نفاذِ شریعت کی جدوجہد کا تسلسل اور طریقہ کار

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۳ اپریل ۲۰۰۹ء
اصل عنوان: 
نفاذ شریعت کی پر امن جدوجہد جاری رہنی چاہیے

گزشتہ منگل سے برطانیہ میں ہوں اور وطن عزیز کے حوالہ سے اب تک تین چار اچھی خبریں سن چکا ہوں۔ پہلی خبر سوات کے معاہدۂ امن کی قومی اسمبلی سے توثیق کے حوالہ سے تھی، دوسری خبر نظام عدل ریگولیشن کے دائرہ کار کی مالاکنڈ ڈویژن اور ضلع کوہستان تک توسیع کے بارے میں تھی، تیسری خبر مولانا عبد العزیز کی رہائی اور لال مسجد میں ان کے خطبۂ جمعہ کی ہے، اور چوتھی خبر میں اس کو قرار دے رہا ہوں کہ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران سوات کے معاہدۂ امن کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ سوات کے عوام کی خواہش کے مطابق اور امن کی بحالی کے لیے ہے اور دستور پاکستان میں اس بات کی ضمانت دی گئی ہے کہ ملک میں قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون نافذ نہیں کیا جا سکے گا۔ یہ چاروں خبریں میں نے برطانیہ آنے کے بعد سنی ہیں اور وزیر اعظم کی پریس کانفرنس ٹیلی ویژن پر خود دیکھی ہے۔ سوات کے معاہدۂ امن کے بارے میں گزشتہ کالم میں معروضات پیش کر چکا ہوں اور اس کے دیگر ضروری پہلوؤں پر معروضات کا سلسلہ جاری رہے گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

مولانا عبد العزیز کی رہائی اور لال مسجد میں ان کا خطبۂ جمعہ ملک بھر کے دینی کارکنوں کے لیے ایک خوشخبری ہے جس پر مولانا موصوف، ان کی تحریک سے وابستہ تمام افراد اور ملک بھر میں ان کے عقیدت مندوں اور بہی خواہوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے خطبۂ جمعہ میں ان کے اس اعلان پر اطمینان اور مسرت کا اظہار کرنا چاہوں گا کہ ملک میں نفاذ شریعت کے لیے ان کی جدوجہد جاری رہے گی اور پر امن ہو گی جس کے لائحہ عمل کا اعلان وہ آئندہ چند روز میں کریں گے۔ نفاذ شریعت کی جدوجہد کے ایک پرانے اور شعوری کارکن کے طور پر میں ان دونوں باتوں کو ضروری اور دینی حلقوں کی ذمہ داری سمجھتا ہوں۔

  1. ایک یہ کہ ملک میں نفاذ شریعت کی جدوجہد جاری رہنی چاہیے، اس میں تعطل نہیں آنا چاہیے اور کسی بھی مرحلہ میں یہ تاثر قائم نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان میں شرعی قوانین کے نفاذ کی جدوجہد کرنے والے تھک گئے ہیں، مایوس ہوگئے ہیں، ان کی رفتار سست پڑ گئی ہے، یا خدانخواستہ ان کی ترجیحات بدل گئی ہیں۔
  2. اور دوسرے نمبر پر یہ بات بھی اسی درجہ میں ضروری ہے کہ نفاذ شریعت کی یہ جدوجہد پر امن ہو، دستور و قانون کے دائرہ میں ہو، جبر و تشدد کے کسی بھی درجہ کے تاثر کے بغیر ہو اور پر امن عوامی طاقت کے ذریعے اسے آگے بڑھایا جائے۔

پاکستان کے قیام کے بعد ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے رائے عامہ کی قوت، دستوری طریق کار اور پر امن ذرائع سے جدوجہد کا یہ راستہ ہمارے اسلاف اور اکابر نے اختیار کیا تھا جن میں شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی، شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری، حضرت مولانا شمس الحق افغانی، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع، حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری، امیر شریعت حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، حضرت مولانا عبد الحق آف اکوڑہ خٹک، حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی، حضرت مولانا مفتی محمود، حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی، حضرت مولانا مفتی عبد القیوم پوپلزئی اور حضرت مولانا عرض محمد آف کوئٹہ رحمہم اللہ تعالیٰ جیسے اکابر بزرگ شامل ہیں۔ ہمیں دینی تعلیمات اور دینی جدوجہد انہی بزرگوں سے ورثہ میں ملی ہیں اور جب ہم اکابر کا نام لیتے ہیں تو ہمارے لیے یہی حضرات اکابر کا درجہ رکھتے ہیں، اس لیے جب اکابر کے نقش قدم پر چلنے کی بات کی جاتی ہے تو اس کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ ہم ان بزرگوں کی جدوجہد کا مطالعہ کریں اور ان کے طریق کار اور روایات کو اپنا کر ان کے مطابق آگے بڑھیں۔ ان بزرگوں کی جدوجہد کا ہدف یہ تھا کہ پاکستان جس مقصد کے لیے قائم ہوا ہے اس کی تکمیل اور وطن عزیز میں قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں شریعت اسلامیہ کی مکمل عملداری ہو۔ اور اس کے لیے ہمارے اکابر نے جو طریق کار اختیار کیا اس کے تین اہم نکات یہ ہیں:

  • یہ تحریک پر امن ہوگی، عدم تشدد پر مبنی ہوگی، اس کے لیے تمام دستوری اور قانونی ذرائع اختیار کیے جائیں گے اور ہتھیار اٹھانے سے گریز کیا جائے گا۔
  • رائے عامہ کی قوت اور عوامی سیاسی طاقت ہمارا اصل ہتھیار ہوگا اور اس مقصد کی خاطر رائے عامہ کو بیدار، منظم اور متحرک کرنے کے لیے ہر سطح پر محنت کی جائے گی۔
  • موجودہ معاشرے میں اسلامی احکام و قوانین کے اطلاق اور موجودہ عالمی حالات کے ساتھ ان کی تطبیق کے لیے شرعی اصولوں کے دائرے میں رہتے ہوئے اجتہاد کیا جائے گا، جیسا کہ قرارداد مقاصد، علماء کے ۲۲ دستوری نکات، اور ۱۹۷۳ء میں اسلامی دفعات کی تفصیلات طے کرنے میں عملی طور پر ایسا کیا گیا ہے۔

قرارداد مقاصد سے شریعت بل تک کی تمام تحریکات کی اساس انہی تین اصولوں پر تھی اور ان تحریکات میں کہیں بھی ایسا نہیں ہوا کہ نفاذ شریعت کے اہداف میں رائے عامہ کی طاقت ان بزرگوں کو حاصل نہ رہی ہو یا ان مقاصد کی طرف پیش رفت میں عوامی یا سیاسی طور پر کوئی رکاوٹ پیدا ہوئی ہو۔ البتہ ملک کے مقتدر طبقات اور اسٹیبلشمنٹ کا رویہ ہر دور میں نفاذ اسلام کی راہ میں رکاوٹ رہا ہے اور اب بھی اصل رکاوٹ یہی ہے کہ دستور اور قانون میں نفاذ شریعت کی مکمل ضمانت کے باوجود اس پر عملدرآمد نہیں ہوا بلکہ خدانخواستہ سردست اس کا کوئی امکان بھی موجود نہیں ہے جس کے ردعمل میں نفاذ شریعت کی جدوجہد میں تشدد کا عنصر شامل ہوا اور ملک کے حالات میں بگاڑ مسلسل بڑھتا چلا گیا۔

نفاذ شریعت کی جدوجہد میں ہتھیار ہاتھ میں لینا یا دستور و قانون کو چیلنج کرنا لال مسجد کی تحریک کے حوالہ سے ہو، سوات کی تحریک نفاذ شریعت کے تناظر میں ہو یا باجوڑ اور دیگر قبائلی علاقوں کے پس منظر میں ہو، ہم نے جدوجہد اور مطالبات کی مکمل اور بھرپور حمایت کے باوجود اس طریق کار کی کبھی حمایت نہیں کی بلکہ اسے ملک و قوم کے لیے اور خود نفاذ شریعت کی جدوجہد کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ اور آج بھی ہم اپنے اس موقف پر قائم ہیں کہ ملک میں نفاذ شریعت کی جدوجہد کے لیے وہی طریق کار اور دائرہ کار درست اور صحیح ہے جو ہمارے مذکورہ بالا بزرگوں نے اختیار کیا تھا اور اسی کو اختیار کر کے ہم اپنی اس جدوجہد میں پیشرفت کر سکتے ہیں۔ چنانچہ اسی وجہ سے ہمیں مولانا صوفی محمد اور مولانا عبد العزیز کی رہائی اور ان کی طرف سے نفاذ شریعت کے لیے پر امن جدوجہد کو جاری رکھنے کے اعلانات سے بے حد خوشی ہوئی ہے اور ہم دونوں حضرات کے ان اعلانات کا خیر مقدم کرتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کرتے ہیں، خدا کرے کہ یہ حضرات ہمارے ان اکابر کے صحیح جانشین بن سکیں، آمین یا رب العالمین۔

ہمارے خیال میں مولانا صوفی محمد اور مولانا عبد العزیز ملک میں نفاذ شریعت کی جدوجہد کی ایک نئی اور طاقتور علامت کے طور پر ابھرے ہیں، انہیں دینی کارکنوں اور عوام کے ایک بڑے حصے کی نہ صرف یہ کہ حمایت حاصل ہے بلکہ وہ ان کے ساتھ قربانیاں دینے کے لیے بھی تیار ہیں۔ اس طرح اس قوت کو نفاذ شریعت کی جدوجہد میں نئے اور تازہ خون کی حیثیت حاصل ہوگئی ہے جسے اگر صحیح طریقہ سے اور تدبر و حوصلہ کے ساتھ استعمال کیا گیا تو قیام پاکستان کے مقصد کی تکمیل، دستور کی اسلامی دفعات پر عملدرآمد، اور وطن عزیز میں شرعی نظام و قوانین کی تحریک اپنے اہداف کی طرف مؤثر پیشرفت کر سکتی ہے۔ لیکن اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ:

  • ملک میں نفاذ اسلام کی جدوجہد کرنے والی روایتی دینی جماعتیں اس نئی قوت کو نظر انداز کرنے کی بجائے اسے تسلیم کریں اور اسے اعتماد میں لینے کی پالیسی اختیار کریں۔
  • مولانا صوفی محمد اور مولانا عبد العزیز باہمی مشاورت کا اہتمام کریں اور ملک بھر سے ایسے علماء کرام اور کارکنوں کو بھی مشاورت میں شریک کریں جو اس جدوجہد میں شعوری اور نظریاتی طور پر شامل ہیں۔
  • ملک میں نفاذ شریعت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کا حقیقت پسندی کے ساتھ جائزہ لیں اور ان رکاوٹوں سے نمٹنے یا انہیں عبور کرنے کے لیے حکمت و تدبر کے ساتھ راستہ نکالیں۔
  • جدوجہد کے لیے وہی راستہ اور طریق کار اختیار کریں جو ہمارے بزرگوں نے اختیار کیا تھا۔
  • اور نفاذ شریعت کے لیے جدوجہد کرنے والی تمام دینی و سیاسی جماعتوں کے قائدین سے رابطہ قائم کریں اور ان کے تجربات اور محنت کے ثمرات سے راہنمائی حاصل کریں۔

امید ہے کہ دونوں حضرات ہماری ان گزارشات کا سنجیدگی اور توجہ کے ساتھ جائزہ لیں گے۔