مدینہ منورہ طرز کی فلاحی ریاست

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۴ اگست ۲۰۱۸ء

وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب عمران خان کی پہلی نشری تقریر کو ملک بھر میں پوری توجہ کے ساتھ سنا گیا ہے اور اس کے مختلف پہلوؤں پر بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے جو ظاہر ہے کہ کافی دیر تک چلتا رہے گا۔ مجھ سے بعض دوستوں نے تقریر کے بارے میں پوچھا تو میں نے عرض کیا کہ تقریر کے طور پر تو بہت اچھی تقریر ہے اور جناب وزیر اعظم نے اس تقریر میں جن خواہشات کا اظہار کیا ہے اگر ان کے دس فیصد پر بھی وہ عمل کر پائے تو میں اسے ان کی کامیابی سمجھوں گا۔ کیونکہ تقریریں اور بیانات تو چلتے ہی رہتے ہیں، قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم نے اپنے متعدد بیانات میں کہا تھا کہ ہمارے پاس قرآن کریم کی صورت میں مکمل دستورِ حیات موجود ہے، وہ اگر کچھ عرصہ زندہ رہتے تو شاید اس کی کچھ جھلک ہم دیکھ بھی لیتے مگر یہ ہماری قسمت میں نہیں تھا۔ چنانچہ پاکستان کو قائم ہوئے سات عشرے گزر چکے ہیں ابھی تک ہم پارلیمنٹ، کابینہ، سیکرٹریٹ یا عدلیہ میں سے کسی جگہ بھی یہ منظر نہیں دیکھ پائے کہ کوئی اہم قومی مسئلہ پیش آنے پر قرآن کریم کھول کر یا اس کا کوئی حصہ تلاوت کر کے اس کی روشنی میں فیصلہ کرنے کا طریقہ اختیار کیا گیا ہو۔ اب عمران خان صاحب نے وزارت عظمٰی کا حلف اٹھانے کے بعد بلکہ اس سے پہلے بھی متعدد بار مدینہ منورہ اور اسلام کے حوالہ سے ’’فلاحی ریاست‘‘ کی بات کی ہے اور اس کے لیے اپنے عزم کا اظہار کیا ہے تو ہم فقیروں سے زیادہ کس کو خوشی ہو سکتی ہے مگر اس کے ساتھ ہی غالب کا یہ شعر بھی بے ساختہ سامنے آجاتا ہے کہ:

ترے وعدے پہ جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

تاہم بدگمانی کے تمام خدشات کو ذہن سے جھٹکتے ہوئے ہم اسے ایک مسلمان کا سچا وعدہ اور مخلصانہ عزم سمجھتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کی خدمت میں کچھ گزارشات پیش کرنا چاہتے ہیں، اس امید کے ساتھ کہ وہ بھی بدگمانی کے سب خدشات کو ذہن سے نکالتے ہوئے ملک کے ایک شہری اور اسلام کے نفاذ کا جذبہ رکھنے والے کارکن کی ان باتوں پر سنجیدہ توجہ دیں گے۔

اصولی بات یہ ہے کہ فلاحی ریاست، ریاست مدینہ، اور اسلامی فلاحی ریاست کا صحیح اور مکمل مفہوم جناب عمران خان اور ان کے رفقاء کے ذہنوں میں موجود ہونا چاہیے کیونکہ کسی بھی چیز کو جانے بغیر اسے نہ پوری طرح اختیار کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کے تقاضے پورے کیے جا سکتے ہیں۔ جبکہ اسلامی فلاحی ریاست کا صحیح مفہوم وہی ہوگا جو ’’اوریجنل سورسز‘‘ سے اسٹڈی کیا جائے گا۔ ہماری ایک اجتماعی کمزوری یہ بھی ہے کہ اکثر جدید تعلیم یافتہ حضرات اسلام، قرآن کریم اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کے لٹریچر میں تلاش کرتے ہیں اور ان کے بارے میں عصری نظام کے تربیت یافتہ اکثر لوگوں کی تحقیق و ریسرچ کے ذرائع زیادہ تر مغربی دانشور ہوتے ہیں۔ حتٰی کہ اسلام کی جو تصویر وہ ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں اسی کو اسلام سمجھتے ہوئے ہم نہ صرف اسے پلے باندھ لیتے ہیں بلکہ اصل مآخذ اور سورسز سے اسلام کی تعلیمات کو پیش کرنے والے اربابِ علم و دانش کے بارے میں مثبت احساسات و جذبات سے بھی کنارہ کش ہو جاتے ہیں۔ اگر خان صاحب محترم ناراض نہ ہوں تو میں مثال کے طور پر عرض کرنا چاہوں گا کہ (۱) قرآن کریم (۲) جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و اسوہ (۳) اور اسلامی تعلیمات و قوانین کو مغربی دانشوروں کے لٹریچر سے سمجھنے کی کوشش کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص جناب عمران خان کی شخصیت و افکار کو میاں محمد نواز شریف کے بیانات کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے جدید تعلیم یافتہ حضرات اسلام کو سمجھنے کی بجائے اس کے بارے میں کنفیوژن کا شکار ہو جاتے ہیں اور پھر پوری قوم کو کنفیوژ کرنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں۔

