اسلامی ریاست کی بنیاد کس بات پر ہے؟

اس میں سب سے پہلی بات تو یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ انسانی سماج ایک جوڑے سے شروع ہوا ہے۔ ’’یا ایھا الناس اتقوا ربکم الذی خلقکم من نفس واحدۃ وخلق منھا زوجھا وبث منھما رجالاً کثیرًا ونسآءً‘‘۔ آج دنیا میں کتنے لوگ ہیں؟ سات ارب سے زیادہ ہیں، سب اس جوڑے کی برکت ہے۔ یہ جوڑا کہاں سے آیا تھا؟ ’’یا اٰدم اسکن انت وزوجک الجنۃ‘‘۔ اچھا وہاں وہ واقعہ ہوا۔ ’’اھبطا منھا جمیعًا‘‘۔ حکم ہوا کہ چلو کچھ عرصہ کے لیے دنیا میں۔ زمین پر اتار دیا۔

میں اسلامی ریاست کی بنیاد بتا رہا ہوں اصل بنیاد اسلامی ریاست کی کیا ہے۔ ’’قلنا اھبطوا منھا جمیعًا‘‘۔ چلو بھئی۔ ’’ولکم فی الارض مستقر ومتاع‘‘۔ مستقر بھی ہو گا متاع بھی ہو گا، ٹھکانہ بھی ملے گا، اسباب بھی روٹی کپڑا مکان ملے گا، لیکن مستقل نہیں ’’الیٰ حین‘‘ لمیٹڈ (محدود مدت کے لیے) ہو گا۔ فرد کا حین پچاس ساٹھ ستر سال، نسل کا حین پچیس تیس سال، زمانے کا حین ایک صدی، اور دنیا کا حین طے شدہ بتایا نہیں ہے۔ ’’یسئلونک عن الساعۃ ایان مرسٰھا قل انما علمھا عند ربی‘‘ طے شدہ ہے۔ زمین پر اتر جاؤ، ٹھکانہ بھی ملے گا، اسباب بھی ملیں گے۔ لیکن کیا ہوں گے؟ ایک وقت تک کے لیے۔

کرنا کیا ہے؟ ’’اما یأتینکم منی ھدًی فمن تبع ھدای فلا خوف علیھم ولاھم یحزنون، والذین کفروا وکذبوا باٰیاتنا اولئک اصحاب النار ھم فیھا خالدون‘‘۔ ڈائریکشن میں دوں گا، ایجنڈا میں دوں گا، ہدایات میری طرف سے آئیں گی کہ کیسے رہنا ہے، تم اپنی مرضی میں آزاد نہیں ہو۔ ڈائریکشن، ہدایات، ایجنڈا، پروگرام میں دوں گا۔ تمہاری دنیا کی زندگی کا مدار کس پر ہے؟ ’’من تبع ھدای فلا خوف علیھم ولا ھم یحزنون‘‘ جس نے میری ڈائریکشنز کے مطابق زندگی گزاری خوف اور غم سے نجات پا کر اپنے گھر واپس آئے گا جہاں سے جا رہا ہے۔ ’’والذین کفروا وکذبوا باٰیاتنا اولئک اصحاب النار‘‘ جنہوں نے نہیں مانی، اپنی من مانی کی ہے، وہ دوسرے گھر جائیں گے۔

یہ ہے ایک انسانی سماج کی بنیاد، سوسائٹی کی بنیاد، اسلامی ریاست کی بنیاد۔ انسانی معاشرہ کس کا پابند ہے؟ ’’اما یأتینکم منی ھدًی‘‘۔ انسانی معاشرہ آزاد نہیں ہے، جس نے پیدا کیا اس نے آزاد پیدا نہیں کیا۔ آج کی دستوری زبان میں اس کو کیا کہتے ہیں؟ حاکمیتِ اعلیٰ اللہ کی ہے۔ آپ کے دستور میں بھی یہ لکھا ہوا ہے۔ حاکمیت مطلقہ اور حاکمیت اعلیٰ کس کی ہے؟ اللہ تعالیٰ کی۔ ’’اما یأتینکم منی ھدًی‘‘ کا (دستوری) ترجمہ ہے یہ۔ یہ تو ہے انسانی سماج کی بنیاد اور اسلامی ریاست و حکومت کا نقطۂ آغاز، زیرو پوائنٹ۔