علماء کشمیر اور دارالعلوم دیوبند: پروفیسر محمد یعقوب شاہق کی ’’فیض الغنی‘‘

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۴ اپریل ۲۰۰۱ء
اصل عنوان: 
علماء کشمیر اور دارالعلوم دیوبند

گزشتہ اتوار کو جماعت اسلامی کے دفتر واقع لٹن روڈ لاہور کی ایک تقریب میں شرکت کا موقع ملا۔ یہ تقریب آزاد کشمیر کے مجاہد عالم دین حضرت مولانا عبد الغنی مرحوم کے سوانحی حالات اور علماء کشمیر کی جدوجہد پر پروفیسر محمد یعقوب شاہق صاحب کی ضخیم تصنیف ’’فیض الغنی‘‘ کی رونمائی کے لیے ادارہ ’’بازگشت‘‘ نے منعقد کی تھی۔ پروفیسر نصیر الدین ہمایوں اس تقریب کے صدر تھے جبکہ مجھے بطور مہمان مقرر اظہار خیال کی دعوت دی گئی۔

مولانا عبد الغنیؒ دار العلوم دیوبند کے فضلاءمیں سے تھے، آزاد کشمیر کے ضلع باغ میں بیس بگلہ کے قریب ’’جھڑ‘‘ نامی جگہ کے رہنے والے تھے جسے اب غنی آباد کا نام دے دیا گیا ہے۔ وہ تحریک آزادی کشمیر کے سرکردہ رہنماؤں میں سے تھے، ۱۹۴۷ء میں انہوں نے ڈوگرہ شاہی سے آزادی کے لیے نہ صرف خود عملاً جہاد میں حصہ لیا بلکہ علاقہ کے سینکڑوں لوگوں کو اس کے لیے تیار کیا، ان کی عسکری ٹریننگ کا اہتمام کیا اور میدان جہاد میں ان کے شانہ بشانہ شریک جنگ رہے۔ مولانا عبد الغنی ۱۹۴۳ء کے لگ بھگ مدرسہ انوار العلوم مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں تعلیم حاصل کرتے رہے اور والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر سے بھی انہوں نے کچھ عرصہ پڑھا ہے۔ اس تقریب میں مجھے اظہار خیال کی دعوت اسی مناسبت سے دی گئی تھی۔

میں نے مولانا عبد الغنی مرحوم کو نہیں دیکھا البتہ بیس بگلہ ان کے قائم کردہ مدرسہ میں کئی بار گیا ہوں او رجھڑ میں بھی حاضری دی ہے۔ بیس بگلہ میں ان کا قائم کردہ مدرسہ فیض القرآن آزاد کشمیر کے اہم دینی مدارس میں شمار ہوتا ہے اور اس کے سالانہ اجتماعات میں کبھی کبھی شرکت کا موقع مل جاتا ہے۔ لندن کے علاقہ ساؤتھال میں میرے میزبان حاجی محمد اشرف خان اور حاجی محمد حنیف خان اسی علاقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور اس طرح اس علاقہ کے علماء کرام کے ساتھ میرے کئی حوالوں سے تعلقات اور مناسبت ہے۔

اس تقریب میں اپنے خطاب کے دوران میں نے بتایا کہ آزادکشمیر کے علماء کرام کے ساتھ ہمارے تعلقات و مراسم تین نسلوں پر محیط ہیں۔ ان میں سے وہ بزرگ بھی ہیں جو حضرت والد صاحب کے ساتھیوں میں سے ہیں جنہوں نے دارالعلوم دیوبند اور دیگر مدارس میں اکٹھے تعلم پائی ہے، ان میں حضرت مولانا محمد یوسف خان آف پلندری، حضرت مولانا عبد العزیز تھوراڑویؒ، حضرت مولانا عبد الحمید قاسمیؒ اور حضرت مولانا مفتی عبد المتینؒ آف تھب بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ اس کے بعد حضرت والد صاحب کے شاگردوں کی ایک بڑی کھیپ ہے جن میں سے بہت سے میرے ہم سبق ہیں۔ پھر تیسری کھیپ خود میرے شاگردوں کی ہے جس میں بیسیوں نوجوان علماء مختلف مقامات پر دینی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اس لیے آزاد کشمیر کے بہت سے علمی گھرانوں کے ساتھ ہمارے مراسم ایسے ہیں جیسے ایک ہی کنبہ کے افراد ہوں۔

