ضلع گوجرانوالہ کی دلچسپ تاریخ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۷ مارچ ۲۰۱۱ء

شبیر احمد میواتی کتابی دنیا کے باذوق آدمی ہیں، خود بھی کتابوں میں گم رہتے ہیں اور ’’اہل کتاب‘‘ سے بھی ان کا مسلسل رابطہ رہتا ہے۔ نادر کتب کی تلاش اور مطالعہ کا ذوق ہر جگہ ان کے ساتھ ساتھ رہتا ہے۔ اکثر ہمارے ہاں تشریف لاتے ہیں اور جب بھی آتے ہیں ان کے ہاتھ میں کتابوں کا ایک تھیلا ہوتا ہے جسے میں ’’زنبیل‘‘ کہا کرتا ہوں۔ ماہنامہ الشریعہ کی مشاورتی ٹیم کا حصہ ہیں اور جب وہ ٹیم کے باقی ارکان پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک، پروفیسر میاں انعام الرحمان، حافظ محمد عمار خان ناصر، چودھری محمد یوسف ایڈووکیٹ اور پروفیسر ڈاکٹر انوار احمد کے ساتھ ہم مجلس ہوتے ہیں تو گپ شپ کے ساتھ ساتھ تبادلۂ معلومات کی ایک اچھی نشست ہو جاتی ہے۔ کبھی کبھی میں بھی اس مجلس کا حصہ ہوتا ہوں اور خوب ’’انجوائے‘‘ کرتا ہوں۔ بات میوات کے علاقے یا میو برادری کی ہو تو ان کی گفتگو کا رنگ ہی کچھ اور ہو جاتا ہے۔ ان کے ہاتھ میں کتابوں کی زنبیل دیکھ کر میری طبیعت مچل جاتی ہے اور تلاشی لینا شروع کر دیتا ہوں، ہر مرتبہ کوئی نہ کوئی نئی چیز مل جاتی ہے، کبھی وہ ہدیہ کر دیتے ہیں اور کبھی میں مانگ لیتا ہوں اور دونوں کا موقع نہ ہو تو مطالعہ کے لیے عاریتاً رکھ لیتا ہوں اور اکثر اوقات واپس بھی کر دیا کرتا ہوں۔

شبیر احمد میواتی گزشتہ دنوں آئے تو مجلس میں حافظ محمد عمار خان ناصر، ڈاکٹر انوار احمد اور پروفیسر میاں انعام الرحمان موجود تھے۔ ان کے ہاتھ میں حسب معمول کتابوں کی زنبیل دیکھ کر پہلے تو میاں انعام الرحمان کا جی للچایا پھر میں نے بھی نقاب کشائی کا تقاضا کر دیا۔ ہمیشہ کی طرح کئی نئی کتابیں دیکھنے کو ملیں جن میں ’’گوجرانوالہ کے ضلع کا جغرافیہ‘‘ کے نام سے ایک چھوٹی سی پرانی کتاب بھی تھی جو میں نے رکھ لی۔ آج اس کتاب کے مطالعہ میں قارئین کو اپنے ساتھ شریک کرنا چاہتا ہوں۔ چونسٹھ صفحات پر مشتمل یہ کتاب ۱۹۰۴ء میں سر رشتۂ تعلیم پنجاب کے ڈائریکٹر کے حکم سے پرائمری سکولوں کی تیسری جماعت کے نصاب کے طور پر شائع ہوئی۔ اس میں اس وقت کے ضلع گوجرانوالہ کے جغرافیہ کے بارے میں معلومات شامل کی گئی ہیں، کچھ معلومات کا آپ بھی مطالعہ کر لیجئے:

  • اس ضلع کے شمال مغرب میں حد دریائے چناب ہے جو اس کو گجرات اور شاہ پور کے ضلعوں سے جدا کرتی ہے۔ شمال مشرق کی طرف ضلع سیالکوٹ جنوب کی طرف ضلع لاہور، جنوب مغرب کی طرف منٹگمری اور جھنگ کے اضلاع ہیں۔
    نوٹ: اس وقت سرگودھا کی بجائے شاہ پور ضلع ہوتا تھا، خانقاہ ڈوگراں ضلع گوجرانوالہ کی تحصیل تھی جس میں شیخوپورہ بھی شامل تھا، موجودہ ضلع ساہیوال منٹگمری کہلاتا تھا ، جبکہ حافظ آباد بھی گوجرانوالہ ضلع کی تحصیل ہوا کرتا تھا۔
  • اگر اس ضلع میں ایسے چوکور کھیت کاٹیں جو ہر طرف سے ایک ایک میل لمبے ہوں تو کل تین ہزار کے قریب کھیت بنیں گے۔ اس کو یوں بھی بیان کرتے ہیں کہ اس ضلع کا رقبہ ۳۰۰۰ مربع میل ہے۔ اتنی زمین میں ۱۲۵۰ گاؤں اور قصبے ہیں، جبکہ یہاں چھ لاکھ نوے ہزار تین سو (۶۹۰۳۰۰) آدمی رہتے ہیں۔
  • اس ضلع سے پانچ میل کے فاصلے پر بار کا علاقہ شروع ہو جاتا ہے۔ یہ بار پہلے جنگل ہوا کرتا تھا جس میں کہیں کہیں چھوٹے چھوٹے جنڈ، ون اور کریر کے درختوں کے سوا کچھ پیدا بھی نہیں ہوا کرتا تھا۔ البتہ جب بارش ہوتی تھی تو یہاں گھاس پیدا ہوا کرتی تھی، اس واسطے گوجر لوگ جن کو اس علاقے میں پچاہدے کہتے ہیں اس موسم میں اپنے جانور چرانے کو یہاں آتے تھے۔ لیکن اب وہ حال نہیں ہے، نہر چناب سے تمام زمین کو پانی ملتا ہے اور سرکار نے مختلف ضلعوں سے لوگ لا کر یہاں آباد کیے ہیں اور ان پچاہدوں کو ضلع منٹگمری اور جھنگ میں کچھ زمین دے کر یہاں سے نکال دیا۔
  • یہ کہاوت ہے کہ بار کا علاقہ اکبر بادشاہ کے عہد میں اور اس سے پہلے بڑا آباد تھا۔ اکبر بادشاہ کے بعد بھی ڈیڑھ سو برس تک یہاں خوب رونق رہی مگر معلوم نہیں کہ بربادی کس طرح چھا گئی۔ شہر، گاؤں تباہ ہوئے اور یہ قطعے کا قطعہ ہی جنگل بن گیا۔ پرانے کھنڈر، خشک کنویں اور اجڑے ہوئے گاؤں کے مقام جنہیں اس علاقہ کی بولی میں بھڑ بولتے ہیں، اس میں بہت ہیں، جن سے اس کی پہلی رونق کا پتہ ملتا ہے۔ خانقاہ ڈوگراں سے جنوب کی طرف اسرود گاؤں کے پاس ایک بڑا قدیمی بھڑ ہے، کہتے ہیں کہ یہ ایک بڑے پرانے شہر کا بقیہ ہے جو لاہور سے پہلے پنجاب کا دارالخلافہ تھا۔
  • مہاراجہ رنجیت سنگھ کی رانی نے، جو نکائن کے نام سےمشہور ہے اور جس کا اصلی نام رانی راج کور تھا، ایک نالہ کھدوایا تھا جس کو نکائن نالہ کہتے ہیں۔ ڈیک سے اس میں پانی اترتا تھا اور شیخوپورہ سے آٹھ میل بھکھی تک یہ نالہ جاتا تھا، آج کل خشک پڑا ہے۔
  • اس ضلع میں رہنے والے تین مذاہب کے پیروکار ہیں: ہندو، مسلمان، سکھ۔ یاد رہے کہ ان کے سوا عیسائی وغیرہ بھی اس ضلع میں رہتے ہیں مگر وہ آٹے میں نمک بھی نہیں۔
