جج صاحبان کی بحالی اور عدلیہ سے قوم کی توقعات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۸ مارچ ۲۰۰۹ء
اصل عنوان: 
سستا اور فوری انصاف، وقت کی اہم ضرورت

چیف جسٹس آف پاکستان عزت مآب جسٹس افتخار محمد چودھری نے اپنے منصب پر دوبارہ کام شروع کر دیا ہے اور اس کے ساتھ ہی پاکستان کی عدالتی تاریخ کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگیا ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور ان کے ساتھ معزول کیے جانے والے دیگر معزز جج صاحبان کی بحالی کے لیے وکلاء اور قوم کے دیگر مختلف طبقات نے جس مضبوطی کے ساتھ آواز اٹھائی ہے اور اس کے لیے جہد مسلسل کی ہے وہ بلاشبہ پاکستان کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے، جس نے دنیا پر یہ بات واضح کر دی ہے کہ پاکستان کے عوام ملی وقار اور آزادی کا شعور رکھتے ہیں اور اگر انہیں مناسب قیادت مل جائے تو اس شعور کا پوری قوت کے ساتھ اظہار بھی کر سکتے ہیں۔ ایک آمر کے غیر دستوری رویے اور اقدامات کو مسترد کر کے ملک کی عدالتِ عظمیٰ کے وقار اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے پاکستانی قوم نے جو جدوجہد کی اور اسے منطقی انجام تک پہنچایا ہے اس نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستانی معاشرہ ایک زندہ اور بیدار معاشرہ ہے جسے کسی آمر کے ذریعے کنٹرول کر لینا اب آسان کام نہیں رہا۔ اس جدوجہد میں سب سے نمایاں کردار تین قوتوں کا رہا ہے اور وہ یقیناً تاریخ میں اس کے کریڈٹ او رمبارکباد کی سب سے زیادہ حقدار ہیں:

  1. سب سے پہلے وکلاء برادری جس نے اسے پوری قانون دان برادری کا مسئلہ بنا لیا اور مکمل اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ قوم کی رہنمائی اور قیادت کی۔
  2. دوسرے نمبر پر میڈیا جس نے عوام کے جذبات اور قومی تقاضوں کی بھرپور ترجمانی کی اور حریتِ فکر کا پرچم بلند رکھا۔
  3. اور تیسرے نمبر پر وہ سیاسی اور دینی جماعتیں جنہوں نے اس تحریک کو مکمل سپورٹ مہیا کی۔ بالخصوص میاں محمد نواز شریف، قاضی حسین احمد، عمران خان، پروفیسر ساجد میر، انجینئر سلیم اللہ خان اور دیگر دینی و سیاسی قائدین جنہوں نے اس تحریک کا قدم بہ قدم ساتھ دیا۔ لیکن ان سب سے زیادہ وہ عوام جو ان کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے کئی بار سڑکوں پر آئے اور اپنے بپھرے ہوئے جذبات کے ساتھ اس تحریک کو ناقابل شکست بنا دیا۔

ہم آزادی اور قومی وقار کی بحالی کی جدوجہد میں اس پیش رفت پر ان تمام حضرات اور پوری قوم کو مبارکباد دیتے ہیں، البتہ ہمیں حسرت رہی کہ اے کاش! مولانا فضل الرحمان یا مولانا سمیع الحق میں سے بھی کوئی اس تحریک میں فرنٹ پر ہوتا اور جمعیۃ علماء اسلام، جس کا ماضی عوامی تحریکوں کی حمایت سے عبارت رہا ہے، اس قومی اور عوامی جدوجہد میں نمایاں نظر آتی۔ مولانا فضل الرحمان نے تو قومی سیاست میں جو رخ ایک عرصہ سے اختیار کر رکھا ہے اس کے پیش نظر ان سے اس سے زیادہ توقع نہیں کی جا سکتی تھی جو انہوں کیا ہے مگر مولانا سمیع الحق کو کیا ہوگیا ہے؟

