سانحہ لال مسجد اور احتجاج کا موزوں طریقہ کار

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۳ جولائی ۲۰۰۷ء

گزشتہ ہفتے گوجرانوالہ شہر کے کچھ سرکردہ علمائے کرام میرے ہاں جمع ہوئے کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے سانحہ کے حوالے سے کوئی مؤثر احتجاجی پروگرام ہونا چاہیے اور ہمیں اس سلسلے میں اپنی آواز بلند کرنی چاہیے۔ میں نے عرض کیا کہ مجھے اس بات سے مکمل اتفاق ہے اور سانحہ لال مسجد میں جو کچھ ہوا ہے، میں خاموش تماشائی کے طور پر اسے دیکھتے رہنے کے حق میں نہیں ہوں مگر سوال یہ ہے کہ اس کا صحیح پلیٹ فارم کون سا ہے اور معروضی صورتحال میں کس عنوان اور فورم سے احتجاج منظم کرنا اور آواز بلند کرنا زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے؟

بعض دوستوں نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل یا جمعیت علمائے اسلام کو اس احتجاجی پروگرام کا داعی بننا چاہیے۔ میں نے گزارش کی کہ مجھے اس بات سے بھی مکمل اتفاق ہے، لیکن قومی سیاست کے اتار چڑھاؤ نے جو صورت اختیار کر لی ہے، اس کے پیش نظر ایم ایم اے یا جمعیت علمائے اسلام اس جدوجہد کی ذمہ داری شاید قبول نہ کر سکے اور اسی وجہ سے ان دونوں کی قیادت آگے آنے سے ہچکچا رہی ہے۔

کچھ دوستوں کا کہنا تھا کہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کو تحریک کا اعلان کر کے ملک بھر کے لاکھوں طلبہ کو سڑکوں پر لے آنا چاہیے۔ میں نے عرض کیا کہ مجھے اس سے اتفاق نہیں ہے، اس لیے کہ وفاق المدارس نہ تو کوئی سیاسی جماعت ہے اور نہ ہی وہ تحریکی فورم ہے۔ وہ دینی مدارس کے امتحانی اور تعلیمی امور پر کنٹرول کرنے والا ایک بورڈ ہے اور اسے تحریکی پلیٹ فارم کی شکل دینے سے تعلیمی بورڈ کے طور پر اس کا سارا نظام تلپٹ ہو جائے گا جو کسی طرح بھی صحیح نہیں ہوگا، اس لیے میں وفاق المدارس کے عنوان سے کسی تحریکی پروگرام کے حق میں نہیں ہوں، اور وفاق المدارس کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں اسی موقف کا میں نے دوٹوک اظہار کیا ہے۔ البتہ چونکہ یہ معاملہ ایک دینی مدرسے کے حوالے سے ہے، اس لیے وفاق کو اس سلسلے میں اپنے موقف کا اظہار کرنا چاہیے اور اس کے حق میں رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لیے تمام ممکنہ اور معروف ذرائع استعمال کرنے چاہئیں مگر اسے عوامی تحریک اور احتجاجی جدوجہد کا رنگ نہیں دینا چاہیے، کیونکہ یہ کام دینی سیاسی جماعتوں کا ہے اور انہی کو سجتا ہے۔ اردو کا ایک معروف محاورہ ہے کہ ’’جس کا کام اسی کو ساجھے، اور کرے تو ٹھینگا باجے‘‘۔

اس موقع پر یہ سوال ہوا کہ متحدہ مجلس عمل یا جمعیت علمائے اسلام اس مرحلے میں کسی تحریک کی ذمہ داری اپنے سر لینے کے لیے تیار نہیں ہیں اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے بارے میں آپ کہتے ہیں کہ اسے تحریکی فورم نہیں بننا چاہیے تو پھر یہ گاڑی کیسے چلے گی؟ میں نے عرض کیا کہ ہمارے اکابر ایسے مواقع پر ان کاموں کے لیے الگ دینی محاذ کا اہتمام کیا کرتے تھے جس میں دو باتوں کا لحاظ رکھا جاتا تھا۔

  • ایک یہ کہ اس میں تمام دینی مکاتب فکر کی نمائندگی موجود ہو اور
  • دوسری یہ کہ وہ محاذ حکومت اور اپوزیشن کے تنازع اور ملک میں موجودہ سیاسی کشمکش میں فریق نہ ہو۔

