شریعت بل، پارلیمنٹ کی خودمختاری اور اجتہاد

   
مجلہ: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اکتوبر ۱۹۹۰ء

صدر مملکت کی طرف سے قومی اسمبلی توڑے جانے کے بعد عوامی سطح پر شریعت بل کے بارے میں بحث و تمحیص کا سلسلہ اگرچہ وقتی طور پر رک گیا ہے اور شریعت بل کی منظوری اور نفاذ کے بارے میں لوگ ۲۴ اکتوبر کو معرض وجود میں آنے والی قومی اسمبلی کا انتظار کر رہے ہیں، لیکن اہل دانش کے ہاں شریعت بل پر بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے۔ چنانچہ ملک کے دو معروف قانون دانوں ریٹائرڈ جسٹس جناب جاوید اقبال اور جناب ملک امجد حسین ایڈووکیٹ کے مضامین گزشتہ دنوں روزنامہ جنگ کے ادارتی صفحات کی زینت بنے ہیں جن میں شریعت بل کے حوالہ سے چند نکات زیر بحث لائے گئے ہیں۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان مضامین کے اہم نکات کا مختصر جائزہ لے لیا جائے تاکہ تصویر کے دونوں رخ قارئین کے سامنے رہیں اور انہیں کسی نتیجہ تک پہنچنے میں دشواری پیش نہ آئے۔

جناب ڈاکٹر جاوید اقبال نے اپنے مضمون میں جن نکات پر سب سے زیادہ زور دیا ہے، وہ یہ ہیں:

  • تحریک پاکستان میں عوام نے علماء کی سوچ کو مسترد کر کے علامہ محمد اقبال اور قائد اعظم کی سوچ کو اپنایا تھا، اس لیے پاکستان میں اسلام کا نفاذ علماء کی بجائے علامہ اقبال اور قائد اعظم کی سوچ اور فکر کے مطابق ہونا چاہیے۔
  • عصر حاضر کی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق اسلامی احکام میں وسیع تر اجتہاد کی ضرورت ہے اور علماء مختلف وجوہ کی بنا پر اجتہاد کی صلاحیت سے بہرہ ور نہیں رہے، اس لیے دین کی تعبیر و تشریح اور اجتہاد کے تمام تر اختیارات منتخب پارلیمنٹ کے حوالہ کر دینے چاہئیں۔
  • پارلیمنٹ کی بالادستی سے شریعت کی توہین ہوتی ہے اور شریعت کی بالادستی سے پارلیمنٹ کی خود مختاری مجروح ہوتی ہے، اس لیے قانون نفاذ شریعت میں ’’قطع و برید‘‘ کر کے کوئی درمیانی راہ نکالنی چاہیے۔

جب کہ جناب ملک امجد حسین ایڈووکیٹ کے اٹھائے ہوئے زیادہ نکات درج ذیل ہیں:

  • قرارداد مقاصد میں کسی جگہ بھی شریعت کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا، اس لیے شریعت بل کا قرارداد مقاصد کے ساتھ تعلق جوڑ کر علمائے کرام قرارداد مقاصد کی غلط تشریح کر رہے ہیں۔
  • جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے قراردادِ مقاصد کو آئین کا واجب العمل حصہ بنا کر غلطی کی ہے کیونکہ سیاسی حالات کے مدّوجز میں آئین کے ٹوٹنے اور معطل ہونے کا خطرہ رہتا ہے، اس لیے قراردادِ مقاصد کو آئین کا عملی حصہ بنا کر اسے بھی معرض خطر میں ڈال دیا گیا ہے۔

