توہینِ رسالتؐ کے خلاف منظم جدوجہد کی ضرورت

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۴ مارچ ۲۰۰۸ء

ڈنمارک کے اخبارات میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکوں کی دوبارہ اشاعت نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات میں ایک بار پھر ہلچل پیدا کر دی ہے اور مختلف ممالک میں اس کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان میں بھی متعدد شہروں میں پرجوش مظاہرے ہوئے ہیں اور دھیرے دھیرے یہ احتجاجی مہم ملکی سطح پر منظم ہوتی نظر آرہی ہے۔ ان خاکوں کی اشاعت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ وہ آزادیٔ اظہارِ رائے کا حق استعمال کر رہے ہیں اس لیے مسلمانوں کو اس سے غصہ میں نہیں آنا چاہیے۔ لیکن وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ رائے کا اختلاف اور تنقید الگ امور ہیں جبکہ استہزا، طعن اور توہین کا دائرہ اس سے مختلف ہے اور اختلاف رائے کی آڑ میں ہتک اور توہین کی اجازت کبھی نہیں دی جاتی۔ خاص طور پر اس صورت میں کہ جس شخصیت کو ہتک اور طنز کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اس کے ساتھ دنیا کے کروڑوں نہیں بلکہ ایک ارب سے زیادہ مسلمانوں کی گہری عقیدت وابستہ ہے اور وہ اس شخصیت کو اپنی جانوں سے بھی زیادہ عزیز سمجھتے ہیں۔

گزشتہ روز اس سلسلہ میں ایک محفل میں گفتگو کا موقع ملا تو میں نے عرض کیا کہ دنیا کے کم و بیش ہر ملک میں ہتک عزت سے ہر شہری کو تحفظ دینے کا قانون موجود ہے اور کسی بھی شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ازالۂ حیثیتِ عرفی سے بچاؤ کے لیے قانون کا دروازہ کھٹکھٹائے۔ اسے انسانی حقوق میں شمار کیا جاتا ہے مگر حیرت کی بات ہے کہ ایک عام شہری کی حیثیت عرفی کے تحفظ کی ذمہ داری تو ہر ملک کا قانون قبول کرتا ہے لیکن جس شخصیت کو آج بھی دنیا بہت سے حوالوں سے دنیا کا نمبر ون شخصیت تسلیم کرتی ہے اس کی حیثیت عرفی کے تحفظ کا حق تسلیم نہیں کیا جا رہا اور اسے آزادیٔ رائے کی دھند کی نذر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بہرحال آزادیٔ رائے کے عنوان سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کا یہ ایک نیا راؤنڈ ر ہے جس میں ڈنمارک کے اخبارات نے ایک بار پھر دنیا کے مسلمانوں کو اس مسئلہ کی طرف متوجہ کر دیا ہے اور مسلمانوں کے مختلف حلقوں اور طبقات کے لوگ اپنے اپنے انداز میں اس سلسلہ میں جذبات کا اظہار کر رہے ہیں۔

گوجرانوالہ میں بھی اجتماعات اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک متعدد جماعتوں کے زیر اہتمام درجنوں ریلیاں نکل چکی ہیں، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر میں منعقدہ ایک اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہر حلقہ اور مکتب فکر کی طرف سے الگ الگ طور پر جذبات کے اظہار کے ساتھ ساتھ گوجرانوالہ کی سابقہ روایات کے مطابق اجتماعی احتجاج کی بھی کوئی صورت نکالنی چاہیے۔ ہماری ایک عرصہ سے یہ روایت رہی ہے کہ کوئی اجتماعی مسئلہ سامنے آئے تو مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں مختلف مکاتب فکر کے راہنما جمع ہوتے ہیں اور مشترکہ طور پر اجتماع کا کوئی نہ کوئی پروگرام بن جاتا ہے۔ چنانچہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی تحریک پر راقم الحروف نے ۲ مارچ کو شہر کے سرکردہ علماء کرام اور دینی راہنماؤں کو مرکزی جامع مسجد میں جمع ہونے کی زحمت دی اور باہمی مشاورت کے ساتھ احتجاج کی مختلف صورتوں پر غور کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت بزرگ عالم دین حضرت مولانا احمد سعید ہزاروی نے فرمائی جو جمعیۃ علماء اسلام کے سینئر راہنماؤں میں سے ہیں اور حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ کے رفیق کار رہے ہیں۔ جبکہ مختلف دینی جماعتوں اور مکاتب فکر کے ساٹھ کے لگ بھگ علماء کرام اجلاس میں شریک ہوئے جن میں مولانا قاضی حمید اللہ خان، مولانا سید عبد المالک شاہ، مولانا حافظ اسعد محمود سلفی، مولانا حافظ عمران شریف، مولانا محمد نواز بلوچ، مولانا قاضی عطاء المحسن راشد، مولانا محمد ریاض خان سواتی، مولانا قاری حماد الزہراوی، مولانا صاحبزادہ نصیر احمد اویسی، جناب حمید الدین اعوان، جناب حافظ محمد ثاقب، جناب بابر رضوان باجوہ، حافظ محمد صدیق نقشبندی، حافظ ابرار احمد ظہیر، حافظ محمد ابراہیم نفیس اور جناب عثمان عمر ہاشمی بطور خاص قابل ذکر ہیں۔

حسن اتفاق سے قلعہ دیدار سنگھ سے ایک ایسے نوجوان بھی اجلاس میں شریک ہوئے جو کچھ عرصہ ڈنمارک میں رہے ہیں اور وہاں کے حالات سے واقف ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈنمارک کے لوگوں کی نفسیات یہ ہے کہ وہ سب سے زیادہ معاشی بائیکاٹ سے متاثر ہوتے ہیں اور کاروباری نقصان کسی صورت میں برداشت نہیں کر سکتے۔ اس لیے احتجاج میں اس پہلو پر زیادہ زور دینے کی ضرورت ہے اور خاص طور پر عرب ممالک کے عوام کو توجہ دلانا ضروری ہے اس لیے کہ عرب ممالک میں ڈنمارک کے دودھ کی بہت بڑی مارکیٹ ہے اور ڈنمارک کی معیشت عربوں کے بائیکاٹ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ نوجوان کا کہنا ہے کہ ڈنمارک کی ڈیری سے متعلق بہت بڑی فرم Arla Foods ہے جس کی مصنوعات سب سے زیادہ عرب ممالک میں جا رہی ہیں اس کا بطور خاص مقاطعہ کرنے کی ضرورت ہے اور اس سلسلہ میں عرب عوام کو متوجہ کرنا چاہیے۔

ایک نوجوان نے اجلاس کے شرکاء کو بتایا کہ یہ خاکے انٹرنیٹ کی ویب سائیٹ وکیپیڈیا پر بھی دکھائے جا رہے ہیں اور لوگوں کے شدید احتجاج پر اس ویب سائیٹ نے اپنے پیج پر موجود سب سے اوپر والی تصویر پر وائٹ واش کر کے یہ تاثر دیا ہے کہ اس نے یہ خاکے ختم کر دیے ہیں لیکن یہ صرف دکھاوے کے لیے ہے، اس لیے کہ پیج کے اندر تمام تصاویر اور خاکے بدستور موجود ہیں اور دیکھے جا رہے ہیں۔ نوجوان نے بتایا کہ اس سلسلہ میں احتجاج ویب سائیٹ thepetitionsite.com پر نوٹ کرایا جا سکتا ہے اور اب تک مختلف اطراف سے لاکھوں حضرات اس ویب سائیٹ کے ذریعے اپنا احتجاج ریکارڈ کروا چکے ہیں۔ اس پر شرکائے اجلاس نے اس بات سے اتفاق کیا کہ احتجاج کی دیگر صورتوں کے ساتھ ساتھ اس پہلو پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے اور خاص طور پر انٹرنیٹ استعمال کرنے والے نوجوانوں کو توجہ دلانی چاہیے کہ وہ اس ذریعے سے زیادہ سے زیادہ احتجاج ریکارڈ کروائیں اور اس احتجاجی مہم کے لیے انٹرنیٹ کو جس قدر مؤثر انداز میں وہ استعمال کر سکتے ہیں اس سے گریز نہ کریں۔

ایک صاحب نے یہ تجویز پیش کی کہ حکومت پاکستان کی وزارت خارجہ اور اسلام آباد میں ڈنمارک کے سفارت خانے کے نام عوامی خطوط کی مہم شروع کی جائے۔ ایک خط کا مضمون تجویز ہو جائے اور اسے زیادہ سے زیادہ لوگ اپنی طرف سے حکومت پاکستان کی وزارت خارجہ اور اسلام آباد میں ڈنمارک کے سفیر کو بھجوائیں۔

اس موقع پر یہ بات بھی زیر بحث آئی کہ ایسے مواقع پر ہنگامی طور پر مختلف مکاتب فکر کے راہنما جمع ہوتے ہیں اور وقتی طور پر جذبات کا اظہار کر کے پھر منتشر ہو جاتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ کوئی مستقل فورم تشکیل دیا جائے جو انتخابی سیاست سے الگ رہتے ہوئے مختلف دینی مکاتب فکر کا مشترکہ پلیٹ فارم بن جائے، اس کے وقتاً فوقتاً اجلاس ہوتے رہیں اور اس قسم کے ملی مسائل پر نئے سرے سے ہر موقع پر الگ تحریک منظم کرنے کی بجائے اسی مشترکہ فورم سے اس کے لیے بروقت آواز اٹھائی جائے۔ احباب کا خیال تھا کہ اس قسم کے کسی نئے مشترکہ محاذ کی تشکیل کی ضرورت نہیں کیونکہ پہلے سے ایک مشترکہ پلیٹ فارم ’’کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان‘‘ کی صورت میں موجود ہے اسے دوبارہ متحرک کر کے یہ مقاصد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اور اس کے لیے ہمیں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سے درخواست کرنا ہوگی کہ وہ بحیثیت داعی کل جماعتی مجلس تحفظ ختم نبوت ازسرنو تشکیل کے لیے حسب سابق مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ راہنماؤں کا مشترکہ اجلاس طلب کرے اور اس میں اس کی تشکیل نو کر لی جائے۔ اجلاس کے شرکاء نے میری اس گزارش سے اتفاق کیا اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی قیادت سے یہ اپیل کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی۔

اجلاس میں ایک بھرپور عوامی مظاہرے اور شہر میں ایک دن کی ہڑتال کی تجاویز بھی زیر بحث آئیں لیکن یہ فیصلہ ہوا کہ اس سے قبل تمام مکاتب فکر کے علماء کرام اور دینی کارکنوں کا ضلعی سطح پر ایک بھرپور کنونشن منعقد کیا جائے جس کے لیے ۸ مارچ ہفتہ کا دن طے پایا اور فیصلہ ہوا کہ دینی جماعتوں کے علاوہ سیاسی جماعتوں، تاجر تنظیموں اور مختلف طبقات کے راہنماؤں کو بھی دعوت دی جائے گی۔ اس کنونشن کے لیے وسیع تر رابطوں کی غرض سے رابطہ کمیٹی قائم کی گئی جبکہ کنونشن کی میزبانی کے لیے مرکزی جمعیۃ اہل حدیث گوجرانوالہ نے پیشکش کی جو قبول کر لی گئی اور مرکزی جمعیۃ اہل حدیث کے احباب نے اعلان کیا کہ وہ اس سلسلہ میں تمام انتظامات کریں گے۔

اجلاس میں طے پایا کہ عوامی مظاہرے اور ہڑتال کے بارے میں اس کنونشن کے موقع پر اجتماعی فیصلہ کیا جائے گا جبکہ اس سلسلہ میں مسلم حکومتوں کی سرد مہری بالخصوص حکومت پاکستان کے طرز عمل کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے ایک قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ ڈنمارک کے ساتھ سفارتی تعلقات فوری طور پر منقطع کیے جائیں اور اسلامی سربراہ کانفرنس کا ہنگامی اجلاس طلب کر کے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی اور نمائندگی کے لیے مؤثر لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔ ؔ

ایک قرارداد کے ذریعے ملک کی دینی و سیاسی جماعتوں کے قائدین سے اپیل کی گئی کہ وہ اس سلسلہ میں حکومت پاکستان کو اس کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلانے کے ساتھ ساتھ اسلام آباد میں ڈنمارک کے سفارت خانے سے بھی رابطہ کریں اور ایک وفد کی صورت میں اسلام آباد میں مغربی سفارت کاروں سے ملاقات کر کے انہیں اسلامیان پاکستان کے جذبات سے آگاہ کریں۔

ایک اور قرارداد میں ملک بھر کے تاجر حلقوں اور عوام سے اپیل کی گئی کہ ڈنمارک کی مصنوعات کا بھرپور بائیکاٹ کر کے ڈنمارک کی حکومت کو اس سلسلہ میں مسلمانوں کے جذبات کی شدت اور صورتحال کی سنگینی کا احساس دلایا جائے

بہرحال میرے خیال سے یہ اس احتجاج کو منظم شکل دینے کے لیے اچھی پیشرفت ہے اور اگر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی قیادت نے ہماری درخواست قبول کر لی تو ملک میں ایک جاندار تحریک کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

درجہ بندی: