ڈاکٹر یوگندر سکند کے خیالات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۱ جنوری ۲۰۰۶ء
اصل عنوان: 
معروف بھارتی دانشور کا دورۂ پاکستان

بھارت کے معروف دانشور ڈاکٹر یوگندرسکند گزشتہ دنوں پاکستان آئے، چند روز لاہور میں قیام کیا، حیدر آباد اور دیگر مقامات پر بھی گئے، دو دن ہمارے ہاں گوجرانوالہ میں قیام کیا، الشریعہ اکادمی کی ایک نشست میں سرکردہ علماء کرام اور اساتذہ و طلبہ سے بھارت کی مجموعی صورتحال خاص طور پر مسلمانوں کے حالات پر گفتگو کی اور مختلف حضرات سے ملاقاتوں کے بعد بھارت واپس چلے گئے۔

ڈاکٹر یوگندرسکند کے والد سکھ تھے، والدہ کا تعلق ہندو خاندان سے تھا اور خود اپنے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ خدا کی ذات پر یقین رکھتے ہیں اور انسانی سوسائٹی کے لیے مذہب کے رفاہی پہلوؤں کے قائل ہیں مگر خود کو کسی خاص مذہب کے دائرے میں پابند نہیں سمجھتے۔ البتہ ان کے مطالعہ، ریسرچ اور تحریروں کا سب سے زیادہ موضوع مسلمان ہیں اور انہوں نے اب تک جو کچھ لکھا ہے اسی حوالہ سے لکھا ہے۔ یوگندر کی ولادت ۱۹۶۷ء میں کلکتہ میں ہوئی، ان کے خاندان کا اصل تعلق پنجاب سے تھا، ان کی والدہ سرگودھا کے قریب گروٹ نامی کسی گاؤں کی تھیں جس کے بارے میں یوگندر سکند کا خیال ہے کہ میانوالی اور سرگودھا کی سرحد کے ساتھ واقع ہے۔ ان کی والدہ کے نانا گوجرانوالہ میں میڈیکل آفیسر رہے ہیں، ان کا نام رائے بہادر روہے مجان بھترا بتایا جاتا ہے اور یوگندر سکند کا خیال ہے کہ وہ شاید ۱۹۳۰ء کے لگ بھگ گوجرانوالہ میں ڈسٹرکٹ میڈیکل آفیسر رہے ہیں۔

یوگندرسکند نے گریجویشن دہلی میں کی اور ایم اے سوشیالوجی میں جواہرلال یونیورسٹی سے کیا۔ گریجویشن کی تعلیم کے دوران انہیں ان کے کسی مسلمان دوست نے قرآن کریم کا پکھتال کا انگلش ترجمہ دیا جس کے مطالعہ سے انہیں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں دلچسپی ہوئی۔ اس دوست کا نام وہ حنیف بتاتے ہیں، اس سے قبل انہیں اسلام کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا اور اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں جو غلط فہمیاں عام طور پر پائی جاتی ہیں ان کے ذہن میں بھی موجود تھیں۔ انہیں حنیف مذکور سے بہت معلومات حاصل ہوئیں جبکہ اردو انہوں نے ایک مولانا صاحب سے سیکھی۔ کہتے ہیں کہ مجھے قوالی سننے کا بہت شوق تھا اور اس کے لیے متعدد درگاہوں پر جاتا تھا۔ یونیورسٹی میں یوگندر کا رابطہ لیفٹ کے ایک گروپ سے ہوا اور ان کے ساتھ سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت میں لیفٹ کی پارٹیاں ہمیشہ فرقہ واریت کے خلاف فعال اور متحرک رہی ہیں اور اسی کے زیراثر انہوں نے فرقہ واریت، خاص طور پر ہندو فاشزم کے خلاف لکھنا شروع کیا۔ دیہات کی زندگی کے بارے میں انہیں کوئی تجربہ نہیں تھا اور نہ ہی وہ دیہی سماج کے بارے میں زیادہ معلومات رکھتے تھے اس لیے بعض این جی اوز کے ساتھ دو سال دیہات میں سماجی خدمات سرانجام دیں۔ اس دوران میوات کے علاقے میں جانے کا موقع ملا، ان کا کہنا ہے کہ وہاں کے مسلمانوں میں ہندو رسوم و روایات کے اثرات موجود ہیں۔ یہ بات ان کی دلچسپی کا باعث بنی اور انہوں نے ایم فل کا مقالہ میوات میں مسلمانوں اور ہندوؤں کے مشترکہ کلچر کے حوالے سے لکھا جس پر انہیں وظیفہ ملا۔

