دہشت گردی کے خلاف فتویٰ ۔ تمام پہلوؤں پر نظر رکھنے کی ضرورت

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۲ دسمبر ۲۰۰۹ء
اصل عنوان: 
دہشت گردی کے خلاف فتوے کی شرعی اہمیت

علماء کرام سے ملک کے بعض حلقوں کا مسلسل یہ مطالبہ ہے کہ وہ خودکش حملوں کے خلاف اجتماعی فتویٰ جاری کریں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومتی پالیسی کی حمایت کا دوٹوک اعلان کریں۔ اس مقصد کے لیے وزیرداخلہ جناب رحمان ملک نے کراچی کا دورہ کیا جو تمام مکاتب فکر کے بڑے دینی مدارس کا مرکز ہے۔ بعض علماء نے فتوے بھی جاری کیے مگر جو مقصد لے کر وزیرداخلہ کراچی گئے تھے وہ پورا نہ ہو سکا۔ وفاقی وزارت مذہبی امور نے مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام کا اجلاس گزشتہ روز اسلام آباد میں طلب کیا مگر بات نہ بنی۔ گزشتہ دنوں پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف کے طلب کردہ اجلاس میں، جو اصل میں محرم الحرام کے دوران امن و امان قائم رکھنے کے حوالے سے صوبائی اتحاد بین المسلمین کمیٹی کا اجلاس تھا، اس میں یہ سوال اٹھایا گیا ۔ اجلاس میں راقم الحروف شریک تھا، اس موقع پر میں نے جو گزارشات پیش کیں ان کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں:

حکومتی حلقوں کی خواہش ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس کی پالیسیوں کے حوالے سے علماء کرام کی طرف سے بھرپور حمایت کی جائے اور خودکش حملوں کے حرام ہونے کا اجتماعی فتویٰ دیا جائے۔ لیکن موجودہ صورتحال میں یہ بات بہت مشکل ہے کہ علماء کرام حکومت کی پالیسیوں کی آنکھیں بند کر کے حمایت کریں اور نہ ہی حکومت کو اس کی توقع کرنی چاہیے۔ اس لیے کہ جو بات جس حد تک درست ہوگی اس کی ضرور حمایت کی جائے گی لیکن جو بات درست نہیں ہوگی اس کی حمایت نہیں کی جائے گی۔ بالخصوص موجودہ صورتحال میں دینی جماعتوں اور علماء کرام کے کچھ تحفظات ہیں جنہیں دور کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، مثلاً:

  • دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومت دینی حلقوں کی بھرپور حمایت کی خواہش تو رکھتی ہے لیکن اپنی پالیسیوں پر انہیں اعتماد میں لینے کی ضرورت حکمران حلقوں نے کبھی محسوس نہیں کی۔ اگر آپ حمایت چاہتے ہیں تو اعتماد میں بھی لیجئے کہ جب تک صحیح صورتحال سے واقفیت نہیں ہوگی اور اعتماد نہیں ہوگا تو غیر مشروط حمایت بھی مشکل ہوگی۔
  • قومی خودمختاری کے حوالے سے ملک بھر کے عوام کی طرح دینی حلقے بھی شدید تحفظات اور بے چینی کا شکار ہیں اور ان کا اضطراب بڑھتا جا رہا ہے۔ بعض حکومتی پالیسیاں اور اقدامات کنفیوژن میں اضافہ کا باعث بن رہے ہیں۔ حکومت کو اس سلسلہ میں دینی حلقوں اور علماء کرام کو اعتماد میں لینا ہوگا ورنہ کنفیوژن اور بے اعتمادی کی فضا میں دینی حلقے حکومتی پالیسیوں کے بارے میں تذبذب کا شکار رہیں گے۔
  • ۱۹۷۳ء کے دستور میں واضح طور پر ضمانت دی گئی ہے کہ ملک میں قرآن و سنت کے قوانین کا نفاذ عمل میں لایا جائے گا اور قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون نافذ نہیں کیا جائے گا۔ اس دستوری ضمانت کو چھتیس برس گزر چکے ہیں مگر ابھی تک صورتحال جوں کی توں ہے اور حکومت اس سلسلہ میں کسی پیش رفت پر آمادہ دکھائی نہیں دیتی۔ ہم یہ جاننا چاہیں گے کہ اس میں رکاوٹ کون ہے اور رکاوٹیں کہاں کہاں ہیں؟ جب تک اس کی وضاحت نہیں ہوتی، تذبذب کی فضا باقی رہے گی۔
  • جہاں تک دہشت گردی اور خودکش حملوں کا تعلق ہے علماء کرام متعدد بار یہ موقف پیش کر چکے ہیں اور اس کی وضاحت کر چکے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حدود میں کسی بھی مطالبے اور مقصد کے لیے ہتھیار اٹھانا اور حکومتی رٹ کو چیلنج کرنا شرعاً درست نہیں ہے اور جو لوگ ایسا کر رہے ہیں وہ غلط کر رہے ہیں۔ بالخصوص پر امن شہریوں، مساجد اور امام بارگاہوں کو نشانہ بنانا انتہائی مذموم فعل ہے جس کی ہم نے ہمیشہ پرزور مذمت کی ہے اور اب بھی کرتے ہیں۔ یہ موقف بالکل واضح ہے اور اس میں کوئی تردد نہیں ہے لیکن یہ موقف الگ چیز ہے اور حکومتی پالیسیوں کی حمایت اور اس کے ساتھ کھڑا ہونا اس سے مختلف امر ہے۔
  • دہشت گردی کے ان مذموم واقعات میں بیرونی عوامل بالخصوص امریکہ، بھارت اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ اور اس کے مقاصد کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس سلسلہ میں ملکی رائے عامہ اور دینی حلقوں کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔

یہ کم و بیش ان گزارشات کا خلاصہ ہے جو میں نے وزیراعلیٰ پنجاب کے طلب کردہ علماء کرام کے اجلاس میں پیش کیں۔ ان کے ساتھ ایک اور بات کا اضافہ کرنا چاہوں گا کہ فتویٰ میں ذمہ دار مفتیان کرام کو صرف یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ مسئلہ کی نوعیت کیا ہے؟ بلکہ یہ دیکھنا بھی مفتی کی ذمہ داری ہے کہ فتویٰ کیوں لیا جا رہا ہے اور اسے کس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا؟

تفسیر قرطبیؒ میں یہ واقعہ مذکور ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ اپنے شاگردوں کی محفل میں تشریف فرما تھے کہ ایک شخص آیا اور دریافت کیا کہ کیا قاتل کے لیے توبہ ہے؟ یعنی اگر کوئی شخص کسی کو قتل کرنے کے بعد توبہ کر لے تو کیا اس کی توبہ قبول ہوگی؟ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے جواب دیا کہ قاتل کے لیے کوئی توبہ نہیں ہے۔ وہ شخص یہ بات سن کر چلا گیا تو شاگردوں نے عرض کیا کہ حضرت آپ نے یہ کیا فرمایا ہے؟ ہمیں تو آپ نے یہ پڑھایا ہے کہ توبہ ہر شخص کے لیے ہے اور قاتل کے لیے بھی توبہ ہے، مگر اس شخص کو آپ نے اس کے خلاف فتویٰ دیا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے فرمایا کہ میں نے اس کی آنکھوں میں خون دیکھا ہے، یہ شخص کسی کو قتل کرنے جا رہا تھا اور اپنی تسلی کے لیے مجھ سے مسئلہ پوچھنے آیا تھا اس لیے میں نے اسے یہ کہہ کر کہ قاتل کے لیے توبہ نہیں ہے، قتل کرنے سے باز رکھنے کی کوشش کی ہے۔ شاگردوں کا کہنا ہے کہ ہمیں یہ بات عجیب سی لگی او رہم نے اس شخص کو تلاش کیا تاکہ صحیح صورتحال معلوم کر سکیں، اسے ڈھونڈ کر ہم نے اس سے دریافت کیا تو اس نے تصدیق کی کہ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے درست فرمایا ہے، میں واقعی کسی کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتا تھا مگر ان کا یہ ارشاد سن کر میں نے ارادہ ترک کر دیا ہے۔

اس سے فقہاء کرام یہ اصول اخذ کرتے ہیں کہ مفتی صاحب کا کام صرف مسئلہ کو دیکھنا نہیں بلکہ فتویٰ پوچھنے والے کے مقصد کو سمجھنا بھی ضروری ہے تاکہ فتویٰ کسی غلط کام کے لیے استعمال نہ ہو سکے۔ اس لیے ذمہ دار علماء کرام جب کسی مسئلہ پر فتویٰ دیں گے تو پوری صورتحال اور سارے پہلوؤں کو سامنے رکھ کر دیں گے اور پوری صورتحال اور تمام پہلوؤں کو سامنے لانا فتویٰ پوچھنے والوں کی ذمہ داری بنتی ہے۔

گزشتہ ہفتہ علماء کرام کی ایک محفل میں اس مسئلہ پر بات ہو رہی تھی تو میں نے عرض کیا کہ موجودہ صورتحال میں علماء کرام کو اگر مجموعی طور پر کوئی اجتماعی فتویٰ دینا ہے تو وہ باہمی مشورہ سے تمام مکاتب فکر کے ذمہ دار مفتیان کرام کو مل کر جاری کرنا چاہیے۔ اس کے لیے استفسار کی ترتیب میرے ذہن میں کچھ اس طرح بنتی ہے کہ:

’’کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ پاکستان کے قیام کا مقصد قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے واضح طور پر یہ بتایا تھا کہ اس میں قرآن و سنت کی حکمرانی ہوگی اور دستور پاکستان میں بھی اس بات کی واضح طور پر ضمانت دی گئی ہے۔ جو لوگ گزشتہ ساٹھ برس سے اس میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں ان کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟

جن لوگوں نے ملک میں نفاذِ شریعت کے نام پر ہتھیار اٹھا رکھے ہیں اور حکومتی رٹ کو چیلنج کر کے نقض امن اور قتل و غارت کا باعث بنے ہوئے ہیں، بالخصوص مساجد عبادت گاہوں اور پر امن شہریوں پر خودکش حملے کرنے والوں کا شرعی حکم کیا ہے؟‘‘