خلافتِ راشدہ اور عمران خان

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۳۰ دسمبر ۲۰۱۱ء
اصل عنوان: 
خلافتِ راشدہ اور اسلامی فلاحی ریاست

عمران خان آج کل اپنی زندگی کی سب سے بڑی اور سب سے مشکل اننگز کھیل رہے ہیں اور ابھی تک بظاہر کامیاب جا رہے ہیں۔ بلا ہاتھ میں ہوتا ہے تو چوکے چھکے لگاتے چلے جاتے ہیں اور گیند پکڑتے ہیں تو وکٹیں اڑانے کی رفتار بھی ویسی ہی ہوتی ہے۔ نوجوانوں کو ورلڈ کپ جیتنے والا عمران خان ایک بار پھر فارم میں دکھائی دے رہے ہے اور مجھ جیسے بوڑھے کبھی آنکھیں ملتے اور کبھی عینک کے شیشے صاف کرتے ہوئے اس قدر نئے منظر کو سمجھنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ کراچی کا جلسہ دیکھ کر میرا تاثر یہ ہے کہ میچ کا نتیجہ کچھ بھی ہو مگر اس بار عمران خان ’’مین آف دی میچ‘‘ کا اعزاز بہرحال حاصل کر ہی لیں گے۔

کراچی کے جلسے کا حال بتاتے ہوئے ایک دوست نے پوچھا کہ ’’کیا یہ سب کچھ ایجنسیوں کا کھیل تو نہیں ہے؟ میں نے عرض کیا کہ ایجنسیاں ہمارے ملک کے کون سے سیاسی کھیل کے پس منظر میں موجود نہیں رہیں؟ کم از کم میں تو اپنی پینتالیس سالہ (۲۵ سالہ متحرک اور ۲۰ سالہ غیر متحرک) سیاسی زندگی میں کسی ایسی تحریک سے آگاہ نہیں ہوں جس کے پیچھے ایجنسیوں کی جھلک کسی نہ کسی درجے میں دکھائی نہ دے رہی ہو۔ ہمارے ہاں اقتدار تک پہنچنے کا راستہ ایجنسیوں کی ’’دلدل‘‘ کے بیچ میں سے ہی جاتا ہے، اور اگر کوئی خوش قسمت اس دلدل کو کسی نہ کسی طرح عبور کر لے تو بین الاقوامی لابیوں کی ’’ریڈ لائنز‘‘ سے اسے الگ سے نمٹنا پڑتا ہے۔ پاکستان میں قومی سیاست کا کوئی راستہ اگر ایجنسیوں کی دلدل سے ہٹ کر نکلتا دکھائی دیتا تو میرے جیسے سینکڑوں بلکہ شاید ہزاروں شعوری اور نظریاتی سیاسی کارکن فیلڈ سے باہر تماشائیوں میں کھڑے خالی تالیاں نہ پیٹ رہے ہوتے۔ اس لیے اگر عمران خان بھی اسی دلدل سے اپنا راستہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں ملک کے باقی سیاستدان اپنے اپنے ظرف کے مطابق کوئی ٹخنوں تک، کوئی گھٹنوں تک اور کوئی کمر تک دھنسے ہوئے ہیں تو مجھے اس پر کوئی تعجب نہیں ہے اور میں ایک پرانے سیاسی کارکن کے طور پر قومی سیاست میں اس نئے خون یا کم از کم نئے رجحان کے اضافے پر خوش ضرور ہوں۔

جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں تقویٰ کا مفہوم بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ کسی شخص کو خاردار جھاڑیوں کے درمیان سے گزرنا پڑ جائے تو جس طرح وہ جسم کو سکیڑتے اور دامن کو سمیٹے ہوئے گزرتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ کم سے کم کانٹے اس کے کپڑوں سے الجھیں اور اس کے جسم میں چبھیں اسی طرح تقویٰ والا مسلمان بھی اس کوشش میں ہوتا ہے کہ خواہشات کی جھاڑیوں میں سے گزرتے ہوئے گناہوں کے کانٹوں سے اسے کم سے کم واسطہ پڑے۔ اس لیے عمران خان ہوں یا کوئی اور سیاستدان، میرے نزدیک اس سلسلہ میں ترجیح کی بنیاد یہ ہے کہ معروضی حالات میں اس دلدل سے گزرتے ہوئے اس کا رخ کس طرف ہے اور وہ دلدل کی گہرائی میں جانے سے بچنے کی کس حد تک کوشش کر رہا ہے؟

بہرحال یہ کمنٹری تو میچ کے ساتھ ساتھ چلتی رہے گی اور حتمی نتیجہ میچ کے اختتام پر ہی سامنے آئے گا مگر سرِدست یہ سطور تحریر کرنے پر مجھے جس چیز نے تحریک دی ہے وہ کراچی کے جلسۂ عام سے خطاب کے دوران عمران خان کا یہ جملہ ہے کہ ’’ہم پاکستان کو خلافتِ راشدہ کی طرز کی اسلامی اور فلاحی ریاست بنائیں گے‘‘۔ یہ ایک ایسا جملہ ہے کہ جھوٹ بھی ہو تو بار بار سننے کو جی چاہتا ہے اور زبان بے ساختہ ایک پرانے پنجابی گانے کا یہ بول گنگنانے کے لیے مچلنے لگتی ہے کہ ’’جھوٹیا وے اک جھوٹ ہور بول جا‘‘۔ خلافتِ راشدہ کا نعرہ ہم نے اپنی زندگی میں بہت سے سیاستدانوں سے سنا ہے، ان میں سے بعض اقتدار میں بھی آئے اور انہیں اپنے اس نعرے کو عملی جامہ پہنانے کا موقع ملا ہے مگر ہر بار غالب مرحوم کا یہ شعر ہی دل کی تسلی کا ذریعہ بن سکا کہ:

ترے وعدے پر جیئے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

البتہ عمران خان چونکہ قومی سیاست کی اس سطح پر نووارد ہیں اور ہمارے ہاں عام سی روایت ہے کہ ہر نئے آنے والے کو یہ کہہ کر چانس دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ’’چلو اسے بھی دیکھ لیتے ہیں‘‘۔ چنانچہ ہم بھی اسی ٹمٹماتی ہوئی امید پر اس حوالہ سے عمران خان اور ان کے رفقا کی خدمت میں دو گزارشات پیش کرنا چاہتے ہیں:

  1. ایک یہ کہ خلافتِ راشدہ کی بات کرتے ہوئے اس کا کوئی خاکہ اور مفہوم بھی آپ حضرات کے ذہن میں ہونا چاہیے کہ خلافتِ راشدہ کا حدود اربعہ کیا ہے اور اس کے عملی تقاضے کیا ہیں؟ اس پر آپ کے اہلِ دانش کی ایک ٹیم کو پورے غوروخوض کے ساتھ ہوم ورک کرنا چاہیے اور آج کے معروضی حالات میں خلافتِ راشدہ کے اصولوں اور طرزِ حکمرانی کی تطبیق کی عملی صورتیں طے کرنی چاہئیں۔ تاریخ اور نظامِ خلافت کے ایک طالب علم کے طور پر خلافتِ راشدہ کے تعارف کے لیے اس دور کی چند جھلکیاں نمونہ کے طور پر پیش کرنا چاہ رہا ہوں:
    • جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا جانشین نامزد کرنے کی بجائے اس کے انتخاب کو امت کی صوابدید پر چھوڑ دیا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلم حکمران کا انتخاب امت کی اجتماعی صوابدید پر ہوگا۔
    • خلیفۂ اول سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے اپنے پہلے خطبہ میں واضح اعلان کیا تھا کہ وہ قرآن و سنت کے پابند رہیں گے اور اس سے انحراف کی صورت میں ان کی اطاعت رعایا پر ضروری نہیں رہے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے ایک ایسے دستور و قانون کی پابندی کا عہد کیا جس میں رد و بدل کا انہیں یا کسی اور کو سرے سے اختیار ہی حاصل نہیں ہے۔ اسی لیے خلافت کو شخصی، خاندانی یا گروہی حکومت کی بجائے دلیل کی حکومت اور قانون کی حکمرانی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
    • حضرت ابوبکرؓ نے سرکاری اموال اور وسائل کی تقسیم میں ترجیح کی بجائے مساوات کے اصول کا اعلان کیا اور فرمایا کہ سرکاری اموال میں سب شہریوں کا حق برابر ہے۔
    • حضرت عمرؓ نے سرکاری حکام کے لیے باریک لباس، عمدہ سواری، چھنے ہوئے آٹے کی روٹی اور دروازے پر ڈیوڑھی بنانے پر پابندی لگا کر معاشرتی امتیازات اور وی آئی پی سسٹم کا خاتمہ کر دیا اور حکمرانوں کو رعایا کے معیار اور طرز پر زندگی گزارنے کا پابند بنایا۔
    • حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ دونوں نے اپنے اوقات میں عوام کو حق دیا کہ وہ اپنے حکمرانوں کا کھلے بندوں احتساب کر سکتے ہیں اور عام لوگوں نے عملاً بھی ایسا کیا۔
    • حضرت عثمانؓ نے اپنے عمال کے بارے میں کیے جانے والے اعتراضات کے حوالے سے پورے ملک میں اعلانات کرا کے حج کے موقع پر اپنے گورنروں کو منٰی کے میدان میں بلوایا اور عوام کے سامنے احتساب کے لیے پیش کیا اور خود اپنے اوپر لگنے والے الزامات کے بھی جوابات دیے۔
    • حضرت علیؓ نے زرہ کے کیس میں امیر المؤمنین ہوتے ہوئے بھی قاضی شریح کی عدالت میں خود پیش ہو کر بتایا کہ اسلامی ریاست میں کوئی بھی شخص عدالت میں حاضری سے مستثنیٰ نہیں ہے۔
    • حضرت عمرؓ نے معاشرے کے ہر طبقے کے افراد کے لیے بیت المال سے بلا امتیاز وظیفے مقرر کر کے یہ اصول قائم کیا کہ بیت المال شہریوں کی ضروریاتِ زندگی کا کفیل اور ضامن ہے۔ حتیٰ کہ یہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا کہ اگر دریائے فرات کے کنارے پر کوئی کتا بھوک سے مر جائے تو اس کی ذمہ داری عمرؓ پر ہوگی۔
    • حضرت عمرؓ نے معاشرتی امتیاز اختیار کرنے والے گورنروں کو باقاعدہ سزا دے کر حکام اور افسران کے احتساب کی عملی روایت قائم کی۔

    یہ چند جھلکیاں ہیں جن سے خلافتِ راشدہ کے بنیادی ڈھانچے کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ جناب عمران خان سے گزارش ہے کہ وہ اس نظام کا پوری طرح مطالعہ کریں اور باقاعدہ ہوم ورک کر کے آج کے دور میں اس کی تطبیق کی صورتیں واضح کریں۔

  2. جبکہ عمران خان سے ہماری ایک گزارش یہ بھی ہے کہ قومی خودمختاری کے تحفظ، کرپشن کے خاتمہ، لوٹ کھسوٹ کے احتساب اور خلافتِ راشدہ کی طرز کی اسلامی فلاحی ریاست کے بارے میں ان کے دعوے بہت اچھے ہیں، مگر کیا عمران خان صاحب اپنے یہ وعدے اقتدار میں آنے کے بعد بھی یاد رکھیں گے اور ان پر عملدرآمد کر پائیں گے؟