جہاں تک تحریک پاکستان میں علماء کی سوچ کو عوام کی طرف سے مسترد کیے جانے کا تعلق ہے، ہمیں افسوس ہے کہ تاریخی حقائق اس دعوے میں جناب ڈاکٹر جاوید اقبال کا ساتھ نہیں دے رہے، کیونکہ علماء کے ایک طبقہ نے تحریک پاکستان کی ضرور مخالفت کی تھی اور وہ اپنی اس مخالفت پر کسی قسم کا نقاب ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے، لیکن علماء ہی کا ایک بہت بڑا طبقہ تحریک پاکستان کے ہراول دستہ کے طور پر قیام پاکستان کی جدوجہد میں شریک تھا۔ آخر ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب تحریک پاکستان میں مولانا اشرف علی تھانویؒ، مولانا شبیر احمد عثمانیؒ، مولانا عبد الحامد بدایونیؒ پیر صاحب مانکی شریفؒ، مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹیؒ اور ان کے ہزاروں رفقاء کے وجود کو کس طرح نظر انداز کر جاتے ہیں جو نہ صرف تحریک پاکستان کی صفِ اول میں شامل تھے بلکہ صوبہ سرحد اور سلہٹ میں پاکستان کے حق میں ریفرنڈم جیتنے میں انہی علماء کا رول بنیادی اور فیصلہ کن رہا ہے۔ اور اگر یہ کہا جائے تو حقائق کی بالکل صحیح ترجمانی ہوگی کہ تحریک پاکستان کے نظریاتی اور اسلامی تشخص پر عوام کا اعتماد انہی علماء و مشائخ کی بدولت قائم ہوا تھا۔ پھر یہ کہنا کہ علامہ محمد اقبالؒ اور قائد اعظمؒ اسلام کی تعبیر و تشریح کے بارے میں جمہور مسلمانوں سے ہٹ کر کسی نئے فکر کے داعی تھے، ان دونوں شخصیات کے ساتھ انصاف نہیں ہے۔ یہ درست ہے کہ علامہ محمد اقبالؒ نے دین کی تعبیر و تشریح اور اجتہاد کی عمومی ضرورت کے حوالہ سے اپنے خیالات و افکار پیش کیے ہیں جو عام علماء کے موقف سے مختلف ہیں، لیکن انہوں نے ان افکار و خیالات کو فقہی مذہب اور نئے فکر کے طور پر کبھی پیش نہیں کیا اور نہ ہی اس پر اصرار کیا ہے کہ ان کے خیالات کو من و عن قبول کر لیا جائے۔ ہمارے نزدیک اس ضمن میں علامہ محمد اقبالؒ کے افکار کی حیثیت تجاویز کی ہے جو انہوں نے علمی حلقوں کے سامنے پیش کیں اور علمی حلقوں کا اجتماعی طرزعمل شاہد ہے کہ انہوں نے علامہ محمد اقبالؒ کے تمام تر احترام کے باوجود ان تجاویز کو قبول نہیں کیا، لیکن اس توازن کے ساتھ کہ نہ تو ان شاذ افکار کی بنیاد پر علامہ محمد اقبالؒ کو اپنے روایتی طرزِ تنقید کا ہدف بنایا ہے اور نہ ہی ان کے افکار کو من و عن قبول کیا ہے۔

جمہور اہل علم کے اس حق سے ڈاکٹر جاوید اقبال بھی انکار نہیں کریں گے کہ وہ کسی بھی سوچ اور فکر کو، خواہ وہ کتنی ہی بڑی شخصیت کی طرف سے آئی ہو، دین و علم کے مسلّمہ اصول و ضوابط سے ہٹا ہوا دیکھیں تو اسے قبول کرنے میں احتیاط سے کام لیں۔ کیونکہ جب ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب علامہ محمد اقبالؒ کے حوالہ سے اپنے لیے یہ حق مانگتے ہیں کہ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متفقہ اور اجماعی فیصلوں کو مصلحت وقت کے موافق نہ پائیں تو قبول نہ کریں، تو علامہ محمد اقبالؒ کی کسی سوچ اور رائے کی حیثیت صحابہ کرامؓ کے اجماع سے زیادہ تو نہیں ہے کہ اسے ہر صورت قبول کرنے پر اصرار کیا جائے اور کسی کو اس سے اختلاف کا حق نہ دیا جائے۔ پھر جب بات جمہوریت کی ہے تو یہ اصول اہل علم کے لیے کیوں نہیں ہے اور ملک کے جمہور اہل علم اور اہل دین کے مقابلہ میں ایک شخصی رائے پر اصرار کیوں کیا جا رہا ہے؟

