شیطان کا پچھتاوا

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۷نومبر ۲۰۱۱ء
اصل عنوان: 
’’شیطنت چھوڑ کے میں بھی یہی دھندا کر لوں‘‘

حافظ ابن حجر المکی نے الزواجر عن اقتراف الکبائر میں ایک روایت نقل کی ہے کہ ابلیس نے سیدنا حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ایک ملاقات کے موقع پر گزارش کی کہ میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرنا چاہتا ہوں، آپ اس کی قبولیت کی سفارش کر دیجیے۔ حضرت موسیٰؑ نے اللہ رب العزت کی بارگاہ میں سفارش کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ابلیس سے کہہ دیجیے کہ اگر وہ آدمؑ کی قبر کو سجدہ کر دے تو اس کی توبہ قبول ہو سکتی ہے۔ حضرت موسیٰؑ نے ابلیس کو یہ بات بتائی تو وہ غصے میں آگیا اور کہا کہ میں نے زندہ آدم کو سجدہ نہیں کیا تھا تو اب اس کی قبر کے سامنے کیسے سجدہ ریز ہو سکتا ہوں؟

البتہ ابلیس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ آپ نے اللہ تعالیٰ سے سفارش کر کے مجھ پر احسان کیا ہے اس لیے ہمدردی کے طور پر یہ عرض کرتا ہوں کہ اگر تین مواقع پر مجھے یاد کر لیں گے (یعنی میرے شر کا تصور ذہن میں لے آئیں گے) تو میں آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکوں گا۔

  1. جب آپ کو غصہ آئے تو مجھے یاد کر لیں، کیونکہ اس وقت میں آپ کے جسم میں اس طرح سرایت کر سکتا ہوں جس طرح رگوں میں خون دوڑتا ہے۔
  2. میدان جنگ میں مجھے یاد کر لیں، اس لیے کہ میں ایسے موقع پر مجاہد کو اس کے بیوی، بچوں اور گھر والوں کی بہت یاد دلایا کرتا ہوں۔
  3. اور جب کسی اجنبی عورت کے ساتھ بیٹھے ہوں تو مجھے یاد کر لیں، کیونکہ میں ایسے وقت میں دونوں کے درمیان پیغام رسانی کا کام کیا کرتا ہوں۔

اس قصہ کی روایتاً اور درایتاً حیثیت کیا ہے، اس سے قطع نظر مجھے یہ روایت گزشتہ روز اس وقت اچانک یاد آگئی جب دارالعلوم نیویارک میں بیٹھے ہوئے ہمارے محترم دوست مولانا حافظ اعجاز احمد نے ایک نظم سنانا شروع کر دی۔ یہ نظم کسی دوست نے انٹرنیٹ کی کسی ویب سائیٹ سے لے کر انہیں دی ہے اور وہ اپنے جمعۃ المبارک کے خطاب میں بھی لوگوں کو سنا چکے ہیں۔

مولانا حافظ اعجاز احمد کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے۔ جامعہ اشرفیہ باغبانپورہ کے فاضل ہیں، جامعہ نصرۃ العلوم گھنٹہ گھر میں حضرت والد محترمؒ سے دورۂ تفسیر کر چکے ہیں، روحانی سلسلے میں حضرت مولانا حاجی محمد فاروقؒ آف سکھر کے خلیفہ مجاز ہیں، دارالعلوم نیویارک کے سرپرست ہیں، اور کئی برسوں سے نیویارک کے مسلمانوں کی دینی راہ نمائی اور روحانی تربیت میں مصروف ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ یہ نظم حیدر آباد دکن (بھارت) کے ایک شاعر سید طالب خوند میری نے لکھی ہے اور اس نظم میں موجودہ انسانی معاشرے میں شیطنت کے عروج پر اصل شیطان کے جذبات کی یوں ترجمانی کی ہے:

تو نے جس وقت یہ انسان بنایا یا رب
اس گھڑی مجھ کو تو اک آنکھ نہ بھایا یا رب
اس لیے میں نے سر اپنا نہ جھکایا یا رب
لیکن اب پلٹی ہے کچھ ایسی ہی کایا یا رب

عقل مندی ہے اسی میں کہ میں توبہ کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں

نرم طبیعت اس کی ابتداءً تھی بڑی
قلب و جان پاک تھے شفاف تھی طینت اس کی
پھر بتدریج بدلنے لگی خصلت اس کی
اب تو خود مجھ پر مسلط ہے شرارت اس کی

اس سے پہلے میں اپنا ہی تماشا کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں

بھر دیا تو نے بھلا کون سا فتنہ اس میں
پکتا رہتا ہے ہمیشہ کوئی لاوہ اس میں
اک اک سانس ہے اب صورت شعلہ اس میں
آگ موجود تھی کیا مجھ سے زیادہ اس میں؟

اپنا آتش کدۂ ذات ہی ٹھنڈا کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں

اب تو یہ خون کے بھی رشتوں سے اکڑ جاتا ہے
باپ سے بھائی سے بیٹے سے بھی لڑ جاتا ہے
اُکھڑ جاتا ہے جب کبھی طیش میں ہتھے سے
خود مرے شر کا توازن بگڑ جاتا ہے

اب تو لازم ہے کہ میں خود کو ہی سیدھا کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں

مری نظروں میں تو بس مٹی کا مادھو تھا بشر
میں سمجھتا تھا اسے خود سے بہت ہی کمتر
مجھ پہ پہلے نہ کھلے اس کے سیاسی جوہر
کان میرے بھی کترتا ہے یہ لیڈر بن کر

شیطنت چھوڑ کے میں بھی یہی دھندا کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں

اب جھجھکتا ہے، نہ ڈرتا ہے، نہ شرماتا ہے
نت نئی فتنہ گری روز یہ دکھلاتا ہے
اب یہ ظالم میرے بہکاوے میں کب آتا ہے
میں برا سوچتا رہتا ہوں یہ کر جاتا ہے

کیا ابھی اس کی مریدی کا ارادہ کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں

اب جگہ کوئی نہیں میرے لیے دھرتی پر
میرے شر سے بھی ہے سوا یہاں انسان کا شر
اب تو لگتا ہے یہی فیصلہ مجھ کو بہتر
اس سے پہلے کہ پہنچ جائے وہاں سوپر پاور

میں کسی اور ہی سیارے پہ قبضہ کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں

ظلم کے دام بچھائے ہیں نرالے اس نے
نت نئے پیچ عقائد میں بھی ڈالے اس نے
کر دیے قید اندھیروں میں اجالے اس نے
کام جتنے تھے مرے سارے سنبھالے اس نے

اب تو خود کو میں ہر اک بوجھ سے ہلکا کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں

استقامت تھی کبھی اس کی مصیبت مجھ کو
اپنے ڈھب پر اسے لانا تھا قیامت مجھ کو
کرنی پڑتی تھی بہت اس پہ مشقت مجھ کو
اب یہ عالم ہے کہ دن رات ہے فرصت مجھ کو

اب کہیں گوشہ نشینی میں گزارہ کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں

مست تھا میں تیرے انساں کی حقارت کر کے
خود پہ نازاں تھا بہت تجھ سے بغاوت کر کے
کیا ملا مجھ کو مگر ایسی حماقت کر کے
اب یہ کہتا ہوں خود پہ ملامت کر کے

کیا یہ ممکن ہے کہ پھر تیری اطاعت کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں