شرعی حق مہر ۳۲ روپے؟ ‒ تیتو میر کون تھے؟ ‒ فئی اور غنیمت کا فرق

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اپریل ۱۹۹۰ء

سوال: عام طور پر یہ سننے میں آتا ہے کہ حق مہر شرعی طور پر ۳۲ روپے ہے، اس کی کیا حقیقت ہے؟ (حافظ محمد سعید، کچا دروازہ، گوجرانوالہ)

جواب: اس کی کوئی اصلیت نہیں ہے۔ مہر کے بارے میں بہتر بات یہ ہے کہ خاوند کی حیثیت کے مطابق ہونا چاہیے جسے وہ آسانی سے ادا کر سکے۔ کچھ عرصہ قبل تک ایک سو بتیس روپے چھ آنے کو مہر فاطمی کے برابر سمجھا جاتا تھا جو کسی دور میں ممکن ہے صحیح ہو لیکن چاندی کی موجودہ قیمت کے لحاظ سے کسی صورت بھی یہ مہر فاطمی نہیں ہے۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مہر پانچ سو درہم تھا۔ درہم چاندی کا سکہ تھا جس کا وزن ساڑھے تین ماشے بیان کیا جاتا ہے۔ اس حساب سے پانچ سو درہم کا وزن ساڑھے سترہ سو ماشے بنتا ہے یعنی ایک سو پینتالیس تولے دس ماشے۔ اور ان دنوں چاندی کا بھاؤ کم و بیش ۷۰ روپے تولہ ہے، اس طرح چاندی کی موجودہ قیمت کے حساب سے مہر فاطمی دس ہزار روپے سے زائد بنتا ہے۔

اس لیے بتیس روپے کو شرعی مہر قرار دینا درست نہیں ہے بلکہ احناف کے ہاں تو بتیس روپے مہر مقرر کرنا ویسے بھی جائز نہیں ہے کیونکہ احناف کے نزدیک مہر کی کم سے کم مقدار دس درہم متعین ہے جس کی بنیاد جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد پر ہے کہ ’’لا مہر اقل من عشرۃ دراھم‘‘ یعنی دس درہم سے کم مہر جائز نہیں ہے۔ دس درہم کا وزن ایک ماشہ کم تین تولے ہے اور قیمت کے اعتبار سے دو سو روپے کے لگ بھگ رقم بنتی ہے۔ اس سلسلہ میں صاحبِ ہدایہؒ نے مہر کے باب میں احناف کے اس موقف کی وضاحت کی ہے کہ اگر کسی نے دس درہم سے کم مہر مقرر کر لیا تو بھی اسے کم از کم دس درہم یعنی دو سو روپے کے لگ بھگ ہی ادا کرنا ہوں گے۔

سوال: تحریکِ آزادی کے حوالہ سے بعض مضامین میں تیتومیرؒ کا ذکر آتا ہے، یہ کون بزرگ تھے اور تحریکِ آزادی میں ان کا کردار کیا ہے؟ (محمد عاصم بٹ، گکھڑ ضلع گوجرانوالہ)

جواب: تیتومیرؒ کا نام نثار علی تھا، بنگال کے رہنے والے تھے، اپنے گاؤں نوکل باڑیہ میں لٹھ مار قسم کے نوجوان شمار ہوتے تھے۔ یہ اس دور کی بات ہے جب امیر المؤمنین سید احمد شہیدؒ اور امام المجاہدین شاہ اسماعیل شہیدؒ جہادِ آزادی کی تیاری کے سلسلہ میں حجاز مقدس گئے ہوئے تھے۔ نثار علی بھی اسی سال حج کے لیے گئے، سید احمد شہیدؒ سے ملاقات ہوئی، ان کی صحبت نے ذہن کا رخ بدل دیا، دل میں آزادی کا جذبہ انگڑائی لینے لگا، واپس آکر علاقہ کے ہندو زمینداروں اور جاگیرداروں کے خلاف نوجوانوں کو منظم کرنا شروع کر دیا اور دینی اقدار کی ترویج کے لیے جدوجہد کی۔ نثار علی کی محنت سے نوجوانوں کا ایک اچھا خاصا گروہ دینداری کی طرف مائل ہوا، نماز کی پابندی کے ساتھ داڑھی کی سنت بھی زندہ ہونے لگی، ہندو جاگیرداروں نے دینی بیداری کو خطرہ سمجھتے ہوئے اس رجحان کو قوت کے زور سے دبانا چاہا اور داڑھی پر ٹیکس لگا دیا۔ نثار علی کے گروہ نے ٹیکس دینے سے انکار کر دیا، کشمکش بڑھی اور محاذ آرائی کی صورت پیدا ہوگئی۔

نثار علی نے ہزاروں ساتھیوں کے ساتھ اپنے گاؤں میں مورچہ بندی کر لی اور اردگرد کے علاقہ پر قبضہ کر کے انگریزی اقتدار کے خاتمہ اور مسلمانوں کی حکومت کے قیام کا اعلان کر دیا۔ ہزاروں مجاہدین کے ساتھ نثار علی نے یلغار شروع کی، انگریزی فوج اس کا سامنا نہ کر سکی اور بالآخر کلکتہ سے کمانڈر الیگزینڈر کی قیادت میں انگریزی لشکر مقابلہ کے لیے آیا لیکن اسے بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد کلکتہ سے دوسرا انگریزی لشکر آیا جس سے مقابلہ کرتے ہوئے نثار علی نے، جو اَب تیتومیر کے لقب سے مشہور ہو چکے تھے، جامِ شہادت نوش کیا اور ان کے متعدد ساتھیوں کو گرفتار کر کے بعد میں پھانسی دے دی گئی۔ امیر المؤمنین سید احمد شہیدؒ نے بالاکوٹ میں مئی ۱۸۳۱ء میں جامِ شہادت نوش کیا جبکہ ان کے تربیت یافتہ بنگالی مجاہد نثار علی عرف تیتومیرؒ اسی سال نومبر یا دسمبر میں عروسِ شہادت سے ہمکنار ہوئے۔

سوال: قرآن کریم میں غنیمت اور فئی دونوں کا ذکر کیا گیا ہے، ان دونوں میں فرق کیا ہے؟ (رشید احمد، دوبئی)

جواب: غنیمت اور فئی دونوں کفار سے حاصل شدہ مال کو کہتے ہیں لیکن فرق یہ ہے کہ جو مال اور سامان میدانِ جنگ میں مقابلہ کے ساتھ کفار سے وصول ہو وہ غنیمت کہلاتا ہے، اور جو ساز و سامان مسلمانوں کے لشکر سے مرعوب ہو کر لڑائی کے بغیر کفار چھوڑ کر چلے جائیں اسے فئی کہتے ہیں۔ یا جنگ کی صورت میں کفار کی جو زمین مسلمانوں کے قبضے میں آئے اور اسے بعد میں کفار ہی کے قبضہ میں چھوڑ کر ان پر جزیہ یا خراج عائد کر دیا جائے تو یہ آمدنی بھی فئی شمار ہوتی ہے۔

غنیمت اور فئی میں دوسرا فرق یہ ہے کہ قرآن کریم کے حکم کے مطابق غنیمت کا ایک خمس بیت المال کے لیے الگ کر کے باقی مال مجاہدین میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ جبکہ فئی سارے کا سارا بیت المال کا حق ہے اور بیت المال کی تحویل میں جانے کے بعد بیت المال کے مقرر کردہ اصول و ضوابط کے مطابق اسے صرف کیا جاتا ہے۔