بہرحال ہم یہ سمجھتے ہیں کہ علامہ محمد اقبالؒ دین میں تعبیر و تشریح کے حوالہ سے کسی نئے فقہی مذہب اور مکتب فکر کے بانی اور داعی نہیں تھے، نہ انہوں نے اس کا دعویٰ کیا، نہ اس کے لیے حلقہ بنایا اور نہ ہی عامۃ الناس کو دعوت دی کہ وہ علماء کی بیان کردہ تشریح دین کو مسترد کر کے ان کے اس مبینہ مکتب فکر کو قبول کریں۔ بات صرف اتنی تھی کہ علامہ محمد اقبالؒ نے ایک مفکر اور فلسفی کی حیثیت سے خیرخواہی کے جذبہ کے ساتھ اپنے افکار و خیالات کو تجاویز کی صورت میں اہل علم کے سامنے پیش کیا لیکن جمہور اہل علم نے مرحوم کے خلوص، جذبہ خیرخواہی اور احترام کے باعث انہیں خاموشی کے ساتھ نظر انداز کر دیا جس سے بات ختم ہو گئی۔ لیکن اب ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب تاریخ کے حوالے ہو جانے والے اس مسئلہ کو دوبارہ زندہ کرنا چاہتے ہیں اور اپنے قابل صد احترام مرحوم والد کے کندھے پر رکھ کر ایک نئے مکتب فکر کے قیام کی بندوق داغنے کے درپے ہیں یہ تو خود علامہ محمد اقبالؒ کے ساتھ زیادتی ہوگی۔

باقی رہی بات تحریک پاکستان کی تو یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ تحریک پاکستان کا اسلامی اور نظریاتی تشخص مولانا اشرف علی تھانویؒ، مولانا شبیر احمد عثمانیؒ، مولانا عبد الحامد بدایونیؒ، پیر صاحب مانکی شریفؒ، مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹیؒ اور ان کے اہل علم رفقاء سے وابستہ ہے، اس لیے پاکستان میں اسلام کی تعبیر و تشریح انہی اصول و ضوابط کے مطابق ہوگی جن کے یہ مذکورہ بالا اہل علم داعی ہیں اور وہ اصول و ضوابط ان حضرات کے طے کردہ نہیں ہیں، بلکہ چودہ سو سال سے امت کا اجماعی تعامل انہی اصولوں پر ہے اور آج بھی پاکستان بلکہ پورے عالم اسلام کے جمہور اہل علم ان اصول و ضوابط کو تسلیم کرتے ہیں۔

اب آئیے اجتہاد کی عمومی ضرورت اور پارلیمنٹ کو اس کا حق دینے کے سوال کی طرف۔ اس سے کسی کو انکار نہیں ہے کہ آج کے دور میں بدلتے ہوئے تقاضوں کے پیش نظر وسیع تر اجتہاد کی ضرورت ہے، علماء بھی اس ضرورت کو تسلیم کرتے ہیں، بلکہ اپنے اپنے دائرہ کار میں اجتہاد کر بھی رہے ہیں۔ ملک کے ہر بڑے جامعہ اور دارالعلوم میں دارالافتاء موجود ہے اور مفتیان کرام روزمرہ پیش آمدہ مسائل و امور پر فتوے جاری کر رہے ہیں۔ ان فتاویٰ میں جمود نہیں ہے بلکہ اجتہاد و تحرک پوری طرح کارفرما ہے۔ مفتیان کرام عمومی ضروریات اور مصلحتوں کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے پیش رو فقہائے کرام کے فیصلوں سے اختلاف بھی کر رہے ہیں اور بوقت ضرورت دوسرے فقہی مذاہب کے فیصلوں کو اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ نئی آرا بھی قائم کر رہے ہیں۔ دینی اداروں کے شعبہ ہائے فتاویٰ سے ہٹ کر قومی سطح پر اسلامی نظریاتی کونسل کے پلیٹ فارم پر نفاذ اسلام کے لیے جو علمی کام گزشتہ دس سال کے دوران ہوا ہے، اس میں تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام نے مل بیٹھ کر پیش آمدہ مسائل کا حل نکالا ہے، مسودات قانون ترتیب دیے ہیں اور متعدد نئے فقہی نکات اٹھائے ہیں۔