پروفیسر محمد یعقوب شاہق نے ’’فیض الغنی‘‘ میں مولانا عبد الغنیؒ کے ساتھ ساتھ اس دور کے ان ممتاز کشمیری علماءکرام کے حالات کا بھی سرسری تذکرہ کیا ہے جو ڈوگرہ شاہی کے خلاف مسلسل نبرد آزما رہے ہیں، جنہوں نے انتہائی بے سروسامانی کے عالم میں آزاد کشمیر کے اس خطہ میں دینی تعلیم کی شمع روشن کی اور دینی مدارس کا جال بچھا کر نئی نسل تک اسلامی تعلیمات پہنچانے کا اہتمام کیا۔

بیس بگلہ تک آج کل سڑک جاتی ہے اور گاڑی پر سوار ہو کر وہاں آسانی کے ساتھ پہنچا جا سکتا ہے لیکن ربع صدی قبل جب میں پہلی بار گیا تو راولپنڈی سے باغ جاتے ہوئے جھالا کے مقام پر اتر کر تقریباً نو میل کی مسافت جو سب کی سب پہاڑی چڑھائی ہے پیدل طے کرنا پڑتی تھی۔ جب واپس آکر میں نے والد صاحب کو بتایا کہ میں بیس بگلہ گیا تھا تو حیرانی سے پوچھا کہ کس راستہ سے گئے تھے؟ میں نے بتایا کہ جھالا کے راستہ سے گیا تھا۔ انہوں نے پوچھا کہ تم وہ چڑھائی طے کر گئے تھے؟ میں نے عرض کیا کہ ہاں وہی چڑھائی چڑھ کر میں بیس بگلہ گیا تھا تو بڑے خوش ہوئے اور بتایا کہ وہ قیام پاکستان کے زمانہ میں جب اس علاقہ میں گئے تھے تو کوہالہ سے آگے سڑک نہیں تھی اس لیے انہوں نے کوہالہ سے بیس بگلہ اور تھب کا سفر پیدل کیا تھا۔

پروفیسر محمد شاہق صاحب کا فکری تعلق جماعت اسلامی سے ہے لیکن وہ مولانا عبد الغنی مرحوم کے ہونہار شاگردوں میں شمار ہوتے ہیں اس لیے انہوں نے جس عقیدت و محبت کے ساتھ دارالعلوم دیوبند کی تعلیمی تحریک کا مفصل ذکر کیا ہے اور انتہائی عرق ریزی کے ساتھ علماء دیوبند اور علماء کشمیر کی دینی و ملی خدمات کو مربوط انداز میں پیش کیا ہے اس سے حضرت مولانا عبد الغنیؒ کے ذوقِ تربیت کا صحیح طور پر اندازہ ہوتا ہے۔

ڈوگرہ شاہی کے خلاف کشمیری عوام کی مسلسل جدوجہد میں علماء کرام کا بہت بڑا حصہ اور کردار ہے جو ۱۹۳۱ء کی مجلس احرار اسلام کی تحریک کشمیر سے لے کر آج کے مسلح جہاد آزادی تک کے ہر مرحلہ میں نمایاں ہے۔ لیکن اسے تاریخ کے ریکارڈ پر لانے اور اگلی نسل کو اس سے متعارف کرانے کی طرف علماء کرام اور دینی حلقوں کی توجہ نہیں ہے۔ پروفیسر شاہق صاحب نے پانچ سو صفحات کے لگ بھگ اس ضخیم کتاب میں اس پہلو کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے مگر ابھی اس پر بہت کام کرنے کی ضرورت ہے اور علماء کشمیر کی آج کی نسل کے ذمہ آنے والی نسل کا یہ قرض ہے جس کی ادائیگی کا بروقت اہتمام ہوجانا چاہیے۔