دورۂ کراچی اور چند تعزیتیں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۰ جنوری ۲۰۱۲ء
اصل عنوان: 
کراچی میں چند روز

یکم جنوری سے پانچ جنوری تک کراچی میں رہا اور ’’مجلس علمی‘‘ میں علماء کرام اور اساتذہ کے اجتماع میں ’’فکری مرعوبیت اور اس کے سدباب‘‘ کے حوالے سے گفتگو کے بعد سبیل مسجد (گورو مندر چورنگی) کے خطیب مولانا محمد طیب کشمیری سے ملاقات کی جو میرے طالب علمی کے دور کے ساتھی ہیں اور جامعہ نصرۃ العلوم کے فاضل ہیں۔ وہاں سے مولانا جمیل الرحمان فاروقی اور ڈاکٹر سید عزیز الرحمان کے ہمراہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر اور مسجد باب الرحمت میں حاضری دی اور یکم محرم الحرام کو وہاں رونما ہونے والے سانحہ کی تفصیلات معلوم کر کے متاثرین کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کیا۔ یہ سانحہ اس لحاظ سے اور بھی زیادہ افسوسناک تھا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا دفتر جو تمام مکاتب فکر کا مشترکہ پلیٹ فارم ہے اور تحفظ ختم نبوت کی جدوجہد میں سب کو سمیٹے ہوئے ہے، بلاوجہ فرقہ وارانہ کشیدگی کا نشانہ بنا۔

ہم نے نماز مغرب مسجد باب الرحمت میں ادا کی، وہاں سے ہمیں زوار اکیڈمی جانا تھا مگر باہر ایک مذہبی گروہ نے چوک میں دھرنا دیا ہوا تھا جس کی وجہ سے پولیس نے چاروں طرف کے راستے بند کر رکھے تھے چنانچہ ہم بھی وہاں محصور ہوگئے اور تھوڑی دیر کے بعد وہاں سے نکلنے کی اجازت ملی۔ ’’زوار اکیڈمی‘‘ کراچی کے محترم اور مخدوم بزرگ حضرت مولانا سید زوار حسین شاہؒ کی یادگار ہے جو نقشبندی سلسلہ کے بڑے شیخ تھے۔ اب ان کی جگہ ان کے فرزند مولانا سید فضل الرحمان اور پوتے ڈاکٹر سید عزیز الرحمان ان کی روایات و معمولات کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ وہاں اتوار کو ہفتہ وار روحانی اجتماع ہوتا ہے، اس موقع پر کچھ گزارشات پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔

رات کا قیام جامعہ انوار القرآن (آدم ٹاؤن نارتھ کراچی ) میں تھا جہاں روزانہ صبح ۹ سے ۱۱ بجے تک تخصص فی الافتاء کی کلاس کو ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ کا مقدمہ پڑھانے کی فرمائش مولانا مفتی حماد اللہ وحید نے کر رکھی تھی۔ دو تین روز میں تو ایسا کرنا ممکن نہیں تھا اس لیے مقدمہ کے مضامین کا خلاصہ شرکائے کلاس کو ذہن نشین کرانے کی اپنے حد تک کوشش کی۔

پیر کی صبح کلاس سے فارغ ہو کر حضرت مولانا ڈاکٹر ساجد الرحمان صدیقی کی وفات پر تعزیت کے لیے دارالعلوم کورنگی جانے کا ارادہ تھا۔ ڈاکٹر صاحب موصوف ایک علمی خاندان کے نامور فرزند تھے، قدیم و جدید علوم پر گہری نظر رکھتے تھے اور جامعہ دارالعلوم کورنگی میں شعبہ تخصص فی الدعوۃ والارشاد کے نگران تھے۔ ان کی دعوت پر مجھے کئی بار تخصص کے اس شعبہ میں معروضات پیش کرنے کا موقع مل چکا ہے۔ اس سال بھی ان کا پیغام موصول ہوا کہ کراچی حاضری کے موقع پر دارالعلوم کے اس شعبہ کے لیے وقت ضرور نکالوں، اللہ تعالیٰ کی قدرت کہ بدھ کو مجھے ان کا پیغام ملا اور جمعۃ المبارک کے روز ان کی وفات کی خبر مل گئی، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کی وفات پر تعزیت کے لیے دارالعلوم جانے کی تیاری کر رہا تھا کہ دارالعلوم سے پیغام موصول ہوا کہ ڈاکٹر صاحب مرحوم کا گھر جامعہ انوار القرآن کے قریب ہے اور حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی ان کے گھر تعزیت کے لیے آرہے ہیں۔ چنانچہ میں بھی اس وقت ڈاکٹر صاحب مرحوم کے گھر حاضر ہوگیا۔

حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی مدظلہ سے ڈاکٹر ساجد الرحمان صدیقی کی وفات پر تعزیت کی اور حضرت نواب عشرت علی قیصرؒ کی وفات پر بھی تعزیت کی جن کی وفات گزشتہ روز ہوئی تھی اور دارالعلوم میں جنازہ کے بعد وہیں ان کی تدفین ہوئی۔ حضرت نواب عشرت علی قیصر حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ سے فیض یافتہ حضرات میں سے تھے اور ان کا وجود آج کے دور کے لیے برکت اور غنیمت تھا۔ مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی کے ہمراہ ڈاکٹر ساجد الرحمان صدیقیؒ کی قبر پر دعا کے لیے حاضری ہوئی جبکہ حضرت نواب صاحب کی قبر پر دو روز بعد جامعہ دارالعلوم میں حاضری کے موقع پر دعا کا موقع مل گیا۔

شام کو تین بجے سے مغرب تک مجلس صوت الاسلام کلفٹن کے زیراہتمام علماء کرام کے خصوصی تربیتی کورس میں مسلسل تین روز تک حاضری اور گفتگو کی ترتیب تھی۔ یہ کلاس مسجد ابوبکر میں ہر سال اہتمام کے ساتھ ہوتی ہے جو سال بھر جاری رہتی ہے۔ اس سال اس کلاس میں گفتگو کے لیے ’’خلافت‘‘ کے موضوع کا مشورہ ہوا چنانچہ خلافت کے شرعی، سیاسی، معاشرتی، معاشی اور انتظامی پہلوؤں پر قدرے تفصیل کے ساتھ معروضات پیش کیں۔ جن میں یہ پہلو بھی شامل تھا کہ خلافت کو استعماری طاقتوں نے کن سازشوں اور حربوں کے ذریعے ختم کر دیا اور آج کے معروضی حالات میں خلافت راشدہ کا ادارہ دوبارہ بحال کرنے کے لیے کیا کچھ عملاً ہو سکتا ہے۔

اسی روز مولانا مفتی حماد اللہ وحید کی مسجد میں عشاء کے بعد عمومی بیان ہوا اور رات پھر جامعہ انوار القرآن پہنچ گیا۔ دوسرے روز حسب معمول صبح ۹ سے ۱۱ بجے تک تخصص کی کلاس میں ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ کے مقدمہ پر بیان ہوا اور پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمان درخواستی سے مختلف جماعتی امور پر مشاورت ہوئی۔

اسلام آباد کی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے شعبہ دعوۃ اکیڈمی نے سندھ و بلوچستان کے لیے اپنی ایک شاخ کراچی میں قائم کر رکھی ہے جو گلشن معمار میں جامعۃ الرشید کے قریب ہے، وہاں حاضری ہوئی۔ دعوۃ اکیڈمی کے اس سینٹر میں مختلف طبقات کے لیے وقتاً فوقتاً تربیتی نشستیں اور ورکشاپس ہوتی رہتی ہیں جو دینی حوالے سے راہنمائی کے لیے بہت مفید ہیں۔ اس مرکز کے انچارج ڈاکٹر سید عزیز الرحمان ہیں جن کا سطور بالا میں زوار اکیڈمی کے حوالے سے تذکرہ ہو چکا ہے، ان سے دعوۃ اکیڈمی کی سرگرمیوں کے بار ےمیں معلومات حاصل کیں۔ ڈاکٹر صاحب موصوف باصلاحیت، باذوق اور صاحب علم نوجوان ہیں اور مختلف حوالوں سے علمی و تحقیقی کاموں میں مسلسل مصروف رہتے ہیں۔ بلدیہ ٹاؤن کے علاقے میں حضرت والد محترم کے پھوپھی زاد بھائی حاجی اللہ داد صاحب ایک عرصہ سے رہتے ہیں، ان کی اہلیہ محترمہ کا گزشتہ دنوں انتقال ہوگیا ہے، وہاں تعزیت کے لیے حاضری ہوئی اور بہت سے رشتہ داروں کے ساتھ وہاں ملاقات ہوگئی۔

اورنگی ٹاؤن میں مولانا محمد آصف صاحب کے ادارہ جامعہ حنفیہ میں حاضری ہوئی، عشاء کے بعد مسجد میں بیان ہوا اور جامعہ دارالعلوم حنفیہ کے مختلف شعبے دیکھ کر خوشی ہوئی۔ بدھ کو رات جامعۃ الرشید میں حاضری ہوئی، عشاء کے بعد مسجد میں عمومی بیان ہوا اور جامعۃ الرشید کے اکابر سے مختلف امور پر تبادلۂ خیال ہوا، جمعرات کو فجر کی نماز کے بعد دورۂ حدیث کے طلبہ اور ’’فقہ المعاملات‘‘ کے کورس کے شرکاء سے آڈیٹوریم میں کچھ دیر گفتگو ہوئی اور عصر حاضر کے بعض علمی و تعلیمی تقاضوں کی طرف انہیں متوجہ کیا۔ اس کے بعد جامعہ دارالعلوم کورنگی میں جانا ہوا، وہاں اس ہفتے سہ ماہی امتحان چل رہے ہیں اس کے باوجود ’’تخصص فی الدعوۃ والارشاد‘‘ کے شعبہ کے انچارج مولانا اعجاز صمدانی کا اصرار تھا کہ کلاس سے کچھ نہ کچھ بات ضرور ہونی چاہیے۔ چنانچہ بارہ بجے سے ایک بجے تک تخصص فی الدعوۃ والارشاد کے شرکاء سے گفتگو ہوئی جس میں یہ عرض کیا گیا کہ دعوت و ارشاد کے حوالے سے آج کا عمومی تناظر کیا ہے، کام کا دائرہ کیا ہے، دعوت کے میدان میں کن مذاہب کے ساتھ ہمارا مقابلہ ہے، ان کا طریق دعوت کیا ہے اور وہ کن ہتھیاروں اور حربوں کے ساتھ اپنی دعوت کے کام کو مسلسل آگے بڑھا رہے ہیں، اور ہمیں اسلام کی دعوت کو آج کے حالات میں صحیح تناظر میں آگے بڑھانے کے لیے کیا طریق کار اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

لانڈھی سے مولانا حافظ اقبال اللہ اور مولانا حضرت ولی جامعہ دارالعلوم پہنچ گئے تھے اور ان کا اصرار تھا کہ ایئرپورٹ جاتے ہوئے ان کے ہاں جامعہ عثمانیہ لانڈھی سے بہرحال ہو کر جانا ہے، تھوڑی دیر وہاں حاضری ہوئی اور چائے پی کر ایئرپورٹ کی طرف روانہ ہوگئے۔ میرا کراچی کا یہ سفر جامعہ اسلامیہ کلفٹن کی دعوت پر ہوا اور مجلس صوت الاسلام کے خصوصی علماء کورس میں تین روز تک بیانات کے علاوہ جامعہ اسلامیہ کے اساتذہ اور طلبہ کے عمومی اجتماع میں بھی گزارشات پیش کیں اور اکابر علماء دیوبند کی دینی و علمی جدوجہد کا تذکرہ کرتے ہوئے عرض کیا کہ ہم سب کو اپنے اکابر و اسلاف کے علم و عمل، توازن و اعتدال اور حوصلہ و تدبر کی پیروی کرنی چاہیے۔ جامعہ اسلامیہ کلفٹن میرے ایک پرانے دوست اور بزرگ ساتھی مولانا مفتی محی الدین اور ان کے فرزندان گرامی کی علمی و دینی محنت کا میدان ہے جو بحمد اللہ تعالیٰ روز افزوں اپنے دائرہ کار کو وسعت دیتے جا رہے ہیں۔ جبکہ ان کے ساتھ ہمارے ایک انتہائی عزیز ساتھی مولانا جمیل الرحمان فاروقی مسلسل متحرک اور شریک کار ہیں اور ان کی کوشش مجھے بھی اپنے ساتھ متحرک رکھنے کی ہوتی ہے۔ خدا کرے کہ یہ سرگرمیاں اور رفاقتیں ہم سب کے لیے سعادت دارین کا ذریعہ بن جائیں، آمین یا رب العالمین۔