ڈاکٹر محمود احمد غازی کی فکر انگیز باتیں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۸ جنوری ۲۰۰۵ء

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے صدر پروفیسر ڈاکٹر محمود احمد غازی ۲ جنوری کو ہماری دعوت پر ایک روز کے لیے گوجرانوالہ تشریف لائے اور بہت مصروف دن گزارا۔ وہ یکم جنوری کو ہی رات وزیرآباد آگئے تھے جہاں ہمارے رفیق کار پروفیسر حافظ منیر احمد ان کے میزبان تھے۔ ۲ جنوری کو صبح ناشتے پر انہوں نے وزیرآباد کے معززین کی ایک بڑی تعداد کو مدعو کر رکھا تھا جن سے ڈاکٹر صاحب نے مختلف مسائل پر گفتگو کی۔ وہاں سے گوجرانوالہ آتے ہوئے وہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم سے ملاقات کے لیے گکھڑ رکے اور پھر الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ تشریف لائے جہاں ’’دینی مدارس میں عمرانی علوم کی تدریس کی ضرورت و اہمیت‘‘ کے موضوع پر ایک فکری نشست کا اہتمام کیا گیا تھا۔

شہر کے سرکردہ علماء کرام، پروفیسر حضرات اور دیگر اہل دانش جمع تھے، راقم الحروف نے ڈاکٹر صاحب کا خیر مقدم کرتے ہوئے مختصر گفتگو میں الشریعہ اکادمی کی سرگرمیوں سے آگاہ کیا اور بتایا کہ فضلائے درس نظامی کے لیے ایک سالہ خصوصی کلاس میں اس سال ہمارے پاس بحمد اللہ پندرہ علمائے کرام ہیں جو پورے ذوق اور محنت کے ساتھ تعلیمی پروگرام میں شریک ہیں۔ بزرگ عالم دین علامہ محمد احمد لدھیانوی نے اختتامی کلمات کے ساتھ دعا کی اور معروف صحافی اور استاذ سید احمد حسین زید نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیے۔ اس سے قبل مہمان خصوصی پروفیسر ڈاکٹر محمود احمد غازی نے کم و بیش سوا گھنٹے کے تفصیلی خطاب میں مندرجہ بالا عنوان کے ساتھ ساتھ دینی مدارس کے نظام تعلیم اور نصاب کا مجموعی طور پر جائزہ لیا اور متعدد پہلوؤں پر سیر حاصل بحث کی۔ اس ساری گفتگو کا خلاصہ اس مختصر کالم میں ممکن نہیں ہے اور یہ خطاب ٹیپ ریکارڈر کی مدد سے مرتب کر کے ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ کی آئندہ کسی اشاعت میں شامل کیا جا رہا ہے۔ تاہم ان میں سے ایک پہلو پر ڈاکٹر صاحب کی گفتگو کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ دو سو سال قبل جب مغربی فلسفہ اور تہذیب، سیاسی اقتدار و غلبہ کے جلو میں مسلم ممالک پر حملہ آور ہوئی تو ہمارے ہاں تین قسم کا ردعمل ابھرا:

  1. ایک یہ کہ اس ثقافت اور تہذیب کو مکمل طور پر مسترد کر دیا جائے اور اس کی کسی بات کو قبول نہ کیا جائے۔ یہ ردعمل کچھ عرصہ پہلے بہت توانا اور طاقتور تھا اور مغربی تہذیب و ثقافت کے خلاف مسلسل مزاحمت ہوتی رہی مگر اب یہ مزاحمت کمزور ہوتی جا رہی ہے اور مذہبی فلسفہ و نظام کے خلاف مزاحمت و بغاوت کی وہ آواز جو بڑی قوت اور عزم کے ساتھ بلند ہوئی تھی اب اس میں وہ قوت دکھائی نہیں دے رہی۔
  2. دوسرا ردعمل یہ تھا کہ مغربی تہذیب و ثقافت اور فلسفہ و نظام کو اس کے تمام لوازم سمیت قبول کر لیا جائے۔ بہت سے سربرآوردہ لوگوں نے اس کے لیے محنت کی، اس پر مسلسل لکھا جاتا رہا اور مسلم معاشرہ کو مغربی تہذیب و ثقافت کو قبول کرنے پر آمادہ کرنے کی فکری تحریک میں بڑے بڑے دانشوروں نے حصہ لیا۔ لیکن مسلم معاشرہ نے اس بات کو قبول نہ کیا اور یہ تحریک بھی رفتہ رفتہ مدھم پڑتی جا رہی ہے۔
  3. تیسرا ردعمل جو ابتدا میں بہت کمزور تھا مگر اب وہ قوت پکڑتا جا رہا ہے اور اس کی وسعت و قوت میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے، یہ تھا کہ مغربی تہذیب کی اچھی باتوں کو قبول کیا جائے اور جو باتیں ہماری اقدار و روایات اور عقیدہ و ثقافت سے متصادم ہیں انہیں قبول نہ کیا جائے۔ مثلاً مغرب کی سائنسی تحقیقات، ٹیکنالوجی، سیاسی نظام اور رفاہی ریاست کے تصورات وغیرہ سے استفادہ کیا جائے، لیکن مرد و زن کی مطلق مساوات، مادر پدر آزادی، خاندانی نظام کی ٹوٹ پھوٹ اور حلال و حرام سے بے نیاز معیشت و معاشرت کی جو مغربی اقدار ہمارے عقیدہ و ثقافت سے متصادم ہیں انہیں رد کر دیا جائے۔ اس وقت پورے عالم اسلام میں اسی سوچ کا غلبہ ہے اور کم و بیش تمام مسلم ممالک میں دانشور یہی بات کر رہے ہیں کہ ’’خذ صفا ما ودع ما کدر‘‘ کے اصول پر عمل کرتے ہوئے قابل قبول باتوں سے گریز نہ کیا جائے اور جو باتیں قابل قبول نہیں ان سے بچنے کی کوشش کی جائے۔

یہ سوچ بہت مثبت اور منطقی ہے اور اس وقت عالم اسلام میں بیشتر ارباب علم و دانش اسی سوچ کو عام کرنے میں مصروف ہیں۔ لیکن اس سوچ کے حوالہ سے ایک بنیادی سوال غور طلب ہے کہ کیا مغرب بھی اس بات کے لیے تیار ہے کہ اس کے فلسفہ و نظام اور تہذیب و ثقافت میں جو باتیں ہمارے مطلب کی ہیں وہ ان سے ہمیں استفادہ کرنے کا موقع دے اور جو باتیں ہمارے لیے قابل قبول نہ ہوں ان کے قبول کرنے کے لیے ہم پر زور نہ دے؟ یہ بہت بنیادی سوال ہے اور معروضی حالات میں بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ کیونکہ ہم تو اس بات کے لیے تیار ہیں کہ مغرب سے اپنے مطلب اور فائدہ کی چیزیں لے لیں اور جن باتوں کو ہم اپنے فائدہ میں نہیں سمجھتے انہیں چھوڑ دیں مگر قبضہ اور کنٹرول مغرب کا ہے اور جو کچھ دینا ہے اس وقت اس نے دینا ہے، کیا وہ بھی اس کے لیے تیار ہے؟ اس حوالہ سے جب ہم اس سوال کا جائزہ لیتے ہیں تو مغرب کا گزشتہ دو سو سال کا طرزعمل اس کا جواب نفی میں دیتا ہے اور اب بھی مغرب کا رویہ بالکل واضح ہے کہ وہ سائنس، ٹیکنالوجی اور دیگر مفید چیزیں ہمیں اس وقت تک منتقل کرنے کے لیے تیار نہیں ہے جب تک ہم اس کے سیاسی غلبہ، عسکری بالادستی اور معاشی تسلط کے ساتھ ساتھ اس کی تہذیب و ثقافت اور فلسفہ و نظام کو بھی مکمل طور پر قبول نہ کر لیں۔ مغرب نے اپنے طرز عمل سے یہ بات بالکل واضح کر دی ہے کہ تہذیبی بالادستی اور فلسفہ و نظام کے تسلط کے بغیر وہ ہمیں کوئی چیز بھی دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔

ڈاکٹر محمود احمد غازی نے بتایا کہ یہ بات صرف نظری اور قیاسی نہیں ہے بلکہ مغرب کے چوٹی کے دانشوروں کے ساتھ اس مسئلہ پر ان کی براہ راست گفتگو ہوئی ہے، ان مسائل پر غور و خوض کی اعلیٰ سطحی نشستوں میں انہوں نے ان کے ساتھ شرکت کی ہے اور یہ سوال ان کے سامنے وضاحت کے ساتھ رکھا ہے جس کے جواب میں تمام مغربی دانشور متفق تھے کہ ایسا نہیں ہو سکتا اور جسے بھی قبول کرنا ہے اسے مغرب کی ثقافت و نظام کو مکمل طور پر قبول کرنا ہوگا۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ہم اگر مغرب سے سائنس اور ٹیکنالوجی سمیت اپنے مطلب اور فائدہ کی چیزیں لینا چاہتے ہیں تو ہمیں اس کے ساتھ اس کی ثقافت اور فلسفہ کو بھی اپنانا ہوگا اور اگر ہم مغرب کی ثقافت و فلسفہ کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو ہمیں اس سے سائنسی تحقیقات، ٹیکنالوجی، معاشی مفادات اور دیگر مفید چیزوں کے حصول کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے کہ یہ سوال ہمارے سامنے معروضی حالات میں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے اور مسلم دانشوروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ حالات کے اس معروضی تناظر میں امت کی رہنمائی کریں۔

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کی اس فکری نشست کے بعد ہم کامونکی روانہ ہوگئے جہاں جی ٹی روڈ پر ہمارے فاضل دوست مولانا عبد الرؤف فاروقی نے جامعہ اسلامیہ ٹرسٹ کے نام سے دینی ادارہ قائم کر رکھا ہے اور شب و روز اس کی تعمیر و ترقی میں مصروف ہیں۔ انہوں نے جامعہ اسلامیہ میں تحریک آزادی کے نامور رہنما مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ کے نام سے منسوب ایک ہال تعمیر کیا ہے جسے وہ مسیحی مشنریوں کی سرگرمیوں کے تعاقب اور اسلام کی دعوت و تبلیغ کے مشن کا مرکز بنانا چاہتے ہیں اور مسیحیت کے حوالہ سے علماء کرام اور عصری تعلیم سے بہرہ ور نوجوانوں کی خصوصی تعلیم و تربیت کے کورسز کے ساتھ ساتھ مختلف مذاہب کے تقابلی مطالعہ اور تحقیق و تصنیف کا مرکز قائم کرنے کے خواہش مند ہیں۔ اسی وجہ سے انہوں نے اس ہال کو حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ سے منسوب کیا ہے جو ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے سرکردہ رہنماؤں میں سے تھے اور جنہوں نے ان مسیحی پادریوں کی یلغار کا مقابلہ کیا تھا جو ایسٹ انڈیا کمپنی کے سیاسی تسلط کے سائے میں جنوبی ایشیا میں مسیحیت پھیلانے اور مسلمانوں کو مسیحی بنانے کے مشن پر آئے تھے۔ ان پادریوں کی یلغار کا جن علماء کرام نے مقابلہ کیا ان میں مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ سرفہرست ہیں۔ انہوں نے اس گروپ کے سب سے بڑے پادری ڈاکٹر فنڈر کو آگرہ کے مناظرہ میں شکست فاش دے کر ہندوستان چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ اس کے بعد ڈاکٹر فنڈر نے خلافت عثمانیہ کے مرکز قسطنطنیہ (استنبول) کو اپنی تبلیغی سرگرمیوں کا مرکز بنا لیا مگر جب سلطان عبد المجید خان مرحوم کی دعوت پر مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ وہاں پہنچے اور ڈاکٹر فنڈر کو مناظرے کی دعوت دی تو ڈاکٹر صاحب نے قسطنطنیہ سے بھی راہ فرار اختیار کر لی۔ اس کے بعد مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ نے سلطان عبد المجید خان مرحوم کی فرمائش پر ’’اظہار الحق‘‘ نامی معرکۃ الآراء کتاب لکھی جس کا اردو ترجمہ جسٹس (ر) مولانا تقی عثمانی نے ’’بائبل سے قرآن تک‘‘ کے نام سے کیا ہے۔ مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد ہجرت کر کے مکہ مکرمہ چلے گئے جہاں انہوں نے مدرسہ صولتیہ قائم کیا جو آج بھی وہاں دینی تعلیم کا ایک اہم ادارہ ہے۔

مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ ہال کی افتتاحی تقریب میں جمعیۃ علماء اسلام کے رہنما حضرت مولانا سمیع الحق، حضرت مولانا قاضی عبد اللطیف اور حضرت مولانا میاں محمد اجمل قادری کے علاوہ پاکستان شریعت کونسل کے امیر حضرت مولانا فداء الرحمان درخواستی بھی شریک تھے اور علاقہ کے سرکردہ علماء کرام اور معززین کی ایک بڑی تعداد جمع تھی۔ ڈاکٹر غازی صاحب نے اس تقریب میں اسلام اور مسیحیت کے حوالہ سے تفصیلی اور معلوماتی گفتگو کی اور راقم الحروف نے مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ کی حیات و خدمات کے چند پہلوؤں کا تذکرہ کیا۔ حضرت مولانا سمیع الحق نے آج کے حالات میں علمائے دین کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی، حضرت مولانا فداء الرحمان درخواستی نے اصلاح معاشرہ کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور مولانا عبد الرؤف فاروقی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ جامعہ اسلامیہ کو مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ کے مشن کے احیا کا مرکز بنائیں گے۔ اللہ تعالیٰ انہیں اس عزم کی تکمیل کی توفیق سے نوازیں، آمین۔