ڈاکٹر حمید اللہؒ کی یاد میں ایک نشست

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۸ ستمبر ۲۰۰۳ء

۴ ستمبر ۲۰۰۳ء کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں عالم اسلام کی ممتاز علمی شخصیت ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ کی یاد میں سیمینار کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت رابطہ ادب اسلامی پاکستان کے صدر اور جامعہ اشرفیہ لاہور کے نائب مہتمم حضرت مولانا حافظ فضل رحیم نے کی جبکہ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ اسلامیات کے سربراہ ڈاکٹر حافظ محمود اختر مہمان خصوصی تھے۔ ان کے علاوہ اس سیمینار سے اردو دائرہ معارف اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی کے سربراہ ڈاکٹر محمود الحسن عارف، ہفت روزہ المنبر فیصل آباد کے مدیر ڈاکٹر زاہد اشرف، ماہنامہ التجوید فیصل آباد کے مدیر پروفیسر ڈاکٹر قاری محمد طاہر، پروفیسر غلام رسول عدیم، حافظ محمد عمار خان ناصر، پروفیسر حافظ منیر احمد، سید احمد حسین زید اور راقم الحروف نے خطاب کیا۔

سیمینار میں ڈاکٹر محمد حمید اللہ کی علمی و دینی خدمات پر خراج عقیدت پیش کرنے کے علاوہ الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں اس سال فضلائے درسِ نظامی کے لیے خصوصی تربیتی کلاس کے شرکاء کو امتحان میں کامیابی پر اسناد دی گئیں اور انعامات تقسیم کیے گئے اور رابطہ ادب اسلامی کا مختصر تعارف بھی شرکاء کے سامنے پیش کیا گیا۔

ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے مقررین نے بتایا کہ عالم اسلام کی اس عظیم شخصیت نے یورپ کے دل پیرس میں بیٹھ کر نصف صدی تک اسلام کی جو خدمت کی وہ دعوت اسلامی کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ انہوں نے فرانسیسی زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ کرنے کے علاوہ فرانسیسی میں اسلامی تعلیمات پر بیش بہا لٹریچر شائع کیا اور ان کے ہاتھ پر ہزاروں افراد نے اسلام قبول کیا۔ وہ آج کے دور میں ایک قابل تقلید نمونہ تھے جس کی ایک مثال یہ ہے کہ انہیں دنیا کے جس حصے سے بھی کوئی شخص خط لکھتا تھا وہ اس کا جواب ضرور دیتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ اسلامی احکام کی رو سے جس طرح سلام کا جواب دینا ضروری ہے اسی طرح خط کا جواب دینا بھی ضروری ہے۔ ڈاکٹر صاحب مرحوم کو مختلف مواقع پر اعلیٰ منصب کی پیش کش ہوئی مگر انہوں نے اپنے تعلیمی اور مشنری کام کو درویشانہ طریقہ سے جاری رکھنے کو ترجیح دی اور انتہائی سادگی، قناعت اور فقیرانہ زندگی بسر کر کے آئندہ نسلوں کے لیے ایک نمونہ قائم کر گئے۔

مقررین نے کہا کہ ڈاکٹر محمد حمید اللہ کے علمی کام کو منظم اور مربوط طور پر آگے بڑھانے کی ضرورت ہے اور اہل دانش کو اس سلسلہ میں توجہ دینی چاہیے۔ اس موقع پر پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ اسلامیات کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمود اختر کے سامنے تجویز پیش کی گئی کہ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ اسلامیات میں ’’ڈاکٹر حمید اللہ چیئر‘‘ قائم کی جائے اور ان کی علمی خدمات پر تحقیقات کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔ حافظ محمود اختر نے بتایا کہ یہ تجویز پنجاب یونیورسٹی میں زیرغور ہے اور اس کے لیے پیش رفت ہو رہی ہے۔

سیمینار میں ڈاکٹر حمید اللہ مرحوم کے تفردات کے بارے میں بھی بات ہوئی اور کہا گیا کہ ہر صاحب علم کی طرح ڈاکٹر صاحب مرحوم کے بھی تفردات تھے اور وہ بعض علمی مسائل میں منفرد رائے رکھتے تھے، ان تفردات کو قبول کرنا ضروری نہیں ہے لیکن ڈاکٹر صاحب کی مجموعی علمی و دینی خدمات سے استفادہ کرنا اور آج کے عالمی ماحول میں انہیں زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

رابطہ ادب اسلامی کے سلسلہ میں سیمینار میں بتایا گیا کہ یہ ایک عالمی ادبی تحریک ہے جس کا مقصد ادب کی دنیا میں اسلامی روایات و تعلیمات کی ترجمانی ہے۔ اس تحریک کا آغاز مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کی تجویز پر ان کی سرپرستی میں ہوا تھا اور عالمی رابطہ ادب اسلامی کے نام پر ایک ادبی تنظیم قائم کی گئی تھی جو اس وقت دنیا کے مختلف ممالک میں کام کر رہی ہے۔ حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ فرمایا کرتے تھے کہ آج کے دور میں الحاد و زندقہ اور کفر و ارتداد کے فروغ کا سب سے بڑا ذریعہ عمرانی علوم اور ادب و ابلاغ ہے اور مسلم نوجوانوں کے ذہنوں میں انہی ذرائع سے شکوک و شبہات اور الحاد و زندقہ کا بیج بویا جا رہا ہے۔ اس لیے اسلامی دنیا کے علمائے کرام اور اہل دانش کی ذمہ داری ہے کہ وہ ادب اور ابلاغ کے مجموعی ماحول سے الگ رہنے کی بجائے اس میں شریک ہوں، ادب و ابلاغ کے ذریعے اسلامی تعلیمات و روایات کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کی منظم جدوجہد کریں اور اسلامی روایات و اقدار کی نمائندگی کے لیے ادبی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیں۔ عالمی رابطہ ادب اسلامی کا قیام اس مقصد کے لیے عمل میں لایا گیا ہے اور پاکستان میں اس کی باقاعدہ شاخ موجود ہے جس کے صدر جامعہ اشرفیہ لاہور کے نائب مہتمم مولانا فضل رحیم ہیں جبکہ اردو دائرہ معارف اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی اولڈ کیمپس کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر محمود الحسن عارف اس کے نائب صدر اور ہفت روزہ المنبر جناح کالونی فیصل آباد کے ایڈیٹر ڈاکٹر زاہد اشرف سیکرٹری جنرل ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر قاری محمد طاہر کی ادارت میں ایک خبرنامہ ’’اخبار الرابطہ‘‘ کے عنوان سے ۱۲ ڈبلیو مدینہ ٹاؤن فیصل آباد سے شائع ہوتا ہے جس میں عالمی رابطہ ادب اسلامی کی اہم سرگرمیوں سے قارئین کو آگاہ کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر زاہد اشرف نے بتایا کہ پاکستان کے مختلف شعبوں میں رابطہ ادب اسلامی کے سلسلہ میں اہل علم و دانش کے ساتھ رابطوں کا سلسلہ جاری ہے اور اس کا دائرہ پورے ملک تک پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اس تقریب سے فائدہ اٹھاتے ہوئے الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ نے فضلائے درس نظامی کے لیے خصوصی کورس کے شرکاء کو اسناد و انعامات کی تقسیم کا پروگرام بھی شامل کر لیا۔ یہ کورس درسِ نظامی کے فارغ التحصیل حضرات کے لیے تھا جس کا آغاز شوال میں ہوا اور تقریباً آٹھ ماہ تک مسلسل جاری رہا۔ کورس کے آغاز میں آٹھ دس علمائے کرام شریک ہوئے مگر بعض مختلف وجوہ کی بنا پر سارا سال تعلیم جاری نہ رکھ سکے اور درج ذیل پانچ علماء نے تین سمسٹروں میں باقاعدگی سے شریک ہو کر امتحان پاس کیا۔ (۱) مولوی محمد عامر، سرگودھا، فاضل جامعہ امدادیہ فیصل آباد۔ (۲) مولوی محمد حسن ندیم، سرگودھا، فاضل جامعہ امدادیہ فیصل آباد۔ (۳) مولوی حسین احمد محمود، جنوبی وزیرستان، فاضل دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک۔ (۴) مولوی عبد الحمید، چارسدہ، فاضل دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک۔ (۵) مولوی حمید الرحمان، لاہور۔ اس کورس میں (۱) بین الاقوامی قوانین کا اسلامی احکام کی روشنی میں مطالعہ (۲) تعارف و تقابل ادیان (۳) تاریخ اسلام (۴) معاشیات، نفسیات اور سیاسیات کا تعارفی مطالعہ (۵) انگریزی زبان (۶) عربی زبان (۷) کمپیوٹر (۸) اور حجۃ اللہ البالغہ کے منتخب ابواب شامل تھے۔ کورس کے انچارج اور الشریعہ اکادمی کے ڈپٹی ڈائریکٹر حافظ محمد عمار خان ناصر نے شرکاء کو بتایا کہ یہ ہمارا پہلا تجربہ تھا جو توقع کے مطابق کامیاب رہا ہے البتہ بہت سی کمزوریاں اور کوتاہیاں بھی اس دوران سامنے آئی ہیں جن کی روشنی میں آئندہ سال کے کورس کو زیادہ بہتر شکل دی جا رہی ہے اور اگلے سال بھی شوال المکرم میں اس کورس کا آغاز کیا جائے گا جس کا دورانیہ ایک سال (عملاً آٹھ ماہ) کا ہوگا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ کی یاد میں منعقد ہونے والی اس تقریب میں شہر کے سرکردہ علمائے کرام ، پروفیسر صاحبان اور طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی اور پروفیسر ڈاکٹر قاری محمد طاہر کی دعا پر اختتام پذیر ہوئی۔