تحفظ حقوق نسواں ایکٹ کا نفاذ اور مجلس تحفظ حدود اللہ کا قیام

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۴ دسمبر ۲۰۰۶ء
اصل عنوان: 
’’مجلس تحفظ حدود اللہ‘‘ کا قیام ۔ علماء کا بروقت اقدام

’’مجلس تحفظ حدود اللہ پاکستان‘‘ کے کراچی کنونشن کے بعد اس سلسلہ میں جدوجہد نے جو صورتحال اختیار کر لی ہے وہ بہت سے حوالوں سے غور طلب ہے اور دینی حلقوں سے سنجیدہ توجہ کا تقاضا کر رہی ہے۔ حکمران حلقوں نے اس حوالے سے واضح موقف اختیار کر لیا ہے کہ انہوں نے جو کچھ کیا ہے ٹھیک کیا ہے، وہ اس کے خلاف کوئی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہیں اور نہ ہی ان کے خیال میں تحفظ حقوق نسواں کے عنوان سے نافذ شدہ ایکٹ پر نظرثانی کی کوئی گنجائش ہے۔ گزشتہ دنوں تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علماء نے مشترکہ طور پر جو نئی یادداشت چودھری شجاعت حسین سے مل کر ان کے حوالے کی ہے اسے بھی پذیرائی حاصل نہیں ہوئی بلکہ حکمران جماعت نے چودھری صاحب کی زیر صدارت اجلاس میں ’’تحفظ حقوق نسواں ایکٹ‘‘ کی ایک قرارداد کے ذریعے تحسین کرتے ہوئے اس پر نظرثانی کے دروازے کو بند کر دیا ہے۔ اور حکمران جماعت کے اس اجلاس کے حوالے سے جو خبر اخبارات میں شائع ہوئی ہے اس میں یہ بات کہہ دی گئی ہے کہ منظور شدہ ایکٹ کے بارے میں کوئی بات نہیں ہو سکتی البتہ چودھری شجاعت حسین نے حقوق نسواں کے تحفظ کے نام سے جو نیا بل اسمبلی میں جمع کرایا ہے اس کے لیے علماء کرام سے مشاورت ہو سکتی ہے اور ان کی کچھ تجاویز کو اس میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ حالانکہ اس مجوزہ بل میں جو باتیں شامل کی گئی ہیں وہ دراصل علماء کرام ہی کی وہ تجاویز ہیں جو انہوں نے پاکستانی معاشرے کے معروضی تناظر میں خواتین کو درپیش حقیقی مسائل کی طرف توجہ دلاتے ہوئے پیش کی تھیں۔

اس طرح یوں محسوس ہوتا ہے کہ نیا بل لا کر دراصل علماء کرام کا منہ بند کرنے اور اس کے ذریعے تحفظ حقوق نسواں کے منظور شدہ متنازع ایکٹ کو ہضم کرانے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے جو ایک خطرناک چال ہے اور اس کا مقصد ان امور کے بارے میں علماء کرام کو خاموش کرانا ہے جو وہ منظور شدہ متنازعہ ایکٹ میں قرآن و سنت کے صریح احکام کی خلاف ورزی کے طور پر قوم کے سامنے لا رہے ہیں۔ مجھ سے گزشتہ روز ایک ذریعہ سے دریافت کیا گیا کہ چودھری شجاعت حسین کے پیش کردہ نئے بل کے بارے میں اگر علماء کرام کو مشاورت کے لیے بلایا جائے تو آپ کا ردعمل کیا ہوگا؟ میں نے گزارش کی کہ جب تک منظور شدہ حقوق نسواں بل ایکٹ کا تنازع صاف نہیں ہوتا اور اس کے بارے میں علماء کرام کے اعتراضات دور نہیں کیے جاتے اس وقت تک نئے بل کے بارے میں کوئی بات کرنا درست نہیں ہوگا۔ یہ منظور شدہ ایکٹ کی خلافِ اسلام باتوں سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہوگی جس سے علماء کرام کو بہرحال بچنا چاہیے اور ذاتی طور پر میں کسی ایسی مشاورت میں شرکت کے لیے تیار نہیں ہوں گا جس میں متنازع ایکٹ کی خلافِ شریعت باتوں پر خاموشی اختیار کرتے ہوئے نئے بل کو قابل قبول بنانے کے لیے گفتگو کا اہتمام کیا گیا ہو۔