فلاحی ریاست اور ریاست مدینہ کے حوالہ سے میں خان صاحب سے بطور مشورہ گزارش کروں گا کہ اسے اچھی طرح سمجھے بغیر اور اس کے دائرہ کار اور حدود کار کا پوری طرح ادراک کیے بغیر وہ کوئی قدم اٹھائیں گے تو اس سے کنفیوژن میں اضافہ کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اس لیے پہلے خود اسٹڈی کریں، اپنی ٹیم اور رفقاء کو اس کی اسٹڈی کروائیں اور ملکی ذرائع ابلاغ کے ساتھ ساتھ ریاستی تعلیمی اداروں کو بھی اس بات کے لیے تیار کریں کہ وہ فلاحی ریاست کے اصل تصور اور ریاست مدینہ کے صحیح تعارف کا ملک میں عمومی ماحول پیدا کریں کیونکہ قیامِ پاکستان کا اصل مقصد یہی تھا۔ یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے، ہمارے قومی دانشوروں میں چند اہم شخصیات نے اس پر بہت کام کر رکھا ہے جس کا بغور مطالعہ کر لینے کی ضرورت ہے، فلاحی ریاست کا مجموعی نقشہ ذہنوں میں واضح ہو جائے گا۔

  1. قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے اس کام کے لیے اپنے وقت کے معروف نومسلم مغربی دانشور علامہ محمد اسدؒ کی خدمات حاصل کی تھیں اور انہیں حکومتی سطح پر ذمہ داریاں سونپی تھیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے جتنا کام کیا ہے وہ مطلوبہ اسٹڈی کے لیے اچھی بنیاد بن سکتا ہے اور یہ کام ریکارڈ پر موجود ہے۔
  2. حیدرآباد دکن کے معروف دانشور ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ نے اس موضوع پر خاصی محنت کی ہے۔ ڈاکٹر صاحب مرحوم حیدرآباد کے بھارت کے قبضہ میں چلے جانے کے بعد پاکستان اور پھر فرانس چلے گئے تھے، وہاں انہوں نے پیرس میں بیٹھ کر علمی و تحقیقی کام کے ساتھ ساتھ ہزاروں فرانسیسی باشندوں کو دائرہ اسلام میں داخل کیا، ان کا علمی و تحقیقی کام ریاست مدینہ کو سمجھنے کے لیے بہت مفید ہے۔
  3. بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے سابق سربراہ ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ نے بھی اس پر وقیع کام کیا ہے، ان کی علمی تحقیقات اور کاوشوں کو اس مقصد کے لیے بہتر ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔
  4. کراچی یونیورسٹی کے سابق استاذ پروفیسر ڈاکٹر نثار احمد نے ریاست مدینہ کو موضوع بنا کر اچھی خاصی محنت کی ہے اور ان کی معرکۃ الآرا تصنیف ’’عہدِ نبویؐ میں ریاست کا نشو و ارتقا‘‘ میرے خیال میں اس حوالہ سے سب سے زیادہ جامع اور مؤثر کتاب ہے۔ پانچ سو کے لگ بھگ صفحات کی یہ کتاب اردو زبان میں ہے اور اسے فضلی بک (سپر مارکیٹ، اردو بازار، نزد ریڈیو پاکستان، کراچی، فون 2629724 اور 2212991) سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ میں وزیر اعظم عمران خان صاحب کو مخلصانہ مشورہ دوں گا کہ وہ اس کتاب کا اولین فرصت میں خود مطالعہ کریں، اپنی کابینہ کے ارکان کو پڑھائیں اور اسے ارکان پارلیمنٹ میں تقسیم کرانے کا اہتمام کریں تاکہ مدینہ طرز کی فلاحی ریاست کے مبارک عزم کی تکمیل کے لیے وہ اپنی محنت کو صحیح رخ پر آگے بڑھا سکیں۔