قادیانیت کے خلاف تحریک کے لیے یہی حکمت عملی اختیار کی گئی تھی۔ ۱۹۵۳ء، ۱۹۷۴ء اور ۱۹۸۴ء کی تحریکات ختم نبوت میں اسی حکمت عملی کے تحت جدوجہد کو کامیابی کی منزل تک پہنچایا گیا تھا، اور اب بھی اس مسئلے کا حل یہی ہے کہ ملک کی سیاسی کشمکش سے الگ تھلگ رہتے ہوئے تمام دینی مکاتب فکر کے ذمہ دار نمائندوں پر مشتمل ایک متحدہ دینی محاذ تشکیل دیا جائے جو لال مسجد کے شہداء کے جائز مطالبات کو لے کر آگے بڑھے اور ملک بھر میں اس سلسلے میں پائے جانے والی دینی جذبات کی قیادت اور راہنمائی کی کوئی صورت نکالے۔ اس کے سوا اس جدوجہد کو آگے بڑھانے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔

دوستوں نے اس بات سے اتفاق کیا اور طے پایا کہ گوجرانوالہ میں مقامی سطح پر اس سلسلے میں تجربہ کیا جائے، چنانچہ ’’تحفظ مدارس دینیہ‘‘ کے نام پر ایک رابطہ کمیٹی تشکیل دے کر ۲۲ جولائی کو مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں ایک مشترکہ کنونشن طلب کر لیا گیا جس میں نہ صرف یہ کہ دیوبندی مکتب فکر کی کم و بیش تمام اہم تنظیموں کے ذمہ حضرات نے شرکت کی، بلکہ جمعیۃ علمائے اسلام، جمعیۃ اہل حدیث، تحریک انصاف، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے راہنماؤں اور ان کے علاوہ شہر کی تاجر تنظیموں کے نمائندوں نے بھی خطاب کیا اور لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف مسلح سرکاری آپریشن کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان مطالبات کی بھرپور حمایت کی جو اس سلسلے میں دینی حلقوں کی طرف سے کیے جا رہے ہیں۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث اس بارے میں اس سے قبل پیش قدمی کرتے ہوئے شہر میں باپردہ خواتین کا ایک احتجاج جلوس نکال چکی تھی جس میں ہزاروں خواتین نے جی ٹی روڈ پر لال مسجد کے سانحہ میں بے گناہ افراد اور خواتین کی المناک شہادت پر، پرجوش اور پراَمن احتجاج کیا۔

چنانچہ کنونشن میں طے پایا کہ ۲۵ جولائی بدھ کو شہر میں مکمل ہڑتال کی جائے گی اور شہر کی سڑکوں پر احتجاجی جلوس نکالا جائے گا۔ میرے ذمے لگا کہ علمائے کرام کے ایک وفد کے ہمراہ شہر کی تاجر تنظیموں سے رابطہ کروں اور ان سے گزارش کروں کہ جامعہ حفصہ اور لال مسجد کے خلاف مسلح آپریشن کی مذمت، ہزاروں افراد کی مبینہ شہادت، سینکڑوں افراد اور طالبات کی گمشدگی، جامعہ حفصہ کو مسمار کرنے اور دیگر دینی مدارس کے خلاف کارروائی کی دھمکیوں کے خلاف مکمل ہڑتال کر کے گوجرانوالہ کے شہریوں کی طرف سے اجتماعی احتجاج ریکارڈ کرائیں۔ میں نے مولانا سید عبد المالک شاہ، مولانا مشتاق احمد چیمہ، بابر رضوان، حافظ حمید الدین اعوان اور دیگر دوستوں کے ہمراہ مارکیٹوں کا دورہ کیا اور تاجر راہنماؤں سے بات کی تو انہوں نے بہت حوصلہ افزا ردعمل ظاہر کیا، بلکہ بہت سے تاجر دوستوں نے شکوہ کیا کہ آپ لوگ بہت لیٹ ہو گئے ہیں۔ آپ حضرات کو یہ کام سانحہ لال مسجد کے رونما ہوتے ہی کر دینا چاہیے تھا، بلکہ تاجر دوستوں کے ایک اجلاس میں ایک صاحب نے مجھ سے سوال کیا کہ جب ۱۰ جولائی کی صبح کو مذاکرات ناکام ہو گئے تھے اور آپ لوگ واپس آ گئے تھے تو آپ حضرات نے اس وقت کال کیوں نہیں دی؟ میں نے عرض کیا کہ اس وقت ہم دو وجہ سے فوری کال نہیں دے سکے۔

  • ایک یہ کہ ہمارے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ابھی ایک اور ذریعے سے مذاکرات چل رہے تھے اور ہم اس گفتگو کے دوران میں کوئی ایسی بات نہیں کرنا چاہتے تھے جس سے اس پر منفی اثر پڑے۔
  • اور دوسرا اس وجہ سے کہ رات اڑھائی بجے ہماری گفتگو ناکام ہو گئی اور اس کے صرف ڈیڑھ گھنٹے کے بعد مسلح آپریشن پوری قوت کے ساتھ شروع ہو گیا۔ ہم کس کو کال دیتے اور کس بات کی کال دیتے؟
  • پھر ہم وفاق المدارس کے فورم سے کوئی کال دینے کی پوزیشن میں بھی نہیں تھے کہ وفاق کوئی تحریکی قوت نہیں ہے اور وفاق کے راہنما صرف اس لیے اسلام آباد گئے تھے کہ فریقین کے درمیان مذاکرات کا رابطہ بحال کرا کے تصادم کو روکنے اور مسئلے کے پرامن حل کے لیے کوئی راستہ نکالیں اور اس طور پر ان کی حیثیت فریق کی نہیں بلکہ مصالحت کنندہ کی تھی۔