  • اڑھائی لاکھ سے اوپر جاٹ اس ضلع میں بستے ہیں۔ یہ لوگ رنگ کے سانولے اور خاصے قد آور ہوتے ہیں۔ صبح شام کھیت میں مصروف رہتے ہیں، انہی کی محنت سے ہمارا پیٹ بھرتا ہے۔ ان میں بعض فوج میں جا کر بھرتی ہوتے ہیں، بڑا نام پاتے ہیں اور جب بڈھے ہوتے ہیں تو پنشن لے کر اپنے بال بچوں میں آکر گزارہ کرتے ہیں۔ سرکار میں ان کی بڑی عزت ہوتی ہے، عموماً پڑھے لکھے نہیں ہوتے۔
  • بھٹی پنڈی بھٹیاں کے آس پاس رہتے ہیں، کئی ان کو جاٹ کہتے ہیں اور کئی راجپوت بتاتے ہیں۔ دیکھنے میں یہ لوگ موٹے تازے اور وضیع ہیں، جانور چرا لے جانے اور چوری میں بڑے ہوشیار اور مشہور تھے۔ بھینس رکھنا ان کا کام تھا مگر اب کھیتی کیاری کے کام میں لگ جاتے ہیں۔
  • اس ضلع میں کھتریوں کے ۴۵، برہمنوں کے ۶ اور اروڑوں کے ۹ گاؤں ہیں۔
  • وزیر آباد کے قریب نظام آباد ایک گاؤں ہے وہاں کے لوہار بڑے کاریگر مشہور ہیں۔ سکھوں کے زمانے میں اور اس سے پیشتر تلوار، بندوق اور بڑے بیش قیمتی ہتھیار بناتے تھے۔ جب انگریزوں کی حکومت آئی تو انگریزی اسباب کے سامنے یہ سب ماند پڑ گئے، اب بھی وہ نفیس اور عمدہ چیزیں تیار کرتے ہیں۔ کہنے پر تلوار، بندوق بھی بنا دیتے ہیں۔
  • شہر گوجرانوالہ میں ایک میونسپل بورڈ سکول ہے۔ دوسرا پادریوں کا مشن سکول ہے۔ تیسرا سکھوں کا خالصہ سکول ہے۔ چوتھا مسلمانوں کا اسلامیہ سکول ہے۔ ان سب میں انٹر تک انگریزی، فارسی وغیرہ پڑھائی جاتی ہے۔ رائے مول سنگھ جو اس جگہ کے مشہور رئیس تھے، مرتے وقت ایک پاٹھ شالہ قائم کر گئے ہیں وہاں سادھوؤں، برہمنوں کو روٹی ملتی ہے، وہ پڑھنے لکھنے میں مصروف رہتے ہیں۔ ان میں سولہ زنانہ مدرسے ہیں جن میں سے دو مڈل سکول ہیں۔ ان میں سے بعض کو میونسپل کمیٹی سے مدد ملتی ہے اور بعض میونسپل کمیٹی کے اپنے ہیں۔
  • میونسپل بورڈ سکول کے پاس مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دادا سردار چڑت سنگھ کی سمادھ ہے۔ دیوار کے اندر سردار مہان سنگھ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے والد کا باغ (شیرانوالہ باغ) ہے۔ اس میں ایک بارہ دری ہے جہاں ایک کتب خانہ ہے اور جلسے بھی یہیں ہوتے ہیں۔ کتب خانہ سے متصل ایک اور مکان میں چھوٹا سا عجائب گھر ہے۔ گوجرانوالہ کے قریب ہی ایک بڑا خوبصورت سا مینار ہے۔ یہ عمارت سب عمارتوں سے مشہور اور قابل دید ہے۔ مہان سنگھ کی سمادھ اسی میں ہے۔ برانڈرتھ صاحب نے، جو اس ضلع کے ڈپٹی کمشنر تھے، اس پر سونے کا کلس چڑھا دیا تھا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ لاہور میں فوت ہوئے تھے اور وہیں ان کی سمادھ بنا دی گئی مگر گوجرانوالہ ان کا وطن ہونے کے باعث ان کی راکھ کا تھوڑا سا حصہ یہاں بھیجا گیا جو مہان سنگھ کی سمادھ کے پاس دبا دیا گیا تھا۔ کہتے ہیں کہ جس عمارت میں اب بورڈ سکول کی شاخ ہے وہاں مہاراجہ رنجیت سنگھ پیدا ہوئے تھے۔
  • سردار ہری سنگھ نلوا یہیں کا رہنے والا تھا، اس کی حویلی اب تک اس شہر میں ہے۔ یہ شخص مہاراجہ رنجیت سنگھ کا بڑا بہادر جنگی افسر گزرا ہے۔ پشاور کا علاقہ اسی کے ماتحت تھا اور وہاں کے تند مزاج باشندوں کو اس نے ایسا سیدھایا کہ ناک میں دم کر دیا۔ اب تک کسی پٹھان کا بچہ اس علاقہ میں روتا ہے تو اس کی ماں اسے ہری سنگھ کا خوف دلاتی ہے اور اپنی زبان میں کہتی ہے ’’بچہ خاموش باش ہریا آید‘‘ یعنی بچہ مت رو ہریا آتا ہے۔
    نوٹ: ہزارہ کا شہر ہری پور بھی اسی سردار ہری سنگھ نلوہ کے نام سے موسوم ہے۔
  • اس شہر کو گوجروں نے بسایا ہے اس لیے اس کا نام گوجرانوالہ ہے۔ پہلے پہل یہ چھوٹا سا گاؤں تھا مگر جب مہاراجہ رنجیت سنگھ کا اقبال دن دوگنا اور رات چوگنا ہوتا گیا تو اس کی رونق بھی بڑھتی گئی اور لاہور پر قابض ہونے سے پیشتر ان کا دارالخلافہ رہا۔ انگریز راج میں اس شہر کی آبادی بڑھ گئی اور دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔
  • گوجرانوالہ کو ضلع کی منڈی سمجھنا چاہیے۔ باہر کا مال غلہ وغیرہ یہاں آتا ہے اور دساور جاتا ہے۔ یہاں پیتل، کانسی کے بڑے خوش وضع برتن، لوہے کے صندوق اور حمام تیار ہو کر دور دور تک جاتے ہیں۔ مٹی کے برتن بھی نہایت عمدہ اور نفیس بنتے ہیں۔ دیسی کپڑا مثلاً دھوتیاں، لنگیاں، کھیس وغیرہ بنے جاتے ہیں۔ پھلکاریاں اور چوب بھی اچھے کاڑھے جاتے ہیں۔ انگریز انہیں آکر خریدتے ہیں۔ بھابڑوں کی عورتیں خاص کر اس فن میں بڑی ہوشیار ہیں۔ اس قصبے میں دو کارخانے ایسے ہیں جن میں کپاس بیلنے، آٹا پیسنے، چاول صاف کرنے اور لوہا پیتل ڈھالنے کی ملیں بنی ہوئی ہیں۔ ان کے سوا آٹا پیسنے کی ایک چھوٹی سی مل علیحدہ ہے اور کپڑا بننے کا کارخانہ بھی تیار ہو رہا ہے۔
