سودی نظام اور اس کا مجوزہ متبادل سسٹم

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
یکم مارچ ۱۹۹۹ء

حکومت پاکستان نے وفاقی شرعی عدالت میں ایک اور درخواست دائر کی ہے جس میں عدالت سے اس فیصلہ پر نظر ثانی کی استدعا کی گئی ہے جس میں سودی نظام اور ملک میں رائج اس کی تمام صورتوں کو غیر شرعی قرار دیتے ہوئے حکومت کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ ایک معینہ مدت کے اندر سودی نظام کو ختم کر کے غیر سودی بینکاری کا سسٹم پاکستان میں رائج کرے۔ اس وقت حکومتی حلقوں کی طرف سے کہا گیا تھا کہ غیر سودی بینکاری کا کوئی نظام موجود نہیں ہے اس لیے سودی نظام کو ختم کرنے کا عملی نتیجہ یہ ہوگا کہ ملکی معیشت میں سسٹم کا خلاء پیدا ہو جائے گا اور ملک اس کامتحمل نہیں ہے، اس لیے سودی نظام کو ختم کرنا عملاً ممکن نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت پاکستان نے سپریم کورٹ میں اس فیصلہ کے خلاف رٹ دائر کر کے حکم امتناعی حاصل کر لیا تھا جس کی وجہ سے سودی بینکاری کا تسلسل اب تک قائم ہے۔ ورنہ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کی رو سے اب سے کئی سال پہلے ملک سے سودی نظام کو ختم ہو جانا چاہیے تھا۔

حکومت پاکستان پر اس سلسلہ میں دینی حلقوں کی طرف سے مسلسل دباؤ تھا کہ وہ سپریم کورٹ سے وہ رٹ واپس لے جو اس نے وفاقی شرعی عدالت کے مذکورہ فیصلے کے خلاف دائر کر رکھی ہے، اور قومی اسمبلی میں قرآن و سنت کی دستوری بالادستی کی ترمیم کی منظوری کے بعد یہ دباؤ بڑھ گیا تھا۔ چنانچہ حکومت پاکستان نے سپریم کورٹ سے اپنی رٹ واپس لینے کی درخواست تو کی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی وفاقی شرعی عدالت میں ایک نئی درخواست بھی دائر کر دی ہے جس میں سود کے خلاف فیصلے پر نظر ثانی کے لیے کہا گیا ہے۔ اس نئی درخواست کی جو تفصیلات اردو اخبارات میں شائع ہوئی ہیں ان کے مطابق درخواست میں بہت سے ایسے نکات اٹھائے گئے ہیں جن کا مقصد یہ ہے کہ سود کو کسی نہ کسی طرح شرعی عدالت سے جواز کی سند مل جائے۔ لیکن ان میں کوئی نکتہ نیا نہیں ہے اور کم و بیش ان سب امور پر وفاقی شرعی عدالت پہلے ہی بحث کر چکی ہے، اس لیے ان کے بارے میں کچھ عرض کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ البتہ ایک بات جو اس درخواست میں کہی گئی ہے وہ ہماری معلومات کے مطابق خلاف واقعہ ہے اور اسی پہلو پر کچھ معروضات پیش کی جا رہی ہیں۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ بلاسود بینکاری کا کوئی متبادل سسٹم ابھی تک پیش نہیں کیا گیا اس لیے ملکی معیشت سے سود کو ختم کرنا عملاً مشکل ہے۔ یہ بات غلط ہے اس لیے کہ جون 1984ء میں اس وقت کے وزیرخزانہ جناب غلام اسحاق خان نے اپنی سالانہ بجٹ تقریر میں واضح طور پر اس امر کا اعلان کیا تھا کہ اسٹیٹ بینک اور قومی معاشی اداروں کی مشاورت کے ساتھ بلاسود بینکاری کا ایک جامع اور ٹھوس پروگرام طے پا چکا ہے اور اس کی بنیاد پر اگلے سال یعنی 85-1984ء کا بجٹ قطعی طور پر غیرسودی ہوگا۔ جناب غلام اسحاق خان کی یہ تقریر ریکارڈ پر موجود ہے اور اس سال کے قومی اخبارات میں آج بھی ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل نے بلاسود بینکاری پر ایک مفصل رپورٹ ایک عرصہ پہلے حکومت کے حوالے کر رکھی ہے جس کی پیشانی پر ’’صرف سرکاری استعمال کے لیے‘‘ کا لیبل چسپاں ہے اور وہ عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہے۔

اسٹیٹ بینک کے سابق گورنر جناب آئی ایم حنفی اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کے ساتھ کہہ چکے ہیں کہ بلاسود بینکاری کا سسٹم طے ہوگیا ہے جو قابل عمل ہے اور اسے معاشی ماہرین کا اعتماد حاصل ہے۔ وفاقی وزیر مذہبی امور راجہ ظفر الحق کی سربراہی میں اس سلسلہ میں قائم ہونے والی کمیٹی نے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر معاشی ماہرین کے ساتھ ان رپورٹوں اور غیر سودی بینکاری کے متبادل سسٹم کا جائزہ لے کر اسے قابل عمل قرار دیا ہے۔ اور راجہ صاحب اس کا کئی بار اعلان کر چکے ہیں بلکہ راقم الحروف کے ساتھ ایک ملاقات میں انہوں نے پورے اعتماد اور عزم کے ساتھ کہا ہے کہ اب اس بارے میں کوئی اشکال باقی نہیں رہا اور ملک بہت جلد سودی معیشت سے پاک ہو جائے گا۔

عالم اسلام کے مختلف ممالک میں بلاسود بینکاری کے نظام کی بنیاد پر بہت سے بینک کامیابی کے ساتھ چل رہے ہیں جنہیں سینکڑوں میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ حتیٰ کہ برطانیہ کے بینک آف آئرلینڈ نے بھی بلاسود بینکاری کا کاؤنٹر تجرباتی طور پر قائم کر رکھا ہے جو کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔ اس لیے یہ کہنا کہ چونکہ غیر سودی بینکاری کا کوئی متبادل سسٹم موجود نہیں ہے اس لیے سودی نظام ختم نہیں کیا جا سکتا، محض ’’عذر لنگ‘‘ ہے۔ جبکہ اصل بات یہ ہے کہ ہمارے حکمران طبقات سود پر کسی نہ کسی طرح شرعی جواز کا ٹھپہ لگوانے کی فکر میں ہیں تاکہ شرعی قوانین کی خلاف ورزی کے الزام سے بھی بچ جائیں اور سودی نظام بھی جوں کا توں چلتا رہے۔

اس سلسلہ میں اسلامی تعلیمات کسی سے مخفی نہیں ہیں کہ قرآن کریم نے سود پر اصرار کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کے خلاف محاذ آرائی قرار دے رکھا ہے۔ اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسلم سوسائٹی اور اسلامی ریاست میں سود کے لیے کسی گنجائش کو روا نہیں رکھا۔ سیرت کی کتابوں میں مذکور ہے کہ فتح مکہ اور فتح حنین کے بعد حضورؐ نے طائف کا محاصرہ کر لیا مگر جب بیس روز کے محاصرے کے باوجود طائف فتح نہ ہوا تو آپؐ محاصرہ اٹھا کر مدینہ منورہ واپس چلے گئے۔ اس کے بعد طائف کا سردار عبدیالیل ایک وفد لے کر مدینہ منورہ پہنچ گیا اور پیشکش کی کہ ہم طائف والے مسلمان ہونے کے لیے تیار ہیں مگر ہماری کچھ شرائط ہیں جن میں بطور خاص ان تین شرطوں کا ذکر کیا:

  1. ہمارے نوجوان اکثر مجرد رہتے ہیں اور زنا کے بغیر ان کا گزارہ نہیں ہوتا، اس لیے ہمیں زنا کی حرمت کے حکم سے مستثنیٰ رکھا جائے۔
  2. ہمارے ہاں زیادہ تر انگوروں کے باغ ہوتے ہیں جس کی وجہ سے شراب کی تجارت ہماری سب سے بڑی تجارت ہے اس لیے ہمیں شراب کی اجازت دی جائے۔
  3. ہمارا تمام تر کاروبار سود پر مبنی ہے جس کے بغیر ہم کاروبار کر ہی نہیں سکتے اس لیے ہمارے لیے سود کو روا رکھا جائے۔

جناب نبی اکرمؐ نے یہ تینوں شرطیں مسترد کر دیں اور بالآخر طائف والوں کو غیر مشروط طور پر دائرہ اسلام میں داخل ہونا پڑا۔ اسی طرح یمن کی سرحد پر آباد نجران کے عیسائیوں کے ساتھ جناب نبی اکرمؐ کا معاہدہ طے پایا تو آپؐ نے اس معاہدہ پر یہ شرط بطور خاص لکھوائی کہ کوئی شخص سودی کاروبار نہیں کرے گا اور اگر کسی ذمہ دار شخص نے ایسا کیا تو معاہدہ منسوخ ہو جائے گا۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک اسلامی ریاست میں آنحضرتؐ سود کی بنیاد پر کاروبار کی کسی بھی درجہ میں اجازت نہیں دے رہے، نہ مسلمانوں کو اور نہ ہی غیر مسلموں کو۔ اور اس طرح سنت نبویؐ کا تقاضہ یہ ہے کہ کسی بھی مسلم ملک کی تمام تر معیشت کلیتاً سود سے پاک ہو۔ مگر ہمارے ہاں اسلام کے تمام تر دعوؤں کے باوجود سودی نظام کو قائم رکھنے اور متبادل صورتوں کے نام پر سود کی کچھ شکلوں کو باقی رکھنے کی تگ و دو ہو رہی ہے جس پر افسوس کا اظہار ہی کیا جا سکتا ہے۔

اس سلسلہ میں بار بار ایک مرحوم دوست کی بات یاد آتی ہے۔ گوجرانوالہ کے لاہوری دروازے میں ایک پرانے احراری کارکن ملک محمد سلیم مرحوم تھے جو ایک نظریاتی، پختہ احراری اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے فدائی تھے۔ چند برس پہلے کی بات ہے کہ میں نے مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں جمعۃ المبارک کے خطاب میں سود کا مسئلہ بیان کیا اور سودی نظام کے خاتمہ کے سلسلہ میں سرکاری دعوؤں کو رد کرتے ہوئے سامعین کو بتایا کہ سود کا متبادل موجود ہے اور کئی بار پیش کیا جا چکا ہے۔ جمعہ کے بعد میرا گزر ان کی دکان کے سامنے سے ہوا تو انہوں نے مجھے آواز دے کر روک لیا اور کہا کہ مولوی صاحب! آپ یہ متبادل متبادل کی بات کیا کر رہے ہیں؟ سیدھی بات کریں کہ قرآن کریم نے سود کو حرام کہا ہے اس لیے سودی نظام کو ختم کرو کیونکہ حرام کا کوئی متبادل نہیں ہوتا۔ پھر کہنے لگے کہ مولوی صاحب! کل ان لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ زنا کے بغیر ہمارا گزارا نہیں ہوتا اس لیے ہمیں اس کا متبادل بتاؤ اور جب تک علماء کرام زنا کا کوئی متبادل نہیں بتائیں گے ہم زنا کو ختم نہیں کر سکتے تو مولوی صاحب کیا زنا کا بھی کوئی متبادل ان کے سامنے پیش کرو گے؟

سچی بات یہ ہے کہ میرے پاس ملک محمد سلیم مرحوم کے جذبات کا کوئی جواب نہیں تھا۔ اس لیے یہ سوال وفاقی شرعی عدالت میں نظرثانی کی درخواست سماعت کے لیے منظور کرنے والے جج صاحبان کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ قوم کے سامنے اس کا کوئی تسلی بخش جواب پیش کر سکیں۔