بہرحال تاجر راہ نماؤں نے مختلف اجلاسوں میں ہمارے احتجاجی پروگرام کے ساتھ اتفاق کرتے ہوئے اور ہڑتال کو کامیاب بنانے کا وعدہ کرتے ہوئے بھی مختلف قسم کے جذبات کا اظہار کیا، جس سے اندازہ ہوا کہ ملک کا عام شہری کس انداز سے سوچتا ہے اور سانحہ لال مسجد کے حوالے سے ملک کے شہریوں کے جذبات کیا ہیں؟

ایک تاجر دوست نے مولانا عبد العزیز کا یہ سوال دہرایا کہ آپ حضرات بار بار کہتے آ رہے ہیں کہ لال مسجد والوں کے مطالبات درست ہیں لیکن طریق کار غلط ہے۔ مگر اس طریق کار کو غلط قرار دینے والوں نے صحیح مطالبات کے لیے طریق کار کے مطابق کون سی جدوجہد کا اہتمام کیا ہے؟ سچی بات یہ ہے کہ میرے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا کہ ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ، فحاشی اور بے حیائی کے مراکز کے خاتمے، اسلام آباد میں گرائی جانے والی مساجد کی دوبارہ تعمیر اور حدود شرعیہ میں کی گئی نئی ترامیم کو ختم کرانے کے لیے صحیح طریق کار کے مطابق کون سی جدوجہد موجود ہے جو لوگوں کو نظر آ رہی ہو اور عام لوگ اس میں شریک ہو کر اپنے دلوں میں اطمینان محسوس کر رہے ہوں کہ وہ ملک میں نفاذ اسلام کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

اسی طرح ایک اور تاجر دوست کے اس سوال کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا کہ جب صدر پرویز مشرف نے مصالحتی فارمولا مسترد کر دیا تھا تو بظاہر گفتگو اس نکتے پر منقطع ہوئی تھی کہ مولانا عبد الرشید غازی شہیدؒ گرفتاری دینے کے لیے تیار نہیں تھے اور حکومت انہیں ہر صورت میں گرفتار کرنا چاہتی تھی۔ اس تاجر دوست کے نزدیک، جو ایک مارکیٹ کے سیکرٹری ہیں، اس کا مطلب یہ تھا کہ مذاکرات دراصل مولانا عبد الرشید غازی شہیدؒ کے انکار پر ختم ہوئے تھے اور اگر وہ اپنی گرفتاری کے لیے تیار ہو جاتے تو حکومت کے لیے اس آپریشن کا کوئی جواز باقی نہ رہ جاتا اور اتنی جانیں اس سانحہ کی نذر نہ ہوتیں۔ اس تاجر دوست نے مجھ سے بار بار پوچھا کہ اگر مولانا عبد الرشید غازی گرفتاری دے دیتے تو کیا ہو جاتا؟ ان کے بھائی بھی تو گرفتار ہیں۔ میں دیانتداری کے ساتھ عرض کرتا ہوں کہ میرے پاس اس سوال کا بھی کوئی جواب نہیں تھا اور میں نے بڑی مشکل کے ساتھ گول مول جواب دے کر انہیں چپ کرایا۔

ان ملے جلے جذبات اور خیالات کے باوجود گوجرانوالہ کے شہریوں اور تاجر تنظیموں نے ۲۵ جولائی کی ہڑتال کی حمایت کی اور اسے مکمل طور پر کامیاب بنا کر یہ پیغام دیا کہ لال مسجد والوں سے لوگوں کو کتنی ہی شکایات کیوں نہ ہوں، مگر ان کے خلاف جس درندگی کا مظاہرہ کیا گیا ہے، جس تشدد، جبر اور بربریت کے ساتھ معصوم لوگوں کا خون بہایا گیا ہے اور اس وحشیانہ ظلم و تشدد کے نشانات مٹانے کے لیے جو حرکتیں مسلسل کی جا رہی ہیں، ملک کا ہر شہری اس سے نفرت کرتا ہے اور شدید غم و غصہ کی حالت میں ملی غیرت اور دینی حمیت کے اس اجتماعی اور پرجوش اظہار پر گوجرانوالہ کے شہریوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور انتظار میں ہوں کہ بارش کا دوسرا قطرہ بننے کے لیے ملک کا کون سا شہر آگے آتا ہے؟