وکلاء تحریک کی قیادت کے ساتھ ایک اتفاقیہ سفر

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۳۰ جولائی ۲۰۰۸ء
اصل عنوان: 
وکلاء کو اپنی تحریک وسیع تر کرنی چاہیے

ان دنوں ملک بھر کے دینی مدارس میں سالانہ اجتماعات اور خاص طور پر ختم بخاری شریف کی تقریبات کا سلسلہ زوروں پر ہے۔ ۲۵ جولائی کو مجھے اسی حوالہ سے خانپور ضلع رحیم یار خان کے معروف دینی مدرسہ جامعہ عبد اللہ بن مسعودؓ کی سالانہ کانفرنس میں شرکت کے لیے جانا تھا، جمعہ کی نماز گوجرانوالہ میں پڑھا کر عشاء کے بعد کی نشست کے لیے خانپور پہنچنا تھا لیکن اس موقع پر رحیم یار خان یا بہاولپور کے لیے کوئی فلائیٹ نہیں تھی اس لیے میں نے لاہور سے ملتان تک کا سفر بذریعہ طیارہ اور اس سے آگے کا سفر بذریعہ ٹرین کرنے کا پروگرام بنایا۔ شام سوا چھ بجے لاہور سے ملتان تک پی آئی کی فلائیٹ تھی اور ملتان سے مجھے سوا آٹھ بجے تیزگام پکڑنا تھی۔ چنانچہ اس طرح میں رات ساڑھے بارہ بجے کے لگ بھگ خانپور پہنچا اور کانفرنس کی بھرپور نشست سے، جو نماز عشاء کے بعد سے جاری تھی اور صبح نماز فجر تک جاری رہی، میں نے رات ڈیڑھ بجے سے کم و بیش سوا دو بجے تک خطاب کیا۔

اس سفر میں حسن اتفاق یہ ہوا کہ لاہور سے میں طیارے پر سوار ہوا تو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر جناب اعتزاز احسن بھی اسی طیارے پر ملتان کے لیے سوار ہوئے جبکہ پاکستان مسلم لیگ کے رہنما جاوید ہاشمی صاحب اسی طیارے پر اسلام آباد سے ملتان کے لیے سفر کر رہے تھے۔ ملتان میں چیف جسٹس جناب افتخار محمد چودھری نے بار سے خطاب کرنا تھا اور وکلاء حضرات اسی سلسلہ میں ملتان جا رہے تھے۔ وکلاء کی اس تحریک سے جو عدلیہ کی خودمختاری، دستور کی بالادستی اور چیف جسٹس سمیت تمام معزول ججوں کی ۳ نومبر سے پہلے کی پوزیشن میں بحالی کے لیے جاری ہے، مجھے شروع سے ہمدردی ہے اور میں اپنے دائرہ کار اور دائرہ پرواز کی حد تک اس کی مسلسل حمایت کر رہا ہوں مگر اس حوالے سے میرے کچھ خدشات اور تحفظات بھی ہیں جن کا اظہار ایک کالم میں کر چکا ہوں۔ اپنے گرد وکلاء تحریک کے قائدین کا جمگھٹا دیکھ کر میرا جی چاہا کہ اس موقع سے فائدہ اٹھاؤں اور تحریک کی حمایت کے اعادہ کے ساتھ ساتھ اپنے خدشات و تحفظات پر ان سے بات چیت بھی کروں مگر پوری طرح ایسا نہ ہو سکا۔ البتہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن لاہور کے صدر جناب منظور قادر سے قدرے تفصیل کے ساتھ بات کرنے کا موقع مل گیا جن کی سیٹ میرے ساتھ تھی لیکن اعتزاز احسن اور جاوید ہاشمی صاحب سے گفتگو کی خواہش پوری نہ ہو سکی کہ یہ دونوں حضرات مجھ سے اگلی سیٹ پر بیٹھے تھے اور باہمی گفتگو میں اس قدر مگن تھے کہ میں نے درمیان میں مداخلت مناسب نہ سمجھی۔ اور جب ان کی آپس کی گفتگو میں کچھ وقفہ ہوا تو جیو ٹی وی کی ٹیم نے انہیں گھیر لیا اور اس کا گھیرا تب ختم ہوا جب اعلان ہوا کہ طیارہ ملتان ایئرپورٹ پر اتر رہا ہے اس لیے سب حضرات سیٹ بیلٹ باندھ لیں۔ خیال ہوا کہ طیارے سے اترنے کے بعد علیک سلیک اور ایک آدھ جملوں کی بات ہو جائے گی مگر استقبالیہ ہجوم کے رش اور نعروں نے اس کا موقع نہ دیا۔ ایئرپورٹ پر پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے پرچموں اور استقبالیہ بینروں کے ساتھ خاصے لوگ موجود تھے جو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور وکلاء تحریک کے ساتھ نعروں کے ذریعے یکجہتی کا اظہار کر رہے تھے۔ کچھ دیر میں بھی استقبالیہ کے ہجوم میں شامل رہا اور پھر ملتان کے ایک دوست قاری عبد الستار صاحب کے ہمراہ جنہوں نے میرے ساتھ خانپور تک سفر کرنا تھا ریلوے اسٹیشن کی طرف روانہ ہوگیا۔

چودھری اعتزاز احسن کے ساتھ تو یاد نہیں کہ کبھی زندگی میں علیک سلک ہوئی ہو البتہ جاوید ہاشمی صاحب کے ساتھ پاکستان قومی اتحاد کے دور میں یاد اللہ رہی ہے۔ خیال ہوا کہ ملاقات ہوئی تو قومی اتحاد کے دور کا حوالہ دوں گا، ہو سکتا ہے انہیں مولانا مفتی محمودؒ، نوابزادہ نصر اللہ خانؒ، جناب حمزہ، اقبال احمد خان مرحوم، رانا نذر الرحمان، ملک محمد اکبر ساقی مرحوم اور مولانا فتح محمد کے ساتھ کام کرتا ہوا ایک مولوی یاد آجائے۔ مگر اس کی نوبت ہی نہ آئی اور میں ان کی پچھلی سیٹ پر بیٹھا انہیں دیکھ کر اور ان کی جیو ٹی وی کے ساتھ باتیں سن کر ہی شادکام ہوگیا۔ البتہ جناب منظور قادر صاحب سے جو گفتگو ہوئی اس کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہ رہا ہوں-

  • میں نے عرض کیا کہ وکلاء کی تحریک قومی مفادات کی تحریک ہے اور اس کے لیے وکلاء اور معزز جج صاحبان کی قربانی بلکہ مسلسل قربانیاں تاریخ کاا یک ناقابل فراموش حصہ ہیں، لیکن اسے جس طرح سے ایک قومی تحریک ہونا چاہیے وہ اس انداز کی تحریک نہیں بن پا رہی اور اس کے بارے میں ابھی تک ایک طبقے کی تحریک ہونےکا تاثر غالب ہے۔ جبکہ تحریک کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ یہ ایک بھرپور قومی تحریک کی شکل اختیار کرے اور اس میں قوم کے تمام طبقات کا کردار نمایاں نظر آئے۔ منظور قادر صاحب نے تحریک کے حوالہ سے اس خلا کی موجودگی کو تسلیم کیا اور کہا کہ اس کے لیے ہم سول سوسائٹی کے عنوان سے قوم کے تمام طبقات کو تحریک میں شامل رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ہر منگل کے روز سول سوسائٹی کے عنوان سے مشاورتی اجلاس ہوتا ہے جس میں مختلف طبقات کے نمائندے شریک ہوتے ہیں۔
  • میں نے ان سے عرض کیا کہ منگل کے روز منعقد ہونے والی ان مشاورتی نشستوں میں متعدد علماء کرام کے ساتھ میں خود بھی کئی بار شریک ہوا ہوں مگر اس مقصد کے لیے صرف اتنی بات کافی نہیں ہے اور معروضی حالات میں اس تحریک کو قومی بنانے کے لیے اس کے علاوہ بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے مگر اس کی طرف توجہ نہیں دی جا رہی۔ جناب منظور قادر نے اس سے اتفاق کیا اور کہا کہ وکلاء کی قیادت اپنی مصروفیات کے باعث ایسا نہیں کر پا رہی کیونکہ دیگر مصروفیات بھی ہیں جن میں سے بمشکل اتنا وقت ہم نکال پاتے ہیں جتنا کچھ ہم کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کام دراصل سیاسی جماعتوں کا تھا کہ وہ عدلیہ کی خودمختاری اور معزول ججوں کی بحالی کے لیے تحریک چلاتیں لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا جس کا پوری قوم کے ساتھ ساتھ ان سیاسی جماعتوں کو بھی نقصان ہے کیونکہ دستور کی بالادستی اور عدلیہ کی خودمختاری ایک قومی ضرورت ہے جس کے بغیر قوم کا کوئی طبقہ اور ادارہ صحیح طور پر اپنا کام نہیں کر سکتا لیکن سیاسی جماعتوں نے اپنی اس ذمہ داری کو محسوس نہیں کیا بلکہ اس کے برعکس ماحول نظر آرہا ہے کہ عدلیہ کی آزادی اور ججوں کی بحالی کی تحریک کی فضا میں کامیابی حاصل کرنے والی بعض سیاسی جماعتوں نے اقتدار میں آنے کے بعد اپنی ترجیحات کا رخ تبدیل کر لیا ہے اور یوں محسوس ہونے لگا ہے کہ ان کی پالیسی اور ترجیحات پر بھی جنرل پرویز مشرف کا سایہ گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ جناب منظور قادر کا کہنا تھا کہ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ فرد واحد کی ڈکٹیٹرشپ سے نجات اور معزز جج صاحبان کی بحالی کے نکتہ کو بنیاد بنا کر سب لوگ متحد ہو جائیں کیونکہ اس کے بغیر قومی زندگی کی گاڑی صحیح رخ پر آگے نہیں بڑھ سکتی۔
  • ڈسٹرکٹ بار لاہور کے صدر سے میں نے عرض کیا کہ اس تحریک میں مذہبی حلقوں کی نمائندگی نہیں ہے جس کی ذمہ داری مذہبی جماعتوں کی قیادت کے ساتھ ساتھ وکلاء کی تحریکی قیادت پر بھی عائد ہوتی ہے اس لیے کہ وکلاء تحریک کی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ اگر مذہبی حلقوں کی معروف قیادت اس تحریک میں ساتھ چلنے کے لیے تیار نہیں ہے تو وہ اس سے ہٹ کر تحریک سے عملی دلچسپی رکھنے والے مذہبی رہنماؤں سے رابطہ قائم کرے اور ان کے ذریعے مذہبی حلقوں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کرے۔ جناب منظور قادر اس بات پر مطمئن نظر آرہے تھے کہ لانگ مارچ کے لیے وکلاء تحریک کی اپیل پر جو لوگ اسلام آباد پہنچے تھے اس میں قوم کے تمام طبقات کے افراد شامل تھے، اس لیے آئندہ بھی جب اپیل کی جائے گی تو تمام طبقات اس اپیل پر سڑکوں پر آجائیں گے۔ مگر میں نے ان کی اس بات سے اختلاف کیا اور عرض کیا کہ میرا بھی دینی و سیاسی تحریکوں کے ساتھ ایک عرصہ تک واسطہ چلا رہا ہے اور میں اسے ایک خوش فہمی کے سوا کچھ نہیں سمجھتا، اس لیے وکلاء تحریک کی قیادت کو اپنی ترجیحات کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا اور اس تحریک کو ایک طبقہ کی تحریک کے تاثر کے دائرہ سے نکال کر قومی تحریک کی شکل دینے کے لیے قوم کے دیگر طبقات بالخصوص مذہبی حلقوں سے ازخود رابطہ کرنا اور انہیں ساتھ لے کر چلنے کا اہتمام کرنا ہوگا۔

جناب اعتزاز احسن کے ساتھ اس سفر کے دوران میں ان سے خود تو کوئی بات نہ کر سکا البتہ جیو ٹی وی کے ساتھ ہونے والی گفتگو قریب سے سنی، اس لیے کہ میں بالکل پیچھے والی نشست پر بیٹھا تھا، ان سے کیے جانے والے سوالات میں سب سے اہم سوال معزول ججوں کی بحالی کے سلسلے میں پاکستان پیپلز پارٹی کی جماعتی پالیسی کے حوالے سے تھا، انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی کی پالیسی بالکل واضح ہے کہ چیف جسٹس سمیت تمام ججوں کو ۳ نومبر سے پہلے کی پوزیشن پر فی الفور بحال ہونا چاہیے اس لیے کہ مرحومہ بے نظیر بھٹو نے واضح طور پر اعلان کیا تھا کہ وہ جناب افتخار محمد چودھری کو بدستور سپریم کورٹ کا چیف جسٹس سمجھتی ہیں اور ان کی پارٹی برسراقتدار آکر ان کی رہائش گاہ پر چیف جسٹس کا جھنڈا دوبارہ لہرائے گی۔ اس طرح ججوں کی بحالی کے بارے میں بھوربن ڈیکلیریشن پر پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرپرسن جناب آصف علی زرداری نے خود دستخط کیے ہیں، اس لیے پارٹی پالیسی یہی ہے کہ تمام ججوں کو بحال ہونا چاہیے اور سابقہ پوزیشن پر بحال ہونا چاہیے۔ جناب اعتزاز احسن نے تحریک کے بارے میں بھرپور اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ ان شاء اللہ تعالیٰ یہ تحریک آگے بڑھے گی، کامیاب ہوگی اور اس کے نتیجے میں عدلیہ کی خودمختاری قائم ہوگی اور چیف جسٹس سمیت تمام جج صاحبان بحال ہوں گے۔

یہ وہ گزارشات ہیں جو لاہور سے ملتان تک کے سفر میں اتفاقیہ رفاقت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں نے جناب منظور قادر کے ذریعے وکلاء تحریک کی قیادت سے کی ہیں۔ جبکہ اس سے ہٹ کر مذہبی قیادت سے بھی مسلسل گزارش کر رہا ہوں کہ وہ صورتحال کی نزاکت کا احساس کرے اور قوم کو موجودہ دلدل سے نجات دلانے کے لیے ایک بھرپور قومی تحریک کا ماحول پیدا کرے۔ گزشتہ منگل کو میں نے اکوڑہ خٹک میں مولانا سمیع الحق کی خدمت میں حاضری دی اور ان سے گزارش کی کہ مولانا فضل الرحمان نے اپنی تقدیر حکمران اتحاد کے ساتھ وابستہ کر لی ہے اس لیے شاید وہ کچھ نہ کر سکیں مگر مولانا سمیع الحق کو تو اس طرح خاموش نہیں رہنا چاہیے، وہ اگر اور کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم یہ تو کر سکتے ہیں کہ دینی جماعتوں اور مذہبی مکاتب فکر کا مشترکہ اجلاس طلب کر کے اہم قومی مسائل پر دینی حلقوں کے متفقہ موقف کے اظہار کی کوئی صورت پیدا کر دیں کہ موجودہ حالات میں یہ بھی ایک اہم پیش رفت ہوگی۔