میوات کے سفر کے دوران تبلیغی جماعت کے بارے میں انہیں بہت سی معلومات ملیں اس لیے انہوں نے ڈاکٹریٹ کے لیے ’’تبلیغی جماعت کا آغاز و ارتقاء اور اس کے سماجی اثرات‘‘ پر مقالہ لکھا جس پر انہیں پی ایچ ڈی کی ڈگری ملی۔ یہ دونوں مقالے انگلش زبان میں ہیں اور شائع ہو چکے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے یوگندر سکند برطانیہ اور ہالینڈ گئے۔ لائیڈن میں ڈاکٹر خالد مسعود کی سربراہی میں، جو اَب پاکستان میں اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ہیں، بین المذاہب مکالمے کے استاد رہے۔ بھارت میں ایک مسیحی ادارہ ’’ہنری مارٹن اسلامک اسٹیڈیز‘‘ میں کام کیا۔ ہنری مارٹن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اردو میں پروٹسٹنٹ بائیبل کا ترجمہ سب سے پہلے انہوں نے کیا تھا، ان کے نام سے یہ تحقیقی ادارہ لاہور میں قائم ہوا تھا اور اب حیدر آباد میں کام کر رہا ہے۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد مسیحیت کی اشاعت و ترویج تھا لیکن ۱۹۸۵ء کے بعد اس کے ڈائریکٹر اینڈریس ڈیسوزا نے اس کا رخ سماجی خدمات کی طرف موڑ دیا اور معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان مفاہمت کے فروغ کو اس ادارے کا مشن بنا لیا۔

ڈاکٹر یوگندر سکند نے کچھ عرصہ دہلی کی ہمدرد یونیورسٹی میں کام کیا لیکن اب آزادانہ طور پر تحقیق کا کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے ’’اسلام انٹرفیتھ‘‘ کے عنوان سے ویب سائیٹ بنا رکھی ہے جس پر ’’قلندر‘‘ کے نام سے ان کا ویب میگزین شائع ہوتا ہے اور اب تک جن موضوعات پر ان کی کتابیں آچکی ہیں وہ درج ذیل ہیں:

  • تبلیغی جماعت کا آغاز و ارتقاء اور اس کے سماجی اثرات۔
  • کیرالہ سے کشمیر تک سفر کے دوران درگاہوں پر حاضری کے مشاہدات و تاثرات جہاں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلم بھی حاضری دیتے ہیں۔
  • تقسیم ہند کے بعد بین المذاہب مکالمے کے حوالے سے مختلف مسلم راہنماؤں کا زاویہ ہائے نگاہ۔
  • اسلام، ذات پات اور مسلم دلت تعلقات۔
  • بین المذاہب مفاہمت اور سماجی اصلاح میں کشمیری صوفیاء کرام کا کردار۔
  • بھارت میں اسلامی تعلیم اور دینی مدارس کا جائزہ۔

میرے بیٹے محمد عمار خان ناصر مدیر ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ کا انٹرنیٹ کے ذریعے ڈاکٹر یوگندرسکند سے کافی عرصہ سے رابطہ ہے اور ماہنامہ الشریعہ میں ان کی بعض تحریروں کا ترجمہ شائع ہوتا رہتا ہے۔ اسی حوالہ سے وہ پاکستان آمد کے موقع پر گوجرانوالہ بھی آئے اور دو روز ہمارے مہمان رہے۔ میں نے اس دوران ایک نشست میں کچھ امور پر گفتگو کی جس کی روشنی میں یہ سطور تحریر کر رہا ہوں۔

مذہب کے بارے میں لیفٹ کے دیگر دانشوروں کی طرح ان کا خیال ہے کہ یہ سماج کی پیداوار ہے اور اس کے صرف وہ پہلو قابل استفادہ ہیں جو انسانیت کی فلاح و بہبود سے تعلق رکھتے ہیں اور جو حقوق العباد کے زمرے میں آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مذہب کی ایسی تشریح نہیں ہونی چاہیے جو لوگوں کے درمیان منافرت کا باعث بنتی ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی تگ و دو زیادہ تر دو پہلوؤں پر ہے۔ ایک یہ کہ بھارت میں مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان مفاہمت کو کس طرح فروغ دیا جا سکتا ہے، او ردوسرا یہ کہ مذہب کی انسانیت مخالف تشریح کا راستہ کیسے روکا جا سکتا ہے۔ بھارت کے تناظر میں ان کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ مختلف مذاہب کے درمیان برداشت اور مفاہمت کے فروغ میں جمعیۃ العلماء ہند کا کردار ہمیشہ سے نمایاں چلا آرہا ہے، جماعت اسلامی بھی اب اس رخ پر آگے بڑھ رہی ہے، جبکہ مسلم بزرگان دین کی وہ درگاہیں اس سلسلہ میں بہت نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں جہاں حاضر ہونے والوں میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں کی بھی ایک بڑی تعداد ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلم صوفیاء کا خانقاہی نظام اب خانقاہی نہیں رہا بلکہ درگاہی بن گیا ہے لیکن مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان میل جول میں ان کا کردار بہت نمایاں ہے۔

ڈاکٹر یوگندرسکند چونکہ لیفٹ کے فکری حلقے سے متاثر ہیں اس لیے معاشرے کی مذہبی تقسیم یا کلچر کے حوالے سے تقسیم پر یقین رکھتے ہیں۔ ہندوستان کے حوالے سے ان کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ اصل تقسیم طبقاتی ہے کیونکہ اعلیٰ ذات کے مسلمانوں کا طرزعمل نچلی ذاتوں کے مسلمانوں کے ساتھ اسی طرز کا ہے جو ہندوؤں کی اعلیٰ ذات کے لوگوں کا نچلی ذات کے ہندوؤں کے ساتھ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جس طرح ہندوؤں میں برہمن ذات کے لوگ نچلی ذاتوں کے ہندوؤں کے ساتھ رشتے ناتے نہیں کرتے اسی طرح مسلمانوں میں مغل، سید، پٹھان اور شیخ برادریوں کے لوگ دوسری ذاتوں کے مسلمانوں کے ساتھ رشتے ناتے سے گریز کرتے ہیں۔ اسی طرح اعلیٰ ذات اور طبقے کے ہندوؤں اور اعلیٰ ذات اور طبقے کے مسلمانوں کے سماجی مسائل ملتے جلتے ہیں جبکہ اس کے برعکس نچلی ذاتوں کے ہندوؤں او رنچلی ذاتوں کے مسلمانوں کے مسائل بھی آپس میں ملتے جلتے ہیں۔

ڈاکٹر یوگندر سکند کا خیال ہے کہ بھارت میں ۱۵ فیصد مسلمان ہیں اور ۱۵ فیصد ہی دلت (اچھوت) ہندو ہیں۔ ان دونوں طبقوں کی مشکلات، مسائل اور پریشانیاں ایک جیسی ہیں۔ لیکن جس طرح برہمن ہندو مسلمانوں اور دلتوں کے درمیان میل جول و اشتراک و اتحاد میں رکاوٹیں پیدا کرتے رہتے ہیں اسی طرح اعلیٰ طبقے کے مسلمانوں کو بھی عام مسلمانوں اور دلتوں کا میل جول اچھا نہیں لگتا۔ رولنگ کلاس اس تفریق اور تضاد کو قائم رکھنا چاہتی ہے کیونکہ اس کا مفاد اسی میں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دلتوں یعنی نچلی ذاتوں کے ہندوؤں کو اب یہ سبق پڑھایا جا رہا ہے کہ ان کی پسماندگی اور تحقیر کے اصل ذمہ دار مسلمان ہیں کیونکہ وہ بہادر لوگ تھے جنہوں نے مسلمانوں کا مقابلہ کیا تھا اس لیے مسلمانوں نے اپنے دورِ اقتدار میں انہیں اچھوت بنا دیا اور جان بوجھ کر پسماندہ رکھا۔ اس طرح برہمن ہندو دلتوں کو مسلمانوں سے متنفر کرنے کے لیے پوری تاریخ تبدیل کر رہا ہے۔