  • ایمن آباد گوجرانوالہ سے آٹھ میل جنوب مشرق میں واقع ہے، امرتسر سے جو سڑک گوجرانوالہ کو آتی ہے اس کے کنارے آباد ہے۔ کوئی چھ ہزار کے قریب لوگ یہاں رہتے ہیں۔ جموں کے دیوانوں کا وطن ہے اور اسی سبب سے یہ قصبہ مشہور ہوگیا۔ اپریل کے مہینے میں بیساکھی کے میلے پر ہر سال یہاں جانوروں اور گھوڑوں کی منڈی بڑی دھوم سے لگتی ہے۔ گو آج کل اس قصبہ میں کچھ بھی نہیں مگر اڑھائی سو برس گزرے کہ اس کی حیثیت اچھی تھی۔ اس کے گرداگرد بادشاہی عمارتوں اور تالابوں کے بہت سے کھنڈرات موجود ہیں۔
  • چناب پر لوہے کا پل بنا ہوا ہے، اس پر سے ریل گزرتی ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ پل اتنا لمبا بنایا گیا تھا کہ دنیا میں اس کے برابر کوئی پل نہیں تھا۔ جب انگلستان کے ولی عہد آئے تھے انہوں نے اپنے دست مبارک سے چاندی کی ایک میخ اس میں گاڑی تھی۔ اب یہ پل چھوٹا کر دیا گیا ہے اور ایک ریل گاڑی دریا کے آرپار مسافروں کی سہولت کے واسطے جاتی ہے۔
  • کہتے ہیں کہ اڑھائی سو برس گزرے وزیرخان نے شاہجہان بادشاہ کے وقت اس (شہر) کی بنیاد ڈالی تھی اسی لیے اس کا نام وزیرآباد ہوا۔ جرنیل ابو طویلہ نے اس قصبہ کو ازسرنو تعمیر کیا تھا اور چوپڑ کے بازاروں کی تجویز نکالی۔ یہ جرنیل فرنگی تھا اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کا نوکر تھا۔
  • وزیرآباد سے ۲۲ میل مغرب کی جانب (رام نگر) کا قصبہ بستا ہے۔ اس کی آبادی ۶۵۹۲ ہے مگر جب سے انگریزوں کی حکومت ہوئی بہت تنزل ہوگیا ہے۔ اس کا بانی نور محمد چٹھوں کا سردار تھا اورا س قصبے کا نام اصل میں رسول نگر تھا مگر جب مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اس پر قبضہ کیا تو اس کا نام بدل کر رام نگر رکھا۔ یہاں مدرسہ، شفاخانہ اور پولیس چوکی ہے۔ ہر سال بڑا بھاری بیساکھی کا میلہ ہوتا ہے۔
  • ۱۸۴۹ء میں رام نگر کے قریب چناب کے کنارے انگریزوں اور سکھوں کا مقابلہ ہوا تھا۔ اس کے بعد چیلیانوالے پر لڑائی ہوئی، پھر آخری لڑائی گجرات پر، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سارا پنجاب انگریزوں کے ہاتھ آیا اور سکھوں کی سلطنت ختم ہوئی۔
  • سودھرہ بڑا پرانا قصبہ ہے، وزیرآباد سے چار میل مشرق کی طرف چناب کے کنارے بسا ہوا ہے، ساڑھے چار ہزار کے قریب آبادی ہے۔ اس شہر کا بانی اپنے زمانے کا بڑا مشہور شخص گزرا ہے، اس کا نام ایاز تھا۔ یہ شخص غزنی کے بادشاہ محمود کا غلام تھا۔ بادشاہ اس کی بڑی قدر کرتا تھا۔ گیارہویں صدی عیسوی کے شروع میں اس بادشاہ نے ہندوستان پر ۱۷ حملے کیے تھے اور ہر بار بہت سا مال لوٹ کر لے جاتا تھا۔ ایک زمانے میں قصبہ بڑی رونق پر تھا، اس کے سو دروازے ہوا کرتے تھے، اسی سبب سے اس کا نام سودھرہ، یعنی جس کے سو درہیں، پڑ گیا۔
  • اکال گڑھ۔ یہ قصبہ وزیرآباد سے ۲۳ میل مغرب کی طرف ہے، اس کی آبادی ۴۲۶۲ افراد پر مشتمل ہے، کچھ ایسا تجارت کا مقام نہیں، صرف دیوانوں کا وطن ہونے کے سبب مشہور ہوگیا۔ دیوان ساوان کل جو مہاراجہ رنجیت سنگھ کے زمانے میں ملتان کا صوبہ دار تھا اور اس کا بیٹا دیوان مول راج جس نے انگریزوں کا مقابلہ کیا تھا، اسی قصبے کے رہنے والے تھے۔
  • اکال گڑھ کا اصل نام علی پور تھا اور چٹھے جنہوں نے رام نگر کی بنیاد ڈالی، اس کے بانی تھے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے باپ مہان سنگھ نے اسے فتح کیا اور سکھوں نے اس کا نام اکال گڑھ رکھ دیا۔
  • شیخوپورہ بادشاہی وقتوں کا ہے۔ جہانگیر بادشاہ نے، جو اکبر بادشاہ کا بیٹا تھا، اس کی بنیاد ڈالی تھی۔ ایک پرانا قلعہ یہاں ٹوٹا پڑا ہے۔ شیخوپورہ کے پاس ایک مینار ہے جس کو ہرن مینار کہتے ہیں، ایک سو دس فٹ اونچا ہے، تیس فٹ چوڑا، ننانوے سیڑھیاں ہیں، ایک عظیم الشان تالاب کے کنارے واقع ہے۔ تالاب مربع ہے، ہر طرف سے ۷۵۲ فٹ ہے۔ بیچوں بیچ ایک بڑا بھاری گنبد ہے اور گنبد سے کنارے تک ایک بڑا مضبوط پل امرتسر کے دربار کی قطع کا۔ خیال ہے کہ دربار کے تالاب، مندر اور پل کی قطع یہیں سے نکل کر گئی تھی۔ تالاب اب خشک پڑا ہے، اس میں دن اور کریل کے ایسے بڑے بڑے درخت ہیں کہ ایک چھوٹا سا بن دکھائی دیتا ہے۔ اس کے آس پاس ہرن کا شکار بہت ملتا ہے، اسی وجہ سے بادشاہ یہاں آکر ٹھہرا کرتے تھے۔
  • جنڈیالہ شیر خان بڑا گاؤں ہے۔ کہتے ہیں کہ عالمگیر کے زمانے میں شیر خان افغان نے بسایا تھا۔ اس میں پٹھان بہت رہتے ہیں، وہ فوج میں اکثر بھرتی ہوتے تھے۔ یہاں بادشاہی وقتوں کی ایک پکی بکاؤلی تھی جو اب کر گئی ہے۔ پنجاب کے مشہور شاعر میاں وارث شاہ کی قبر بھی یہیں ہے۔

اب سے کم و بیش ایک سو سال قبل کے ضلع گوجرانوالہ کے واقعات و حالات کا مطالعہ کرتے ہوئے ۱۹۰۴ء کی اس نصابی کتاب میں مجھے اپنے آبائی گاؤں گکھڑ کے تذکرہ کی تلاش تھی جو میری جائے ولادت ہے۔ مگر ایک تاریخی قصبہ ہونے کے باوجود اس کا کہیں تذکرہ نہیں ملا، صرف ایک جگہ خربوزوں کے حوالہ سے اس کا ذکر ہوا ہے کہ گکھڑ کے خربوزے بہت مشہور ہیں۔ گکھڑ کو آباد کرنے والے گکھڑوں کا ذکر برصغیر کی تاریخ میں سکندر اعظم کے دور کے حوالے سے ملتا ہے جو شاید اس کتاب کے مصنف کی رینج میں نہ ہو۔

درجہ بندی: