گوجرانوالہ میڈیکل کالج میں سیرت النبیؐ کی تقریب

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲ اگست ۲۰۱۸ء
اصل عنوان: 
سیرت النبی ﷺ کی تقریب

گزشتہ روز گوجرانوالہ میڈیکل کالج میں کچھ وقت گزارنے کا موقع ملا، ڈاکٹر فضل الرحمان ہمارے محترم دوست ہیں اور جامعہ نصرۃ العلوم کی انتظامیہ سے تعلق رکھتے ہیں، والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کے خصوصی متعلقین بلکہ خدام میں سے ہیں۔ ان کی دعوت پر کالج میں منعقدہ ایک پروگرام میں شرکت ہوئی جس میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر مختلف کالجوں کے طلبہ اور طالبات کے درمیان تقریری مقابلہ کی نشست بھی تھی اور اس میں مجھے جج بنایا گیا تھا۔

گوجرانوالہ میڈیکل کالج کا آغاز ۲۰۱۱ء میں ہوا تھا، ڈاکٹر عطیہ مبارک خالد اس کی پہلی پرنسپل تھیں اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال اس کا ٹیچنگ ہسپتال تھا، بائی پاس روڈ پر علی پور چٹھہ چوک سے آگے گوندلانوالہ میں اس کی اپنی وسیع عمارت تعمیر ہو رہی ہے جس کا بڑا حصہ تعمیر ہو چکا ہے جبکہ بہت سا حصہ ابھی باقی ہے، ۲۰۱۴ء میں میڈیکل کالج اپنی اس نئی عمارت میں منتقل ہوا اور اس کی سرگرمیاں اب وہیں جاری ہیں۔ کالج کے ساتھ ۵۰۰ بیڈ کا ہسپتال زیر تعمیر ہے جس کے مکمل ہونے پر یہ ضلع کا سب سے بڑا ہسپتال ہوگا۔ گزشتہ اکتوبر سے ڈاکٹر سمیع ممتاز کالج کے سربراہ ہیں اور اب تک کالج سے ۳۰۰ کے لگ بھگ طلبہ اور طالبات ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کر کے مختلف شہروں میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

میڈیکل کالج میں سیرت النبیؐ کے موضوع پر تقریری مقابلہ میرے لیے خصوصی دلچسپی کا باعث تھا چنانچہ میں نے پوری توجہ کے ساتھ اسٹوڈنٹس کے خطابات سنے اور قوم کی مستقبل کی قیادت کے رجحانات کے بارے میں اپنی معلومات و تاثرات میں اضافہ کیا۔ جبکہ اپنے مختصر خطاب میں اس کا تذکرہ کرتے ہوئے میں نے عرض کیا کہ میں کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ اور طالبات کے کسی پروگرام میں شریک ہو کر عام طور پر خوشی محسوس کرتا ہوں کہ اس سے مستقبل کے منظر کی ایک جھلک دیکھنے کا موقع مل جاتا ہے۔ کیونکہ ہمیں اس نئی نسل کے بارے میں بہت ڈرایا جاتا ہے کہ یہ دین سے دور جا رہی ہے، ماضی سے کٹ رہی ہے، تہذیبی اقدار و روایات سے بیگانہ ہو رہی ہے اور مغربی تہذیب و ثقافت کے رنگ میں رنگی جا رہی ہے۔ ظاہری منظر کچھ ایسا ہی لگتا ہے اور سرسری طور پر دیکھنے والوں کا تاثر یہی بنتا ہے مگر اس حوالہ سے میرا ذوق و اسلوب قدرے مختلف ہے چنانچہ آج میں نے ان بیٹوں اور بیٹیوں کی باتیں سنتے ہوئے جب یہ دیکھا کہ ان کی زبانوں پر قرآن کریم کی آیات ہیں، دلوں میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و عقیدت جھلک نہیں بلکہ چھلک رہی ہے اور انہیں حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ، حضرت عائشہؓ اور حضرت فاطمہؓ کے نام نہ صرف یاد ہیں بلکہ ان بزرگوں کی حیات و خدمات کے کچھ گوشوں سے واقف ہیں اور ان کا تذکرہ بھی کرتے ہیں تو میرا ذہن ان کے مستقبل کے بارے میں مایوسی کو جھٹک دیتا ہے اور دل میں اطمینان کی ایک لہر سی دوڑ جاتی ہے کہ جن نوجوانوں کو اس دور میں بھی یہ نام یاد ہیں اور ان کے ساتھ عقیدت و محبت ان کے دلوں میں موجود ہے ان کے بارے میں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہماری اس نئی نسل کو ہی نہیں بلکہ گزشتہ دو صدیوں کے دوران کی سب نسلوں کو دین سے ہٹانے، ماضی سے کاٹنے اور اپنی روایات و اقدار سے بیگانہ کر دینے کی جو مسلسل اور منظم کوششیں ہوئی ہیں انہیں سامنے رکھا جائے تو اسے قرآن کریم اور جناب رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کے اعجاز کے سوا کوئی اور عنوان نہیں دیا جا سکتا کہ تعلیم، میڈیا اور لابنگ کے اکثر و بیشتر ذرائع کی تمام تر کوششوں کے علی الرغم ہمارے یہ بچے اپنے ان بزرگوں کا نام لے رہے ہیں، ان کے ساتھ اپنے تعلق و محبت کا اظہار کر رہے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے اصل آئیڈیل یہی بزرگ ہیں۔ میں قرآن کریم اور جناب رسول اکرمؐ کے ساتھ مسلمانوں کی عقیدت و محبت کو ’’رأس المال‘‘ سے تعبیر کیا کرتا ہوں کہ راس اگر سلامت رہے تو کاروبار میں باقی نفع نقصان کور ہو جایا کرتا ہے۔ مجھے تو آج ان نوجوان بچوں اور بچیوں کی گفتگو میں جابر بن حیان، خوارزمی اور دیگر مسلم ارباب حکمت و دانش کے نام بھی سننے کو ملے جس سے مزید خوشی ہوئی کہ ان بچوں کو یہ بھی معلوم ہے اور یہ مسلمانوں کے عروج و زوال کے اتار چڑھاؤ کا ادراک بھی رکھتے ہیں۔ اس لیے میں ان کے ظاہری ماحول کو دیکھ کر مایوس نہیں ہوں اور مجھے یقین ہے کہ ان کے دلوں اور ذہنوں میں پائے جانے والے یہ مقدس بیج بالآخر ضرور پھل دیں گے۔

کچھ عرصہ قبل ایک کالج میں سیرت النبیؐ کے موضوع پر منعقد ہونے والی اسی قسم کی تقریب میں شریک ہوا تو بعض دوستوں نے مجھ سے سوال کیا کہ سیرت النبیؐ کے موضوع پر ہونے والے پروگرام کا ماحول تو اس کے مطابق نہیں تھا پھر آپ وہاں کیوں گئے تھے؟ میں نے عرض کیا کہ موتی اور ہیرا مارکیٹ میں پیش کیا جائے تو اس کی پیکنگ اور ہوتی ہے مگر اسے کہیں حفاظت کے ساتھ پہنچانے کے لیے کسی جنگل یا صحرا سے گزرنا ہو تو اس کی پیکنگ بالکل مختلف ہوتی ہے۔ آج کل ہم اسلام کے حوالہ سے، اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے تذکرہ کے حوالہ سے اور قرآن و سنت کو یاد رکھنے کے حوالے سے مارکیٹنگ کے دور میں نہیں بلکہ تحفظ کے دور میں ہیں۔ اور ہمارا سب سے بڑا ہدف رشد و ہدایت اور علم و روایت کے ان ہیروں کو بحفاظت اگلی نسلوں تک پہنچانا ہے اس لیے میں پیکنگ کی طرف زیادہ توجہ نہیں دیتا بلکہ یہ دیکھتا ہوں کہ اس پیکنگ کے اندر اصل مال موجود ہے یا نہیں، اور اگر وہ موجود ہے تو پیکنگ خواہ کیسی ہو دل کو تسلی ہو جاتی ہے کہ ہم خسارے میں نہیں ہیں۔ اسی وجہ سے آج گوجرانوالہ میڈیکل کالج کی اس تقریب میں ان بچوں اور بچیوں سے اللہ رسول کا نام، صحابہ کرام و اہل بیت عظامؓ کا تذکرہ اور ماضی کی یادوں کا ذکر سن کر میری خوشی اور اطمینان میں اضافہ ہوا ہے اور میں دعاگو ہوں کہ اللہ رب العزت انہیں اپنے دل و دماغ میں پائے جانے والے ان موتیوں کی حفاظت کرنے کی توفیق دیں اور ان کے ثمرات سے انہیں اور ان کے ساتھ ہماری آئندہ نسلوں کو بہرہ ور فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