مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے آبائی گاؤں میں حاضری

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۸ جولائی ۲۰۰۰ء

گزشتہ روز برصغیر کے نامور انقلابی مفکر حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے آبائی گاؤں ’’چیانوالی‘‘ میں ایک دینی درسگاہ کے سالانہ جلسہ کے لیے جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ گاؤں ضلع سیالکوٹ کی تحصیل ڈسکہ میں ستراہ اور بڈھا گورایہ کے درمیان سڑک پر واقع ہے اور اس گاؤں میں ۱۰ مارچ ۱۸۷۲ء کو ایک سکھ گھرانے میں جنم لینے والا بچہ دنیا میں برصغیر پاک و ہند کی تحریک آزادی کے عظیم لیڈر اور مفکر امام انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے نام سے متعارف ہوا۔ مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے والد کا نام رام سنگھ اور دادا کا نام جسپت رائے تھا جو اصلاً ہندو خاندان تھا لیکن رام سنگھ نے اپنے خسر کی ترغیب پر ہندو مذہب ترک کر کے سکھ مذہب اختیار کر لیا تھا۔

چند سال پہلے بھی مجھے اس بستی میں جانے کا اتفاق ہوا تھا، وہاں جامعہ اشرفیہ کے فاضل مولانا محمد افضل نے مدرسہ تبلیغ الاسلام کے نام سے دینی درسگاہ قائم کر رکھی ہے جو اس وقت ابتدائی حالت میں تھی۔ راقم الحروف نے اس وقت انہیں توجہ دلائی تھی کہ اس گاؤں میں حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی نسبت سے کوئی دینی ادارہ ہونا چاہیے۔ بعد میں معروف روحانی پیشوا حضرت سید نفیس الحسینی شاہ صاحب نے بھی گاؤں کے لوگوں کو اس کی ترغیب دی تو مدرسہ تبلیغ الاسلام کے منتظمین نے اسے ’’جامعہ عبیدیہ تبلیغ الاسلام‘‘ کا نام دے دیا جو اب طالبات کے لیے درس نظامی کی ایک بڑی درسگاہ کی شکل اختیار کر چکا ہے جہاں درس نظامی کے نصاب کی عالیہ (بی اے) تک تعلیم ہوتی ہے، کم و بیش چار سو کے لگ بھگ طالبات تعلیم حاصل کر رہی ہیں جن میں ۷۰ طالبات ہاسٹل میں رہتی ہیں جبکہ اس گاؤں کے وسط میں تین منزلہ عمارت تعمیر ہو چکی ہے جس پر اب چوتھی منزل تعمیر کی جا رہی ہے۔

حضرت مولانا سید نفیس شاہ صاحب اس گاؤں میں تشریف لا چکے ہیں اور انہوں نے وہ مکان بھی دیکھا جس میں مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی ولادت ہوئی تھی، یہ چار پانچ مرلے کا مکان ہے جس کی چند پرانی دیواروں کی نشانی باقی ہے، نئے مکینوں نے اس جگہ پر نیا مکان تعمیر کر لیا ہے جس کی حدود وہی پرانی ہیں۔ شاہ صاحب موصوف نے مولانا محمد افضل کے سامنے اس دلچسپی کا اظہار کیا کہ اگر اس مکان کے موجودہ مالک اسے فروخت کرنے پر آمادہ ہوں تو اسے مولانا سندھیؒ کی یادگار کے طور پر ایک لائبریری یا حفظ قرآن کریم کی درسگاہ کے طور پر محفوظ کر لینا چاہیے۔ مولانا افضل نے بتایا کہ مکان والوں سے گفتگو چل رہی ہے اور بعض شرائط کے ساتھ مکان فروخت کرنے پر آمادہ ہیں۔ اب دیکھیں یہ سعادت مولانا سندھی کے کس عقیدت مند کے حصے میں آتی ہے کہ وہ اسے خرید کر مولانا مرحوم کی یادگار اور ایصال ثواب کے لیے اسے لائبریری یا حفظ قرآن کریم کے مکتب کے طور پر محفوظ کرنے کا شرف حاصل کرتا ہے۔

مولانا عبید اللہ سندھیؒ نے خود اپنے قلم سے جو حالاتِ زندگی تحریر کیے ہیں ان کے مطابق ان کے خاندان کا پیشہ ’’زرگری‘‘ تھا اور ان کے دادا سکھ حکومت میں گاؤں کے کاردار تھے۔ ان کے والد ان کی ولادت سے قبل فوت ہوگئے تھے اور وہ دو سال کی عمر میں تھے کہ دادا کا بھی انتقال ہوگیا۔ والدہ خاصا عرصہ زندہ رہی، سکھ مذہب پر قائم رہی اور آخری وقت مولانا سندھی کے ساتھ ہی گزارا۔ مولانا سندھی کی پرورش اور کفالت ننھیال نے کی اور انہوں نے اپنے نانا اور ماموؤں کے ہاں ضلع سیالکوٹ اور جام پور ضلع راجن پور میں سکول کی تعلیم حاصل کی۔ اسکول میں ہی کچھ لڑکوں سے معروف نو مسلم بزرگ مولانا عبید اللہ کی کتاب ’’تحفۃ الہند‘‘ ملی جس کا مطالعہ اسلام کے ساتھ ان کی دلچسپی کا باعث بنا۔ اس کے بعد انہوں نے شاہ محمد اسماعیل شہید کی کتاب ’’تقویۃ الایمان‘‘ اور مولانا محمد صاحب آف لکھو کی پنجابی کتاب ’’احوال الآخرۃ‘‘ پڑھی۔ ان تین کتابوں کے مطالعہ نے انہیں سکھ دھرم چھوڑ کر اسلام قبول کرنے کی منزل تک پہنچا دیا۔

مولانا سندھیؒ نے اس مقصد کے لیے ۱۵ اگست ۱۸۸۷ء کو گھر چھوڑ دیا اور کوٹلہ رحم شاہ ضلع مظفر گڑھ پہنچ کر قبول اسلام کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد خاندان والوں نے پیچھا کرنا چاہا تو ان سے بچنے کے لیے سندھ کی طرف نکل گئے اور جائے پناہ کی اس تلاش میں قدرت خداوندی نے انہیں اپنے وقت کے بہت بڑے عارف باللہ حضرت مولانا حافظ محمد صدیق صاحب کی خدمت میں بھرچونڈی شریف پہنچا دیا جو سلسلہ قادریہ راشدیہ کے بہت بڑے شیخ تھے اور اپنے دور کے ممتاز اولیائے کرام میں شمار ہوتے تھے۔ اس نومسلم نوجوان نے حضرت حافظ صاحب کی نیکی، شفقت اور بزرگی سے متاثر ہو کر وہیں ڈیرے ڈال لیے اور انہوں نے اپنے بیٹوں کی طرح ان کی پرورش اور تعلیم کی نگرانی فرمائی۔ مولانا سندھیؒ لکھتے ہیں کہ چند ماہ ان کی صحبت میں رہا جس کا فائدہ یہ ہوا کہ اسلامی معاشرت میرے لیے اسی طرح طبیعت ثانیہ بن گئی جس طرح ایک پیدائشی مسلمان کی ہوتی ہے۔ حضرت نے ایک روز میرے سامنے لوگوں کو مخاطب فرمایا کہ عبید اللہ نے اللہ کے لیے ہم کو اپنا ماں باپ بنا لیا، اس کلمہ مبارکہ کی تاثیر خاص طور پر میرے دل میں محفوظ ہے، میں انہیں اپنا دینی باپ سمجھتا ہوں اور محض اس لیے سندھ کو مستقل وطن بنایا اور سندھی بن گیا۔

گویا مولانا عبید اللہ سندھیؒ جو اصلاً سندھی نہیں تھے محض اپنے شیخ اور مربی کے ساتھ محبت اور عقیدت کی وجہ سے سندھی کہلانے لگے اور یہ نسبت بالآخر ان کے نام کا حصہ بن گئی۔ انہیں اس کے بعد امروٹ شریف کے حضرت مولانا تاج محمودؒ امروٹی اور دین شریف کے حضرت خلیفہ محمد دین پوریؒ کی صحبت میں رہنے کا بھی موقع ملا۔ یہ دونوں خانقاہیں بھرچونڈی شریف کے روحانی سلسلہ ہی کی شاخیں ہیں اور تحریک آزادی کے اہم مراکز میں سے رہی ہیں۔ مگر جب وہ دیوبند میں شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کی خدمت میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے پہنچے تو اس پارس نے چیانوالی کے زرگر خاندان کے اس نوجوان کو ایسا کندن بنایا کہ آج اس کے کردار اور قربانیوں کی چمک ایک دنیا کی آنکھوں کو خیرہ کر رہی ہے۔

چیانوالی کی نسبت سے مولانا سندھیؒ کے بارے میں یہ چند سطور نوکِ قلم پر آگئی ہیں خدا کرے کہ مولانا سندھیؒ کے پیدائشی مکان کو لائبریری اور دینی درسگاہ کی شکل دینے کے بارے میں حضرت سید نفیس شاہ صاحب کی خواہش جلد از جلد تکمیل تک پہنچے اور نئی نسل کو اس عظیم نومسلم مجاہد آزادی کی خدمات، کارناموں اور جدوجہد سے روشناس کرانے کی کسی منظم تحریک کا آغاز ہو جائے، آمین یا رب العالمین۔