متنازع ایکٹ کی منظوری کے بعد بعض وفاقی وزراء نے اپنے باس سمیت علماء کرام اور دینی حلقوں کے بارے میں جو توہین آمیز لب و لہجہ اختیار کر رکھا ہے وہ بجائے خود ایک مستقل مسئلہ ہے۔ اور اس سے واضح ہوتا ہے کہ حکمران طبقہ کے نزدیک حدود شرعیہ کو غیر مؤثر بنانے کے ساتھ ساتھ بلکہ اس سے کہیں زیادہ یہ مسئلہ اہم ہے کہ علماء کرام کی کردار کشی کی جائے، ان کے خلاف نفرت انگیزی کی مہم کو تیز کیا جائے اور عوامی حلقوں میں دین کی تعبیر و تشریح کے حوالے سے علماء کرام کا جو اعتماد موجود ہے اسے کسی نہ کسی طرح ختم کر کے قرآن و سنت کی تشریح و تعبیر کو آزادانہ ماحول میں ریاستی اداروں اور حکمران طبقہ کی صوابدید کے دائرے میں شامل کر دیا جائے کہ وہ جب چاہیں اور جس طرح چاہیں قرآن و سنت کے کسی مسئلہ کو اپنی مرضی کا معنٰی پہنا کر اسے اسلام اور قرآن و سنت کے نام سے ملک کے قانون و نظام کا حصہ بنا سکیں۔ یہ الگ بات ہے کہ انہیں اس میں کامیابی حاصل ہوتی ہے یا نہیں اور ان شاء اللہ یہ نہیں ہوگی۔ اس لیے کہ قرآن کریم اور اس کی زبان بلکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعبیرات و تشریحات اور سنت و حدیث تک عام مسلمانوں کو رسائی میسر ہے اور دینی مدارس کے وسیع تر نیٹ ورک کی برکت سے کوئی بھی مسلمان کسی بھی وقت یہ معلوم کر سکتا ہے کہ قرآن کریم کی فلاں آیت یا فلاں جملے کا ترجمہ کیا ہے، جناب نبی اکرمؐ نے اپنے قول اور عمل کے ساتھ اس کی کیا تشریح کی ہے، صحابہ کرامؓ نے اس پر کس انداز سے عمل کیا ہے، اور امت کے جمہور فقہاء نے اس کا کیا مطلب و مفہوم سمجھا ہے۔ جب تک ایک عام مسلمان کی ان چاروں امور تک رسائی کے مواقع موجود ہیں، قرآن و سنت کے کسی حکم کی غلط تشریح کو من مانے مفہوم کے ساتھ امت سے قبول کرانے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اس کا تجربہ اس سے قبل امت میں بہت دفعہ ہو چکا ہے، اب بھی اس ناکام تجربہ کو پھر دہرایا جا رہا ہے لیکن پہلے کی طرح اب بھی یہ تجربہ کامیابی کی دہلیز پار نہیں کر سکے گا۔

علماء کرام اور دینی حلقوں کی کردارکشی اور ان کے خلاف منافرت کی مہم بھی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ جو حضرات برطانوی استعمار کے تسلط کے دور میں علماء کرام اور دینی کارکنوں کے خلاف چلائی گئی مکروہ پروپیگنڈا مہم اور معاشرے میں انہیں کارنر کرنے کی مسلسل تگ و دو سے واقف ہیں وہ ہماری اس بات کی تصدیق کریں گے کہ وہ مہم آج کی مہم سے زیادہ سخت اور صبر آزما تھی۔ اور اس وقت کے محمد علی درانی اور شیر افگن صاحبان کی زبانیں زیادہ لمبی تھیں جبکہ علماء کرام اور دینی حلقوں کے پاس اپنے دفاع اور اپنا موقف پیش کرنے کے مواقع آج سے کہیں کم تھے، اس کے باوجود سوسائٹی سے علماء کرام کا تعلق منقطع کرنے اور انہیں کارنر کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں۔

اس لیے ان دو حوالوں سے تو تاریخ کے ایک طالب علم کے طور پر مجھے کچھ زیادہ پریشانی نہیں ہے اور میرا طالب علمانہ وجدان یہ کہتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ قرآن و سنت اور امت کے اجماعی تعامل کے ساتھ نئی پود کا رشتہ اور کمٹمنٹ زیادہ مضبوط ہوگی بلکہ علماء کرام اور دینی حلقے بھی آزمائش کی اس نئی بھٹی سے گزر کر پہلے سے زیادہ مضبوط پوزیشن حاصل کریں گے۔ میری پریشانی اس جدوجہد میں علماء کرام کے کردار، طرزعمل اور حکمت عملی کے بارے میں ہے اور میں اس کے دو پہلوؤں پر کچھ گزارش کرنا چاہوں گا۔

