امریکی شرائط کے خلاف قومی کنونشن / متحدہ شریعت محاذ اور حکومت کے مذاکرات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۲ مئی ۱۹۸۷ء

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے قائم مقام امیر حضرت مولانا محمد اجمل خان اور قائد جمعیۃ مولانا سمیع الحق نے اس تجویز کو منظور کر لیا ہے کہ پاکستان کی امداد کے لیے امریکہ کی طرف سے عائد کی جانے والی قابلِ اعتراض شرائط کے خلاف رائے عامہ کو منظم کرنے کے لیے رمضان مبارک کے بعد لاہور میں مختلف مکاتبِ فکر کا قومی کنونشن منعقد کیا جائے اور ان شرائط کے خلاف اجتماعی ردِعمل کا اظہار کیا جائے۔ قائدِ جمعیۃ مولانا سمیع الحق نے اپنے بیان میں ان امریکی شرائط میں سے

  1. پاکستان کو ایٹمی قوت بننے سے روکنے،
  2. انسانی حقوق کے حوالے سے شرعی قوانین کی مخالفت،
  3. قادیانیت کے خلاف آئینی و قانونی اقدامات کو ختم کرانے، اور
  4. اواکس (OWACS) طیاروں کے لیے امریکی عملہ

کی شرائط کو پاکستان کے نظریاتی تشخص، قومی وقار، دفاعی خودمختاری اور ملتِ اسلامیہ کے مذہبی معتقدات کے منافی قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف منظم مہم کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ جبکہ مولانا محمد اجمل خان نے مولانا میاں محمد اجمل قادری کی سربراہی میں رابطہ کمیٹی قائم کر دی ہے جو اس سلسلہ میں مختلف مکاتبِ فکر کے راہنماؤں سے رابطہ قائم کر کے پروگرام کا حتمی تعین کرے گی۔

ہم ان کالموں میں متعدد بار اظہار کر چکے ہیں کہ عالمِ اسلام کی دفاعی خودکفالت اور دینی بیداری کی جدوجہد کو امریکہ اور روس دونوں عالمی طاقتوں کی یکساں مخالفت کا سامنا ہے اور دونوں قوتیں اپنے پورے وسائل اس مقصد کے لیے صرف کر رہی ہیں کہ عالمِ اسلام کا کوئی ملک نہ تو ایٹمی قوت اور جدید ٹیکنالوجی سے بہرہ ور ہو سکے اور نہ ہی کسی مسلم ملک میں دینی بیداری کی بنیاد پر کوئی صحیح معنوں میں اسلامی حکومت تشکیل پا سکے۔ دونوں قوتیں اپنے اپنے حلقۂ اثر میں مسلمانوں کو ان دو مقاصد سے دور رکھنے کے لیے ایک ہی طرح کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔ اور پاکستان کو روسی جارحیت کے مقابلے میں فوجی و اقتصادی امداد مہیا کرنے کے بہانے ان شرائط کی زنجیروں میں جکڑنے کی امریکی پالیسی کا مقصد بھی بنیادی طور پر یہی ہے۔ ہم پاکستان کے لیے فوجی اور اقتصادی امداد کے حصول کے مخالف نہیں ہیں اور اسے ایک ناگزیر قومی ضرورت سمجھتے ہیں، یہ امداد امریکہ سے بھی حاصل کی جا سکتی ہے لیکن اس کی بنیاد دو طرفہ وقار اور خودمختاری پر ہونی چاہیے اور اس امداد کو پاکستان کے نظریاتی تشخص اور ملتِ اسلامیہ کے مذہبی معتقدات پر اثر انداز نہیں ہونا چاہیے۔ ورنہ یہ امداد ایک آزاد ملک کی دوسرے آزاد ملک کے لیے امداد نہیں کہلائے گی بلکہ اس سے پاکستان کی آزاد، خودمختار اور اسلامی حیثیت بجائے خود محل نظر ہو کر رہ جائے گی۔

ان حالات میں ہم مجوزہ قومی کنونشن کے انعقاد کو وقت کی اہم ضرورت سمجھتے ہیں اور ملک کے دینی و قومی حلقوں سے امید رکھتے ہیں کہ وہ گروہی اور فرقہ وارانہ تشخصات سے بالاتر ہو کر خالصتاً دینی اور قومی مفاد کی بنیاد پر قومی کنونشن کی کامیابی میں جمعیۃ علماء اسلام سے تعاون کریں گے۔

متحدہ شریعت محاذ اور حکومت کے مذاکرات

ماہِ رواں کے آغاز میں حکومت کے ساتھ متحدہ شریعت محاذ کے راہنماؤں کے مذاکرات کا ایک دور ہوا جس میں سات گھنٹے تک دونوں فریقوں نے ’’شریعت بل‘‘ کے مختلف پہلوؤں پر تبادلۂ خیالات کیا مگر اخباری اطلاعات کے مطابق اتفاقِ رائے کی منزل تک نہ پہنچا جا سکا۔ متحدہ شریعت محاذ کے ایک مرکزی راہنما کے مطابق وفاقی وزیر مذہبی امور حاجی سیف اللہ خان نے مذاکرات کے دوران واضح کیا کہ وہ بنیادی امور پر کسی فیصلہ کی پوزیشن میں نہیں ہیں اس لیے وہ ایک ہفتہ کے اندر وزیراعظم کے ساتھ محاذ کے راہنماؤں کی ملاقات کا اہتمام کریں گے۔ یہ ہفتہ بھی اب گزر چکا ہے اور مذاکرات میں پیش رفت کی کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی۔ دوسری طرف یہ خبر اخبارات کی زینت بنی ہے کہ وزیراعظم نے مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت سے مسلم لیگ کی مجلسِ عاملہ کا اجلاس طلب کر لیا ہے تاکہ متحدہ شریعت محاذ کی ’’راست اقدام‘‘ کی تحریک کا مقابلہ کرنے کے لیے حکمتِ عملی وضع کی جا سکے۔

ان حالات میں مذاکرات کا پہلو کچھ زیادہ روشن دکھائی نہیں دے رہا اور یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ متحدہ شریعت محاذ کو اپنے اعلان کے مطابق رمضان المبارک کے بعد راست اقدام کی تحریک کی طرف پیش رفت کرنا ہے۔ اس لیے ہم متحدہ شریعت محاذ کے کارکنوں بالخصوص جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے ارکان سے گزارش کریں گے کہ وہ مذاکرات کے سلسلہ میں سرکاری اعلانات کی طرف توجہ دیے بغیر اور ان مذاکرات سے کوئی امید وابستہ کیے بغیر پوری دل جمعی کے ساتھ راست اقدام کی تحریک کے لیے تیاری کریں تاکہ ۷ اور ۸ جون کو لاہور میں متحدہ شریعت محاذ کی مرکزی کونسل کے اجلاس میں تحریک کا طریق کار اور پروگرام طے ہونے کے ساتھ ہی کارکن پورے ملک میں اس کے لیے سرگرم عمل ہو سکیں۔