ملی مجلس شرعی کی قراردادیں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۴ اکتوبر ۲۰۱۱ء

وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی طلب کردہ آل پارٹیز کانفرنس میں ملک کی سیاسی، مذہبی اور عسکری قیادت نے امریکی الزامات کو بیک آواز مسترد کرتے ہوئے امریکہ کی طرف سے ڈومور کے مطالبے کو قبول نہ کرنے کا اعلان کیا ہے جو ملک بھر کے عوام کے دلوں کی آواز ہے۔ اس طرح رائے عامہ کے رجحانات و جذبات نے ایک متفقہ قومی موقف کی حیثیت اختیار کر لی ہے جس پر آل پارٹیز کانفرنس طلب کرنے والے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور کانفرنس کے تمام شرکا مبارکباد کے مستحق ہیں۔ کانفرنس میں ایک متفقہ قرارداد منظور کی گئی اور اس پر عملدرآمد کے لیے کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ بھی سامنے آیا ہے جو ایک اچھی پیش رفت ہے۔ لیکن اس سے قبل اسی مسئلہ پر پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد اور اس پر عملدرآمد کے لیے قائم کی جانے والی پارلیمانی کمیٹی کی کارکردگی دیکھتے ہوئے ڈر سا لگ رہا ہے کہ کہیں آل پارٹیز کانفرنس کی متفقہ قرارداد بھی پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد کی طرح نادیدہ قوتوں کی مصلحتوں اور ترجیحات کی نذر نہ ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے اس عزم اور فیصلہ پر استقامت سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

جہاں تک مذہبی قیادت کا تعلق ہے، ملک کے سرکردہ مذہبی قائدین اب سے ایک ہفتہ قبل لاہور میں جمع ہو کر اس موقف کا اظہار کر چکے ہیں۔ آج کی محفل میں اس کی کچھ تفصیلات پیش کرنا چاہتا ہوں۔ ’’ملی مجلس شرعی‘‘ تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام پر مشتمل ایک مشترکہ علمی و فکری فورم ہے جو سالہا سال سے مذہبی مکاتب فکر کے درمیان مشترکات کو اجاگر کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ اس فورم کے تحت ۲۴ ستمبر کو لاہور میں ’’اتحادِ امت کانفرنس‘‘ کا اہتمام کیا گیا جو ملی مجلس شرعی کے سربراہ مولانا مفتی محمد خان قادری کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ جبکہ مجلس کے سیکرٹری جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد امین نے کانفرنس کے سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیے۔

کانفرنس کے شرکا میں جناب سید منور حسن، مولانا عبد الرؤف فاروقی، مولانا احمد علی قصوری، مولانا عبد المالک خان، مولانا حافظ عبد الغفار روپڑی، پروفیسر ساجد میر، صاحبزادہ محب اللہ نوری، مولانا محمد امجد خان، مولانا صاحبزادہ فضل الرحیم اشرفی، مولانا خان محمد قادری،مولانا محمد حنیف جالندھری، پروفیسر حافظ محمد سعید، مولانا امیر حمزہ، مولانا قاری محمد یعقوب شیخ، ڈاکٹر حافظ حسن مدنی، مولانا قاری جمیل الرحمان اختر، مولانا ڈاکٹر حسین اکبر، سید افتخار حسین نقوی، مولانا عبید اللہ عفیف، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، مولانا مفتی محمد طیب، مولانا اللہ وسایا اور مفتی طاہر مسعود کے علاوہ بھرچونڈی شریف کے سجادہ نشین بزرگ بطور خاص قابل ذکر ہیں۔

شرکا کے اسماء گرامی سے ظاہر ہے کہ یہ کانفرنس تمام مذہبی مکاتب فکر کے سرکردہ رہنماؤں پر مشتمل تھی اور ملک کی مذہبی رائے عامہ کی بھرپور نمائندگی کر رہی تھی۔ لیکن ملک کے میڈیا نے اس اعلیٰ سطحی نمائندہ کانفرنس کے ساتھ جو سلوک کیا وہ انتہائی افسوسناک ہے۔ میں بھی اس کانفرنس میں شریک تھا بلکہ ملی مجلس شرعی کے سینئر نائب صدر کی حیثیت سے کانفرنس کے منتظمین میں سے تھا مگر کانفرنس سے اگلے روز کم و بیش نصف درجن قومی اخبارات دیکھنے کے باوجود مجھے کسی معروف قومی اخبار میں اس کانفرنس کی خبر پڑھنے کو نہیں ملی، ممکن ہے کہ لوکل ایڈیشنز میں خبر شائع ہوئی ہو جنہیں میں نہیں دیکھ سکا۔ امریکہ نے سوویت یونین کے ساتھ سرد جنگ کے خاتمہ کے بعد ’’نیو ورلڈ آرڈر‘‘ جاری کیا تھا، اس کی ایک باقاعدہ شق یہ تھی کہ عالم اسلام میں مذہبی قیادت اور مذہبی موقف کو کسی جگہ بھی قومی منظر پر سامنے نہ آنے دیا جائے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے میڈیا کا یہ رویہ اسی سوچ کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس لیے ایک ہفتہ کے انتظار کے بعد تمام مکاتب فکر کے سرکردہ مذہبی رہنماؤں کی اس قومی کانفرنس کے فیصلوں اور مختصر کارروائی کو اس کالم کے ذریعے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔
کانفرنس میں امریکی دھمکیوں اور قومی خودمختاری کے بارے میں درج ذیل قرارداد منظور کی گئی:

’’ہم پاکستان کے تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کرام اس امر پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں کہ پاکستان اس وقت بحرانی کیفیت میں ہے۔ عوام الناس قتل و غارت گری، دہشت گردی اور مصائب و مشکلات کا شکار ہیں۔ پاکستان کی قومی سلامتی خطرے میں ہے جس کا سب سے بڑا سبب امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی افغانستان میں مسلح مداخلت ہے اور اب افغانستان میں وہ اپنی ہاری ہوئی جنگ پاکستان پر مسلط کرنا چاہ رہا ہے جس نے صورتحال کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے حکمران بھی اس صورتحال کے ذمہ دار ہیں جنہوں نے اپنے اقتدار اور مفادات کے لیے امریکی آلۂ کار بننا قبول کر لیا اور اب رفتہ رفتہ پوری قوم کو امریکی مفادات اور ان کے مکروہ عزائم کی بھینٹ چڑھانے کے درپے ہیں۔ چنانچہ آج کا یہ اجلاس حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ امریکی مفادات کے تحفظ کی پالیسی یکسر ختم کر دی جائے، ڈرون حملے فوری طور پر بند کرائے جائیں، بلیک واٹر اور صیہونی و بھارتی ایجنسیوں کی دہشت گردانہ کاروائیوں کا نیٹ ورک توڑ دیا جائے، فوجی تربیت اور خفیہ معلومات کے تبادلے کی آڑ میں بلائے گئے امریکی فوجیوں کو واپس بھجوایا جائے، پاکستان سے نیٹو فورسز کی سپلائی بند کی جائے، امریکہ کو دیے گئے فضائی اڈے عملاً خالی کرائے جائیں اور میڈیا کو ان تک رسائی دی جائے۔ نیز پاکستان دہشت گردی کے خلاف اس نام نہاد امریکی جنگ سے فی الفور الگ ہو جائے اور اندرون ملک کے ناراض عناصر سے باہمی مذاکرات اور مفاہمت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کی جائے۔‘‘

اتحاد بین العلماء کے حوالے سے درج ذیل قرارداد منظور کی گئی:

’’ہم پاکستان کے مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء اس امر کا اعلان و اظہار کرتے ہیں کہ ہم سب ایک امت ہیں اور بھائی بھائی ہیں۔ ہم ایسے تمام اقدامات کی تائید کرتے ہیں جن سے امت اور علماء میں اتحاد و اتفاق بڑھے، اور ایسے سب عوامل اور اقدامات سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں جن سے امت اور علماء میں انتشار و تشتّت پیدا ہو اور خلفشار بڑھے۔ بلاشبہ ہمارے درمیان فقہی و کلامی اختلافات موجود ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہمارے درمیان مشترکات بہت زیادہ ہیں جبکہ اختلافات کم ہیں۔ اور جو اختلافات ہیں انہیں گفت و شنید اور سنجیدہ و پروقار علمی ماحول میں زیربحث لایا جا سکتا ہے اور انہیں قاطعِ اخوت اور موجبِ فساد نہیں بننا چاہیے۔ ہم اتحاد بین العلماء کی پرزور حمایت کرتے ہیں تاکہ اس اتحاد کے مثبت اثرات عوام الناس تک پہنچیں۔ لہٰذا آج ہم سب اعلان کرتے ہیں کہ ہم بحیثیت مسلمان متحد ہیں، آپس میں بھائی بھائی ہیں اور کسی خاص فقہی یا کلامی مسلک سے ہماری وابستگی اسلامی اخوت اور بھائی چارہ کی نفی نہیں کرتی۔ ہم کسی قسم کی فرقہ واریت اور عصبیت کی حمایت نہیں کرتے اور باہم مل کر دین حنیف کی عظمت و سربلندی، پاکستان میں نفاذ شریعت اور مسلمانوں کی انفرادی و اجتماعی زندگی میں احکام شریعت پر عمل کے لیے کوشاں رہیں گے، اور علماء میں انتشار پیدا کرنے والوں کی کوششوں کو باہم مل کر اخلاص اور فراست سے ناکام بنائیں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

ہم اعلان کرتے ہیں کہ ہم ایک دوسرے کا احترام کریں گے، اشتعال انگیز اور توہین آمیز تقریر و تحریر سے اجتناب کریں گے اور ایسے اقدامات سے گریز کریں گے جن سے باہم اتحاد و اتفاق کو ٹھیس پہنچے۔ اور اپنی تمام علمی وفکری صلاحیتیں اصلاحِ معاشرہ، اعلاء کلمۃ اللہ اور اتحادِ امت کے لیے صرف کریں گے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اس عزم و ارادے میں کامیاب فرمائے اور اپنے اس فرمان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے کہ واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا۔‘‘

ملی مجلس شرعی نے مسلسل دو تین سال کی محنت سے ۱۹۵۱ء میں تمام مکاتب فکر کے ۳۱ سرکردہ علماء کرام کی جانب سے مرتب کردہ ۲۲ دستوری نکات کی موجودہ دور کے تمام مکاتب فکر کے اکابر علماء کرام سے دوبارہ توثیق کرانے کے علاوہ موجودہ حالات کی روشنی میں ان میں ۱۵ کے لگ بھگ مزید متفقہ نکات کا اضافہ بھی کیا ہے، جو اسلامائزیشن کی جدوجہد میں ایک اہم علمی پیش رفت ہے۔ یہ نکات اگلے کالم میں پیش کیے جائیں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