  1. ایک پہلو یہ ہے کہ ہمارے علماء کرام، دینی قائدین اور مذہبی رہنما علمی اور فکری طور پر اس مہم کو سنجیدگی کے ساتھ ڈیل نہیں کر رہے۔ مجھے اس سلسلہ میں دینی حلقوں کے ارباب فکر و دانش کی درجنوں محافل میں شرکت کا موقع ملا ہے اور میں نے ان محافل میں شریک علماء کرام، خطباء اور دینی کارکنوں کی کم و بیش پچانوے فیصد اکثریت کو اصل مسئلہ سے بے خبر پایا ہے۔ انہیں یہ معلوم نہیں کہ حدود آرڈیننس کیا تھا، تحفظ حقوق نسواں ایکٹ کیا ہے؟، کن مسائل میں تبدیلیاں ہوئی ہیں، اعتراضات کیا ہیں، پس منظر کیا ہے، مقاصد کیا ہیں اور اس ایکٹ کی منظوری کے بعد ملک کے قانونی نظام اور معاشرتی ماحول میں کیا تبدیلیاں رونما ہوں گی۔ اس سلسلہ میں بعض اہل علم نے سنجیدہ کام کیا ہے اور بہت سے مفید مضامین اور کتابچے سامنے آئے ہیں مگر کسی کو پڑھنے کی فرصت نہیں ہے اور کسی کے نظام الاوقات میں مطالعہ، تحقیق اور غور و فکر کی گنجائش موجود نہیں ہے۔

    ملک کے تین چار بڑے شہروں سے دوستوں کے فون گزشتہ ہفتے کے دوران موصول ہوئے اور ہر جگہ کے احباب کا کہنا ہے کہ حقوق نسواں ایکٹ کے حوالے سے ہمیں معلوم نہیں ہے کہ اصل مسئلہ کیا ہے اور تنازع کی نوعیت اور تفصیلات کیا ہیں۔ ایک شہر سے فون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہم شہر کے بڑے بڑے دینی اداروں میں گئے ہیں مگر ہمیں کہیں سے صحیح معلومات نہیں مل رہیں اور صورتحال واضح نہیں ہو رہی۔ ایک صاحب سے میں نے دریافت کیا کہ اس سلسلہ میں مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کا جامع مضمون کم وبیش تمام قومی اخبارات میں شائع ہوا ہے، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کے مضامین شائع ہوئے ہیں، میرے درجنوں مضامین روزنامہ اسلام اور روزنامہ پاکستان میں شائع ہو چکے ہیں اور دیگر بہت سے اصحاب قلم کی نگارشات قومی پریس کے ذریعے مسلسل سامنے آرہی ہیں، مگر معلوم ہوا کہ ہمارے علماء کرام، خطباء عظام، دینی رہنماؤں، مدرسین، ائمہ مساجد حتٰی کہ اس جدوجہد میں فرنٹ کے لوگوں یعنی اسمبلیوں کے ممبر علماء کرام کے پاس بھی ان مضامین پر ایک نظر ڈالنے کی فرصت نہیں ہے۔ ایک دوست نے بتایا کہ ٹی وی کے مختلف چینلز پر اس مسئلہ پر جو مباحثے یا انٹرویو ہوتے رہے ہیں ان میں مولانا مفتی محمد تقی عثمانی اور مولانا مفتی منیب الرحمان کے سوا کسی گفتگو میں ان سوالات کا جواب موجود نہیں تھا جو حقوق نسواں بل کے سلسلہ میں لوگوں کے ذہنوں میں پیدا کر دیے گئے ہیں۔ ان صاحب کا کہنا تھا کہ دینی حلقوں کی نمائندگی کرنے والے حضرات کی گفتگو میں سطحیت، جذباتیت اور معروضی صورتحال سے بے خبری صاف دکھائی دیتی ہے جو کسی پبلک جلسہ میں تو چل جاتی ہے لیکن گفتگو کی میز پر جہاں دوسری طرف استدلال اور معلومات کا کھلا استعمال ہو رہا ہو، اس طرز کی گفتگو اکثر اوقات فائدہ کی بجائے نقصان کا باعث بن جاتی ہے اور اس سے گفتگو کرنے والوں کی علمی تہی دامنی کا تاثر زیادہ اجاگر ہوتا ہے۔

    مسئلہ یہ نہیں کہ دلائل موجود نہیں ہیں یا معلومات میسر نہیں ہیں یا ان کی رسائی کے موقع مہیا نہیں ہیں۔ یہ سب کچھ موجود ہے مگر ہمارے پاس فرصت نہیں ہے اور ہم خود کو اس کے لیے محنت اور تگ و دو پر تیار نہیں کر پا رہے۔ اس ماحول میں اتنی بڑی جنگ لڑنا بہت مشکل کام ہے اور ہمیں بہرحال اپنے اس طرز عمل پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔

  2. میری پریشانی کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہم اس جدوجہد کے دینی اور سیاسی ماحول کو گڈمڈ کرتے جا رہے ہیں جو بہت زیادہ نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ آج کا ماحول اور اس کی پیچیدگیاں دیکھ کر امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور ان کے رفقاء کی اس بصیرت پر میرا یقین اور زیادہ پختہ ہو گیا ہے جو انہوں نے قیام پاکستان کے بعد عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کی جدوجہد کو سیاسی کشمکش سے الگ تھلگ کر کے خالصتاً دینی اور علمی بنیادوں پر آگے بڑھانے کے لیے اختیار کی تھی اور بالآخر انہی لائنوں پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہتے ہوئے یہ جدوجہد کامیابی کی منزل سے ہمکنار ہوئی تھی۔ مجھے جامعہ اشرفیہ لاہور میں ہونے والے اس فیصلے سے بے حد خوشی ہوئی تھی کہ تحفظ حقوق نسواں ایکٹ کی منظوری کے بعد ملک میں قرآن و سنت کے احکام و قوانین کی شکل بگاڑنے اور نافذ شدہ چند شرعی قوانین کو ختم کرنے کی جو سرکاری مہم پورے زور و شور کے ساتھ شروع کر دی گئی ہے اس کا مقابلہ کرنے کے لیے کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی طرز پر تمام مکاتب فکر کے دینی رہنماؤں پر مشتمل ’’مجلس تحفظ حدود اللہ پاکستان‘‘ قائم کی جائے گی جو خالصتاً غیر سیاسی بنیادوں پر اس مقصد کے لیے رائے عامہ کو منظم کرے گی اور تمام دینی و سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے رابطہ کر کے اس جدوجہد کو صحیح معنوں میں قومی تحریک بنانے کی کوشش کرے گی۔

    اس جدوجہد کا یہی فطری راستہ ہے اور اسے اسی طریقہ سے مؤثر طور پر آگے بڑھایا جا سکتا ہے مگر یہ بات مجبورًا لکھنا پڑ رہی ہے کہ دھیرے دھیرے اس جدوجہد کا یہ پہلو مجھے پس منظر میں جاتا ہوا دکھائی دے رہا ہے جو بہرحال پریشانی کی بات ہے۔ متحدہ مجلس عمل اپنے فورم سے اس مقصد کے لیے جو جدوجہد کر رہی ہے وہ لائق تحسین ہے اور ہر کارکن کو اس کی سپورٹ کرنی چاہیے۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی قیادت اس جدوجہد کو جس انداز سے تقویت پہنچا رہی ہے وہ قابل داد ہے اور اس کا یہ کردار جاری رہنا چاہیے۔ لیکن عوامی محاذ پر اس تحریک کی قیادت ’’مجلس تحفظ حدود اللہ پاکستان‘‘ ہی کو کرنی چاہیے اور اسے صرف ٹائٹل تک محدود رکھنے کی بجائے ’’کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت‘‘ کی طرح ’’کل جماعتی مجلس تحفظ حدود اللہ پاکستان‘‘ کے نام سے منظم کیا جانا ضروری ہے۔ اس کا باقاعدہ ڈھانچہ تشکیل دیا جائے، اس کی قیادت میں تمام دینی مکاتب فکر کو ذمہ دارانہ نمائندگی دی جائے اور اسے ایک مستقل فورم کی شکل دی جائے۔ اس کے ساتھ یہ بھی انتہائی ضروری ہے کہ ملک کے عوام کو متحدہ مجلس عمل، مجلس تحفظ حدود اللہ پاکستان، اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے درمیان فرق واضح طور پر دکھائی دے، ورنہ بہت سی الجھنیں اور پیچیدگیاں پیدا ہوں گی جو اس جدوجہد میں پیشرفت کی راہ میں رکاوٹ بھی بن سکتی ہیں۔