سوات کی صورتحال اور یورپ میں مقیم مسلمانوں کا اضطراب

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۳۰ اپریل ۲۰۰۹ء

تقریباً تیرہ روز برطانیہ میں گزارنے کے بعد ۲۶ اپریل کی شام سعودی عرب کے لیے روانہ ہوگیا۔ اس دوران لندن، برمنگھم، مانچسٹر، گلاسگو، برنلی، کراؤلی، ڈیوزبری، والسال، ڈنز، نوٹنگھم اور دیگر شہروں میں بہت سے دوستوں سے ملاقاتیں ہوئیں اور بعض جگہ دوستوں کی فرمائش پر مساجد کے نمازیوں سے خطاب اور گفتگو کا موقع بھی ملا۔ حسب توقع اس سارے سفر میں سوات کی صورتحال اور پاکستان کے حالات ہی باہمی ملاقاتوں میں زیادہ تر زیربحث رہے اور کم و بیش ایک بات سب جگہ مشترک پائی کہ سوات اور مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی عدالتوں کا قیام وہاں کے لوگوں کی خواہش اور مطالبے کے حوالے سے بھی اور امن عامہ کے قیام اور بحالی کے پس منظر میں بھی بہت خوش کن بات ہے۔ لیکن اس پہلو پر تشویش کے اظہار کے ساتھ یہ خواہش بھی ہر جگہ موجود ہے کہ نفاذ شریعت کی جدوجہد کرنے والوں بالخصوص مولانا صوفی محمد کو ایسی باتوں اور ایسے کاموں سے گریز کرنا چاہیے جو اس کامیابی کو کمزور کرنے کا باعث بن سکتے ہیں یا اس معاہدۂ امن کو سبوتاژ کرنے کی خواہش رکھنے والوں کو اس معاملے میں مداخلت کا موقع مل سکتا ہے۔

طالبان کے کسی گروپ نے بونیر میں پیر بابا صاحبؒ کے مزار پر قبضہ کیا تو اس پر میڈیا میں ایک طوفان مچ گیا اور مزارات کے تقدس کی حفاظت کے سوال پر تلخ و تند بیانات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ میں اس روز برنلی میں تھا، مسجد فاروق اعظمؓ میں نماز عصر کے بعد بیان ہوا تو ایک صاحب نے ملاقات میں کہا کہ ان کے والد بزرگوار علیحدگی میں ملنا چاہتے ہیں، میں نے مغرب کے بعد کا وقت دے دیا۔ وہ میرے پاس مدرسہ مصعب بن عمیرؓ میں تشریف لائے جو ہمارے بھانجے مولانا عزیز الحق ہزاروی نے ایک چرچ خرید کر قائم کیا ہے۔ وہ بزرگ ایم اے تبسم ہیں جو صحافت کا ذوق رکھتے ہیں اور برنلی سے ’’صداقت‘‘ کے نام سے ایک پرچہ بھی وقتاً فوقتاً شائع کرتے رہتے ہیں۔ فرمانے لگے کہ میں بریلوی مکتب فکر سے تعلق رکھتا ہوں اور مولانا شاہ احمدؒ نورانی کی جماعت میں کام کرتا رہا ہوں، مزاروں پر حملوں کی خبریں بہت تشویشناک ہیں اس سے اسلام مخالف لابیاں بہت غلط فائدہ اٹھائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام مکاتب فکر کے علماء کرام کا کوئی مشترکہ اجتماع اور ان کے درمیان یگانگت کا اظہار ہونا چاہیے۔ میں نے ان سے جب یہ گزارش کی کہ تازہ اطلاع کے مطابق طالبان نے مزار کا قبضہ چھوڑ دیا ہے تو بہت خوش ہوئے اور جب میں نے انہیں یہ بتایا کہ مولانا شاہ احمد نورانی کے ساتھ میرا بھی نیاز مندی کا تعلق رہا ہے اور میں نے ان کے ساتھ سالہا سال تک مختلف تحریکات بالخصوص پاکستان قومی اتحاد میں اکٹھے کام کیا ہے تو ان کی خوشی دوچند ہوگئی۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ پاکستان میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام ضرورت کے وقت جمع ہو جاتے ہیں، ابھی ۱۱ اپریل کو بادشاہی مسجد لاہور میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی قومی ختم نبوت کانفرنس میں لاکھوں مسلمانوں کے اجتماع سے تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام اور قائدین نے خطاب کیا ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ میں بے حد اضطراب اور پریشانی کے عالم میں آپ کے پاس آیا تھا، اب مطمئن ہو کر واپس جا رہا ہوں۔ البتہ میری طرف سے پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام کے نام یہ پیغام ضرور لے کر جائیے کہ وہ بہت اچھا کرتے ہیں کہ ضرورت کے وقت جمع ہو جاتے ہیں لیکن مستقل طور پر نفاذ شریعت کے لیے اکٹھے رہنے کا بھی اہتمام کریں کیونکہ اس کے سوا پاکستان میں نظامِ مصطفٰیؐ یا نظامِ شریعت کا نفاذ ممکن نہیں ہے۔

