سوات کی صورتحال اور علماء کا اجلاس

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۳ مئی ۲۰۰۹ء
اصل عنوان: 
موجودہ حالات میں علماء کا کردار

والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے آخری ایام میں انہیں سب سے زیادہ پریشانی سوات کی صورتحال کے بارے میں تھی، میں جب بھی حاضر ہوتا وہ سوات اور مالاکنڈ ڈویژن کے حالات کے بارے میں دریافت کرتے اور دیگر حضرات سے بھی پوچھتے رہتے۔ میں نے کئی بار انہیں سوات اور اس خطہ کے حالات سن کر روتے دیکھا، مجاہدین کے ساتھ انہیں ہمدردی تھی لیکن ملکی صورتحال اور وطن عزیز کو درپیش مشکلات بھی ان کے لیے بے چینی کا باعث تھیں۔ چند ہفتے قبل انہوں نے مولانا سمیع الحق کو پیغام بھیج کر بلوایا، میں بھی اس موقع پر موجود تھا، مولانا موصوف کے سامنے حضرت والد محترم نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ دینی حلقوں بالخصوص دیوبندی مکتب فکر کی جماعتوں کو مل بیٹھ کر سوات اور شمال مغربی سرحدی علاقوں کی صورتحال کے بارے میں مشترکہ موقف اور لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے اور اس کے لیے مولانا سمیع الحق کو عملی پیشرفت کی کوئی صورتحال نکالنی چاہیے۔ مولانا سمیع الحق نے اس سلسلہ میں اپنی جمعیت کے ذمہ دار حضرات سے صلاح مشورہ کا وعدہ کیا جس کے نتائج کا انتظار ہے، لیکن گزشتہ دنوں جامعہ دارالعلوم کراچی میں ہنگامی بنیادوں پر ایک اجلاس طلب کیا گیا جس میں مجھے بھی شرکت کی سعادت حاصل ہوئی۔

یہ اجلاس ۱۶ مئی کو جامعہ دارالعلوم کورنگی کراچی میں عصر کی نماز کے بعد شروع ہوا اور کم و بیش نصف شب تک جاری رہا۔ اجلاس میں حضرت مولانا سلیم اللہ خان، مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی، مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر، مولانا عزیز الرحمان سواتی، مولانا مفتی محمد نعیم، مولانا قاری غلام رسول، مفتی عبد المجید دین پوری، مفتی غلام الرحمان، مولانا اسد اللہ، مولانا مفتی عبد الرحیم، مفتی محمد، مولانا انوار الحق حقانی، مولانا فضل محمد، مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان، مولانا عبید اللہ خالد، مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی اور مولانا رشید اشرف کے علاوہ راقم الحروف نے بھی شرکت کی۔

اجلاس میں ایک محترم بزرگ نے فرمایا کہ ملک میں نفاذ اسلام کے لیے مسلح جدوجہد کے بارے میں اکابر اہل علم کو اب دوٹوک موقف طے کرنا ہوگا اور اس کے لیے فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے طے ہوا کہ دو تین بڑے دارالافتاء کے ذمہ دار حضرات کے ذمہ لگایا جائے کہ وہ خالصتاً علمی اور دینی بنیاد پر اس مسئلہ کا جائزہ لے کر واضح موقف کا تعین کریں۔

راقم الحروف نے گزارش کی کہ اس سلسلہ میں آپ بزرگوں کو یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ نفاذ اسلام کا دائرہ کار اور اس کے اہداف میں ہمارے اکابر نے قرارداد مقاصد اور تمام مکاتب فکر کے اکابر علمائے کرام کے ۲۲ دستوری نکات کی بنیاد پر جو دستوری بنیادیں طے کی تھیں اور پر امن سیاسی جدوجہد کو طریق کار کے طور پر اختیار کیا تھا، ہمارا راستہ اور طریق کار بھی وہی ہے اور اس سے انحراف کو ہماری تائید حاصل نہیں ہوگی۔ ان نکات پر گفتگو کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق ہوا اور طویل بحث و تمحیص کے بعد اجلاس کی طرف سے جس مشترکہ اعلامیہ پر اتفاق کیا گیا وہ درج ذیل ہے۔

’’سوات میں ہونے والی خونریزی اور بد امنی کا سلسلہ عرصہ دراز سے اس خطہ میں جاری ہے، اس پر ملک و ملت کے ہر فرد کا دل بے چین ہے۔ نظامِ عدل پر سمجھوتے کے نتیجے میں امید کی کرن پیدا ہوئی تھی جس کا وسیع پیمانے پر خیرمقدم کیا گیا تھا لیکن افسوس کہ اس معاہدے کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ بد اَمنی کا سیلاب دوبارہ پھوٹ پڑا اور اس بد اَمنی کو باقاعدہ جنگ میں تبدیل کر دیا گیا۔ بالخصوص تازہ فوجی آپریشن کے نتیجے میں بے شمار بے گناہوں کا خون جس طرح بہہ رہا ہے اور لاکھوں افراد اپنے ملک میں رہتے ہوئے خانماں برباد ہو کر لاتعداد مصائب کا شکار ہوئے ہیں، وہ اتنا بڑا المیہ ہے کہ اس پر جتنا افسوس کا اظہار کیا جائے کم ہے۔

ہمارا سوچا سمجھا موقف یہ ہے کہ جنگ اور خونریزی سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ سینکڑوں مسائل پیدا ہوتے ہیں، اس لیے ہم دونوں فریقوں سے انتہائی دل سوزی کے ساتھ اپیل کرتے ہیں کہ فوری طور پر خونریزی بند کریں اور فوجی آپریشن کی بجائے سنجیدہ اور بامقصد مذاکرات کیے جائیں اور مسائل کا پر امن حل نکالا جائے۔ نیز ہم پوری قوم سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان لاکھوں متاثرین کے ساتھ یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار کریں اور ان کی مدد میں دل کھول کر حصہ لیں۔ ہم خاص طور پر اس علاقہ کے دینی مدارس کے اساتذہ و طلبہ اور دینی جماعتوں کے کارکنوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ متاثرین کی خدمت کے لیے خود کو وقف کر دیں۔

اس کے ساتھ ہماری یہ بھی سوچی سمجھی رائے ہے کہ ملک کی موجودہ سنگین اور نازک صورتحال کا سب سے بڑا سبب پاکستان کے معاملات میں مسلسل بیرونی مداخلت ہے جس کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ قومی خودمختاری پر سوالیہ نشان کھڑا ہوگیا ہے بلکہ ملک کے مسائل مزید پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ اس لیے ہم یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان کی حدود میں امریکہ کے ڈرون حملے فی الفور بند کیے جائیں اور پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد کی بنیاد پر قومی پالیسیوں پر فوری نظر ثانی کی جائے۔‘‘

اس موقع پر یہ بھی طے ہوا کہ ملک کی دینی و سیاسی جماعتوں کو اس طرف توجہ دلائی جائے اور کوشش کی جائے کہ دینی جماعتوں کا کوئی مشترکہ فورم اس اہم ترین مسئلہ پر رائے عامہ کی راہنمائی اور اس کی نمائندگی کے لیے سامنے آئے۔

اس سے قبل ۱۴ مئی کو لاہور میں جمعیۃ علماء پاکستان کے کے سربراہ جناب صاحبزادہ ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر کی دعوت پر مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام کی ایک نمائندہ کانفرنس منعقد ہوئی جس میں مولانا فضل الرحمان، قاضی حسین احمد، پروفیسر ساجد میر، جناب ساجد نقوی، علامہ ابتسام الٰہی ظہیر، مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی، جناب لیاقت بلوچ، حافظ زبیر احمد ظہیر، قاری زوار بہادر، علامہ شبیر احمد ہاشمی، مولانا عبدا لرؤف فاروقی اور قاری جمیل الرحمان اختر سمیت تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ راقم الحروف بھی اس کانفرنس میں شریک تھا جس میں سوات اور شمالی مغربی سرحدی علاقوں کی نازک صورتحال کے بارے میں مشترکہ لائحہ عمل طے کرنے پر زور دیا گیا اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ فوجی آپریشن فی الفور بند کر کے مذاکرات کے ذریعے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ راقم الحروف نے جمعیۃ علماء پاکستان کی طلب کردہ اس کانفرنس میں جو تجاویز پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے پیش کیں وہ نذرِ قارئین ہیں۔

’’ملک کی موجودہ سنگین صورتحال میں دینی مکاتب فکر کے سرکردہ رہنماؤں کی قومی کانفرنس طلب کرنے پر جمعیۃ علماء پاکستان تبریک و شکریہ کی مستحق ہے اور یہ بات باعث اطمینان ہے کہ آج بھی حضرت مولانا عبد الحامد بدایونی اور مولانا شاہ احمد نورانی کی قومی سوچ کے وارث موجود ہیں اور ان کی روایات کو زندہ رکھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔

اس موقع پر ایک عریضہ کی صورت میں قرارداد مقاصد کا متن اور تمام مکاتب فکر کے ۳۱ اکابر علماء کرام کے طے کردہ متفقہ دستوری نکات اور ان کے ساتھ سوات کی صورتحال کے حوالے سے اپنی کچھ معروضات منسلک کر رہا ہوں، اس امید کے ساتھ کہ آپ حضرات ان پر ایک نظر ڈالنے کی زحمت ضرور فرما لیں گے۔ قومی کانفرنس کے موقع پر مختصرًا میری ان گزارشات پر بھی غور فرما لیا جائے تو نوازش ہوگی۔

  1. قرارداد مقاصد، علماء کے ۲۲ دستوری نکات اور ۱۹۷۳ء کے دستور کی اسلامی دفعات کے ساتھ ایک بار پھر اجتماعی طور پر کمٹمنٹ کا اعلان کیا جائے۔ اور ایک طرف حکومت سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ ملک کے نظام کو اس دائرے میں لانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور دوسری طرف نفاذ اسلام کے لیے جدوجہد کرنے والوں سے دوٹوک کہا جائے کہ وہ تمام مکاتب فکر کے متفقہ موقف سے انحراف نہ کریں۔ اور یہ اعلان کیا جائے کہ قرارداد مقاصد، علماء کے ۲۲ دستوری نکات اور ۱۹۷۳ء کے دستور کی اسلامی دفعات سے ہٹ کر نفاذ اسلام کے کسی پروگرام کی حمایت نہیں کی جائے گی۔
  2. نفاذ اسلام کے لیے جدوجہد کے طریق کار کے بارے میں بھی یہ دوٹوک اعلان کیا جائے کہ ہمارے اکابر نے دستوری، سیاسی اور جمہوری عمل کے ذریعے ملک کے نظام کی تبدیلی اور نفاذ اسلام کے لیے جو طریق کار طے کیا تھا وہی ہمارے لیے موزوں اور درست ہے اور نفاذ اسلام کے لیے ہتھیار اٹھانے اور کسی قسم کی مسلح جدوجہد کو ہم اسلامی نظام اور پاکستان کے مفاد میں نہیں سمجھتے اور نہ ہی اس کی حمایت کے لیے تیار ہیں۔
  3. ملک میں مسلسل بیرونی مداخلت، ڈرون حملوں اور بین الاقوامی ایجنسیوں کی سرگرمیوں کی دوٹوک مذمت کی جائے اور حکومت سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ پارلیمنٹ کی قرارداد کے مطابق قومی خودمختاری کے تحفظ اور امن کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔ بلوچستان کے حالات کے بارے میں بھی اسی طرح کے متوازن موقف کے اعلان کی ضرورت ہے۔
  4. سوات کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے اور مبینہ دہشت گردی کی مذمت و مخالفت کرتے ہوئے وہاں کے عوام کے جذبات، مشکلات اور مسائل کو بھی ملحوظ رکھا جائے اور معروضی صورتحال کو مجموعی طور پر سامنے رکھ کر متوازن موقف اور پالیسی طے کی جائے۔
  5. اصل اور سب سے زیادہ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے معاملات میں امریکی مداخلت کے سدباب اور روک تھام کے لیے رائے عامہ کو منظم کرنے کا کوئی راستہ نکالا جائے اور اس کے لیے دینی حلقوں کے کسی مشترکہ فورم کا اہتمام کیا جائے۔ اگر متحدہ مجلس عمل کو دوبارہ متحرک کیا جا سکے تو میری ذاتی رائے میں یہ زیادہ بہتر ہوگا، ورنہ اس طرز کا کوئی مشترکہ فورم قومی سطح پر وقت کی اہم ضرورت ہے جس کے ذریعے قومی اور دینی معاملات میں دینی حلقوں کے متفقہ موقف کا ضرورت کے وقت اظہار ہو اور دینی قیادت مشترکہ طور پر قوم کی راہنمائی کا فریضہ سرانجام دے سکے۔