’’رموز مملکت خویش خسرواں داند‘‘

تحریک کے ابتدائی دور میں پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے راقم الحروف نے پاکستان بار کونسل کے متعلقہ اجلاسوں میں کئی بار شرکت کی ہے اور اس بات کے امکانات تلاش کرنے کی کوشش کرتا رہا ہوں کہ اس تحریک میں دینی قوتوں کے نمایاں طور پر آگے آنے کی کوئی صورت نکالی جائے لیکن مجھے دونوں طرف سے کوئی گرم جوشی نظر نہیں آئی۔ وکلاء قیادت کی کوشش شروع سے یہ رہی ہے کہ دینی جماعتیں اس تحریک میں ان کا ساتھ تو دیں مگر کسی ٹائٹل اور مذہبی حمایت کا تاثر دیے بغیر پیچھے پیچھے چلیں۔ جبکہ یہ بات دینی جماعتوں کے مزاج ہی کے خلاف ہے کہ وہ کسی تحریک میں موجود تو ہوں مگر فرنٹ پر نظر نہ آئیں۔ چنانچہ جن دینی جماعتوں نے تحریک کا عملاً ساتھ دیا ہے ان کے ساتھ بھی وکلاء قیادت کا فاصلہ آخر دم تک قائم رہا ہے۔ تحریک کی کامیابی کے بعد محترم قاضی حسین احمد نے ایک تفصیلی مضمون میں جن تاثرات کا اظہار کیا ہے وہ میرے نزدیک اسی ناگفتنی کا بعد از وقت اظہار ہے۔ دوسری طرف میری کوشش رہی کہ دینی جماعتیں بالخصوص جمعیۃ علماء اسلام کا کوئی دھڑا نظر انداز کیے جانے کی پرواہ کیے بغیر پوری قوت کے ساتھ اس تحریک میں شامل ہو جائے مگر مجھے اس میں کامیابی نہ ہوئی۔ پاکستان شریعت کونسل اپنی ساخت اور دائرہ کار کے حوالے سے ایک علمی اور فکری فورم ہے جس کا عملی سیاست اور تحریکی طریق کار کے ساتھ کوئی جوڑ نہیں ہے اس لیے ہم بھی اصولی حمایت تک محدود رہے جس کا متعدد مواقع پر اظہار ہوتا رہا اور اس کالم میں کئی بار اس حوالہ سے گزارشات پیش کی گئیں۔ یہ بات ان دینی جماعتوں کے قائدین کے لیے لمحۂ فکریہ ہے جو قومی سیاست میں متحرک ہیں کیونکہ یہ ملک کی پہلی عوامی تحریک ہے جو کامیابی سے ہمکنار ہوئی مگر اس کی صف اول کی قیادت میں دینی جماعتوں کی کوئی نمائندگی نظر نہیں آرہی۔

بہرحال اس پس منظر میں ملک کی عدالتِ عظمیٰ کے ایک نئے دور کے آغاز پر ہمیں خوشی ہے۔ اور ہم توقع کر رہے ہیں کہ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کو گورنر جنرل غلام محمد کی طرف سے تحلیل کیے جانے پر چیف جسٹس محمد منیر مرحوم کی طرف سے اسے جواز کی سند فراہم کرنے سے عدالتِ عظمیٰ کے آزادانہ اور دستوری کردار پر جس حرف گیری کا آغاز ہو گیا تھا اور نظریۂ ضرورت کے مسلسل استعمال سے اس کا دائرہ روز بروز وسیع ہوتا جا رہا تھا، اسے شاید بریک لگ گئی ہے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان پر دستور و قانون کی حکمرانی کے امکانات واضح نظر آنے لگے ہیں۔ خدا کرے کہ ہماری یہ توقع درست ثابت ہو۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور ان کے دیگر معزز رفقاء کی بحالی سے پوری قوم نے اور قوم کے مختلف طبقات نے جو توقعات ان سے وابستہ کر لی ہیں اور جن کا قومی پریس میں مختلف حوالوں سے اظہار ہو رہا ہے ان کا دائرہ بہت وسیع ہے، بالخصوص جنرل (ر) پرویز مشرف کے احتساب، گمشدہ شہریوں کی بازیابی، لال مسجد کے سانحہ، اور ملک کی سرحدوں کے اندر غیر ملکی حملوں کی روک تھام کے بارے میں عوامی جذبات کسی سے مخفی نہیں ہیں۔ لیکن ان سب کے ساتھ ساتھ ہماری سب سے بڑی خواہش اور توقع وہی ہے جس کا ہم نے سطور بالا میں ذکر کیا ہے کہ دستور و قانون کی حکمرانی اور وطن عزیز کو دستور کے مطابق صحیح معنوں میں ایک اسلامی اور جمہوری ریاست بنانے کی کوشش میں آ کر عدالت عظمیٰ اپنا کردار صحیح طور پر ادا کر سکے تو یہی اصل شکرانہ ہوگا اللہ تعالیٰ کے فضل اور پاکستانی عوام کی اس حمایت کا جس کی وجہ سے معزز جج صاحبان اپنے مناصب پر دوبارہ وقار اور عزت کے ساتھ واپس آئے ہیں۔

چیف جسٹس جناب افتخار محمد چودھری نے اپنے نئے دور کے آغاز پر عدلیہ کی اصلاح کی بھی بات کی ہے اور کہا ہے کہ سول جج سے لے کر سپریم کورٹ تک عدلیہ کے بارے میں جو عوامی تاثر پایا جاتا ہے اسے دور کر کے ہی ہم عدلیہ کو اس کا صحیح مقام دے سکتے ہیں۔ چیف جسٹس صاحب کی اس بات پر ’’تیرے منہ میں گھی شکر‘‘ اور ’’تیری آواز مکے اور مدینے‘‘ کا نعرۂ مستانہ بلند کرنے کو جی چاہتا ہے اس لیے کہ اگر عدلیہ صحیح معنوں میں عدلیہ بن جائے تو کسی اور بات کی ضرورت ہی باقی نہیں رہ جاتی۔ موجودہ عدالتی نظام کے بارے میں عوام کے تاثرات کیا ہیں، وہ ہمارے معزز جج صاحبان بخوبی جانتے ہیں۔ مگر یہ نظام اس خطے میں رائج کرنے والوں کے اپنے تاثرات کیا تھے؟ برطانوی آئی سی ایس کے ایک سابق افسر پنڈال مورن نے، جو قیام پاکستان سے پہلے امرتسر کے ڈپٹی کمشنر رہے ہیں، اپنی یادداشتوں میں جن کا اردو ترجمہ ’’اجنبی حکمران‘‘ کے نام سے ہو چکا ہے، تفصیل کے ساتھ اس کا اظہار کیا ہے۔ اس کا صرف ایک اقتباس اس مرحلہ میں پیش خدمت ہے:

’’سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ انگریزی قانون کا نظام جو سیدھے سادے ہندوستانیوں کے لیے قطعاً ناموزوں ہے، ان پر کیوں مسلط کر دیا گیا ہے؟ شروع زمانے کے انگریز افسر بھی اسے بارہا مطعون کر چکے ہیں۔ وارن ہیسٹینگز کا خیال تھا کہ ہندوستان پر ایک ایسا نظام مسلط کر دینا بدترین ظلم ہے جو ہندوستان کے حالات کو پیش نظر رکھ کر نہیں بنایا گیا۔ میکالے نے لکھا تھا کہ ’’زمانہ ماضی کے ایشیائی اور غیر ایشیائی جابر حکمرانوں کے مظالم کا مقابلہ جب سپریم کورٹ کے انصاف سے کیا جائے تو ان کے مظالم ایک نعمت معلوم ہوتے ہیں‘‘۔ مٹکاف کو ہماری عدالتیں ایک آنکھ نہیں بھاتی تھیں جو اتنے عظیم الشان کارخیر کے لیے قائم کی گئی ہیں، وہ جانتا تھا کہ لوگ ان عدالتوں سے پناہ مانگتے ہیں، اس نے ایک سو سال پہلے کی عدالتوں کی جو تصویر کھینچی تھی آج بھی حرف بحرف اس عدالت پر پوری اترتی ہے کہ ’’ہماری عدالتیں کیا ہیں؟ بے ایمانی کا اکھاڑہ ہیں ۔۔۔۔ اسٹیج میں جج بیٹھتا ہے اور چاروں طرف سازشوں کا مجمع لگتا ہے ۔۔۔۔ ہر شخص کی کوشش ہوتی ہے کہ اسے دھوکہ دے اور کسی طرح انصاف نہ کرنے دے، وکیل تو سچ بولنا جانتے ہی نہیں‘‘۔

پنڈال مورن کی اس منظر کشی کے بعد موجودہ عدالتی نظام کے بارے میں مزید کچھ کہنے کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔ آج جو سوات، بلوچستان اور دیگر خطوں کے عوام اس پیچیدہ عدالتی نظام سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں اور سستا اور فوری انصاف حاصل کرنے کے لیے مقامی سطح پر شرعی عدالتی نظام کا مطالبہ کر رہے ہیں تو اس کی وجہ سمجھنا بھی مشکل نہیں رہتا۔ اگر چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور ان کے معزز رفقاء موجودہ عدالتی نظام کی پیچیدگیوں کو دور کر کے اسے عوام کی ضروریات اور اس خطے کے حالات کے مطابق سستا اور فوری انصاف مہیا کرنے کا ضامن بنا سکیں تو وہ صرف عوام کے سامنے ہی سرخرو نہیں ہوں گے بلکہ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں بھی قرون اولیٰ کے عادل قاضیوں کی صف میں جگہ پا سکیں گے، خدا کرے کہ ایسا ہی ہو، آمین یا رب العالمین۔