جیسے قومی اخبار کی انتظامیہ نہ تو میرے وضاحتی بیان کی اشاعت کی متحمل ہوئی اور نہ جناب خلیل الرحمان اور جناب میر شکیل الرحمان نے میرے عریضہ کا جواب دینے کی زحمت گوارا فرمائی۔ اس کے بعد ۲ جنوری ۱۹۸۴ء کو گوجرانوالہ سے دوبارہ دونوں حضرات کی خدمت میں یاددہانی کا عریضہ ارسال کیا گیا جو گوجرانوالہ ہیڈ پوسٹ آفس کی رسید نمبر ۶۵۱ اور ۶۵۲ کے ذریعے رجسٹرڈ پوسٹ ہوا لیکن ابھی تک جواب کا انتظار ہے اور معلوم نہیں کہ میر صاحبان میرے عریضوں کا جواب دینے کی شرعی اور اخلاقی ذمہ داری سے کب عہدہ برآ ہوتے ہیں۔

جہاں تک حضرت مولانا خان محمد صاحب مدظلہ العالی کا تعلق ہے وہ میرے مخدوم و محترم بزرگ ہیں اور ان کے سیاسی موقف سے شدید اختلاف کے باوجود ایک مخدوم و محترم بزرگ کی حیثیت اسے ان کا دلی احترام کرتا ہوں اور ان کی قیادت میں ختم نبوت کے محاذ پر خدمات سرانجام دینے کو سعادت و نجات کا باعث سمجھتا ہوں۔ اگرچہ ایم آر ڈی کی حمایت میں حضرت مولانا خان محمد صاحب مدظلہ العالی کے بیانات اور سرگرمیوں سے ہمیں ہمیشہ اختلاف رہا ہے اور ہمارے نقطۂ نظر سے مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے امیر کی حیثیت سے حضرت مدظلہ کو اپنی غیر متنازعہ اور غیرجانبدارانہ حیثیت کو جس طرح برقرار رکھنا چاہیے تھا اسے وہ قائم نہیں رکھ سکے بلکہ جمعیۃ علماء اسلام کے متوازی گروپ کی تشکیل کے تمام مراحل خود ان کی قیادت میں طے ہوئے ہیں۔ بیس پچیس افراد کے جس اجلاس میں حضرت درخواستی مدظلہ کو کسی شرعی یا دستوری جواز کے بغیر امارت سے معزول کرنے کی نام نہاد کاروائی کی گئی اس کی صدارت حضرت مولانا خان محمد صاحب مدظلہ نے فرمائی، اور جس نام نہاد اجلاس میں نئے امیر کا چناؤ ہوا اس کی صدارت بھی حضرت مدظلہ نے ہی فرمائی لیکن اس کے باوجود ختم نبوت کے محاذ پر ہماری تمام تر حمایت، تعاون اور وسائل مجلس تحفظ ختم نبوت کے لیے وقف رہے ہیں اور اب بھی وقف ہیں۔

خود حضرت مولانا خان محمد صاحب دامت برکاتہم گواہ ہیں کہ اختلاف کی شدت کے دور میں بھی مسجد شہداء لاہور، مرکزی جامع مسجد مانسہرہ اور جامع مسجد ناڑی وال مانسہرہ کی ختم نبوت کانفرنسوں میں خود ان کی صدارت میں راقم الحروف نے کن جذبات کا اظہار کیا تھا۔ اور مرکزی مجلس عمل کی تشکیل کے لیے جمعیۃ علماء اسلام نے حضرت الامیر مولانا محمد عبد اللہ درخواستی دامت برکاتہم اور حضرت مولانا عبید اللہ انور دامت برکاتہم کی قیادت میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے ساتھ جو مسلسل مربوط اور متحرک تعاون کیا ہے وہ اس بات پر گواہ ہے کہ ہم نے ختم نبوت کے تحفظ کے مسئلہ کو سیاسی تنازعات سے الگ رکھ کر ہمیشہ غیر مشروط تعاون کیا ہے اور اب بھی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر حضرت مولانا خان محمد صاحب دامت برکاتہم کو ہمارا مکمل، غیر مشروط اور متحرک تعاون حاصل رہے گا۔

مجھے امید ہے کہ ان وضاحتی سطور کے بعد وہ غلط فہمی احباب کے ذہنوں سے دور ہو جائے گی جو روزنامہ جنگ کے لاہور کے ڈائری نویس کی من گھڑت اور مفروضہ ڈائری سے پیدا ہوگئی ہے۔