مولانا صوفی محمد نے جمہوریت، پارلیمنٹ، سپریم کورٹ اور جمہوری عمل کے بارے میں منفی خیالات کا اظہار کیا تو میں نے پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے لندن سے ایک بیان جاری کیا کہ ہمیں مولانا صوفی محمد کے خیالات سے اتفاق نہیں کیونکہ ہمارے نزدیک ملک میں نفاذ شریعت کی بنیاد قراردادِ مقاصد اور تمام مکاتب فکر کے ۳۱ علماء کرام کے ۲۲ متفقہ دستوری نکات ہیں۔ ہم نفاذ شریعت کے لیے کسی شخصی، طبقاتی یا فرقہ وارانہ سوچ کو بنیاد تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں اور نہ ہی کسی کو تمام مکاتب فکر کے متفقہ دستوری نکات سے انحراف کی اجازت دیں گے۔ یہ بیان لندن سے شائع ہونے والے ایک بڑے اردو اخبار نے نمایاں طور پر شائع کیا تو اس پر بہت سے دوستوں نے خوشی کا اظہار کیا کہ آپ نے بروقت اور موزوں طریقے سے علماء کے موقف کی نمائندگی کی ہے۔ مبارکباد دینے کے لیے جو مہربان دوست مجھے تلاش کرتے رہے وہ بریلوی مکتب فکر کے ممتاز رہنما صاحبزادہ سید لخت حسنین ہیں جو حضرت پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ کے تلامذہ میں سے ہیں اور مسلم ہینڈز کے نام سے ایک بین الاقوامی رفاہی ادارہ چلا رہے ہیں، وہ میرے ذاتی دوستوں میں سے ہیں اور سوہدرہ تحصیل وزیرآباد سے تعلق رکھتے ہیں، انہوں نے نہ صرف مجھے اس بیان پر مبارک باد دی بلکہ اس خوشی میں نوٹنگھم کے ایک ہوٹل میں کھانے کی پرتکلف دعوت کا بھی اہتمام کیا جس میں میرے ساتھ جمعیۃ علماء برطانیہ کے ایک اہم رہنما اور جامعہ الہدیٰ نوٹنگھم کے پرنسپل مولانا رضاء الحق سیاکھوی بھی شریک تھے۔ کھانے کی میز پر صاحبزادہ لخت حسنین کے ساتھ پاکستان کی موجودہ صورتحال اور برطانیہ میں مقیم مسلمانوں کے مسائل پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ان کی تشویش و اضطراب میں بھی یہ پہلو نمایاں تھا کہ سوات میں نفاذ شریعت کے اقدامات بہت بہتر بات ہے لیکن اس کے لیے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام کے ساتھ مشاورت اور انہیں اعتماد میں لینا ضروری ہے ورنہ اس سے سیکولر لابیاں اور وہ طبقے جو سوات کے معاہدۂ امن اور نظام عدل ریگولیشن پر خوش نہیں ہیں، ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں اور صورتحال کو خراب کرنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

صاحبزادہ لخت حسنین اور جناب ایم اے تبسم کے ساتھ ان ملاقاتوں سے مجھے خوشی ہوئی اور حوصلہ بھی ہوا کہ میڈیا اور سیکولر لابیوں کی زبردست منفی مہم کے باوجود مختلف مکاتب فکر کے سنجیدہ رہنماؤں کے درمیان ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ اگر باہمی ملاقاتوں اور رابطوں کا سلسلہ بھی اس مقصد کے لیے شروع ہو جائے تو بہت سی غلط فہمیاں دور ہو سکتی ہیں اور ملک بھر میں نفاذ شریعت کے لیے مشترکہ کاوشوں کا اہتمام کیا جا سکتا ہے۔

۲۴ اپریل کو ورلڈ اسلامک فورم نے ایک فکری نشست کا اہتمام کر رکھا تھا جس میں سوات کی صورتحال کے بارے میں بریفنگ دینے کے لیے کہا گیا۔ میں نے سوات میں گزشتہ دو عشروں کے درمیان نفاذ شریعت کے لیے ہونے والی عوامی جدوجہد اور اس کے مختلف مراحل پر روشنی ڈالی۔