’’الرشید ٹرسٹ‘‘ کا جرأت مندانہ فیصلہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲۲ جون ۲۰۰۱ء

ایک قومی روزنامہ نے لندن کے اخبار ٹیلی گراف کے حوالہ سے یہ رپورٹ شائع کی ہے کہ برطانوی وزیرخارجہ جیک سٹرا نے پاکستان کے وزیر خارجہ جناب عبد الستار سے اپنی حالیہ گفتگو میں خبردار کیا ہے کہ پاکستان طالبان کے ساتھ فاصلہ قائم رکھے ورنہ وہ عالمی برادری سے دور ہوتا چلا جائے گا۔

یہ انتباہ ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب کہ اقوام متحدہ نے کابل میں بے سہارا افغان عوام کو خوراک مہیا کرنے کے لیے قائم کی گئی ۱۵۵ بیکریاں (تنور) بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے اور اس کا اصرار ہے کہ ان بیکریوں پر کام کرنے والے اہل کاروں بالخصوص عورتوں کے سلسلہ میں افغانستان کی طالبان حکومت اپنے مقامی قوانین پاسداری کرنے کی بجائے اقوام متحدہ کے قوانین کا اطلاق قبول کرے۔ جس کے بارے میں طالبان حکومت کے ذمہ دار حضرات کئی بار کہہ چکے ہیں کہ اقوام متحدہ کے متعدد قوانین اور ضابطے شریعت اسلامیہ سے متصادم ہیں اور وہ اسلام کے قوانین و احکام کے خلاف کسی قانون یا قاعدہ کو قبول نہیں کر سکتے۔

اقوام متحدہ کے ان تنوروں کے ذریعے کابل کے تقریباً پونے تین لاکھ افراد کو خوراک مہیا کی جا رہی تھی جن میں غربا، مساکین اور بیوائیں شامل ہیں لیکن اقوام متحدہ نے ان بے کس اور افلاس زدہ افغان عوام کی ضروریات کو پیش نظر رکھنے کی بجائے اپنے قوانین و احکام پر عملدرآمد کو ترجیح دی ہے۔ جس سے ایک بار پھر واضح ہوگیا ہے کہ افغانستان میں جنگ زدہ عوام کی امداد اور بحالی کے نام پر اقوام متحدہ اور مغربی ممالک کے پروگراموں کا اصل مقصد افغان عوام کی امداد اور ان کی ناگزیر ضروریات کو پورا کرنا نہیں بلکہ ان کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے قوانین اور کلچر کو ان پر مسلط کرنا ہے اور انہیں بہرحال مغربی ثقافت اور کلچر کو قبول کرنے پر مجبور کرنا ہے۔ مگر طالبان حکومت ہر قسم کے دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے شریعت اسلامیہ کے احکام و قوانین کے ساتھ اپنی دوٹوک کمٹمنٹ کا بار بار اعلان کر رہی ہے اور وہ اس بارے میں لالچ یا خوف کے کسی حربے کو کارگر ہونے کا موقع نہیں دے رہی۔ چنانچہ اقوام متحدہ کی طرف سے ان تنوروں کو بند کر دینے کے اعلان کے بعد بھی طالبان حکومت کے وزراء نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ اقوام متحدہ کا مقصد شرعی قوانین میں لچک پیدا کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا ہے مگر طالبان حکومت نے اس سلسلہ میں کسی بھی دباؤ کو قبول کرنے کا حتمی فیصلہ کر رکھا ہے اور اس کے لیے وہ کوئی بھی قربانی دینے کے لیے تیار ہے۔

مغربی ممالک نے امریکہ کی قیادت میں اقوام متحدہ کی چھتری تلے طالبان حکومت کو دنیا مین یکہ و تنہا کر دینے اور افغان عوام کو بھوکا مارنے کا یہ پروگرام ایک عرصہ سے شروع کر رکھا ہے اور برطانوی وزیرخارجہ کی طرف سے پاکستان کو طالبان کے ساتھ فاصلہ قائم رکھنے کے اس انتباہ کا مقصد بھی یہی ہے کہ پاکستان سے طالبان حکومت کو جو حمایت، امداد اور پشت پناہی فراہم ہو رہی ہے اس کا راستہ بند کیا جا سکے۔ کیونکہ مغربی حکومتیں بجا طور پر یہ سمجھتی ہیں کہ اگر پاکستان کی طرف سے طالبان حکومت کے ساتھ تعاون اور حمایت کا سلسلہ جاری رہا تو اقوام متحدہ اور مغربی ممالک کی پابندیاں ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکیں گی اسی لیے وزیرخارجہ جناب عبد الستار کو براہ راست گفتگو میں یہ انتباہ کرنا ضروری سمجھا گیا ہے۔ لیکن جیک سٹرا کو یہ معلوم نہیں کہ پاکستان صرف حکومت کا نام نہیں بلکہ اس ملک میں کروڑوں ایسے مسلمان بستے ہیں جو طالبان حکومت کے ساتھ محبت اور عقیدت کا رشتہ رکھتے ہیں، پاکستان میں دینی حلقے ہیں جنہوں نے افغان جہاد میں اپنے افغان بھائیوں کی مکمل پشت پناہی کی ہے، ہزاروں علماء، طلبہ اور دینی کارکنوں نے روسی استعمار کے خلاف لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا ہے اور وہ اب بھی جہاد افغانستان کے نظریاتی و منطقی نتائج کی تکمیل کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کا عزم رکھتے ہیں۔ اس لیے اقوام متحدہ یا جیک سٹرا کے کہنے پر حکومت اگر طالبان کے ساتھ فاصلے قائم کرنے یا رکھنے کی کوئی حکمت عملی طے کرتی ہے تو وہ صرف اسی کے دائرہ تک محدود رہے گی اور پاکستان کے دینی حلقوں اور مسلمانوں کے جو تعلقات محبت و عقیدت طالبان کے ساتھ استوار ہو چکے ہیں انہیں ختم یا کم کرنا اب کسی کے بس میں نہیں رہا۔ اور یہ بات نظری اور خیالی نہیں بلکہ اس کی عملی مثال بھی سامنے آچکی ہے کہ کراچی کے ’’الرشید ٹرسٹ‘‘ نے اقوام متحدہ کی کابل میں بند کی جانے والی ۱۵۵ بیکریوں کا انتظام سنبھالنے کا اعلان کر دیا ہے اور اس سلسلہ میں الرشید ٹرسٹ کے نمائندے طالبان حکومت کے ذمہ دار حضرات کے ساتھ مل کر عملدرآمد کے لیے سروے مہم کا آغاز کر چکے ہیں۔

الرشید ٹرسٹ ایک عرصہ سے حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانوی کی سرپرستی میں افغانستان اور دیگر علاقوں میں مظلوم اور بے سہارا مسلمانوں کی اداد اور بحالی کے لیے سرگرم عمل ہے اور وقیع خدمت سرانجام دے رہا ہے، لیکن اس کی طرف سے اقوام متحدہ کے بند کیے ہوئے تنوروں کا انتظام سنبھالنے کا یہ فیصلہ فی الواقع بہت بڑا ہے جس پر بی بی سی نے بھی حیرت کا اظہار کیا ہے۔ بی بی سی کا کہنا ہے کہ پونے تین لاکھ افراد کو مستقل بنیادوں پر خوراک کی فراہمی ممکن نہیں ہے کیونکہ اس کے لیے ہر ماہ اڑھائی ہزار ٹن گندم درکار ہوگی اور سالانہ لاگت آٹھ ملین ڈالر کے لگ بھگ پہنچ سکتی ہے۔ مگر الرشید ٹرسٹ نے ایک حالیہ نشریہ میں کہا ہے کہ وہ دیندار اور مخیر مسلمانوں کے تعاون سے اس خدمت کو سرانجام دینے میں کامیاب ہو جائے گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ الرشید ٹرسٹ نے یہ اعلان کر کے بہت بڑا چیلنج قبول کیا ہے اور اقوام متحدہ پر واضح کیا ہے کہ پاکستان کے عوام اور دینی حلقے افغانستان میں اسلامی قوانین پر مکمل عملدرآمد یا ان میں مغربی ممالک کی خواہش کے مطابق لچک پیدا کرنے کی اس کشمکش میں نہ صرف افغان عوام کے ساتھ ہیں بلکہ ان کی بھرپور عملی امداد اور پشت پناہی کے لیے بھی تیار ہیں۔ لیکن الرشید ٹرسٹ کو اس میدان میں تنہا چھوڑ دینا بھی دانش و حمیت کی بات نہیں ہوگی اس لیے ہم دیگر رفاہی اداروں اور دینی حلقوں سے گزارش کریں گے کہ وہ بھی صورتحال کی نزاکت اور سنگینی کو محسوس کریں اور اپنے افغان بھائیوں کی مدد، حمایت اور پشت پناہی کے لیے آگے بڑھیں جنہیں دنیائے کفر صرف اس لیے بھوکا مارنے پر تل گئی ہے کہ وہ اسلامی احکام و قوانین پر ہر حالت میں عمل کرنے کا تہیہ کیے ہوئےہیں اور اس سلسلہ میں کوئی دباؤ قبول کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہیں۔