اجتہاد اسی کا نام ہے اور اجتہاد کا یہ عمل انفرادی اور اجتماعی سطح پر جاری و ساری ہے، جبکہ اسلامی نظریاتی کونسل اور وفاقی شرعی عدالت میں علمائے کرام نے اجتہاد اور تعبیر دین کے اس عمل میں جدید قانون دان حضرات کے ساتھ اشتراک کو فراخ دلی کے ساتھ قبول کیا ہے اور مل جل کر اجتہاد کے اس عمل کو آگے بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ اور اس سے بھی آگے بڑھ کر ’’شریعت بل‘‘ کے ذریعے قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح کے تمام تر اختیارات وفاقی شرعی عدالت کے حوالے کر دیے ہیں جس میں عصری قانونی ماہرین کو علماء پر عددی برتری حاصل ہے۔ یہ متواتر پیشرفت اس امر کی شاہد ہے کہ علماء نہ تو فقہی جمود کے قائل ہیں، نہ اجتہاد کی راہ میں رکاوٹ ہیں، اور نہ ہی اجتہاد اور تعبیر دین پر اپنی اجارہ داری قائم رکھنے کے درپے ہیں۔ البتہ وہ یہ بات ضرور کہتے ہیں کہ اجتہاد کے عمل کو صحیح طور پر آگے بڑھانے کے لیے دو امور کی پابندی بہرحال ضروری ہے: ایک اجتہاد کا دائرہ کار اور دوسرا اجتہاد کی اہلیت۔ کیونکہ ان دو باتوں کا لحاظ رکھے بغیر اجتہاد کے نام پر کیا جانے والا کوئی بھی عمل اجتہاد نہیں ہوگا، بلکہ الحاد اور زندقہ کی حدود میں داخل ہو جائے گا۔

اجتہاد کا دائرہ کار خود جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبلؓ والی حدیث میں متعین فرما دیا ہے کہ جس مسئلہ میں قرآن کریم اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی واضح حکم نہ ہو اس میں مجتہد کو اجتہاد کا حق حاصل ہے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ قرآن و سنت کے صریح احکام دائرہ اجتہاد سے خارج ہیں اور ان میں اجتہاد کے نام پر کسی قسم کے ردوبدل کی گنجائش نہیں ہے۔ اب اگر کوئی شخص یا ادارہ قرآن و سنت کے کسی صریح حکم کو تبدیل کرنا چاہتا ہے اور اسے ’’اجتہاد‘‘ کا نام دیتا ہے تو علماء اسے تسلیم نہیں کرتے اور اسے الحاد قرار دیتے ہیں، لیکن ہمارے مہربانوں کو شکوہ ہے کہ علماء جمود کے قائل ہیں اور اجتہاد سے انکار کر رہے ہیں۔

اجتہاد کے ضمن میں دوسرا بنیادی پہلو ’’اہلیت‘‘ کا ہے۔ یہ ایک بدیہی امر ہے کہ قرآن و سنت کی تشریح و تعبیر کے لیے قرآن و سنت سے واقفیت ضروری ہے۔ ایک شخص جو قرآن کریم کی کوئی آیت یا حدیث رسول کا کوئی جملہ پڑھ کر براہ راست اس کا مفہوم سمجھنے سے بھی قاصر ہے، اسے قرآن و سنت کا شارح تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایسی بدیہی بات ہے جس پر کسی دلیل اور بحث کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ امام ولی اللہ دہلویؒ نے تو اجتہاد کے لیے قرآن و سنت سے واقفیت کا بہت بلند معیار بیان کیا ہے اور ’’ازالۃ الخفاء‘‘ میں اجتہاد کی اہلیت کے لیے ایک درجن سے زائد علوم کی مہارت کو شرط قرار دیا ہے۔ ان کی یہ بات بالکل منطقی اور معقول ہے جس کی تفصیل میں جائے بغیر صرف ایک مثال سے ہم اپنے موقف کو واضح کریں گے۔

امام ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں کہ مجتہد کے لیے ضروری ہے کہ وہ دیگر ضروری علوم کی مکمل مہارت کے ساتھ ساتھ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ اور حالات زندگی پر بھی گہری نظر رکھتا ہو۔ کیونکہ بسا اوقات اس کے سامنے کسی مسئلہ میں جناب نبی اکرمؐ کے دو یا تین متفاوت ارشادات یا عمل آئیں گے، اس نے ان میں سے کسی ایک کو ترجیح دینی ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ ان میں سے آخری عمل کو ناسخ قرار دے کر قبول کرے گا اور باقی کو منسوخ سمجھے گا۔ اب وہ آخری عمل کا فیصلہ کیسے کرے گا؟ اس کے لیے ضروری ہے کہ اسے جناب رسالت مآبؐ کے ارشادات اور احوال سے اس قدر واقفیت حاصل ہو کہ وہ آپ کے اعمال میں واقعاتی ترتیب قائم کر سکے اور یہ فیصلہ کر سکے کہ پہلا عمل کون سا ہے اور آخری عمل کون سا ہے، اس کے بغیر یہ فیصلہ کرنا اس کے لیے ممکن ہی نہیں ہے۔

یہ صرف ایک مثال ہے جو بات سمجھانے کے لیے عرض کی گئی، ورنہ جن چودہ علوم کو حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے اجتہاد کی اہلیت کے لیے شرط قرار دیا ہے، ان میں سے ہر علم مجتہد کے لیے منطقی اور بدیہی طور پر اسی طرح ضروری ہے۔ اس پس منظر میں جب پارلیمنٹ کو اجتہاد کا حق دینے کی بات کی جاتی ہے تو علماء کو اس میں تامل ہوتا ہے اور وہ تامل بلاوجہ نہیں ہے کیونکہ ہمارے ہاں پارلیمنٹ کی رکنیت کے لیے ضروری علوم کی مہارت تو کجا، قرآن کریم کو سادہ ترجمہ کے ساتھ سمجھنا بھی شرط نہیں ہے۔ آخر ایک ایسے ادارہ کے لیے، جس کے ارکان کی غالب اکثریت قرآن و سنت سے ناواقف ہے اور جس کی رکنیت کے لیے قرآن کریم کا سادہ ترجمہ جاننا بھی شرط نہیں، قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح اور اجتہاد کا حق علماء آخر کیسے تسلیم کر لیں؟

پھر اہلیت کا یہ صرف ایک پہلو ہے کہ اجتہاد کا حق صرف اسے ہے جسے ضروری علوم پر مہارت حاصل ہو۔ اس کا دوسرا پہلو خدا خوفی اور تقویٰ کا بھی ہے جو علمی اہلیت کے ساتھ اسی سطح پر ضروری ہے۔ ہمارے فقہاء کے ہاں تو خدا خوفی اور تقویٰ کا یہ معیار رہا ہے کہ حضرت امام ابوحنیفہؒ اپنے قرض خواہ کے مکان کی دیوار کے سائے میں کھڑا ہونے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے کہ اس طرح قرض کے ساتھ سایہ دیوار میں کھڑا ہونے کا نفع شامل ہو جائے گا جو سود بن سکتا ہے۔ ان مجتہدین کے اجتہاد کا حق ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب اس پارلیمنٹ کے حوالہ کرنا چاہتے ہیں جس کی ’’ہارس ٹریڈنگ‘‘ کے قصے دنیا بھر میں ہماری قومی رسوائی کا باعث بن رہے ہیں۔ لیکن علماء کو اس سے بھی انکار نہیں ہے، اگر وہ وفاقی شرعی عدالت اور اسلامی نظریاتی کونسل کے لیے اجتہاد کا حق تسلیم کر سکتے ہیں تو پارلیمنٹ کے سامنے سپر انداز ہونے میں بھی انہیں کوئی حجاب نہیں ہے۔ البتہ اجتہاد کے دائرہ کار اور اہلیت کے اصولوں سے دستبردار ہونے کے لیے وہ کسی صورت میں تیار نہیں ہیں اور اس کے لیے دو امور کو آئینی طور پر قطعیت کے ساتھ طے کرنا ہوگا۔ ایک یہ کہ پارلیمنٹ قرآن و سنت کے صریح احکام میں ردوبدل کی مجاز نہیں ہوگی اور دوسرا یہ کہ پارلیمنٹ کی رکنیت کے لیے قرآن و سنت کی ضروری واقفیت شرط ہوگی۔

محترم ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب ان دو امور کو تسلیم کر لیں تو پارلیمنٹ کو اجتہاد کا حق دینے کے بارے میں ان کے موقف کو قبول کرنے کے لیے ہم تیار ہیں، بلکہ اجتہاد کی اہلیت کے لیے حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی بیان کردہ سخت شرائط پر بھی ہمیں زیادہ اصرار نہیں ہوگا۔ اور اس ضمن میں بھی ہم اسلامی نظریاتی کونسل یا وفاقی شرعی عدالت کا یہ استحقاق تسلیم کرتے ہیں کہ وہ پارلیمنٹ کو قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح اور اجتہاد کا حق دینے کا مقصد سامنے رکھ کر پارلیمنٹ کی رکنیت کے لیے قرآن و سنت سے واقفیت کا معیار طے کر دیں۔ لیکن ان بنیادی امور کو ملحوظ رکھے بغیر اگر پارلیمنٹ کو قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح کا حق دیا جاتا ہے اور پارلیمنٹ اسے استعمال کرتی ہے تو ہمارے نزدیک پاپائے روم کی بائیبل میں ردوبدل کا حق رکھنے والی کونسلوں کے فیصلوں، اکبر بادشاہ کے درباری اجتہاد کے ذریعے وجود میں آنے والے دین الٰہی، اور اجتہاد کے غیر مشروط حق سے بہرہ ور منتخب پارلیمنٹ کے فیصلوں میں کوئی فرق نہیں رہ جائے گا۔

اب ہم تیسرے نکتے کی طرف آتے ہیں جس میں ڈاکٹر جاوید اقبال نے پارلیمنٹ اور شریعت میں سے کسی ایک کی بالادستی کی صورت میں دوسرے کی حیثیت مجروح ہونے کو تسلیم کیا ہے۔ اور اس طرح علماء کے اس موقف کو پہلی بار سنجیدگی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے کہ پارلیمنٹ کی مکمل بالادستی کی صورت میں شریعت کی بالادستی نہیں رہتی اور یہ نہ صرف شریعت کی توہین ہے بلکہ ایک عام مسلمان کے بنیادی عقیدہ کے بھی منافی ہے۔ لیکن اس کا حل ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب نے قانون نفاذِ شریعت پر پارلیمنٹ کی بالادستی بہرحال قائم رکھنے کی صورت میں تجویز کیا ہے اور اس میں کسی قسم کی لچک کے روادار نہیں ہیں۔ ہمیں ان کے اس موقف سے اختلاف ہے کیونکہ ایک مسلمان کی حیثیت سے ہمارا بنیادی عقیدہ ہے کہ قرآن و سنت کو دنیا کے ہر ادارے پر بالادستی حاصل ہے اور کوئی منتخب یا غیر منتخب ادارہ ایسا نہیں ہے جسے قرآن و سنت کے احکام پر بالادستی دی جا سکے۔

اب ہم ملک امجد حسین صاحب ایڈووکیٹ کے اٹھائے ہوئے دو نکات کی طرف آتے ہیں۔ ان کا پہلا نکتہ یہ ہے کہ قراردادِ مقاصد میں ’’شریعت‘‘ کا لفظ تک نہیں ہے تو شریعت بل کے لیے اس کا حوالہ کیوں دیا جا رہا ہے؟ مگر یہ بات انتہائی سطحی ہے جس کی اتنے بڑے قانون دان سے کم از کم ہمیں توقع نہیں تھی۔ ’’شریعت‘‘ کی اصطلاح خود قرآن کریم کی ارشاد فرمودہ ہے، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

ثم جعلناک علٰی شریعۃ من الامر فاتبعھا ولا تتبع اھواء الذین لا یعلمون۔ (الجاثیہ ۱۸)

’’پھر ہم نے آپ کو دین کے بارے میں شریعت پر قائم کیا ہے، پس آپ اس کی پیروی کریں اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کریں جو علم نہیں رکھتے۔‘‘

اور قرارداد مقاصد کے دو اقتباسات ملاحظہ ہوں:

  1. مملکت جملہ حقوق و اختیارات حکمرانی جمہور کے منتخب کردہ نمائندوں کے ذریعے استعمال کرے جس میں اصول جمہوریت و حریت و مساوات و رواداری اور عدل عمرانی کو، جس طرح اسلام نے ان کی تشریح کی ہے، پورے طور پر ملحوظ رکھا جائے۔
  2. مسلمانوں کو اس قابل بنایا جائے کہ انفرادی و اجتماعی طور پر اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات و مقتضیات کے مطابق، جو قرآن مجید اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں متعین ہیں، ترتیب دے سکیں۔

اب آپ خیال فرمائیے کہ قرارداد مقاصد نے دستوری طور پر اسلام کی تشریحات اور قرآن و سنت کی تعلیمات کی پابندی کو ضروری قرار دیا ہے اور قرآن کریم نے ’’شریعت‘‘ کی پیروی کا حکم دیا ہے تو شریعت کے قرآنی حکم کو اختیار کرنا قرارداد مقاصد ہی کی تکمیل نہیں تو اور کیا ہے؟

قرارداد مقاصد ایک اصولی دستاویز ہے۔ ملک میں اسلامائزیشن کے لیے جتنے اقدامات بھی ہوں گے، اس قرارداد مقاصد پر عملدرآمد میں پیشرفت شمار ہوں گے۔ اس کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ قرارداد مقاصد میں ان سب کا تفصیلاً ذکر بھی ہو۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے سپریم کورٹ نے قصاص و دیت آرڈیننس جاری کرنے کا حکومت کو پابند کیا ہے اور حکومت چند روز تک آرڈیننس لا رہی ہے۔ اب کوئی شخص یہ کہے کہ قرارداد مقاصد میں تو ’’حدود و قصاص‘‘ کا لفظ نہیں ہے اس لیے اس آرڈیننس کے سلسلے میں قرارداد مقاصد کا حوالہ نہ دیا جائے، تو یہ بالکل غلط بات ہوگی۔ کیونکہ حدود و قصاص کے قانون کا نفاذ بلاشبہ قرارداد مقاصد کی اس شق پر عملدرآمد ہوگا جس میں مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں اسلامی تعلیمات کی پابندی کی ضمانت دی گئی ہے۔

رہا دوسرا نکتہ کہ قرارداد مقاصد کو آئین کا عملی حصہ بنا کر معرضِ خطر میں ڈال دیا گیا ہے تو یہ خدشہ سابقہ تجربات کی بنیاد پر بے بنیاد ہے، کیونکہ پاکستان میں آئین ٹوٹنے اور نئے دستور ترتیب پانے کا افسوسناک عمل اگرچہ متعدد بار دہرایا گیا ہے، لیکن قرارداد مقاصد کو کوئی دستور بھی نظر انداز نہیں کر سکا اور ہر آئین میں اسے شامل کیا گیا ہے۔ اس طرح ۱۹۴۹ء میں پہلی دستور ساز اسمبلی میں منظور ہونے والی قرارداد مقاصد کو ملک کی ایک بنیادی دستاویز کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے جسے کسی بھی دور میں نظر انداز نہیں کیا جا سکے گا۔

قرارداد مقاصد میں پاکستان کی اسلامی نظریاتی حیثیت کو ہمیشہ کے لیے طے کر دینے کے علاوہ خدا کی حاکمیت، قرآن و سنت کی بالادستی، اور اسلامی احکام کی عملداری کی ضمانت دی گئی ہے، اور اسلامائزیشن کی ایک مستحکم اور مضبوط آئینی بنیاد فراہم کر دی گئی ہے۔ جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کی طرف سے قرارداد مقاصد کو دستور کا باضابطہ حصہ قرار دیے جانے سے قبل قرارداد مقاصد کو ۱۹۷۳ء سمیت تمام دساتیر میں محض دیباچہ کی حیثیت سے بطور تبرک شامل کیا جاتا رہا ہے، جس پر عملدرآمد آئینی لحاظ سے ضروری نہیں تھا، مگر جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کے تحت حاصل شدہ اختیارات کی رو سے قرارداد مقاصد کو آئین کا باضابطہ اور قابل عمل حصہ بنا دیا جو قرارداد مقاصد کا اصل دستوری مقام ہے اور بلاشبہ یہ جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کا ایک اہم کارنامہ ہے۔