عقائد اور نظریات میں بنیادی فرق

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۳ مئی ۲۰۰۰ء

راجہ محمد انور صاحب اس مسئلہ میں اپنے موقف پر قائم ہیں کہ ’’جہاد افغانستان‘‘ محض اقتدار کی جنگ تھی اور طالبان کے آنے سے بھی اس میں فرق نہیں پڑا اس لیے اس پر جہاد کا اطلاق درست نہیں۔ چنانچہ اس پر مزید کچھ عرض کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے مگر اس سے پہلے راجہ صاحب کے حالیہ مضمون کے حوالہ سے ایک دو وضاحتیں ضروری ہیں۔

ایک تو راجہ انور صاحب اپنے مضمون میں میرا تذکرہ کرتے ہوئے حضرت مولانا کی جو دستار میرے سر پر سجا دیتے ہیں وہ سر کے سائز سے بہت بڑی ہے۔ اور کسی چھوٹے سے سر پر اتنی بڑی دستار رکھ دی جائے تو دیکھنے والوں کے لیے منظر عجیب سا ہو جاتا ہے۔ راجہ صاحب سے عرض ہے کہ میں ’’حضرت‘‘ نہیں ہوں نہ چھوٹا نہ بڑا۔ ’’مولانا‘‘ کا لفظ بھی اپنے مفہوم سے ہٹ کر اب محض ایک طبقاتی تعارف کا عنوان بن گیا ہے اس لیے تعارف کے طور پر اپنے نام کے ساتھ اسے قبول کر لینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتا اور کبھی کبھار خود بھی نام کے ساتھ ضرورت پڑنے پر یہ تعارفی لفظ لکھ دیتا ہوں۔ مگر اس سے زیادہ حضرت، علامہ، قبلہ، اور مدظلہ قسم کے الفاظ سے مجھے وحشت ہوتی ہے۔ جو حضرات اس کے اہل ہیں ان کے لیے ان الفاظ بلکہ ان سے بھی زیادہ بھاری بھر کم الفاظ کے استعمال میں کوئی مضائقہ نہیں مگر اپنے لیے مجھے یہ طبعاً پسند نہیں ہیں۔ اس لیے اگر راجہ صاحب مجھے ’’حضرت‘‘ کا مقام بخشنے سے گریز ہی فرمائیں تو ان کا بے حد کرم ہوگا۔

پھر راجہ صاحب کے اس ارشاد سے مجھے اختلاف ہے کہ:

’’عقائد و نظریات کے ساتھ کمٹمنٹ یا وفاداری کوئی ساکت یا جامد معاملہ نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک شعوری عمل کا نام ہے۔ اگر استواری کے پس پشت شعور و آگہی کا وجود ناپید ہو تو اس کی حیثیت ایک فکری مغالطے سے زائد نہیں ہوا کرتی۔‘‘

نظریات کی حد تک تو یہ بات سو فیصد درست ہے لیکن عقائد کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ اور اسی فرق کی تھوڑی سی وضاحت کرنا چاہتا ہوں۔

عقیدہ کا لفظ ’’عقد‘‘ سے ہے جس کا معنٰی ہے ’’گرہ باندھنا‘‘۔ یعنی عقیدہ اسے کہتے ہیں جس پر گرہ باندھ دی گئی ہو، اور کسی چیز پر گرہ باندھنے کے بعد اس میں کمی بیشی کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔ جبکہ نظریہ کا تعلق فکر و نظر سے ہے جو ’’نظر‘‘ کے زاویہ، دائرہ، اور سطح کے اختلاف کے ساتھ ساتھ مختلف ہوتا رہتا ہے۔ عقیدہ ہمیشہ جامد رہتا ہے اور نظریہ ہمیشہ متحرک ہوتا ہے، اس لیے ان دونوں کو ایک ہی زمرہ میں شمار کرنا درست نہیں ہے۔

عقیدہ کا تعلق حقائق اور موجودات سے ہوتا ہے۔ حقائق و موجودات کے بارے میں سب سے زیادہ مستند بات اسی کی ہے جو خود ان کا خالق ہے ۔اور خالق کے سب سے زیادہ معتمد اور مستند نمائندے انبیاء کرام علیہم السلام ہیں۔ اس لیے کسی چیز کے ماضی، وقوع، حال میں موجود، یا آئندہ وقوع پذیر ہونے کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے پیغمبر جو بات قطعیت کے ساتھ کہہ دیں وہی حرف آخر ہے۔ مثلاً ایمانیات کی بنیادی باتوں کو سامنے رکھ لیں۔ اللہ تعالیٰ کا وجود، توحید باری تعالیٰ، فرشتوں کا وجود، قیامت کا وقوع، جنت اور دوزخ وغیرہ۔ یہ سب باتیں وہ ہیں جن کے بارے میں ہمارے ایمان کی بنیاد قرآن و سنت کی صریح نصوص ہیں۔ جن کو سمجھنے کے لیے عقل و دانش ایک معاون کا کردار تو ادا کرتی ہیں لیکن ان میں سے کسی بات اور عقیدہ کا مدار عقل و دانش پر نہیں ہے۔ اسی وجہ سے ان کو عقائد کہتے ہیں اور یہ تمام آسمانی مذاہب میں کسی تفاوت اور فرق کے بغیر مشترک اور یکساں ہیں جسے خود جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح بیان فرمایا ہے کہ:

’’ہم انبیاء کرام کا گروہ آپس میں سوتیلے بھائی ہیں، ہماری مائیں الگ الگ ہیں لیکن ہم سب کا باپ ایک ہے۔‘‘

یہاں ماؤں سے مراد شریعتیں اور احکام و قوانین ہیں، جبکہ باپ سے مراد عقیدہ ہے۔ شریعت اور احکام و قوانین کا تعلق زمانوں، حالات اور ضروریات سے تھا جن کے بدلنے سے احکام و قوانین بدلتے رہے ہیں۔ مگر عقیدہ کا تعلق حقائق و موجودات سے ہے جو کبھی نہیں بدلتے، اس لیے عقیدہ ہمیشہ ایک ہی رہتا ہے۔

اس کے برعکس افکار و نظریات کا تعلق فکر و نظر سے ہے۔ دو انسانوں کے فکر و نظر کا زاویہ الگ الگ ہونے سے کسی بھی معاملہ میں دونوں کا فکر اور نظریہ مختلف ہو سکتا ہے۔ اور ایک ہی شخص کا نظریہ ایک وقت میں ایک، جبکہ دوسرے وقت میں حالات و معلومات میں فرق واقع ہونے سے اسی مسئلہ میں پہلے سے مختلف ہو سکتا ہے، بلکہ اکثر ہوتا رہتا ہے۔

اس موقع پر ایک اور فرق بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ ایک ہے نفس عقیدہ، اور ایک ہے اس کی تعبیر و توضیح۔ یہ دو الگ الگ چیزیں ہیں اور دونوں کا حکم بھی الگ الگ ہے۔ مثلاً جنت کے بارے میں قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ جنت موجود ہے جو اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار بندوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اس لیے یہ بات قطعی اور جامد ہے کہ جنت کا وجود ہے اور اس میں آج یا کل یا آئندہ کبھی دوسرے کسی احتمال کی قطعی طور پر کوئی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن ایک اس کی تعبیر و تشریح ہے۔ مثلاً جنت کہاں واقع ہے؟ اس کی وسعت کتنی ہے؟ اور اس کی دیگر کیفیات کیا ہیں؟ ان باتوں کا تعلق معلومات اور فکر و قیاس سے ہے۔ اس لیے اس معاملہ میں اپنی اپنی معلومات اور فکر و قیاس کی بنیاد پر ارباب علم کی آراء مختلف ہو سکتی ہیں۔ اسے عقیدہ کا اختلاف نہیں کہتے بلکہ یہ تعبیر و تشریح کا اختلاف کہلاتا ہے اور اس کی گنجائش علمی دنیا میں ہر وقت موجود رہتی ہے۔

چنانچہ عقائد و نظریات کے عنوان سے ہم جن باتوں پر یقین کرتے ہیں ان کے تین الگ الگ دائرے بن جاتے ہیں:

  1. عقائد: جن کی بنیاد وحی الٰہی اور نص قطعی پر ہے اور ان میں کمی بیشی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
  2. عقائد کی تعبیر و تشریح: جن کی بنیاد میسر معلومات اور دائرہ تحقیق پر ہے اور اس معاملہ میں اہل علم کی رائے آپس میں مختلف ہو سکتی ہے۔
  3. افکار و نظریات: جن کی بنیاد انسان کی فکر و نظر پر ہے اور ان میں ہر وقت حرکت قائم رہتی ہے۔ کسی بھی شخص کی فکر یا نظریہ کبھی حرف آخر نہیں ہوتا اور شعور و آگہی کے دائرہ میں وسعت کے ساتھ افکار و نظریات میں ارتقاء کا سلسلہ بھی کسی تعطل کے بغیر جاری رہتا ہے۔

ہمارے ہاں گڑبڑ دراصل اس وقت ہوتی ہے جب ہم تینوں کو آپس میں گڈمڈ کر دیتے ہیں۔ ہم عقیدہ کی طرح اس کی تعبیر و تشریح اور اپنے افکار و نظریات کو بھی حرف آخر قرار دے کر دوسروں سے اسے بہرحال منوانے کی کوشش کرتے ہیں جو خود ہماری تحقیق اور فکر و نظر کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ اور یہیں سے اختلاف تنازعہ کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