عالمی سطح پر بھی ڈاکٹر یوگندرسکند تہذیبی کشمکش اور سولائزیشن وار کے قائل نہیں ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اصل کشمکش امیر اقوام اور غریب اقوام کے درمیان ہے۔ دولت مند اقوام و ممالک ڈبلیو ٹی او اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ذریعے پوری دنیا کے وسائل پر کنٹرول حاصل کرتے جا رہے ہیں اور گلوبل اجارہ داری کی منزل کی طرف بڑھ رہے ہیں لیکن دنیا کو انہوں نے اسلام اور مسیحیت کی کشمکش اور سولائزیشن وار کے تصورات میں الجھا رکھا ہے۔

مسلمانوں کے دینی مدارس کے بارے میں یوگندرسکند کا کہنا ہے کہ ایک عرصے سے ان مدارس کے خلاف عالمی سطح پر الزامات عائد کرنے کا سلسلہ جاری ہے جس میں نائن الیون کے بعد بہت تیزی آئی ہے اس لیے انہوں نے ایک مستقل مقالے میں اس صورتحال کا جائزہ لیا ہے اور بھارت کے مختلف مکاتب فکر کے دینی مدارس کے نظام و نصاب کا گہرائی کے ساتھ تجزیہ کر کے یہ بات واضح کی ہے کہ بھارت میں پائے جانے والے دینی مدارس کے بارے میں یہ کہنا بالکل غلط اور بے بنیاد ہے کہ ان میں دہشت گردی یا منافرت کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ انہوں نے اس سلسلہ میں بھارت کے مسلم دینی مدارس کا ہی جائزہ لیا تھا اس لیے اپنے مقالے میں انہی کے حوالے سے بات کی ہے اور سوسائٹی پر دینی مدارس کے مثبت اثرات کو بھی اجاگر کیا ہے۔

اپنے دورۂ پاکستان کے اثرات بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ یہاں آتے ہوئے ڈر رہے تھے کہ خدا جانے انہیں کس قسم کے طرزعمل کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن پاکستان میں انہیں جس محبت اور مہمان نوازی کے ساتھ ڈیل کیا جا رہا ہے وہ یوں سمجھ رہے ہیں جیسے اپنے ملک میں ہی ہوں اور انہیں کسی قسم کی اجنبیت کا احساس کا قطعاً احساس نہیں ہو رہا۔ البتہ یہاں کا سسٹم اور نظام دیکھ کر انہیں افسوس ہو رہا ہے کہ اقتصادیات، تعلیم، قانون کی عملداری اور کسی منظم سسٹم کے حوالے سے کوئی ترقی نہیں ہو رہی اور عام لوگوں کی صورتحال تسلی بخش نہیں ہے۔

ڈاکٹر یوگندرسکند جنوبی ایشیا کی نئی نسل کے دانشور ہیں اور آج کی دنیا سے باخبر ہیں، وہ صرف حالات معلوم کر کے ان کے بارے میں رائے قائم نہیں کرتے بلکہ اپنی رائے عالمی سطح پر لوگوں تک پہنچا کر انہیں متاثر بھی کرتے ہیں۔ ان کے خیالات او رمختلف امور پر ان کی رائے سے اتفاق ضروری نہیں مگر آج کے ان ملٹی نیشنل دانشوروں کے خیالات سے آگاہی بہت ضروری ہے بالخصوص ان علماء کرام اور ارباب دانش کے لیے تو یہ آگاہی ایک ناگزیر ضرورت کا درجہ رکھتی ہے جو آج کے گلوبل ماحول میں مسلم امہ کی رہنمائی کا دعویٰ رکھتے ہیں اور اس کے لیے کسی بھی درجے میں محنت اور کوشش کر رہے ہیں۔