تحفظِ ختم نبوت کی جدوجہد اور ’’احتسابِ قادیانیت‘‘

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۳ دسمبر ۲۰۱۰ء
اصل عنوان: 
آل پارٹیز تحفظ ختم نبوت کانفرنس اسلام آباد

گزشتہ روز عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما مولانا اللہ وسایا نے جمعیۃ علماء اسلام (ف) پنجاب کے امیر مولانا رشید احمد لدھیانوی اور عالمی مجلس کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا عزیز الرحمان ثانی کے ہمراہ غریب خانے پر قدم رنجہ فرمایا۔ وہ ان دنوں ۱۵ دسمبر کو اسلام آباد میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس کے سلسلہ میں رابطہ مہم پر ہیں اور مختلف دینی جماعتوں کے راہنماؤں کے ساتھ ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو تحفظ عقیدۂ ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت کے محاذ پر قومی سطح پر متحرک دیکھنے کی ایک عرصہ سے خواہش تھی جس کا اظہار اس کالم میں بھی وقتاً فوقتاً ہوتا رہا ہے، اسے پورا ہوتے دیکھ کر اللہ تعالیٰ کا شکر اور مولانا اللہ وسایا کا شکریہ ادا کیا کہ اس وقت وہی ایک متحرک اور بیدار مغز شخصیت ہیں جو اس محاذ کے علمی و عملی تقاضوں سے عہدہ برآ ہو سکتے ہیں اور ضعف و علالت کے باوجود اس سلسلہ میں سرگرم عمل رہتے ہیں۔

عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ اور منکرین ختم نبوت بالخصوص قادیانیوں کے تعاقب اور اسلام دشمن سرگرمیوں کے سدباب کے لیے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی ایک مستقل تاریخ ہے اور پاکستان میں تحریک ختم نبوت کے سرگرم ادوار میں اپنے قیام کے بعد سے اس کا کردار ہمیشہ قائدانہ رہا ہے۔ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی، حضرت مولانا محمد حیاتؒ، حضرت مولانا لال حسین اخترؒ، حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ، حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ اور حضرت مولانا خواجہ خان محمد کی امارت میں کام کرنے والی یہ جماعت اب ہمارے مخدوم و محترم حضرت مولانا عبد المجید لدھیانوی دامت برکاتہم کی زیر امارت اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے۔ جبکہ اس جماعت اور مشن کے لیے حضرت مولانا تاج محمود، حضرت مولانا عبد الرحیم اشعر، حضرت مولانا محمد شریف جالندھری اور ان کے بعد مولانا عزیز الرحمان جالندھری اور مولانا اللہ وسایا کی جدوجہد اور کاوشیں عالمی مجلس کی تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔

راقم الحروف کا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ساتھ غیر رسمی کارکن کے طور پر بچپن سے تعلق چلا آرہا ہے، فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات میرے استاد محترم ہیں جن سے میں نے طالب علمی کے دور میں ردِ قادیانیت کا کورس پڑھا تھا۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھری اور حضرت مولانا محمد شریف جالندھری کی شخصیات ایک کارکن کی حیثیت سے میرے لیے آئیڈیل شخصیات رہی ہیں جن سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ جبکہ جماعتی و تحریکی زندگی میں ایک کارکن کا کردار کیا ہوتا ہے اس کا عملی سبق میں نے حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ، حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ اور حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ سے حاصل کیا ہے۔

  1. ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا کردار ایک داعی اور راہنما کا ایسا کردار تھا کہ عوامی حلقوں میں وہ تحریک انہی سے منسوب ہوتی ہے۔
  2. ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت جس کے نتیجے میں قادیانیوں کو دستوری طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا، عالمی مجلس کے امیر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کی قیادت میں چلی۔
  3. اور ۱۹۸۴ء کی تحریک ختم نبوت جس کے ثمرے میں امتناع قادیانیت کا صدارتی آرڈیننس نافذ ہوا وہ عالمی مجلس کے امیر حضرت مولانا خواجہ خان محمد کی سربراہی میں تکمیل تک پہنچی۔

مجھے دو تحریکوں میں ایک کارکن کی حیثیت سے خدمات سرانجام دینے کی سعادت حاصل ہوئی۔ ۱۹۷۴ء کی تحریک کے دوران میں گوجرانوالہ شہر کی کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا سیکرٹری جنرل تھا اور ۱۹۸۴ء میں مجھے کل جماعتی مجلس عمل کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات کے طور پر کام کرنے کا شرف حاصل ہوا۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا نہ صرف پاکستان بھر میں بلکہ برطانیہ، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک میں بھی ایک وسیع نیٹ ورک ہے جس کے تحت سینکڑوں مبلغین اور ہزاروں کارکن شب و روز تحفظ عقیدۂ ختم نبوت کی جدوجہد میں مصروف ہیں اور باقاعدہ ایک منظم پروگرام کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ اشاعتی محاذ پر بھی عالمی مجلس کا وسیع کام ہے اور میرے نزدیک اس ضمن میں سب سے بڑا کام یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوائے نبوت کے بعد سے اس سلسلہ میں مختلف مکاتب فکر کے اکابر علماء کرام نے جو کچھ بھی لکھا ہے اسے ’’احتسابِ قادیانیت‘‘ کے نام سے جمع و مرتب کر کے شائع کیا جا رہا ہے اور مولانا اللہ وسایا صاحب ان کتابوں اور رسائل کو جمع کر کے ان کی ترتیب و طباعت کے لیے اچھی خاصی محنت کر رہے ہیں۔ اس کی اب تک تینتیس جلدیں شائع ہو چکی ہیں۔ تینتیسویں جلد ابھی اسی سفر میں مولانا اللہ وسایا نے عنایت فرمائی ہے جس میں اس موضوع پر والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے چار رسائل بھی شامل ہیں۔ مولانا اللہ وسایا کا کہنا ہے کہ ابھی اس کا سلسلہ جاری ہے اور مزید کئی جلدیں شائع ہو سکتی ہیں۔

یہ ردِ قادیانیت کی علمی جدوجہد کی ایک مرتب تاریخ کے ساتھ ساتھ بہت بڑا علمی ذخیرہ بھی ہے جس میں عقیدۂ ختم نبوت، حیاتِ مسیحؑ، امام مہدیؒ کے ظہور اور دیگر متعلقہ موضوعات پر معلومات، استدلالات اور اسالیب کا اتنا بڑا مجموعہ مرتب ہوگیا ہے جو بڑی بڑی لائبریریوں سے بے نیاز کر دیتا ہے اور اس میں تمام مکاتب فکر کے اکابر علماء کرام اور ارباب دانش کی علمی کاوشیں شامل ہیں۔ مولانا اللہ وسایا کی ہمت کی داد دینا پڑتی ہے کہ وہ جماعتی اور تحریکی زندگی کی مصروفیات کے باوجود اتنا بڑا علمی ذخیرہ جمع و مرتب کرنے کی خدمت بھی سر انجام دے رہے ہیں، اللہ تعالیٰ قبولیت و ثمرات سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

جہاں تک ۱۵ دسمبر کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والی ’’آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالتؐ کانفرنس‘‘ کا تعلق ہے یہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ میں نے حالیہ ملاقات میں مولانا اللہ وسایا سے عرض کیا ہے کہ اس وقت نظریاتی طور پر ملک کی جو صورتحال ہے اس کے پیش نظر ایک مضبوط و متحرک دینی فورم کی قومی سطح پر ضرورت ہے جو تمام مکاتب فکر کی نمائندگی کرتا ہو اور متحرک و بیدار مغز قیادت رکھتا ہو۔ اس لیے کہ پاکستان کی وحدت و سالمیت کے تحفظ کے ساتھ ملک کی نظریاتی حیثیت و تشخص اور دستور کی اسلامی دفعات کی بقا کے لیے فیصلہ کن معرکے کا وقت آگیا ہے۔ تحفظ ناموس رسالت اور تحفظ عقیدہ ختم نبوت کے قوانین ایک علامت ہیں جن کے خاتمے یا انہیں غیر مؤثر بنانے کے لیے عالمی استعماری قوتیں اور پاکستان کے اندر ان کے نظریاتی و ثقافتی حلیف آخری راؤنڈ کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ پاکستان، اسلام اور ملک کے دینی حلقے ان کا ٹارگٹ ہیں۔ لابنگ، میڈیا اور فنڈنگ کے تمام عالمی وسائل ان کی پشت پر ہیں، ملک کی داخلی اسٹیبلشمنٹ کی ہمدردیاں اور درپردہ تعاون بھی انہیں حاصل ہے اور وہ موجودہ وقت کو اس کام کے لیے موزوں ترین سمجھتے ہوئے بہرحال اس کام کو کر گزرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے ملک کی تمام دینی جماعتوں کو خواہ وہ کسی مسلک یا سیاسی حلقہ سے تعلق رکھتی ہوں اپنی مسلکی اور سیاسی حد بندیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے نہ صرف متحد ہونا ہوگا بلکہ اس جدوجہد اور محاذ آرائی کے عصری تقاضوں کا پوری طرح ادراک کرتے ہوئے متحرک کردار ادا کرنا ہوگا۔

تحفظ ناموس رسالت کا قانون ایک ’’ٹیسٹ کیس‘‘ کی حیثیت رکھتا ہے جس کے نتائج دونوں کیمپوں کی آئندہ ترجیحات کی بنیاد بنیں گے اور اگلی معرکہ آرائی اسی دائرے میں ہوگی۔ ملک کے سیکولر حلقوں کو حدود شرعیہ کے قانون کے حوالے سے اپنی پیش رفت سے خاصا حوصلہ ملا ہے اور وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ اسی طرح اگلے مراحل سے بھی با آسانی گزر سکتے ہیں۔ اس لیے اگر بعض دوستوں کی طبعیتوں پر گراں نہ گزرے تو حدودِ شرعیہ کے تحفظ کے محاذ پر دینی حلقوں کی پسپائی کے اسباب کا بھی اس مرحلے پر جائزہ لے لینا چاہیے تاکہ ان غلطیوں کا دوبارہ اعادہ نہ ہو جو حدود آرڈیننس میں ترامیم کے سلسلہ میں سیکولر حلقوں کی پیش رفت کا باعث بنی ہیں اور دینی حلقوں کے لیے بہرحال دھچکا ثابت ہوئی ہیں۔

جہاں تک ہمارا تعلق ہے، راقم الحروف اور پاکستان شریعت کونسل کے علماء و کارکن اس جدوجہد میں پیش رفت کرنے والی ہر جماعت کے خادم ہیں خواہ اس کا تعلق کسی بھی مکتب فکر سے ہو، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تو ہمارے بزرگوں کی جماعت ہے اس کی خدمت سے زیادہ ہمیں کس بات پر خوشی ہو سکتی ہے۔